جھویرچند میگھانی کی کہانی: بدمعاش

مترجم: مظہرالحق علوی
زبان: گجراتی

ریل کے پہیے پہلا چکر گھوم چکے تھے کہ رام لال بھاٹی نے آخری کمپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر اپنی بیوی کو اندر دھکیل دیا۔ ریل کے پہیے ”کھٹ کھٹ کھٹاک“ تیزی سے گھومنے لگے، گونجنے لگے۔ تین بچوں اور ایک ٹرنک کو بھی رام لال نے کھڑکی میں سے باقاعدہ پھینک دیا۔ رکمنی سب سے آخر میں پھینکے گئے ٹرنک اور گود کے بچے کو سنبھالنے میں ہی مصروف تھی کہ ریل پلیٹ فارم چھوڑ چکی تھی۔

خالی پلیٹ فارم پر جو لوگ کھڑے تھے اور جنھوں نے یہ منظر دیکھا تھا۔ انھوں نے رام لال کو سنانی شروع کیں۔

”صاحب لوگوں کے بیٹے ہیں سب کے سب پنکچوئل ٹائم پر ہی آئیں گے۔ ذرا جلدی آ جائیں تو چھوٹے باپ کے نہ بن جائیں۔“

”اور پھر یہ تک نہ سوچا کہ بیوی کو کس کے حوالے کر رہے ہیں۔“

اس فقرے نے رام لال کو چونکا دیا۔ کون تھا اس کمپارٹمنٹ میں؟ کون تھا وہ جس سے رام لال نے اپنی بیوی کا خیال رکھنے کی درخواست کی تھی؟ اس نے اپنے دماغ پر زور دے کر یادداشت کو نچوڑا۔

اور اس کی ناک نے دیسی بیڑی کی بے پناہ کڑوی کسیلی بو محسوس کی، اس کے کانوں میں آٹھ دس پھٹی ہوئی آوازوں میں غلیظ و شرمناک فقروں کے ٹکڑے گونجنے لگے۔ اس کی نظر نے تو صاف کوئی چہرہ دیکھا ہی نہ تھا البتہ جو چیزیں صاف طور سے نظروں کے سامنے گھوم رہی تھیں، وہ تھیں کالی ٹوپی، کالی ڈاڑھی، کالا تہ بند وغیرہ اور ان سب کالی چیزوں کی سیاہی دل کے آس پاس گھوم کر اور دباؤ ڈال کر تفکرات اور پریشانی کے کالے کالے بادل پیدا کر رہی تھی۔ پھاٹک میں سے باہر نکلتے وقت ایک واقف کار شخص نے رام لال سے پوچھا،

”رام لال بھائی! ساتھ کون گیا ہے؟“
”ساتھ تو کوئی بھی نہیں گیا۔“
”تو پھر تم نے یہ کس سے کہا کہ بھائی بچوں کا ذرا خیال رکھنا؟“
”بے شک یہ میں نے کہا لیکن پتہ نہیں کس سے کہا؟ میرے تو حواس ٹھکانے نہ تھے۔“
”تو اتنی جلدی کیا تھی رام لال بھائی؟ بیوی بچوں کو کل بھیج دیا ہوتا۔ کیا فرق پڑ جاتا اس سے؟“
”اب مجھے افسوس ہو رہا ہے۔“

”کون جانے کیا ہوجاتا ہے ہم لوگوں کو؟ آگ گاڑی دیکھ کر بس ’بھرراٹے‘ ہی بن جاتے ہیں، بھرراٹے۔“ (پاگل)

لفظ ”بھرراٹے“ رام لال کے دل میں بری طرح اتر گیا۔ ٹھیٹھ کاٹھیا واڑی لہجے میں ادا کیا ہوا یہ کاٹھیا واڑی لفظ رام لال کی اس وقت کی حالت کی مکمل ترین تصویر کھینچ رہا تھا۔ لال کپڑا دیکھ کر جس طرح گھوڑا بھڑکتا ہے، اونٹ کو دیکھ کر جس طرح بھینس بپھرتی ہے، مل مالک کو دیکھ کر آج کل کا مزدور نیتا جس طرح بے قابو ہوجاتا ہے کچھ اسی طرح سے گارڈ بابو کے ڈبے کی لال بتی جلتی دیکھ کر رام لال پاگل ہو گیا۔ اس حد تک پاگل ہو گیا کہ یہ تک اسے دھیان نہ رہا کہ کیکا اور کیکا کی ماں جاندار تھے، انسان تھے، وہ تو جیسے انہیں بے جان گٹھڑیاں سمجھ بیٹھا تھا۔

ارے رام! آدمی اپنی گٹھڑیاں اور سامان وغیرہ بھی کسی جانے پہچانے اور معتبر آدمی کے سپرد کرتا ہے۔ ایک دفعہ ہاپس آموں کا ٹوکرا گھر بھجوانا تھا تو اس وقت رام لال نے اپنے ایک رشتہ دار تک پر بھروسا نہ کیا تھا اسے شک ہوا تھا کہ اس کا یہ رشتہ دار کچومر بنانے کے لیے ٹوکرے میں سے ایک آدھ کچا آم نکال لے گا لیکن آج وہ کیا کر بیٹھا؟

دوسرا ایک آدمی رام لال کے کان میں ایک بات کہہ گیا۔ بات کہتے وقت اس شخص کی نظریں چاروں گھوم رہی تھی جیسے اسے خوف ہو کہ اسٹیشن کی دیواروں سے یا اسٹیشن کے فرش کے پتھروں میں سے کوئی بڑا سا چھرا لے کر نکلے گا اور اس پر ٹوٹ پڑے گا۔ اس شخص نے رام لال سے جو بات کہی وہ یہ تھی۔

”سیٹھ! اس ڈبے میں تو احمد آباد شہر کے بدمعاشوں کا سردار اللہ رکھا بیٹھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ اس کے آٹھ دس بھینگڑی گنجیری اور گلا کاٹو ساتھی تھے۔ میں وہیں تو کھڑا ہوا تھا۔ ان کے ساتھ ایک رنڈی بھی تھی اور وہ سب اس رنڈی سے چین چالے کر رہے تھے۔ وہ سب کے سب اس رنڈی کو دھکیل دھکیل کر اللہ رکھا کی گود میں ڈال رہے تھے۔ یہ سب کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ تیس مسافروں کا ڈبہ تھا وہ لیکن اس میں دس کے علاوہ گیارہواں مسافر نہیں بیٹھا تھا۔ ان بدمعاشوں کی صورتیں دیکھ کر ہی سارے کے سارے مسافر آگے کے ڈبوں میں چلے گئے۔ ارے سیٹھ! تم نے اپنے بیوی بچوں کو بھیڑیوں کے بھٹ میں ڈال دیا ہے بھیڑیوں کے۔“

رام لال کا تو خون منجمد ہو گیا۔ اس شخص نے ایک بار پھر ادھر ادھر دیکھا، اپنے منہ کے دائیں طرف ہتھیلی کی دیوار کھڑی کر کے نیچی آواز میں کہا،

”سیٹھ! آٹھویں پندرہویں دن اللہ رکھا یہاں کا چکر لگاتا ہے اور اس کے چکر شروع ہونے کے بعد پانچ دفعہ تو ریل گاڑی کے ڈبوں میں لت پت لاشیں ملیں اور اس شہر میں سات آٹھ ڈاکے پڑے۔ یہ کالے کرتوت کرنے والا کون ہے یہ سبھی جانتے ہیں۔ تم سمجھتے ہو کہ پولیس نہیں جانتی؟ ارے میں کہتا ہوں کہ پولیس کو سب کچھ معلوم ہے لیکن پولیس کو اللہ رکھا نے خوب مال کھلایا ہے۔ انھیں گلے گلے تک ٹھنسا دیا ہے۔ اب کیا کہیں میرے سیٹھ یہ تو ایسا ہی ہے کہ کس کے باپ کا گجرات! اس راج کا تو یہ ہے کہ“ یہ مارا دھکا ”دیو گیا ڈونگرے (پہاڑ پر) اور پیر گیا مکہ تو ایسا ہے بھائی۔ کون کس کی سنتا ہے۔ سب اپنی اپنی چلاتے ہیں۔ یہ گاندھی نے تو اور بھی اوندھی ہوا چلائی ہے۔ یوں کیا خاک سوراج ملے گا۔ یہ تو مبارک سمجھو انگریز کے راج کو کہ۔“

ایسا تو پتہ نہیں اور کتنی دیر تک وہ اپنا فلسفہ بگھارتا اور کہاں تک اپنے دل کی بھڑاس نکالتا۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ رام لال کا دھیان کہیں اور ہی ہے اور وہ اس کی بات سرے سن ہی نہیں رہا تو وہ شخص وہاں سے کھسک گیا اور دور جاکر ایک دوسرے شخص سے بھڑ گیا۔ اب وہ دونوں ہنس رہے تھے اور رام لال کی طرف ایسے اشارے کر رہے تھے جن کا مطلب ہر کوئی سمجھ سکتا کہ احمق ہے، احمق! ”

رام لال کو تار آفس جانا تھا اور تار آفس سامنے ہی تھا۔ اندھا بھی دیکھ سکے ایسے بڑے بڑے حروف بجلی کی روشنی میں جگمگا رہے تھے۔ ”تار گھر“ لیکن رام لال کے حواس ایسے گم تھے کہ اس نے قریب سے گزرتے ہوئے ایک شخص سے تار آفس کا پتہ پوچھا۔

تار کا فارم لے کر وہ اس کے خانوں میں پیغام جمانے لگا۔ ریل اس وقت کہاں ہوگی اس کے متعلق پوچھا۔ اس اسٹیشن کے جہاں اس کے اندازے کے مطابق ریل اب پہنچنے والی تھی، ماسٹر کے نام تار لکھا۔ کم سے کم الفاظ استعمال کیے اور جب یہ معلوم ہوا کہ اتنے لفظوں کا تار صرف نو آنے میں جائے گا تو اس نے دل ہی دل میں خود اپنی عقلمندی اور کفایت شعاری کی داد دی۔ تار کھڑکی میں کھسکا کر اس کے اوپر ایک روپیہ رکھ دیا۔

”دو روپے اور دیجئے۔“ تار بابو نے لکھتے لکھتے گردن ذرا اونچی کر کے کہا، ”کاہے کے؟“ رام لال نے ذرا گرم ہو کر کہا، ”انجان سمجھ کر تم۔“

”ایکسیس چارج“
”کاہے کے؟“
”لیٹ فی، پلس سنڈے۔“

رام لال کو جیسے کسی نے بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ تین روپے؟ ایسی بڑی رقم تو اس نے نجی تار میں بھی خرچ نہ کی تھی۔ کیا واقعی اتنی بڑی مصیبت آ گئی تھی کہ وہ پورے ساڑھے تین روپے خرچ کر ڈالتا؟ کیا میری بیوی عقل سلیم سے کام لے کر اگلے اسٹیشن پر کمپارٹمنٹ بدل نہ لے گی؟ میری اتنے برسوں کی صحبت کے بعد بھی اس میں اتنی عقل نہ آئی ہوگی؟ کیا پتہ! وہ بہر حال عورت ہے اور عورت کی عقل ایڑی میں ہوتی ہے، لیکن۔ لیکن۔

اگر کوئی ایسی ویسی بات ہوئی تو کیا وہ زنجیر نہ کھینچ لے گی؟ جہاں وہ بیٹھی ہوگی وہاں سے زنجیر دور تو نہ ہوگی۔ لیکن۔ کیا زنجیر کام کر رہی ہوگی؟ ارے رام! اس چوما سے میں زنجیر اگر جام ہو گئی ہوگی تو؟ اور یوں بھی یہ ریلوے والے ریل ٹھہرانے کی زنجیر کو چالو حالت میں کب رکھتے ہیں؟ اگر ایسا ہوا تو؟ تو کیا وہ چلائے گی نہیں؟ کیکا چٹخے گا نہیں؟ لیکن اس ڈاکو اللہ رکھا نے اس کا منہ دبا دیا تو؟

خیالات کا سلسلہ یوں جاری تھا کہ تار بابو نے تار کا فارم اور روپیہ کھڑکی سے باہر دھکیل کر اس سلسلے کو توڑ دیا اور پھر تلخی سے کہا، ”سیٹھ جی! سوچ بچار کر کے کل صبح آنا تب تک پیر کا دن آ جائے گا۔“

یہ سنتے ہی رام لال کا خون سنسنانے لگا۔ اسے خود اپنے آپ سے نفرت ہو گئی اور اس نے اپنے تصور میں اپنی بیوی کو گھور اندھیرے جنگل میں اور ایسی حالت میں دیکھا کہ وہ پجاری چیخ بھی نہ سکتی تھی۔ اور اس کا ننھا بچہ۔ وہ تو کبھی کا تڑپ کر ٹھنڈا ہو گیا ہوگا۔

”اے میرے پربھو! اے رحیم! اے کریم!“ اس کے دل کی گہرائیوں میں سے نکلا اور اس نے تار کے فارم پر پانچ روپے رکھ دیے۔

”اپلائی پری پیڈ؟“ تار بابو نے اپنی مخصوص زبان میں مختصر سوال پوچھا۔ ہر شخص اپنے دھندے کی مخصوص زبان ہی عموماً استعمال کرتا اور یقین کر لیتا ہے کہ دوسرے بھی یہ زبان جانتے ہیں اور اگر نہیں جانتے تو انہیں سیکھ لینی چاہیے۔

”ہاں! جی! نہیں۔ ہاں ہاں۔ رپلائی منگوا دیجئے۔“ رام لال نے بڑی مشکل سے کہا۔

رام لال کے دل میں جیسے ایک چھلنی لگی ہوئی تھی۔ یہ چھلنی تھی کاروباری ذہانت کی چنانچہ وہ اپنے ہر خیال اور ہر ارادے کو اس میں چھاننے کے بعد ہی اسے عملی جامہ پہناتا تھا۔

تار بابو نے آٹھ آنے اپنی جیب میں کھسکا نے کے بعد بقیہ ریزگاری کھڑکی سے باہر ڈال دی۔ اس کے بعد بہت کچھ لوٹ پلٹ کرنے کے بعد وہ تار کی مشین ”کھٹ کھٹاک کھٹ کھٹ“ کرنے لگا تو رام لال کی جان میں آئی۔ تار کی کی مشین کی کھٹ کھٹ اسے مارچ کرتی ہوئی پولیس کے قدموں کی دھمک معلوم ہوئی اور پھر ہتھکڑیوں کی جھنکار بھی سنائی دی اور اس کے تصور نے ان ہتھکڑیوں کو بدمعاش اللہ رکھا کی کلائیوں میں دیکھا۔

تار کے جواب کا پرزہ لفافے میں رکھ کر تار بابو نے رام لال کی طرف بڑھا دیا تو موخرالذکر نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس نے لفافہ کھول کر تار کا پرزہ نکالا۔ صرف اتنا لکھا ہوا تھا،

”ریل پانچ منٹ پہلے ہی چھوٹ گئی۔“

مزید روپیہ خرچنے کی ہمت نہ کرتے ہوئے رام لال نے ایشور کا سہارا لیا۔ اگر وہ دور قدیم کا انسان ہوتا تو سارے دیوتاؤں کی منتیں مان لیتا اور اگر دور جدید کا انسان ہوتا تو ہر ممکن تدبیر کرتا اور کوئی کسر اٹھا نہ رکھتا۔ لیکن وہ دونوں کے درمیان لٹک رہا تھا چنانچہ وہ گھر پہنچا اور اپنے آپ کو دھپ سے پلنگ پر ڈال دیا اور خوفناک خیالات میں ڈوب گیا۔

نیند کا دور دور تک پتہ نہ تھا لیکن دماغ تھکن سے چور تھا۔ اعصاب تن گئے تھے وہ نہ سو رہا تھا نہ جاگ رہا تھا۔ نہ ہوش میں تھا اور نہ بیہوش، لیکن ان دونوں کے درمیان کی حالت میں تھا اور یہ حالت یا یہ عالم ایک خوفناک کہانی کو جنم دے رہا تھا اور اس بھیانک کہانی نے اسے پسینے میں تربتر کر دیا تھا۔

اسے کچھ دھندلا دھندلا سا احساس تھا کہ اس نے اس شخص کو جس سے اس نے ”میری بیوی بچوں کا خیال رکھنا“ کہا تھا پہلے بھی کہیں دیکھا تھا۔

کہاں دیکھا تھا؟ کہاں ملا تھا وہ اس سے؟

”آ۔ ہاں۔ یاد آیا۔ ٹھیک۔ ریل کے سفر میں ہی تو۔ رات کا ہی وقت تھا اور وہ اچانک میرے چھوٹے کمپارٹمنٹ میں گھس آیا تھا۔ بڑا ہی خونخوار معلوم ہو رہا تھا اس کے باوجود اس نے ہاتھ جوڑ کر بڑی عاجزی سے کہا تھا، بھائی صاب! تھوڑی دیر کے لیے مجھے یہاں چھپ جانے دو۔ میں تمہارے سامنے اقرار کرتا ہوں کہ میرے پاس افیون کے پانچ گولے ہیں اور پولیس میرا تعاقب کر رہی ہے۔“

اور اس کی اس گڑگڑاہٹ کے جواب میں رام لال نے کڑک کر کہا تھا۔ ”نہیں، نہیں بدمعاش! یہاں نہیں۔ نکل جاؤ یہاں سے اسی وقت۔“

اور وہ میری بیوی کی طرف گھوم گیا تھا اور گڑگڑایا تھا، ”تو میری ماں ہے مجھے یہاں چھپنے دے۔“ اور میری بیوی نے کہا تھا ”بیٹھنے دو بچارے کو۔“ تو میں نے رکمنی کے لتے لے ڈالے تھے، خوب ڈانٹا تھا اسے اور پھر پولیس کو آواز دی تھی۔ ”پولیس! پولیس!“ اور پولیس دوڑی آئی تھی، پولیس نے اسے گرفتار کر لیا تھا، بھری عدالت میں میری تعریف کی گئی تھی اور اس بدمعاش کو تین سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی تو اس وقت اس نے لال آنکھوں سے میری طرف دیکھ کر قسم کھائی تھی اور کہا تھا۔ ”رام لال رہا ہو کر آؤں گا تو تجھ سے سمجھ لوں گا۔“

”ہاں۔ ہاں۔ یہی وہ آدمی تھا۔ اس نے میری بیوی سے سب کچھ پوچھ لیا۔ انتقام لیا۔ خون پیا اس کا ہائے۔ او میرے باپ!“

رام لال کی آنکھ خود بخود اپنی ہی ہائے وائے سے کھل گئی۔

ہر رات کی صبح ہوتی ہے چنانچہ اس رات کی بھی صبح ہوئی۔ تقریباً دس بجے رام لال کو اس کے برادر نسبتی کا تار ملا کہ سب خیریت سے پہنچ گئے ہیں۔ تیسرے دن خود اس کی بیوی رکمنی کا طویل خط آیا۔ رام لال کو حیرت ہوئی کہ یہ پہلا موقع تھا کہ گھر پہنچنے کے بعد رکمنی نے اتنے جلد اسے خط لکھا تھا۔

خط ایک یونہی سی پڑھی لکھی عورت کا اسی کی زبان میں تھا چنانچہ اس کی ابتدا ”پیارے“ یا ”میرے پیارے“ یا ”میرے سرتاج“ کے لقب سے نہ ہوئی تھی بلکہ بغیر کسی تمہید کے یا بغیر کسی لاگ لپیٹ کے خط مطلب کی بات سے ہی ایک دم شروع ہو گیا تھا۔ چنانچہ یہ خط انجن لگی ریل کی طرح خوبصورت معلوم ہونے کے بجائے بغیر انجن کی بجلی سے چلتی ہوئی ریل کی طرح بے ڈول اور مضحکہ خیز معلوم ہو رہا تھا۔ ہم اس خط کو ہوبہو یہاں نقل کیے دیتے ہیں۔ ہاں، اس میں علامتیں البتہ ہم نے لگائی ہیں۔

***

”تم کو تو کچھ خیال ہی نہیں۔ میں نے کتنا کہا کہ مجھے ایک صراحی دلا دو، پیتل کی نہ سہی مٹی کی سہی، لیکن تم تو ایک سے دو نہ ہوئے کہا کہ ٹیشن ٹیشن (اسٹیشن۔ اسٹیشن) پانی مل جاتا ہے تو پھر لوٹے سے ہی کام کیوں نہ چلا لیا جائے؟ اچھا لو۔ تمہاری ہی بات قائم رہی۔ رستے میں پانی کی مصیبت پڑ گئی۔ بچے رونے لگے، چیخم دھاڑ مچا دی۔ ساتھ تھے انھوں نے چوکھا ہندو کھانا لا دیا۔ چھوکرے پانی پانی چلائیں تو ٹیشن ٹیشن وہ بھائی دوڑ دوڑ کر پانی لے آئیں۔ مجھے تو کچھ پوچھیں نہ گاچھیں بس اپنے ساتھیوں سے کہتے رہیں۔ اس کے دھنی (خاوند) نے ہم کو بولا کہ اس کا کھیال رکھیو اور بھگوان جھوٹ نہ بلائے تو کوئی پچاس دفعہ ان بھائی نے یہی بات دہرائی۔

”اس کے دھنی نے ہم کو بولا کہ اس کا کھیال رکھیو۔“ بس وہ تو یہی کہتا جائے اور خوش خوش ہوتا جائے۔

اب شروع سے بات کرتی ہوں۔ گاڑی کے روانہ ہوتے ہی ان بھائی نے اس عورت، یہ کہتے ہوئے بھی موئی شرم آتی ہے، کو اپنی گود میں سے پرے دھکیل دیا اور کہا کہ دور ہٹ کے بیٹھو اور جو لوگ ساتھ تھے ان سے گرج کر کہا۔ ”اب کھل کھل ہنسنا بند کرو اور بیڑی کا دھواں ادھر مت پھینکو کیوں کہ اس کا دھنی ہم کو بول گیا ہے کہ اس کا کھیال رکھیو۔“

اس کے بعد تو وہ لوگ دھیرے دھیرے باتیں کرنے لگے اور پھر ایک ایک کر کے سو گئے۔ لیکن ان بھائی نے کہا کہ، ”ہم نہیں سوئے گا۔ اس کا دھنی ہم کو بول گیا ہے کہ۔ وغیرہ وغیرہ۔

وہ تو بیٹھ ہی گیا۔ اب کیا بتاؤں میری حالت۔ دل تو دھڑ دھڑ کر رہا تھا۔ جانے کیوں جاگ رہا ہے یہ موا کیا ارادے ہوں گے اس کے؟ مجھ سے کہا۔ ”ماں تم سو جاؤ۔ لیکن مجھے نیند کیسے آتی۔ یونہی جھوٹ موٹ سوگئی۔ ببلی رونے لگی۔ کیا روئی ہے کتنا روئی ہے کہ بس نہ پوچھو وہ بھائی اٹھا اور مجھ سے کہا،“ ماں کپڑا دے۔ ”میں سمجھی کہ لوٹنے آیا ہے میں نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے اور رو رو کر کہا، بھائی! سب کچھ لے جا لیکن میرے جسم کو نہ چھونا اور میرے تینوں بچوں پر رحم کرنا۔

میں تو گلے کے گہنے اتارنے لگی۔ اس بھائی نے خود ہی اسے گھسیٹ لیا۔ ڈبے کے آمنے سامنے کے تختوں سے باندھ کر جھولی بنائی اور روتی ببلی کو اٹھا کر اس میں لٹا دیا۔ خود نیچے بیٹھ کر جھولا جھلانے اور اپنی پٹھانی بولی میں جانے کیسی لوری دینے لگا۔ میں نے دل میں کہا،“ دیکھ تو موئی عجب تماشا تماشا ہے نا؟ ہنسی بھی آ رہی تھی اور ڈر بھی لگ رہا تھا۔ یہ ڈاڑھی مونچھ والا سات ہاتھ کا خبیث جانے کہاں سے عورت جیسی آواز نکال کر گا رہا ہے؟ گاتے گاتے وہ رونے لگا۔ آنسو تھے کہ اس کی آنکھوں سے ساون بھادوں کی طرح بہہ رہے تھے۔ روتے روتے وہ بڑبڑانے لگا، ”بیوی بچے کہاں۔ تو کہاں! ہم کہاں!“

ببلی بھی کتنی شریر، میں اس کو روز مارپیٹ کر سلاتی ہوں اور اس وقت تو وہ ایسی دبک گئی کہ کوئی کہے نہیں کہ یہ وہی ببلی ہے۔ ہائے ہائے۔ کبھی تم نے میری ببلی کو جھولا جھلایا ہے، کبھی لوری دی ہے اسے؟ تمہارا تو یہ ہے کہ جب بھی میں نے تم سے جھولا کھینچنے کو کہا ہے تم نے ایک ہی جواب دیا ہے کہ یہ میرا کام نہیں ہے۔ میں تو مرد ہوں مرد۔ لو آئے وہاں سے بڑے مرد بن کے۔

خیر جانے دو یہ بات۔ یوں کرتے کرتے رات کے تین بج گئے۔ ایک جنکشن پر گاڑی رکی، ہمارے ڈبے کے سامنے بغل تھیلیوں اور بستروں کا پورا انبار کا انبار لیے خاکی ڈریس والے بیس پچیس آدمی آ کر کھڑے ہو گئے۔ پہلے تو یہ لوگ اس خانے کی طرف گئے جہاں وہ بھائی بیٹھے تھے، لیکن وہاں سے فوراً لوٹ آئے اور میرے خانے کے پاس آ کر کہا، ”بائی! تمہیں یہ کمپارٹمنٹ خالی کرنا پڑے گا۔“

”میں نے پوچھا،“ کیوں؟ ”
بولے، ”جانتی نہیں ہو لوک سیوک جا رہے ہیں۔
میں کچھ سمجھی نہیں چنانچہ پوچھا، ”سرکار والے ہو؟“

وہ لوگ ہنسے اور کہا، ہاں۔ لیکن آج کی نہیں کل کی سرکار والے۔ چلو! اترو نیچے ہم تمہیں قریب کے ڈبے میں بٹھا دیتے ہیں۔ ”

میں نے گڑ گڑا کر کہا، ”بھائی! میرے چھوٹے چھوٹے بچے سو گئے ہیں اور میرے پاس سامان بھی بہت ہے۔“ وہ بولے، ”بڑے شرم کی بات ہے بائی! لوک سیوک کے چرنوں میں دوسری عورتیں گہنے پاتے ہیرے موتی کے بار رکھ دیتی ہیں اور تم ان کے لیے ایک کمپارٹمنٹ خالی نہیں کر سکتیں؟ تم اتنا بھی نہیں جانتیں کہ لوک سیوک نے ہمیشہ تیسرے درجہ میں ہی سفر کرنے کا عہد کیا ہے؟“

میں تو خاک نہ سمجھی چنانچہ میرے منہ سے نکل گیا، ”ہو گے تم لوگ سیوک۔ میری جان کو کیوں آ گئے ہو؟“

میرا اتنا کہنا تھا کہ وہ لوگ بپھر گئے۔ جانے کیا کچھ برا بھلا کہہ ڈالا۔ ”دیکھتے ہیں کیسے نہیں اترتی۔“ کہہ کر ایک شخص میرا سامان باہر پھینکنے کے لیے اندر گھس آیا۔ میں نے تو ابھی اتنا ہی کہا تھا، ”ارے بھائی صاب! کہ دوسرے خانے میں سے وہ بھائی لپک کر آئے۔ پیلے ڈریس والے کی گردن دبوچ لی اور یہ بڑی بڑی آنکھیں نکال کر صرف اتنا کہا،“ اس کے دھنی نے ہم کو بولا ہے کہ اس کا کھیال رکھیو۔ مالوم! ”

ان سب کی تو آنکھیں ہی پھٹ گئیں اور پیلے ڈریس والا تو ان بھائی کی گرفت میں یوں تڑپنے لگا جس طرح واگھری کے ہاتھ میں چندن گوہ تڑپتی ہے۔ پھر کس کی مجال تھی کہ میرے خانے میں قدم بھی رکھتا اور وہ جو مجھے اترنے کو کہہ رہا تھا اور ”لوک سیوک لوک سیوک“ کر رہا تھا وہی موا بولا، ”بھائیو! دوسرے ڈبے میں چلو۔ ہمارا کام قومی اتحاد قائم کرنا ہے، نہ کہ اسے توڑنا۔ ہم کہیں بھی گھس پیٹھ کر بیٹھ رہیں گے۔ پٹھان تو ہمارے بھائی ہیں اور پھر کسی کی“ جے ”کے اور“ اللہ ہو اکبر (اللہ اکبر) کے نعرے لگاتے وہ لوگ چلے گئے اور وہ بھائی تو اکیلا کھڑا اپنے آپ سے کہہ رہا تھا، ”ہم کو بولا اس کا کھیال رکھیو۔ ایں! ہم کو بولا؟ ہم کو؟ شاباش! ہم کو بولا کہ کھیال رکھیو۔ شاباش ہے!“

یوں بڑبڑا کر وہ خود ہی اپنا سینہ تھپتھپا رہا تھا۔ کبھی تو وہ اپنا سینہ تھپتھپائے اور کبھی پیٹھ وہ تو پاگل ہی ہو گیا تھا موا۔

سویرے میں اسٹیشن پر اتری۔ ان بھائی نے منجھلے کو جینتی کو اور چھوٹے کو بھی اٹھا اٹھا کر چوما اور ان کے سروں پر ہاتھ رکھ کر کہا، ”سلاما لیکم۔“

میں نے کہا بھائی تم نے ہمارا بہت خیال رکھا بمبئی آؤ کبھی تو ہمارے گھر ضرور آنا۔ فلاں فلاں گلی میں ہمارا گھر ہے اور جینتی کے باپ کا نام ”ر“ سے شروع ہوتا ہے۔ پھر میں نے اپنے بھائی سے کہا، ”انھیں اپنے بہنوئی کا پورا نام تو بتاؤ۔“ چنانچہ میرے بھائی نے کہا، ”رام لال چونی لال میشری۔“ یہ نام سنتے ہی وہ چونکا، اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ لیکن پھر فوراً ہی اس نے قہقہہ لگایا۔

میرے بھائی نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر ہمارا پتہ لکھ کر اس کی طرف بڑھا دیا۔ لیکن اس نے مسکرا کر پتہ لینے سے انکار کر دیا اور اپنے سیدھے ہاتھ کی ایک انگلی آسمان کی طرف اٹھا دی۔

لکھی تنگ (لکھنے والی)
رکمنی

یہ خط پڑھتے ہی رام لال نے بہ واپسی ڈاک ایک خط لکھ کر اپنی بیوی اور برادر نسبتی سے پوچھا، ”وہ کاغذ کا ٹکڑا جس پر میرا پتہ لکھا ہوا تھا، تم نے اسے دیا تو نہیں۔ اس کا تو یقین ہے نا۔ اگر نہیں دیا ہے تواسے پھاڑ کر پھینک دو، جلا دو اور اگر وہ کاغذ اسے دیا ہے تو تمہیں دھرم کی قسم دیتا ہوں، مجھے سچ سچ بتا دینا تاکہ میں اپنی حفاظت کے لیے پولیس کو بلوا لوں۔“

اس خط کے جواب میں برادر نسبتی نے رام لال کے پتے والا کاغذ کا ٹکڑا اپنے بہنوئی کو بھجوا دیا۔ افراتفری میں یہ کاغذ اس کی نوٹ بک میں ہی رہ گیا تھا۔

اس کے باوجود رام لال کو اطمینان نہ ہوا چنانچہ اس نے پولیس کو اس سارے معاملے کی اطلاع دی۔

پولس و افسروں نے یہ اعلان کر کے کہ ’معاملہ سنگین ہے‘ خود رام لال کے خرچ سے اس کے گھر کی حفاظت کے لیے ایک مسلح پہریدار کا انتظام کر دیا۔

رکمنی میکے سے واپس آئی تو رام لال اس پر خوب بگڑا اور گرج کر بولا، ”اس بدمعاش کو ہمارے گھر کا پتہ دینے کو تجھ سے کس نے کہا تھا؟ بڑی عقلمند بنی پھرتی ہے تو؟“

رکمنی کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو اس کے اللہ رکھا بھائی کی تصویر کو جو اس کے تصور نے پیدا کردی تھی جیسے نہلا رہے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words