یوم آزادی پہ گاندھی جی کے نام خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

از لاہور پاکستان
12 اگست 2021
ڈئیر گاندھی جی!

میں اس امید سے آپ کو خط لکھ رہا ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ اور یقیناً اسی امن اور راحت میں آرام پذیر ہوں گے جس کے لیے آپ نے ہمیشہ سے خود کو آسائشوں سے دور تکلیف دہ زندگی کے سپرد کیے رکھا۔ یقیناً آپ ایک بے لوث انسان تھے۔ آپ نے ہمیشہ مذہب سے بالا تر ہو کر انسانیت کی سطح پہ جا کر سوچا۔ آپ کی خدمات آپ کی قوم کے لیے انمول ہیں۔ میں جب بھی آپ کی ان کاوشوں کے بارے پڑھتا ہوں جو آپ نے اپنی قوم کے لیے کیں تو میں حیران کن مسرت محسوس کرتا ہوں۔ اور یقیناً یہ ہر اس شخص کا حال ہے جو تعصب سے بالاتر ہو کر سوچنے کی کوشش کرتا ہے۔

میرا نام ابو بکر صدیق ہے اور میں 2021 میں آپ کے متروکہ پاکستان میں رہائش پذیر ہوں۔ تقسیم کو اب 73 برس بیت چکے ہیں۔ میں آپ کو انتہائی بوجھل دل سے بتانا چاہوں گا کہ برصغیر کے لوگوں کا اب تک کا سفر انتہائی مایوس کن ہے۔ بارڈر کی لے کر کے دونوں جانب لوگوں کو بھوک افلاس کا ناگ ڈسے جا رہا ہے۔ غربت کی لکیر سے نیچے کا گراف تو تب کھینچا جائے اگر کوئی اس اس سے اوپر بھی ہو۔ ہر کسی کو یکساں آگے بڑھنے کے لیے مواقع شدید قلت کا شکار ہیں۔

میری ریاست کے آپ کی ریاست کے ساتھ تعلقات کی نوعیت انتہائی کشیدہ ہے۔ تقسیم کے بعد سے اب تک یہ ہمیشہ ایک دوسرے کے مخالف ہی چلے آئے ہیں۔ کسی نے ان کو پتہ نہیں کیا سبق پڑھا دیا ہے کہ بجائے اس کے کہ یہ اپنی توانائی معیار زندگی بلند کرنے کے لیے صرف کرتے دونوں ہمسایہ ممالک سالانہ ایک کثیر رقم خود کو ایسے مہلک ہتھیاروں سے لیس کرنے میں خرچ کر رہے ہیں جس سے پوری دنیا کا امن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

میرا ملک زیادہ تر بری معاشی حالت کی بنا پر دنیا میں ہدف مذاق بنا رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں ابھی تک جاگیر دارانہ نظام اور سول اداروں کی کمزوری، اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت مجھے انگریز کی باقیات کی یاد دہانی کرواتی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک، اقلیتوں کی نامناسب دیکھ بھال، غربت، صحت کے مسائل، بے روزگاری اور مذہبی متشدد رویوں جیسے مسائل بھی اس کی پیشانی کو بدنما کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تھوڑی سی کوشش سے ہم اپنی سمت کو درست کر سکتے ہیں کہ جہاں سست ہی سہی لیکن منزل تک رسائی ممکن ہے۔

آپ کے ملک نے معاشی میدان میں بہت زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کا شمار دنیا کی تیز ترین معاشی ترقی کرتی ہوئی اقوام میں ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی بہت آگے نکل گیا ہے جو کہ قابل رشک ہے۔ ملک میں انفراسٹکچر پھیلا ہوا جال معاشی ترقی کو سہارا دیتا ہے۔ سب سے زیادہ خوش آئند امر یہ ہے کہ آپ کے ملک میں تقسیم سے لے کر اب تک ایک متحرک جمہوری عمل موجود ہے۔

آپ کو بتا کر میں ہرگز خوشی محسوس نہیں کروں گا کہ گزشتہ دو تین دہائیاں آپ کے دیس میں پولیٹکل سوشلائزیشن کے عمل میں عجیب رویوں کا مشاہدہ کرنے کو مل رہا ہے۔ آپ کو یقیناً سن کر بہت دھچکا لگے گا کہ 1992 میں بابری مسجد کو منہدم کرنے کے بعد اس کی جگہ رام مندر کی تعمیر کرنے کا اعلان کرنے والی دائیں بازوں کے ہندو نیشنلسٹ اس وقت برسر اقتدار ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک محاذ قائم کر رکھا ہے۔ مذہبی اعتبار سے یہ لوگ انتہا پسند اور متشدد ہیں۔

یہ آپ کو دیش بھگت گرادننے میں ہچکچاتے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں پراگیہ ٹھاکر نے لوگوں سے یہ کہہ کر ووٹ مانگے کہ نتھو رام، آپ کا قاتل، تو دیش بھگت تھا ہی پر ہاں گاندھی جی بھی دیش بھگت تھے۔ یعنی آپ کے نیشنلسٹ ہونے پہ شک کیا جا رہا ہے۔ ان کا خیال ہے آپ اینٹی نیشنلسٹ تھے جبکہ آپ کا قاتل نتھورام گوڈا سے ایک محب وطن اور ہیرو تھا۔ گزرنے والا سال آپ کا 150 وائے جنم دن کا سال تھا کسی بد بخت نے آپ کی مقدس راکھ ناصرف چرا لی بلکہ آپ کی تصویر پہ اینٹی نیشنلسٹ لکھ کر اسے مسخ بھی کر دیا۔

انہوں نے اپنی قوم سے بھی وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انڈیا کو ایک ”ہندو دیس“ بنا کر دم لیں گے۔ یہ وہ غلطی ہے جو ہم نے مسٹر جناح کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد کی تھی ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ اس سے انڈیا میں معاشرہ تقسیم در تقسیم کے عمل کا شکار ہے۔ یہ خوف کے بیوپاری ہیں۔ ان کے پاس امید کا کوئی پیغام نہیں ہے۔ پرانے زخموں کو کرید کر مذہبی تقسیم کی خلیج کو مزید گہرا کیا جا رہا ہے۔ لوگ خوف اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ حزب اختلاف جو کہ جمہوری عمل پہ ایک چیک اینڈ بیلنس کی صورت ہے اسے دشمن اور پاکستان کا ایجنٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ کی جماعت کانگریس اس وقت اقربا پروری اور کرپشن کی لمبی داستانوں کے ساتھ گوشہ نشینی اختیار کر چکی ہے۔ ہندو نیشنلسٹ اس وقت لوک سبھا کی 545 میں سے 356 نشستوں پہ براجمان ہیں جن میں سے ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ ہندوستان کی واحد مسلمان ریاست جموں اینڈ کشمیر دو سال سے بدترین کریک ڈاؤن کا شکار ہے لوگ دنیا سے کٹے ہوئے ہیں جو بھی لوکل ذرائع سے خبریں آ رہی ہیں وہ یہی ہیں کہ وہاں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ 80 لاکھ کشمیری انتہا پسندوں کی تلواروں کی نوک پہ ہیں۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ انہوں نے شہریت کا قانون بھی تعصب کی نظر کر دیا ہے جس سے مسلمانوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔

سیکولر اور محفوظ دیش جس کا وعدہ آپ نے کیا تھا ڈوب رہا ہے۔ آپ کے دوست جناح درست ثابت ہوتے جا رہے ہیں میں بھی ان کی دانش کا قائل ہو گیا ہوں اور خوش ہوں کہ میرے اباو اجداد آپ کے دکھائے ہوئے سیراب کی نظر نہیں ہوئے۔ اور جناح کے پاکستان میں ہی رکے رہے۔

وہ بھارت جس کا خواب آپ نے دیکھا تھا مر رہا ہے۔

اب آپ کو اگر سکون آ سکتا ہے تو آپ سکون کریے آپ کا کافی سما لے لیا۔ نہرو جی کو میرا سلام دیجیے گا اور ابوالکلام آزاد بھی آپ کے آس پاس ہی ہوں گے انہیں بھی میرا خط لازمی پڑھائیے گا میں نے انہیں الگ سے بھی خط لکھا ہے شاید ایک دو روز کی تاخیر سے انہیں مل جائے۔

آپ کے لیے نیک تمناؤں کا طلب گار
ابوبکر صدیق لاہور، پاکستان


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments