مہمان: سید مصطفیٰ سراج

ترجمہ: خورشید اکرم زبان: بنگلہ اسکول ماسٹر چارو بابو کے وائلن کی دھن سن کر دولائی کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔ وہ ایک حساس لڑکا تھا بولا، ”اوہ ماسٹر بابو آپ کے وائلن میں جادو ہے۔ میرا دل بھر آتا ہے، آپ کی بیٹی کی شادی میں کونہڑے اور مٹر کی جتنی ضرورت پڑے گی وہ سب میری طرف سے۔“ اسکول ماسٹر کی بیٹی کی شادی پھاگن میں ہے لیکن دولائی اب گلاب کے پیڑوں کے نیچے اپنی قبر

Read more

کملیشور کی کہانی: گرمیوں کے دن

چنگی کا دفتر خوب سجایا بنایا جا چکا ہے۔ اس کے پھاٹک پر قوس قزح کی وضع کے سائن بورڈ آویزاں ہیں۔ سید علی پینٹر نے بڑے مشاق ہاتھوں سے انہیں بنایا ہے۔ دیکھتے دیکھتے شہر میں ایسی بہت سی دکانیں ہو گئی ہیں جن پر سائن بورڈ لٹک گئے ہیں۔ اب سائن بورڈ لگانا اپنی عزت و وقعت کا بڑھانا ہے۔ بہت دن پہلے جب دینا ناتھ حلوائی کی دکان پر پہلا سائن بورڈ لگا تھا تو وہاں دودھ پینے والوں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ پھر جیسے ایک سیلاب سا آ گیا اور نئے نئے طریقے اور بیل بوٹے ایجاد کیے گئے۔ ”اوم“ یا ”جے ہند“ سے شروع کر کے ”ایک بار ضرور آزمائش کیجیے“ یا ”ملاوٹ ثابت کرنے والوں کو سو روپیہ نقد انعام“ کے محاوروں اور نعروں پر عبارت ختم ہونے لگی۔

Read more

جھویرچند میگھانی کی کہانی: بدمعاش

ریل کے پہیے پہلا چکر گھوم چکے تھے کہ رام لال بھاٹی نے آخری کمپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر اپنی بیوی کو اندر دھکیل دیا۔ ریل کے پہیے ”کھٹ کھٹ کھٹاک“ تیزی سے گھومنے لگے، گونجنے لگے۔ تین بچوں اور ایک ٹرنک کو بھی رام لال نے کھڑکی میں سے باقاعدہ پھینک دیا۔ رکمنی سب سے آخر میں پھینکے گئے ٹرنک اور گود کے بچے کو سنبھالنے میں ہی مصروف تھی کہ ریل پلیٹ فارم چھوڑ چکی تھی۔

خالی پلیٹ فارم پر جو لوگ کھڑے تھے اور جنھوں نے یہ منظر دیکھا تھا۔ انھوں نے رام لال کو سنانی شروع کیں۔

”صاحب لوگوں کے بیٹے ہیں سب کے سب پنکچوئل ٹائم پر ہی آئیں گے۔ ذرا جلدی آ جائیں تو چھوٹے باپ کے نہ بن جائیں۔“

”اور پھر یہ تک نہ سوچا کہ بیوی کو کس کے حوالے کر رہے ہیں۔“

Read more

دھوپ کا ایک ٹکڑا

کیا میں اس بنچ پر بیٹھ سکتی ہوں؟ نہیں آپ اٹھیے نہیں، میرے لیے یہ کونا ہی بہت ہے۔ آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ میں دوسری بنچ پر کیوں نہیں بیٹھ جاتی؟ اتنا بڑا پارک ہے، چاروں طرف خالی بنچیں ہیں پھر میں آپ ہی کے پاس کیوں بیٹھنا چاہتی ہوں۔ برا نہ مانیں تو ایک بات کہوں۔ جس بنچ پر آپ بیٹھی ہیں، وہ میری ہے۔ جی ہاں، میں یہاں روز بیٹھتی ہوں۔ نہیں آپ غلط نہ سمجھیں۔ اس بنچ پر میرا نام نہیں لکھا ہے۔ بھلا میونسپلٹی کی بنچوں پر نام کیوں؟ لوگ آتے ہیں۔ گھڑی دو گھڑی بیٹھتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔ کسی کو یاد بھی نہیں رہتا کہ فلاں دن فلاں آدمی یہاں بیٹھا تھا۔ اس کے اٹھ جانے کے بعد بنچ پہلے کی ہی طرح خالی ہوجاتی ہے۔

Read more

سیکنڈ ہینڈ

کہانی کار : ویکوم محمد بشیر مترجم : جیلانی بانو غصہ میں بھری ہوئی، بال بکھرائے شاردا، آج تانڈو ناچ کے موڈ میں تھی۔ ”تم تو جانتی ہونا شاردے۔ آج مجھے کتنا ضروری کام ہے! کل اخبار نکلنے کا دن ہے نا! تو بھئی اگر کھانا تیار ہو تب مجھے جلدی سے دے دو۔“ نامہ نگار گوپی ناتھ نے بڑی نرمی سے کہا۔ ”کھانا؟“ شاردا نے تیز آواز میں کہا۔ ”میں بہت بیزار ہو چکی ہوں کھانا بنانے سے۔ میرا

Read more

قاصد – جدید ہندی ادب سے انتخاب

شہر کی جانب آنے والی شاہراہ پر ایک رتھ برق رفتاری سے چلا آ رہا تھا۔ رتھ پر سمراٹ کا مخصوص نیلا پرچم لہرا رہا تھا۔ جس پر بڑے سے راج ہنس کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ دوارپال نے دور سے رتھ کو آتے ہوئے دیکھ لیا اور جلدی سے دروازے کا بڑا سا ارگل ہٹا دیا۔ ارگل کے ہٹاتے ہی شہر پناہ کے اس عظیم الشان دروازے کے دونوں پھاٹک لوہے کے بھاری پنکھوں کی مانند دھیرے دھیرے پیچھے کی جانب کھلتے چلے گئے۔

Read more