مہمان: سید مصطفیٰ سراج


ترجمہ: خورشید اکرم
زبان: بنگلہ

اسکول ماسٹر چارو بابو کے وائلن کی دھن سن کر دولائی کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔ وہ ایک حساس لڑکا تھا بولا، ”اوہ ماسٹر بابو آپ کے وائلن میں جادو ہے۔ میرا دل بھر آتا ہے، آپ کی بیٹی کی شادی میں کونہڑے اور مٹر کی جتنی ضرورت پڑے گی وہ سب میری طرف سے۔“

اسکول ماسٹر کی بیٹی کی شادی پھاگن میں ہے لیکن دولائی اب گلاب کے پیڑوں کے نیچے اپنی قبر میں ابدی نیند سو رہا ہے۔ پدما کے پانیوں سے گزرتی ہوئی جاڑے کی ٹھنڈی ہوا اسکول ماسٹر کے وائلن کی دھن کی گونج بن کر ہرائی کے دل کے تار چھیڑتی ہے۔ دولائی نے وعدہ کیا تھا کہ پھاگن میں اسکول ماسٹر کی بیٹی کی شادی میں جتنا بھی کونہڑا اور مٹر خرچ ہوگا وہ دے گا۔ ہرائی آنگن کے ایک کونے میں شال کے پتے پر بھات کھاتے ہوئے اپنے بھائی کی بات یاد کرتا ہے۔ چارو بابو، جنھیں چارو ماسٹر بھی کہا جاتا ہے، بید کی کرسی پر بیٹھے دھوپ سینک رہے ہیں۔ ان کی بیٹی، جس کی شادی ہونے والی ہے، کوئل کی سی میٹھی آواز میں بولی، ”کاکا شرماؤ نہیں، جی بھر کے کھاؤ۔“

ہرائی نے بائیں ہاتھ سے اپنی ناک صاف کر کے اسے پیچھے کی طرف پونچھا، پھر سر ہلا کر کہا، ”میرے لیے یہی کافی ہے بیٹا۔ یہ بھات کتنا میٹھا ہے۔“

اس لڑکی کی شادی پھاگن کے مہینے میں ہے۔ بھنڈار میں دو بھرے ہوئے بورے مٹر کے ہیں اور بیس ایک کے قریب کو نہڑے ہیں جو اندر سے لال ہیں، اس خیال سے ہی لڑکی کا چہرہ خوشی سے تمتما جاتا ہے۔ ”کاکا، تمہارے یہاں کا بھات کڑوا ہوتا ہے کیا؟“ ہرائی بھی مسکرا دیتا ہے۔ او بیٹا، اس چاول کے دانے کتنے بڑے بڑے ہیں۔ اپنے بابا سے پوچھو، ہمارے گاؤں میں یہ راڑی چاول تو صرف پیسے والے لوگ ہی کھاتے ہیں۔ پوچھو پوچھو ماسٹر بابو سے۔ ”

چارو ماسٹر اب اونگھنے لگے تھے۔ لڑکی نے حیرانی سے پوچھا، ”تو کاکا آپ لوگ کیا کھاتے ہو؟“

”عام طور پر صبح کے وقت ہم لوگ دال روٹی، ستو، بھونا وغیرہ کھاتے ہیں۔ مزے کے دن صرف دو مہینے ہوتے ہیں جب گیہوں کی فصل کٹتی ہے۔ تب ہم لوگ گیہوں کی روٹی آم یا کٹھل کے ساتھ کھاتے ہیں۔“

ہرائی نے پھر اپنی ناک پونچھی، بھات کو ملایا اور بڑے چاؤ سے لقمہ منہ میں ڈالا۔
لڑکی نے تھوڑے افسوس سے پوچھا، ”آپ لوگ بھات نہیں کھاتے ہو کاکا؟“
ہاں، لیکن بہت تھوڑا سا، موٹے چاول کا بھات وہ بھی صرف تھوڑے دنوں تک۔ ”

آنگن کی دیوار سے لگی دھان کی تین بوریوں کو ہرائی رشک سے دیکھتا ہے اور کہتا ہے، ”میری بیٹی، میں ہر سال تمہارے یہاں سے کچھ دھان لے جانے کے لیے آتا ہوں۔ ہم بھی تکلیف اٹھاتے ہیں اور جانور بھی۔ وہ بائیں طرف والا بیل کچھ بیمار لگ رہا ہے۔“

اس کے مسرور چہرے پر ایک سایہ پڑتا ہے۔ اس نے دیوار کے اس طرف نیم کے پیڑ کے نیچے اپنی بیل گاڑی باندھ رکھی ہے۔ دونوں بیلوں کو پہیے سے باندھ دیا ہے۔ چارو ماسٹر نے ان کے سامنے کچھ چارہ ڈال دیا ہے۔ ہرائی کے مقدر کے ساتھ ان کا بھی مقدر جڑا ہوا ہے۔ اس وقت ہرائی مزے دار بھات کھا رہا ہے اور وہ خوش خوش چارہ کھا رہے ہیں۔ بائیں طرف والا بیل رات سے ہی بیمار لگ رہا ہے۔ اس گاؤں تک آنے والے اوبڑ کھابڑ راستے میں جانے کتنی بار وہ تھک کر رک گیا تھا۔ چارو ماسٹر اپنی آنکھیں موندے موندے ہی کہتے ہیں، اس گاؤں میں جانوروں کا کوئی وید نہیں ہے۔ ایک خانہ بدوش کنبہ تھا مگر کچھ تو مر کھپ گئے، کچھ چلے گئے۔ ہرائی! تم شنکی بھانگا میں رک کر پری مل ہری سے مل لینا۔ اس سے میرا نام لینا، وہ کچھ کم پیسے لے گا۔ ”

ہرائی دھیان سے سن کر کہتا ہے، جی ہاں۔ ”

”خالی جی ہاں جی ہاں مت کرو۔ اس اوجھا کو دکھانا ضرور۔“ چارو ماسٹر اب اپنی آنکھیں کھول لیتے ہیں۔ چارو ماسٹر کے تھلتھلے بدن پر بال بھرے ہیں اور مونچھیں موٹی ہیں۔ لنگی کے اندر ہاتھ ڈال کر ران کھجاتے ہوئے کہتے ہیں، ”تم باگھڑی کے گاڑی بان بڑے کاہل ہوتے ہو۔ یقین مانو میں نے دولائی کو کتنی بار کہا کہ وہ اکرول جاتے ہوئے بھوتو کوی راج سے ملتا ہوا جائے۔ دولائی نے کہا تھا، ہاں جی ضرور جاؤں گا، مگر کاندی بازار میں جب میری ملاقات بھن دا سے ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ دولائی آیا تھا اس نے بتایا کہ اس کے پاس تو کوئی نہیں آیا۔

ہرائی یہ سوچ کر اداس ہوجاتا ہے کہ اگر دولائی بھوتو کے پاس گیا ہوتا تو بچ جاتا۔ اس نے باقی بچا ہوا بھات جلدی جلدی کھایا اور شال پتے کو گھر کے باہر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ دوسری طرف ایک چھوٹا سا تالاب ہے۔ گھاٹ پر لوگ ہوتے ہیں اس لیے ہرائی دوسری طرف سے جانا بہتر سمجھتا ہے۔

یہ ہندوؤں کا گاؤں ہے اور ہرائی جانتا ہے کہ کسی مسلمان سے چھو جانے پر ہندو کیسا برا مانتے ہیں۔ اس گاؤں میں اگر کوئی مسلمان ہوتا تو وہ چارو ماسٹر کے گھر اس طرح کھانا کھانے کی بات سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ پنچ وقتہ نمازوں سے ہرائی کی پیشانی پر گٹہ پڑ گیا ہے۔ اس کی قمیص کی جیب میں تال پتے کی بنی ہوئی گول ٹوپی ہے، راستے میں بھی وہ بیل گاڑی کو کنارے کھڑا کر کے نماز ضرور پڑھ لیتا ہے۔ اس کا چھوٹا بھائی دولائی جب اس کے ساتھ پہلی بار اس گاؤں میں آیا تھا تو بہت گھبرایا ہوا تھا ”تمہارا مطلب ہے دادا کہ تم ہندو کے گھر کھاؤ گے؟“ وہ بار بار یہی سوال دوہراتا۔ تنگ آ کر ہرائی نے اسے زور سے جھڑکا ”چپ رہ، بک بک مت کر۔ تجھے نہیں معلوم کہ آدمی کو ہر طرح جینا ہوتا ہے؟“

دولائی بڑا ہوا تو باتیں خود بہ خود اس کی سمجھ میں آنے لگیں۔ وہ بہت شوقین مزاج تھا۔ ہر سال جاڑے میں چارو ماسٹر کے گاؤں جانے کے لیے بے تاب رہتا۔ ماگھ مہینے میں شب چتردشی میلے میں گاؤں کی جاترا پارٹی نے اشان دیب کے گھر کے بازو والے کھلے میدان میں ناٹک کھیلا۔ چارو ماسٹر نے وائلن جو بجایا تو جیسے دولائی کے دل پر جادو کر دیا۔ اسے اپنا گلا سوکھتا ہوا اور اعصاب کھنچتے ہوئے محسوس ہوئے۔ پنڈال میں موجود گم صم سامعین کے دل میں ایک بے نام سی اداسی بھر گئی۔

ماسٹر بابو آپ وائلن نہیں بجاتے، جادو کرتے ہیں رات کے اندھیرے میں لگتا ہے جیسے چارو بابو کے وائلن کی رینگتی ہوئی کمان کی پرچھائیں سنسان راستے پر چلتے بیلوں کی خاموش آنکھوں پر پڑ رہی ہو۔ وائلن کی اداس دھن بہتی ہوئی آتی اور بیل گاڑی کی پہیوں سے لپٹ جاتی جو راستے پر ایسی چرچراہٹ پیدا کرتے جیسے وقت کا پہیہ گھوم رہا ہو۔ بیل گاڑی کے پہیوں کی گھڑگھڑ کے ساتھ وائلن کی موسیقی کھیتوں کے اس پار تک جاتی اور سوئے ہوئے لوگ اچانک جاگ اٹھتے اور محسوس کرتے جیسے ان کے دل بہت زور زور سے دھڑک رہے ہوں۔ او اسکول ماسٹر۔ تم سچ مچ بڑے جادوگر ہو۔ تم نے پدما کے کنارے کھیلتے کودتے بڑے ہونے والے ایک معمولی سے لڑکے کو بتایا کہ دکھ کیا ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ جان کر اب وہ اپنی قبر میں سو رہا ہے۔

ہرائی نیم کے پیڑ کے نیچے کھڑا اپنے چھوٹے بھائی کے بارے میں سوچتا ہے۔ آج دولائی اگر اس کے ساتھ آیا ہوتا تو وہ خوشی سے چیختا ہوا داخل ہوتا اسکول ماسٹر کے گھر۔ وہ چارو ماسٹر کی بیٹی سے بلا جھجک کہتا ”دیدی! مجھے جلدی سے ایک پان کا بیڑا دو۔“

ہرائی پان کھاتا ہے نہ بیڑی پیتا ہے۔ وہ شام کو مسجد جاکر درس میں بیٹھتا ہے۔ دو کٹھل اور تین آم کے پیڑ، سترہ کٹھا زمین، دو بیل اور ایک گاڑی، یہی اس کا کل اثاثہ ہے۔ اخیر جاڑے میں جب راڑ خطے کے گرہست لوگ دھان کوٹنے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں تو وہ بے چین ہو کر اٹھتا ہے۔ اپنی سترہ کٹھا زمین میں جو پھل سبزیاں اس نے اگائی ہیں انہیں وہ بیل گاڑی پر لادتا ہے۔ گاڑی کے اوپر ساری رسیاں کستا ہے، پہیوں میں تیل ڈالتا ہے اور رات میں جب ویرانے میں سیار ہواں ہواں بولتے ہیں وہ اپنے سفر کی شروعات کرتا ہے۔

ایسے میں اس کی بیوی اور بچے پاٹ کی چھڑی سے بنائی ہوئی باڑ کے پاس کھڑے ہو کر نندا سی آنکھوں سے اسے رخصت کرتے ہیں۔ لیکن ہر چہرے پر امید کی ایک چمک ہوتی ہے کہ واپسی میں وہ راڑی چاول لائے گا جو کھانے میں میٹھا ہوتا ہے، جس کے دانے جگمگ سفید لمبے اور خوشبودار ہوتے ہیں جنھیں شاہ دانہ کہتے ہیں اور جس چاول کو پیسے والے، میاں صاحب اور بابو لوگ پرب تہوار کے موقع پر کھاتے ہیں۔ پدما، بھاگیرتی اور بھیروں سے سیراب ہونے والے باگھڑی کے میدانی علاقوں میں ان دنوں بڑی ہلچل مچی رہتی ہے جب شاہ دانہ کی فصل پک کر تیار ہوتی ہے۔

راڑ کی سونا اگلنے والی زمینوں پر وہاں کے لوگوں کو رشک ہوتا ہے۔ ان دنوں راڑ کے علاقوں میں سبزیوں اور پھلوں سے لدی بیل گاڑیاں کھنچی ہوئی آتی ہیں۔ بیل گاڑیوں کے پہیوں کے ساتھ لوگوں کے دل خوشی سے دھڑکتے ہیں۔ غریب اور بدحال لوگ ادھر جوق در جوق آتے ہیں۔ بھاگیرتی کے پچھمی کنارے پر لوگ مٹھی بھر مٹی ہاتھ میں اٹھا کر اس سنہری زمین کو سلام کرتے ہیں جو ’شاہ دانہ‘ پیدا کرتی ہے، جس کا بھات سفید نفیس اور لذیذ ہوتا ہے۔ ابلتے ہوئے چاولوں کی مہک کیسی سوندھی ہوتی ہے۔ بھوکے بدحال لوگ اس مٹی کو سونگھتے ہیں۔ انھیں مٹی سے بھات کی خوشگوار مہک آتی ہے۔

ہرائی ان بدحال لوگوں میں سے نہیں ہے جو بھیک مانگنے کے لیے راڑ علاقے میں آتے ہیں۔ وہ پھلوں اور سبزیوں کے عوض اناج حاصل کرتا ہے۔ ماگھ کے ان آخری دنوں میں وہ یہاں اپنے بھائی کا وعدہ پورا کرنے آیا ہے۔ چارو ماسٹر بھی بڑا دل والا ہے۔ اس نے ہرائی کو تین بوری چاول اور بیلوں کے لیے دو گٹھڑ چارہ دیا ہے۔ یہاں تک دو رات کا سفر ہے۔ باگھڑی اور راڑ علاقے کے لوگوں کے درمیان یہ سلسلہ پشتوں سے جاری ہے۔ ہرائی کا باپ بھی جب یہاں کاروبار کے لیے آتا تو چارو ماسٹر کے پاس ضرور آتا۔ وہ ان کے لیے ہر سال آم اور کٹھل لاتا تھا۔ چارو بابو کی ماں اس کے لیے ڈھیر ساری موڑی بندھوا دیتیں۔ اب وہ نہیں رہیں۔ وہ اگر زندہ ہوتیں تو ہرائی کو ایک نیا گلچھا بھی ضرور ملتا۔

شام ہو چلی تھی۔ سورج کی ڈوبتی روشنی میں جھونپڑیاں اور سوکھے ننگے پیڑ نظر سے اوجھل ہو رہے تھے۔ ہرائی نے تینوں بوریاں گاڑی پر لاد کر انہیں اچھی طرح باندھا۔ چارو ماسٹر کی بیٹی دروازے پر آ کر مسکراتی ہوئی کہتی ہے ”کاکا اگلی بار پکے ہوئے آم لانا نہ بھولنا۔“

”ضرور ضرور بیٹی۔“ ہرائی ایک بیل کو پہیے سے کھولتا ہے اور اسے جوئے سے باندھتا ہے پھر بائیں طرف والے بیل کو کھولتے ہوئے کہتا ہے ”اری بٹیا پھاگن میں تیرا بیاہ ہو رہا ہے اور تو نے مجھے آنے کے لیے بھی نہیں کہا۔ تو کیا سمجھتی ہے میں کوئی غیر ہوں۔“

لڑکی شرما کر بھاگ جاتی ہے۔ نیم کے نیچے کھڑا لڑکی کا باپ کہتا ہے : ”تمہیں دعوت دوں تب بھی کیا تم آ سکو گے ہرائی؟ اب دس ایک دن ہی تو رہ گئے ہیں۔ آ سکو تو ضرور آنا۔“ ہرائی بائیں طرف والے بیل کو اٹھانے میں لگا ہوا تھا۔ ہر طرح کی ٹٹکار کے بعد بھی جب وہ بیل کو اٹھانے میں ناکام رہا تو اس کی دم کھینچ کر چلایا ”دھوکے باز! تمہیں تو میں ذبح کردوں گا، چل اٹھ، میں کہتا ہوں اٹھ۔“ اس کے بعد وہ ذرا جھک کر اسے پچکارتے ہوئے کہتا ہے، ”میرے پیارے، میرے دلارے، اٹھ بھی جاؤ۔ کیا تم شنکی بھانگا تک نہیں چل سکتے۔ اٹھو اٹھو، مجھے اور پریشان نہ کرو۔ ہاں بابا میں کہہ رہا ہوں نا، اب ہمیں گھر واپس جانا ہے۔“ کافی دیر تک پچکارنے، سہلانے کے بعد بھی بیل نہیں اٹھا۔ آخر کو وہ اسے طعنے دینے پر آ گیا۔

”پیارے اتنے بے وفا نہ بنو، تم چھوٹے سے بچھڑے تھے۔ میں نے تمہیں پال پوس کر اتنا بڑا کیا۔ کیا تم اتنا بھی نہیں مانتے؟ کیا یہی صلہ دو گے تم؟“

چارو ماسٹر ہنسنے لگے ”تو بڑا بے وقوف ہے ہرائی۔ بیل کو یہیں چھوڑ کر شنکی بھانگا چلا جا اور پیری مل اوجھا کو بلا لا۔ دیکھ نہیں رہا ہے تیرے بیل کو دست آرہے ہیں۔“

ہاں وہ دیکھ رہا ہے۔ پیال کا ایک گچھا بیل کے سامنے لیے ہوئے وہ کچھ سوچتا ہے۔ بیل کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے ہیں۔ ہرائی کھڑا ہو کر کہتا ہے ”ماسٹر بابو آپ نہیں جانتے یہ کتنا اڑیل ہے۔ اگر یہ نہ چلنے پر اڑ جائے تو اسے کوئی چلا نہیں سکتا۔ لیکن ایک بار چل پڑا تو کوئی اسے روک بھی نہیں سکتا۔ یہ گھوڑے کی طرح ہوا سے باتیں کرتا ہے۔ اپنے آپ میں انوکھا ہے یہ“

پیچھے مڑ کر وہ ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھتا ہے اور بیل کی دم مروڑ کر اپنی چھڑی اس کی پسلی میں کھبو دیتا ہے۔ چارو ماسٹر یہ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ بیل کھڑا ہو گیا۔ ہاتھ میں لگ جانے والے گوبر کو ہرائی نے بورے میں پونچھا اور چارو ماسٹر سے بولا ”دیکھا نا آپ نے؟“

”ہاں لیکن اسے پیری مل کو دکھانا نہ بھولنا۔“

ہرائی نے جوئے کو بیل کے کاندھے پر رکھا، اس بے زبان جانور نے سمجھ لیا کہ اب اسے گھر جانا ہے۔ اگر چہ وہ اتنا کم زور ہو گیا تھا کہ چلنا بھی مشکل تھا لیکن پل کے پل میں ہوا سے باتیں کرنے لگا۔ آس پاس کے دیگر بیل گاڑی والوں نے اس تیز رفتار سواری کو دیکھا۔ گاڑی دھول اڑاتی جا رہی تھی اور ہرائی مارے خوشی کے چیخ رہا تھا، ”میرے پیارے، میرے اڑنے والے گھوڑے، میرے ہوائی جہاز! ماسٹر بابو اگر میں بٹیا کے بیاہ میں آیا تو میرے اس شہزادے کو پانچ گٹھڑ چارہ دینا۔“

چارو ماسٹر نے اپنا وائلن بجانے والا گداز ہاتھ ہلایا۔ ان کی لاڈلی بیٹی دوڑتی ہوئی آئی اور ہرائی چاچا کی گاڑی کو اس وقت تک دیکھتی رہی جب تک وہ نظر سے اوجھل نہ ہو گئی۔ جاڑے کے آخری دنوں میں چٹیل کھیتوں پر دھول اڑاتی گاڑی جب کچے راستے پر مڑ گئی تو اس نے کہا ”بابا تم نے ہرائی کاکا کو میرے بیاہ پر نہیں بلایا۔ تم کتنے بھلکڑ ہو۔“ کھیتوں کے اس پار تالاب کے کنارے کئی مکانات ہیں۔ کچھ جھجکتے ہوئے ہرائی نے اپنی گاڑی کو کچے راستے پر کھڑے ایک اکیلے، لمبے درخت سے باندھ دیا۔

سورج چھپ چلا ہے۔ گاڑی پر دھان کی تین بوریاں ہیں۔ گاڑی کو پھر تیز رفتاری سے چلاتے ہوئے ہرائی مڑمڑ کر بوروں کو دیکھا جاتا ہے۔ آگے چل رہی ایک لڑکی سے اس نے پوچھا، بیٹا! اس گاؤں میں کوئی جانوروں کا بید ہے کیا؟ لگتا ہے لڑکی فارغ ہونے کے لیے ادھر آئی ہے، کیونکہ وہ بار بار اپنا پیٹ سہلا رہی ہے۔ اس نے جھنجھلا کر کہا ”دیکھیے وہ پیری مل کاکا وہاں کھڑے ہیں۔“

وہ شخص سچ مچ اوجھا کی طرح دکھتا ہے۔ دبلا پتلا چھوٹا قد، الجھے ہوئے بال اور پیشانی پر لال ٹیکہ۔ اس کی غضب ناک سرخ آنکھیں پراسرار لگ رہی تھیں۔ کسی سوکھے پیڑ پر ایک کوا کائیں سے بولا۔ اس نے اپنی سانپ کی سی ٹیڑھی میڑھی چھڑی ہوا میں ہلاتے ہوئے کڑک دار آواز میں کہا، ”چلا جا یہاں سے۔ کیوں آیا ہے یہاں؟ جہاں جی چاہے چلا جا، پورب، پچھم، اتر، دکھن۔ ساری دنیا چھوڑ کے یہاں کیوں آیا ہے؟“

ہرائی اپنی پیشانی کھجلاتے ہوئے منمنایا، ”میں بڑی پریشانی میں ہوں۔ چنڈی تلا والے چارو ماسٹر نے بتایا کہ۔“

”سمجھ گیا۔ اب بتاؤ کیا پریشانی ہے۔“
”دست۔“
”کس کو؟ دائیں والے کو یا بائیں والے کو؟“
”بائیں والے کو۔“
”اچھا“

پیری مل ہری اندر گیا اور کچھ دیر بعد واپس آ گیا۔ ”ماسٹر بابو کے پاس سے آئے ہو اس لیے صرف سوا روپیہ لوں گا۔“ حیرت سے ہرائی کی آنکھیں پھیل گئیں۔ میرے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے بید جی۔ صرف بارہ آنے ہیں۔ مجھ پر رحم کیجئے۔ میں بڑی مصیبت میں ہوں۔

اپنی سارس جیسی پتلی پتلی ٹانگیں پھیلاتے ہوئے پیری مل نے غصے سے کہا ”تم باگھڑی والے گاڑی بانوں کی یہی بری عادت ہے۔ تم لوگ اتنا پیسہ بھی نہیں دیتے جتنا واجب ہے۔ اور تم سب اسکول ماسٹر کے نام کی دہائی دیتے ہو۔ لیکن وہ کیا ہمارے مالک ہیں یا ان داتا ہیں؟ مجھے اس بات سے کیا لینا دینا کہ وہ وائلن بجاتے ہیں۔ ان کے وائلن کا جادو عورتوں پر چل سکتا ہے، مجھ پر نہیں۔“ پیری مل نے باتوں باتوں میں ہرائی اور اس کے دونوں بیلوں کے بارے میں وہ ساری باتیں معلوم کر لیں جو وہ جاننا چاہتا تھا۔ گاڑی کو پیڑ سے بندھا ہوا دیکھ کر وہ تقریباً بوکھلائی ہوئی آواز میں بولا ”ارے ارے! یہ تم نے کیا کیا؟ بدھو باگھڑی۔ تم نے اپنی گاڑی یہاں چھوڑی ہے۔ بدنصیب کی اولاد! تمہیں نہیں معلوم تم نے کیا کیا ہے۔“

غروب آفتاب کے بعد سڑک کے دونوں طرف تازہ کٹے ہوئے کھیت جنگلی فاختہ کے سر مئی پنکھ کی طرح پھیلے معلوم ہو رہے تھے۔ پوری دنیا ایک پر سمیٹے بیٹھی ہوئی فاختہ کی طرح شانت لگ رہی تھی۔ اواخر سرما کے آسمان سے ٹھنڈک نیچے اتر آئی تھی۔ جوتے ہوئے کھیتوں کی مینڈوں کے پیچھے دور کہیں ایک گیدڑ چلایا پھر اس کی آواز دھیرے دھیرے سناٹے میں ڈوب گئی۔ ہرائی نے تھرائی ہوئی آواز میں پوچھا،

”گاڑی یہاں باندھ کر میں نے کیا غلطی کی ہے بیدجی؟“

پیری مل ہری نے کسی پیڑ کی جڑوں سے بنی ہوئی اپنی ٹیڑھی میڑھی چھڑی اٹھا کر ایک طرف دکھاتے ہوئے کہا ”اس ٹھونٹھ شاخ کو دیکھ رہے ہو۔“

سہمی ہوئی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ہرائی بولا، ”جی“
”تم جانتے ہو کالو دیاڑ کہاں ہے؟“
”ہاں یہ جگہ بھیرب ندی کے کنارے بھاگیرتھ پور کے پاس ہے۔“
”تم وہاں کے اسماعیل کو جانتے ہو؟“
”نہیں بید جی!“
”اسماعیل نے یہاں گاڑی باندھ کر کیا کیا تھا معلوم؟“
”نہیں جی۔“
”اس نے خودکشی کی تھی۔“

ایک ناگہانی خوف کے ساتھ ہرائی نے اس جگہ کو دیکھا۔ یہ نحوست ہے۔ دھنا پھر بیٹھ گیا تھا۔ جہاں وہ بیٹھا تھا وہاں پتلا پتلا گوبر بھرا ہوا تھا جس سے بدبو اٹھ رہی تھی۔ جوئے کی داہنی طرف سے اپنا ایک پاؤں آگے بڑھائے ہوئے مونا مڑ کر دھنا کا سر چاٹ رہا تھا۔ کتنی تکلیف دہ بات ہے۔ یہ دونوں بے زبان جان دار ایک ساتھ ہی پلے بڑھے ہیں۔ ایک دوسرے کو دکھ درد کو سمجھنا ان کے لیے فطری بات تھی۔ پیری مل کی آواز پھر ابھری ”خودکشی! اس کے بعد سے ہی یہ شاخ سوکھ گئی۔ خیر! تم نے یہ سب کچھ انجانے میں کیا۔ مجھے تھوڑی پیال دو۔“

ہرائی نے گاڑی سے مٹھی بھر پیال اٹھا کر اسے دی۔ اوجھا نے پیال کے دونوں سروں کو مروڑا۔ اس کے اندر کچھ جڑی بوٹی رکھی پھر اسے بیل کے منہ کے پاس لے جا کر بولا ”میرے پیارے، مجھے پتہ ہے گائے بیلوں کی زندگی کتنی کٹھن ہے۔ اچھا اب یہ کھا لو۔ اچھے سے چبا لو۔ کچھ دیر آرام کرو اس کے بعد خیریت سے اپنے گھر پہنچ جاؤ گے۔ ارے تمہارے پاس کوئی بالٹی ہے کیا؟“

ہرائی نے جلدی سے کہا ”ڈولچی ہے۔“ پیری مل ٹھٹا لگا کر بولا ”تم اسے ڈولچی کہتے ہو ہم بالٹی کہتے ہیں ایک ہی بات ہے۔ جاؤ تالاب سے پانی بھر لاؤ۔ اور ہاں ایک بات کا دھیان رہے، سانس روک کر بالٹی میں پانی بھرنا۔“

ہرائی بالٹی لے کر دوڑا۔ سانس روک کر پانی بھرا اور تیز تیز چل کر ہانپتا ہوا واپس آیا۔ پیری مل نے چارہ دھنا کے منہ میں ٹھونس دیا تھا۔ وہ دھیرے دھیرے منہ چلا رہا تھا۔ اب پیری مل نے اپنی لنگی کی انٹی سے کچھ گھاس نکالی اور اسے دھنا کے سر سے پاؤں تک کئی بار گھمایا۔ ”پانی کہاں ہے“ اس نے پوچھا۔

بالٹی کے سامنے بیٹھ کر اس نے کچھ منتر پڑھے اور پانی پر پھونکا۔ اس کے بعد ہرائی سے بولا، ”اب اسے تھوڑا پانی دو۔ اسے تھوڑی تھوڑی دیر بعد پلاتے رہنا۔ آج رات میں اسے کھانے کو کچھ نہ دینا۔ صبح کو گھاس میں ملا کر یہ دوا کھلا دینا اور ہو سکے تو اسے ماڑ پلا دینا۔ اب میرے پیسے دو۔ مجھے اور کسی کو بھی دیکھنے جانا ہے۔ اس پر بھوت آیا ہوا ہے۔“

برائی نے اسے بارہ آنے دے دیے۔ پیری مل نے اٹھتے ہوئے کہا، ”اسے پانی دو اور یہاں زیادہ دیر مت رکو۔ اسماعیل کی روح تمہارے پیچھے پڑ جائے گی۔ تم نے اچھی جگہ نہیں چنی ہے۔ تم ایسا کرو، میدی پور بازار چلے جاؤ۔ وہاں آرام کرلینا۔“

سارس جیسی پتلی ٹانگوں والا پیری مل ہری یہ کہہ کر چل دیا۔ روشنی اور کم ہو گئی تھی۔ ہرائی کچھ دیر تک ایسے ہی کھڑا رہا۔ پھر اس نے چلو میں پانی بھر کر دھنا کو پلانے کی کوشش کی۔ لیکن پانی اس کے منہ کے کناروں سے بہہ گیا۔ دور کہیں سیار بولا، کچھ پل بعد اچانک کسی الو کے چیخنے کی آواز پھیل گئی۔ ہرائی کو اپنے پاؤں من من بھر کے محسوس ہونے لگے۔

اس نے من ہی من میں کوئی دعا پڑھی۔ کبھی کبھی کوئی موٹر گاڑی ادھر سے گزرتی تو اس کی تیز روشنی میں بیلوں کی آنکھیں گہری نیلی دکھائی پڑتیں۔ ٹھنڈک اور ڈر سے ہرائی کو کپکپی ہونے لگی۔ وہ آنے والی رات کے تصور سے کانپ گیا جس کی لپلپاتی کالی زبان سے ٹپکنے والی رال خدائے تعالیٰ کی بنائی ہوئی اس دنیا پر گر رہی تھی۔ عصر اور مغرب دو وقتوں کی نماز قضا کردینے کا احساس گناہ اب اس پر اتنا بھاری ہو گیا تھا کہ اسے لگ رہا تھا عمر بھر کی نماز ضائع ہوئی اور پاک بازی کی علامت عبادت گزاروں کی پیشانی کا نورانی گٹا اس کے ماتھے سے اچانک غائب ہو گیا۔

ہرائی خوف سے کانپنے لگا۔ ڈوبتے اجالے میں پرندوں کی آخری ڈار کھیتوں میں دن بھر دانہ چگنے کے بعد اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہی تھی۔ پرندے آپس میں کچھ سرگوشیاں کرتے جا رہے تھے۔ ہوا میں ایک طرح کی سازش تھی۔ آنے والی خوف ناک رات پل پل اپنے آپ کو ہرائی پر ظاہر کر رہی تھی۔ مکڑی کے جالے میں پھنسے ہوئے کسی مکوڑے کی طرح باگھڑی کا یہ گاڑی بان مبہوت سا بیٹھا خالی آنکھوں سے خلا کو گھورتا رہا۔

اسمٰعیل کی موت کے قصے سے جڑی سوکھی شاخ کو وہ بار بار دیکھتا رہا۔ مغربی افق کی لالی اور شام کے ستارے کی مدھم روشنی میں وہ شاخ مبہم سی اب بھی نظر آ رہی تھی۔ کیا اسمٰعیل اپنے شکنجے کے قریب اسے پاکر آسیبی ہنسی ہنس رہا ہے۔ ؟ نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ ہرائی نے ایسے بہت سے اسٰمعیل دیکھے ہیں۔ باگھڑی کے گاڑی بان رات میں سفر کرنا پسند کرتے ہیں اور رات میں سفر۔ راستے میں انھیں بہت سے بھوتوں، جنوں اور اسمٰعیلوں سے واسطہ پڑتا ہے۔

یہ آسیب کبھی ان کے سامنے آدمی کی طرح چلتے ہیں کبھی سیار یا بلی کے روپ میں آتے ہیں۔ کبھی کسی پرندے کی شکل میں پر پھڑپھڑاتے ہوئے ان کے سروں پر چکر کاٹتے ہیں۔ ایک بار کسی پرندے نے دولائی کے بائیں کان کی لو کو لہولہان کر دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بیل گاڑی والے اپنے سر اور منہ کو گمچھے سے ڈھانک کر رکھتے ہیں۔ اناڑی دولائی کو یہ نہیں معلوم تھا سو اسے بھگتنا پڑا۔ پھر راستے میں رہزنی کا بھی ڈر رہتا ہے، اس لیے یہ لوگ قافلہ بنا کر سفر کرتے ہیں اور ہر ایک کے پاس پنی حفاظ کے لیے لوہے کی سلاخ ہوتی ہے۔

اس سفر پر نکلنے والے بیل مضبوط بھی ہوتے ہیں اور سدھے ہوئے بھی۔ ان بیل گاڑی والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تجربے، مشاہدے، اور یہاں تک کہ اپنی غلطیوں سے بھی سیکھ سیکھ کر ماہر بنتے ہیں۔ لیکن آج کا ہرائی ادھر کاروبار کے لیے نہیں آیا تھا جیسے کہ وہ اکثر آتا ہے۔ وہ یہاں اپنے چھوٹے بھائی کے کیے ہوئے وعدے کے مطابق چارو ماسٹر کی بیٹی کی شادی کے لیے کونہڑے اور مٹر کا تحفہ پہنچانے آیا تھا۔

ہرائی نے گویا اپنی لاچاری اور بے بسی ظاہر کرنے کے لیے زور زور سے ناک بجائی اور ایک بار پھر آنے والی خوفناک رات کا تصور کیا۔ میدی پور ابھی دو میل دور ہے۔ گاڑی کو ہرحال میں وہاں لے جانا ہے کیونکہ اس سنسان خوفناک جگہ پر رکنا ٹھیک نہیں ہے۔ یہ تین بوری چاول نہیں ہیں، تین بوری سونا ہے۔ اس نے سوچا کہ بیوی اور بچے اس چمکتے ہوئے سفید خوشبودار میٹھے ذائقے والے چاول کے کتنے منتظر ہوں گے۔ باگھڑی کے گھروں کے کتنے بھوکے بچے اس شاہ دانہ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہرائی نے پریشان نگاہوں سے آس پاس دیکھا اور بیمار بیل کی پیشانی سہلاتے ہوئے بولا، ”میرے بچے دھنا“

ہرائی نے اس کے بدن کے جھٹکوں کو محسوس کیا۔ ”اب اٹھنے کی کوشش کرو، میرے باپ، تمہیں دوا دے دی ہے۔ ہے کہ نہیں؟ اس لیے ڈرو نہیں۔ اوہ خدا! کیا تم سمجھتے ہو کہ میں تمہیں گاڑی کھینچنے کے لیے مجبور کروں گا۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں اتنا کٹھور دل ہوں۔ او میرے سونا، اٹھ بھی جاؤ۔“

ہرائی نے ٹٹکاری مار کر اسے اٹھانے کی ایک اور کوشش کی۔ میں سب سمجھتا ہوں۔ میری بیوی اور میں نے اس وقت سے تمہیں پالا پوسا ہے جب تم ایک چھوٹے سے بچھڑے تھے۔ تم سچ مچ ہمارے بیٹے ہو۔ دھنا! تم اور مونا سچ مچ ہمارے بیٹوں کی طرح ہو جیسے کلیمدی چلیمدی اور آسیردی ہیں۔ اٹھ جاؤ میرے لال۔ وہ ہے میدی پور، سامنے، وہ دیکھو۔ ”

اس نے دھنا کا سر اٹھایا لیکن اس نے زور سے سر جھٹک دیا۔ اس کے سینگ سے ہرائی کے گھٹنے کے پاس چوٹ لگ گئی۔ بس اسے غصہ آ گیا۔ ”ٹھیر، میں تجھے ذبح کردوں گا۔ تیرا کلیجہ چپا جاؤں گا۔ تو حرامی کا جنا، بڑا غدار نکلا تو۔“

اپنے چابک سے ہرائی نے بیل کے پیٹ میں ٹھونگا لگایا۔ دھنا نے اپنے اگلے دونوں پاؤں آگے پھیلا کر اٹھنے کی کوشش کی۔ ہرائی نے پیچھے جاکر اس کی گوبر سے سنی دم کھنچ کر اسے پیچھے سے اٹھانے کی کوشش کی۔

دھنا کھڑا ہو گیا۔ ہرائی کچھ پل اسے دیکھتا رہا، پھر ایک لمبی سانس لی اور اسے لے کر گاڑی کے پیچھے باندھ دیا۔ مونا کو اس نے جوئے کے داہنی طرف کیا اور بائیں طرف سے خود اسے اٹھالیا۔ جوئے کو اپنے سینے پر لے کر اس نے زور لگایا۔ گاڑی چل پڑی۔

اوبڑ کھابڑ راستہ پر چلتے ہوئے ہرائی کبھی کبھی رک کر سانس برابر کرتا، پھر چل پڑتا۔ گاڑی کے پیچھے بندھا بیمار کم زور جانور جس پر اب کوئی بوجھ بھی نہیں تھا لڑکھڑاتا ڈگمگاتا چل رہا تھا۔ پہیوں سے وہی جانی پہچانی آواز نکل رہی تھی، دھیمی چرخ چوں جیسے دل دھڑک رہا ہو۔ ہرائی کے کانوں میں چارو ماسٹر کے وائلن کی گونج ہے۔ بیل گاڑی کھینچتے ہوئے اسے وہی کرب ناک دھن سنائی دے رہی تھی۔

آسمان پر ستارے جھلملانے لگے تھے۔ رات کی چڑیلیں اپنے سفر پر نکل پڑی تھیں۔ زمین پر پڑے ہوئے گھونگھوں، کٹے ہوئے کھیت اور سوکھے پتوں پر ان کے بڑھتے ہوئے قدم ایک خوف ناک سرسراہٹ پیدا کر رہے تھے۔ دور کہیں سہمے ہوئے سیار بول رہے تھے۔ ستاروں کی مدھم روشنی میں جنگلی ہنسوں کا پرا اپنے گیلے پنکھ پھیلائے اڑا جا رہا تھا۔ ہرائی نے ایک بار پھر ٹھہر کر سانس لی اور ہنسوں کی ڈار کو دیکھا۔ کبھی کبھی ہانپتی ہوئی آواز سے وہ اپنا ہی حوصلہ بڑھاتا۔

”چلو پیارے، جلدی چلو۔“ اس کے دل میں طرح طرح کی باتیں آ رہی تھیں۔ ”پیارے دھنا، تمہیں معلوم ہے یہ ماگھ کا مہینہ ہے۔ بڑے بوڑھے کہتے ہیں ماگھ میں باگھ کو بھی ٹھنڈ لگتی ہے اس لیے کاندھے پر کمبل ضرور رکھو۔ لیکن کیا ہمارے ان بڑے بوڑھوں کو معلوم ہے کہ گائے بیلوں کی زندگی کتنی کٹھن ہوتی ہے۔ خدا نے مجھے بتا دیا ہے کہ گائے بیل ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ مصیبت سی مصیبت! اب ٹھنڈک دھیرے دھیرے کم ہوتی جا رہی ہے۔ پھر بھی پوش اگھن کی طرح نہیں۔ سنو دھنا اور مونا تم بھی سنو۔ دھیرے دھیرے میں سمجھ گیا ہوں کہ کیا اچھا ہوتا ہے کیا برا۔ دیکھو میں انسان ہوں۔ ہے کہ نہیں؟ لیکن اس وقت میں بھی تمہاری طرح بوجھ ڈھونے والا ایک جانور ہوں۔“

ہرائی اپنی تکلیف میں بھی ہنسا۔ اس کی اکھڑی ہوئی سانس اور ہنسی گڈمڈ ہو گئے۔ ”تم بھی کیوں نہیں ہنستے، میرے بچے۔ ہنسو۔ اتنا ہنسو کہ تمہارے پیٹ میں بل پڑ جائیں۔ کیا تم جانتے ہو۔ اگر تم سوچو تو دنیا میں بہت سے انسان بھی تمہاری طرح ہیں جیسے بے زبان جانور۔ دیکھو وہ بھی اپنی پیٹھ پر پٹ سن کے بھاری بھاری گٹھڑ اٹھاتے ہیں جو دوسروں کے ہوتے ہیں۔ وہ ان گٹھڑوں کو اٹھانے سے انکار کر ہی نہیں سکتے۔ او، اب ہنسو نہیں، تم دیکھ سکتے ہو ان کی گردن کے نیچے سیاہ گٹے، ان کے سوکھے بدن، بوجھ سے جھکی ہوئی ان کی پیٹھ، سوجے ہوئے گھٹنوں سے چلتے ہوئے ان کے قدموں کا بوجھل پن۔ ان کے بھی آقا ہیں۔ ٹھیک سے دیکھو تو تم انہیں دیکھ سکتے ہو۔“

اس نے منہ کھول کر ایک گہری سانس لی اور خود سے کہا، ”گائے بیل کی زندگی بھی کتنی کٹھن ہوتی ہے۔“ یہ غیر واضح الفاظ ہوا کی لہروں پر سفر کرتے ہوئے درویشوں تک چلے گئے۔ چارو ماسٹر کے وائلن کی کرب ناک دھن اس کی گاڑی کے پہیوں کے ساتھ ساتھ اب بھی چل رہی ہے۔ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اس گاڑی والے نے، جو اس وقت فقط ایک بوجھ ڈھونے والا جانور ہے، وہ بات کہی جو ابھی ابھی اس پر منکشف ہوئی تھی ”گائے بیلوں کی زندگی کتنی کٹھن ہوتی ہے، سچ!“

لیکن میدی پور آ کیوں نہیں رہا؟ یہاں سے صرف دو میل ہے لیکن نظر کی حد تک اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ ہرائی بار بار رک جاتا، کتنی دور ہے میدی پور؟ وہ کسی بے زبان جانور کی طرح ادھر ادھر دیکھتا ہے۔ مونا کے ساتھ تین بوری چاول وہ جانے کتنے برسوں سے لادے لئے آ رہا ہے، اسے یاد نہیں۔ دنیا اسے ویسی نظر نہیں آ رہی ہے جیسے پہلے دکھتی تھی۔ لگتا ہے جگ بیت گئے۔ کیا گاڑی کھینچتے کھینچتے اس کی داڑھی اور سر کے بال پک گئے؟

خدایا، کیا وہ اس جوئے کے نیچے ہی مر جائے گا۔ اسے موت کے فرشتے عزرائیل کے پنکھوں کی پھڑپھڑاہٹ سنائی دے رہی تھی۔ اس نے اوپر دیکھا، ستاروں بھرے آسمان میں اسے اپنا جھونپڑا نظر آیا جس کی پٹ سن کی چھڑیوں سے بنی ہوئی باڑ کے پاس ایک عورت، اس کے بچوں کی ماں، ہاتھ میں دیا لئے اس کی راہ تک رہی ہے۔ وہ جب سفر پر نکل رہا تھا تب وہ عورت دھنا اور مونا کے پیر دھوکر، ان کے سر سہلا کر بولی تھی، ”انہیں حفاظت سے واپس لانا۔ انھیں میں تمہاری نگرانی میں بھیج رہی ہوں۔ میں بھی دعا کروں گی کہ تم خیریت سے لوٹو، میرے بچو! میں ہاتھ میں دیا لے کر تمہارا انتظار کروں گی۔ جب تک تم لوٹو گے نہیں میں ایک پلک بھی نہیں سوؤں گی۔“

”اے میری پیاری، میں آ گیا ہوں۔ دیکھ، تیرے مونا اور دھنا بھی ساتھ ہیں۔ یہ تیرا دھن دولت ہیں۔“ یہ کہتے ہوئے ہرائی ہنس پڑے گا۔ دھنا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہے گا ”تیرے اس لال نے مجھے بہت پریشان کیا۔ اس کے پاؤں دھو اور اپنے بالوں سے انہیں پونچھ۔ ہاں تم تو ایسا کروگی ہی۔“ دھنا جب چھوٹا سا بچھڑا تھا اور ان کے پاس آیا تھا تب اس کی بیوی نے واقعی اس کے پاؤں اپنے بالوں سے پونچھے تھے۔ ماں اور بیٹی بھور کے سمئے جاکر پدما سے گھڑا بھر پانی لائی تھیں۔ ماں نے اس پانی سے وضو کیا تھا اور نماز کے بعد اس کی عافیت اور لمبی عمر کی دعا مانگی تھی۔ وہ عورت ہر رات دیر گئے تک پدما کا پانی لیے اپنے دروازے پر اس کا انتظار کرتی ہوگی۔ گؤشالے میں چارہ بھگویا رکھا ہوگا۔

ہرائی اچانک ٹھٹھک گیا۔ دھنا کے پیچھے سے ایک انسانی ہیولیٰ نمودار ہوا۔ ہرائی نے ڈری ڈری آواز میں پوچھا ”کون ہو تم؟ بولتے کیوں نہیں؟ کیوں میرے پیچھے پیچھے آرہے ہو؟“ وہ انسانی ہیولیٰ لپک کر ہرائی کے سامنے آ گیا اور مسکرا کر سوال کیا، ”کہاں کے ہو بھائی؟“ برائی نے اس پر بھروسا نہ کرنے والے لہجے میں کہا ”باگھڑی کا ہوں بھائی جان۔“

”السلام علیکم۔“
اس سے ہرائی کو کچھ تسکین ہوئی لیکن پھر بھی اس کے منہ سے بہ مشکل نکلا ”وعلیکم السلام۔“
”یہ تمہارے بیل کو کیا ہوا، بیمار ہے؟“

ہرائی نے سوچا اس تنہا سفر میں ایک ساتھی کا ہونا اچھا ہے، اس لیے وہ رک گیا اور بولا ”ہاں بھائی جان! اسے صبح سے دست آرہے ہیں۔ بہت مشکل میں ہوں۔ شنکی بھانگا کے اوجھا نے اسے دوا دی ہے۔ تو میں نے سوچا کہ۔“ اور پہلی بار ہرائی نے اپنے کیے پر شرمندگی سی محسوس کی۔ وہ بیل کی مانند گاڑی کھینچتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ اپنی جھینپ مٹانے کے لیے وہ زور سے ہنسا۔

اجنبی نے پوچھا ”تمہارے پاس لالٹین نہیں ہے کیا؟ اس کے بغیر اندھیرے میں سفر کیسے کر رہے ہو تم؟ گشت پر نکلے سپاہی تو تمہیں پکڑ لیں گے۔“ ہرائی جلدی سے جوئے سے باہر نکلا اور مونا کو بھی اس سے آزاد کر دیا۔

”او میرے خدا، میں بھی کتنا بھلکڑ ہوں۔ ابھی جلاتا ہوں۔“ اس نے جھک کر بیل گاڑی کے نیچے سے لالٹین نکالی اور لنگی کی انٹی سے ماچس نکال کر تیلی جلائی۔ لیکن تیز ہوا میں تیلی بجھ گئی۔ اجنبی نے اپنی جیب سے ماچس کی ڈبیا نکالی۔

”تم لوگوں کو باگھڑی صحیح ہی کہا جاتا ہے۔ لاؤ میں جلا دوں۔“

لالٹین کا شیشہ جہاں پر ٹوٹ گیا تھا وہاں کاغذ چپکا دیا گیا تھا جس کی وجہ سے زیادہ روشنی نہیں ہوئی۔ اجنبی نے لالٹین کی مدھم روشنی میں دھنا کو چاروں طرف سے دیکھا اور اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ دھنا کو یہ ناگوار لگا۔ اس نے سر جھٹکا اور پاؤں جھاڑے۔ ہرائی نے سوچا یہ آدمی ڈاکٹر ہوگا۔ اس نے دھاری دار لنگی اور آدھی بانہہ کی قمیص پہن رکھی تھی۔ کاندھے پر ایک گمچھا بھی تھا، ہونٹ پان سے لال تھے، بالوں میں تیل لگا تھا اور وہ قرینے سے مانگ نکالے ہوئے تھا۔

اس کی چگی داڑھی تھی۔ اس نے پمپ پہن رکھے تھے اور کاندھے پر ایک تھیلا بھی تھا۔ ہرائی کو یقین ہو گیا کہ یہ آدمی پاس ہی کے گاؤں کا ہوگا اور اب گھر لوٹ رہا ہے۔ کیا پتہ اس کے سارے پیسے خرچ ہو گئے ہوں اور بس کا کرایہ نہیں بچا ہوگا، تو اب پیدل ہی واپس جا رہا ہے۔ ہرائی نے اس شخص کو غور سے دیکھا اور اسے یقین ہو گیا کہ یہ خوش حال آدمی ہے۔ اور راڑ کی دھرتی میں کون خوش حال نہیں ہے؟ یہاں کی دھرتی سونا اگلتی ہے۔ یہاں کا ہر آدمی خوشبودار شاہ دانہ چاول کا بھات کھاتا ہے، وہ بھی دونوں وقت۔ ناقابل یقین، ہے نا! دن میں دوبار کھانے میں بھارت، روز، پورے مہینے، پورے سال، سال بہ سال۔

راڑ والے آدمی نے دھنا کو اچھی طرح دیکھ لینے کے بعد لالٹین کو سنگ ریزوں کے ڈھیر پر رکھا جس پر کہیں کہیں سوکھی گھاس پڑی تھی۔ وہ خود بھی بیٹھ گیا۔ ہرائی بھی۔ اجنبی نے جیب سے بیڑی نکالی۔

”پیتے ہو بھائی؟“
ہرائی نے نا میں سر ہلایا۔
”میں دل جان ہوں، میدی پور کے پاس رہتا ہوں۔ تمہارا کیا نام ہے؟“
”ہارون علی، ویسے مجھے ہرائی کہتے ہیں۔“
فکر میں ڈوبے ہوئے ہرائی نے پوچھا ”آپ کے خیال میں میرے بیل کو کیا ہوا ہے؟“
دل جان نے ایک سنگ ریزہ اٹھایا۔ ”میرے خیال میں بیل کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ صبح تک شاید ہی زندہ رہے۔“
ہرائی ایک دم سناٹے میں آ گیا۔ اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا ”تم کیا کہتے ہو، دھنا مر جائے گا؟“
”میرا یہی خیال ہے۔“
”لیکن شنکی بھانگا کے اوجھا نے۔“
”ارے وہ پیری مل، وہ کاہے کا بید ہے۔ وہ تو ڈھکوسلے باز ہے۔“

دل جان نے چہرے پر ایک طرح کی ناگواری لاتے ہوئے کہا، ”وہ گانجا پیتا ہے۔ وہ صرف اپنا پیٹ پالنے کے لیے جانوروں کا ڈاکٹر بنا بیٹھا ہے۔ اگر میرا اندازہ غلط نہیں ہے تو تمہارے بیل کی زندگی بس تھوڑی سی بچی ہے۔ کہو تو لکھ کر دے دوں۔“

دل جان کی جیب میں کاغذ قلم موجود تھا۔ ہرائی نے ہکا بھکا ہو کر اسے دیکھا۔

دل جان نے کہا، ”ایک کام کرو، دیکھو ہم دونوں مسلمان ہیں۔ ہیں کہ نہیں؟ یہ میں تمہیں اپنا مسلمان بھائی ہونے کے ناتے کہہ رہا ہوں۔“

ہرائی نے اپنی سانس روک کر پوچھا، ”کیا کہہ رہے ہیں آپ؟“

دل جان کے ہونٹوں پر ایک خفیف سی مسکراہٹ آئی۔ ”اپنا بیل مجھے دے دو۔ ہم اسے حلال کر کے دعوت اڑائیں گے۔“

ہرائی ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا اور دکھ سے چلا کر بولا، ”نہیں۔“

سانس رک گئی ہو جیسے اس کی۔ اس ٹھنڈی رات میں بھی اس کی پیشانی سے، ناک سے، تھوڑی سے ہر جگہ سے پسینہ بہنے لگا۔ اس نے بیٹھی ہوئی آواز میں سر جھٹکتے ہوئے ایک بار پھر پوری طاقت سے ’نہیں‘ کہا۔ وہ ایسے کر رہا تھا جیسے اس نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہے۔

دل جان زور سے ہنسا، ”تیس روپے دوں گا۔ دل جان نقد ادا کرتا ہے۔ تم اپنی برادری کے ہو، مصیبت میں ہو، اس لیے یہ کہہ رہا ہوں۔ میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں، تمہارا یہ بیل مرنے ہی والا ہے۔ تمہیں نہیں معلوم دل جان کتنا تجربہ کار ہے۔ یہاں کے سارے لوگ اس کی تصدیق کریں گے۔“

ہرائی نے سر جھکا کر کہا، ”معاف کرنا بھائی۔ تم کہو تو میں اپنا دل چیر کر دے دوں۔ مگر دھنا مجھے اپنے سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ میں نے اس کے لیے کتنی تکلیف اٹھائی ہے۔ میری بیوی نے اسے اپنے بچے کی طرح پالا ہے۔“ اس نے شدت سے اپنا سر انکار میں جھٹکا۔

”اچھا چالیس روپے دے دیتا ہوں، بس۔“

ہرائی نے جلدی سے لالٹین اٹھائی اور جھک کر اسے گاڑی کے ڈھرے سے باندھ دیا۔ وہ مونا کو جوئے کے نیچے لایا۔ خود دھنا کی جگہ سنبھالی اور جوئے کو اپنے سینے تک اٹھا لیا۔ گاڑی چل پڑی۔ چارو ماسٹر کے وائلن کی جادوئی دھن پھر سنائی دینے لگی۔

دل جان گاڑی کے ساتھ ساتھ چلنے لگا، تمہیں پتہ نہیں بھائی کہ تم کیسی غلطی کر رہے ہو۔ چونکہ ہم اور تم دونوں مسلمان ہیں۔

ہرائی نے اپنی بھرائی ہوئی آواز میں کہا ”دیکھو، دھنا میرے کلیجے کا ٹکڑا ہے۔“
دل جان ہنسا۔ اس کی کرخت ہنسی اندھیرے کا سینہ چیرتی ہوئی نکل گئی۔

”لیکن وہ اب بیمار ہے۔ میں اسے اس لیے مانگ رہا ہوں کہ اسے حلال کیا جاسکے۔ میری بات کا برا نہ مانو۔ دیکھو میں نے اس دوسرے بیل کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ یہ بائیں طرف والا یقیناً مر جائے گا۔ چالیس روپے۔ ایک بار پھر کہتا ہوں۔“

برائی نے پلٹ کر اسے غصے سے دیکھا۔ اس نے زیر لب ہی کچھ کہا اور گاڑی کھنچنے لگا۔
”دیکھو، یہ بے چارہ جانور اب چل بھی نہیں پا رہا ہے۔ دیکھو ذرا خود ہی دیکھو اس کی سانس ٹوٹ رہی ہے۔“

اوبڑ کھابڑ راستے پر دھنا کے قدم بار بار لڑکھڑا رہے ہیں۔ ہرائی نے تنگ آ کر دل جان سے کہا، ”بہتر ہو کہ ہم لوگ اپنے اپنے راستے چلیں۔“

دل جان پھر بھی اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔ اس کے ہاتھ میں نوٹ تھے اور وہ بار بار یہی کہتا جا رہا تھا کہ بیچ دو ورنہ مر جائے گا۔ لیکن میدی پور ہے کتنی دور؟ اوہ خدا۔ وہ اس سفر میں بوڑھا ہو چلا ہے لیکن میدی پور ہے کہ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے میدی پور پیچھے کھسکتا جا رہا ہے۔ اس کے پیٹ میں اینٹھن ہونے لگی اور سارا بدن دکھنے لگا۔ او دھنا، گائے بیلوں کی زندگی کتنی مشکل ہے۔ باگھڑی کے گاڑی بان کی آنکھیں بھیک گئیں۔ اوہ! اب اسے میں نہیں کھنچ سکتا۔ میں انسان ہوں بیل نہیں۔ اتنا بوجھ ڈھونے کی طاقت مجھ میں کہاں سے آ سکتی ہے۔ میرے اندر جان نہیں رہی۔ پیاس سے میرے حلق میں کانٹے پڑ رہے ہیں۔ میدی پور پہنچ کر پہلے پانی پیوں گا۔ دھنا اور مونا تم بھی پانی پی لینا۔ مگر پہنچ تو جائیں، دھنا۔ ”

”آخری بار کہہ رہا ہوں بھائی۔ پچاس روپے۔ یہ لے لو اب“ دل جان نے روپے ہرائی کی جیب میں تقریباً ٹھونس ہی دیے۔ ہرائی غصے میں چلایا، ”کہہ دیا نا کہ وہ میری جان ہے، میری اولاد ہے۔ تم سنگ دل ظالم! کیا تم مجھ پر ذرا بھی رحم نہیں کر سکتے؟“

ہرائی نے ایک گہری سانس لی اور کہا، ”تم موت کے فرشتے عزرائیل ہو۔“

اب کے دل جان کو تاؤ آ گیا۔ اس نے ہرائی کو کوسنا شروع کر دیا، ”تم لوگوں کو باگھڑی بدھو بالکل صحیح کہا جاتا ہے۔ تمہارا دماغ چل گیا ہے۔ میں نے تمہارے ساتھ اچھا برتاؤ کیا کیونکہ تم بھی میری طرح مسلمان ہو اور تم مجھے الٹے عزرائیل کہہ رہے ہو۔ تم نے ایسا کہنے کی ہمت کیسے کی؟“

غصے میں پاؤں پٹختا تیز تیز قدموں سے چل کر دل جان اندھیرے میں گم ہو گیا۔ ہرائی نے آستین سے اپنی آنکھیں پونچھیں۔ اس آدمی کے خیال سے اسے کراہت ہو رہی تھی جو لالچ بن کراس کے سامنے آیا تھا۔ پیچھے دھنا کی طرف دیکھ کر وہ دھیرے سے بولا ”پتہ نہیں یہ آدمی میرے پیچھے کیوں پڑ گیا تھا۔ لیکن دھنا تم گھبراؤ نہیں۔ میں ہوں نا تمہارے ساتھ“ ہرائی کو عجیب و غریب وہموں نے گھیر لیا۔

اسے لگا ایک انسانی ہیولیٰ چمکتا ہوا خنجر لئے اس کے دائیں بائیں آگے پیچھے چل رہا ہے۔ دھیرے دھیرے یہ ہیولیٰ اندھیرے میں بالکل واضح نظر آنے لگا۔ ہرائی نے پہچان لیا۔ یہ دل جان ہے۔ اس نے دعائے گنج العرش پڑھ کر اپنے آپ پر پھونکا۔ رات کو سفر کرنے والوں کو یہ دعا زبانی یاد رہتی ہے۔ جب وہ چھوٹا تھا تب اس کے باپ نے اسے سکھایا تھا ”جب کوئی بلا سامنے آ جائے تو بار بار یہ دعا پڑھو۔ کوئی بلا تمہارے پاس نہیں آئے گی۔ بھوت بھی نہیں۔ جن، چور، ڈاکو کوئی پاس نہیں پھٹکے گا۔ جتنا بڑا خطرہ نظر آئے اتنی ہی بلند آواز سے اسے پڑھنا میرے بیٹے۔“

ہرائی بار بار دعائے گنج العرش پڑھ رہا تھا۔ دکھ، در، اور پریشانی سے آواز اس کے گلے میں پھنس رہی تھی۔ چارو ماسٹر کے وائلن کی دھن کے ساتھ بیل گاڑی کھڑکھڑاتی ہوئی چل رہی تھی۔ آسمان میں ستارے ایک ہلکی سی امید کا پیغام لئے چمک رہے تھے۔

ہرائی جب میدی پور کے بالکل قریب پہنچا تو اس نے دیکھا آسمان کے ایک کنارے پر چاند پیلا پڑ چکا تھا۔ مدھم چاندنی میں اسے دو ایک بار دل جان نظر آیا تھا۔ یا کیا پتہ یہ صرف اس کا واہمہ ہو۔ گاڑی کے پیچھے پیچھے چل رہے دھنا کے پاؤں کی آواز تیز ہوتی جا رہی تھی۔ ہرائی بار بار پلٹ کر دیکھ لیتا کہ وہ قصائی کابچہ کہیں اس کے بیل کو کھول کر کہیں لیے تو نہیں جا رہا۔ دھنا سے اب چلا نہیں جا رہا۔ اس کے گھروں کی آواز اونچی ہوتی جا رہی تھی۔ اس آواز سے ہرائی کو کم سے کم یہ یقین ہو رہا تھا کہ اس کا دھنا ابھی زندہ ہے۔ اس نے بیل سے کہا ”ڈرو نہیں۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ برگد کے پیڑ کے نیچے دیکھو۔ ایسا لگتا ہے کہ باگھڑی کے گاڑی بان ابھی ابھی یہاں سے گئے ہیں۔“

ہرائی نے اپنی گاڑی وہاں کھڑی کی اور جیسے تیسے رات کاٹی۔ پتہ نہیں کب دل جان یا کوئی اور اس کا بیل کھول کر لے جائے؟ پھر سونا جیسے تین بوری چاول بھی تو ہیں؟

اسے بہت زوروں کی بھوک لگی تھی۔ جو کچھ اس کے پاس تھا وہ اس نے اوجھا کو دے دیا تھا۔ آخر اس نے کچھ دھان گمچھے میں ڈالا اور پاس کی دکان سے چیوڑا مول لیا۔ بھیلی گڑ کے ساتھ چیوڑا کھاتے ہوئے وہ بوریوں کے پاس لیٹ گیا۔ دست آتے رہے تھے اس لیے دھنا کچھ اور کم زور ہو گیا تھا۔ ہرائی بیچ بیچ میں اٹھ کر دم کیا ہوا پانی پلاتا رہا، یہ سوچ کر کہ صبح تک یہ بیل ضرور ٹھیک ہو جائے گا۔

بھور کے سمئے دور کہیں سے اذان کی آواز آنے لگی۔ ہرائی چونک کر اٹھ بیٹھا۔ اس نے ایک خواب دیکھا تھا جو اسے اب یاد نہیں آ رہا تھا۔ ہلکے بخار اور درد سے اس کا بدن ٹوٹ رہا تھا۔ صبح کے وقت ٹھنڈک بہت بڑھ گئی تھی اور وہ بیلوں کی پیٹھ پر خالی بورے اڑھانا بھول گیا تھا۔ ٹھنڈک سے کانپتے ہوئے اس نے دھنا کو دیکھا۔ اپنا سر اگلے پاؤں پر ڈالے وہ دھیرے دھیرے منہ چلا رہا تھا۔ ہرائی کو کچھ خوف محسوس ہوا۔ اس نے دم کیا ہوا پانی اس کے منہ میں ڈالا مگر پانی قطرہ قطرہ نیچے گرتا رہا۔

دور سے آتی ہوئی اذان کی آواز ہرائی کو بار بار خدا کی یاد دلا رہی تھی۔ اس نے پاس کے ایک حوض کے کنارے وضو کیا اور سوکھی گھاس والے ایک قطعہ پر نماز ادا کی۔ اس کے بعد سجدے میں گر کر خدا سے گڑگڑاتے ہوئے التجا کرنے لگا۔

”اے میرے مالک! میرے بیٹے کی جان بچا لے۔ اے کائنات کے مالک، میں اور کچھ نہیں چاہتا۔ تیرے کرم سے مجھے اور میری بیوی کو اور اولاد ہو سکتی ہے۔ خدایا! میرے کسی بیٹے کے بدلے اسے زندگی دے دے۔“

ایک بیٹا مر جائے تو اس کی جگہ دوسرا آ سکتا ہے لیکن بیل مر جائے تو وہ دوسرا بیل کیسے لا سکتا ہے؟ ایک بیل خریدنے کے لیے اسے اپنی آدھی زمین بیچنی پڑے گی۔ خدایا! کیا تو نہیں جانتا؟ اگر ایک بیل مر گیا تو ہرائی اپنی گاڑی کیسے چلائے گا۔ کھیتوں کی جتائی نہیں ہو پائے گی۔ وہ راڑی علاقے میں آ کر پھل اور سبزیاں نہیں بیچ سکے گا۔ ویسے بھی باگھڑی میں پھل سبزیوں کو پوچھتا کون ہے۔ ہرائی کے بچے بھوکوں مر جائیں گے۔ بے گھر بے سہارا لوگوں کی طرح وہ راڑی میں جاکر بھیک مانگے گا۔ باگھڑی علاقے کے کتنے ہی لوگ ایک بیل نہ ہونے کی وجہ سے بھکاری بن گئے۔ یہ سوچتے سوچتے اس کے گال آنسوؤں سے بھیگ گئے۔ وہ دیر تک سجدے میں پڑا خدائے تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتا رہا۔

صبح سویرے میدی پور میں سورج کی کرنیں پیڑوں کی پھننگوں پر براجمان ہو چکی تھیں۔ گاڑی کی طرف جاتے ہوئے ہرائی نے دیکھا کہ اکا دکا لوگ دکانوں پر خریداری کے لیے آنے لگے تھے۔ جیسے جیسے دن چڑھنے لگا بھیڑ بڑھنے لگی۔ تھوڑے سے دھان کے مبادلے میں ہرائی نے چیوڑا اور گڑ کھایا۔ دھنا اب بھی پہلے کی طرح پڑا ہوا تھا۔

تھوڑی دیر میں لوگ ہرائی کی گاڑی کے پاس ایک ایک کر کے جمع ہونے لگے۔ اسے حیرت ہوئی کہ لوگوں کو کیسے معلوم ہوا کہ اسے کیا پریشانی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا اس لیے ہوا ہو کہ گاؤں کے لوگ گائے بیلوں سے بہت محبت کرتے ہیں۔ بیل گائے کو تکلیف میں پاکر بہت سارے لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ ہرائی ان کے سوالوں کے جواب دیتے دیتے تھک گیا۔ پھر ہر آدمی کوئی نہ کوئی دوا ضرور بتاتا۔ ہر آدمی کے پاس ایسے ہی کسی بیمار بیل کے جینے مرنے کے قصے ہوتے۔ چپ چاپ ایسے قصے سن کر ہرائی کا دل یاس و امید کی آویزش کی تاب نہ لاکر ڈوبنے لگا۔

آج گاؤں میں ہاٹ کا دن ہے۔ برگد کے پیڑ کے نیچے کئی بیل گاڑیاں کھڑی ہیں۔ لوگ یہاں اپنی ضرورت کی چیزیں خریدنے آئے ہوئے ہیں۔ آس پاس کھڑے لوگ ہرائی کو طرح طرح کی صلاح دے رہے ہیں۔ ”اسے بیچ دو، مرنے سے بہتر تو ہے کہ حلال کر کے لوگ اس کا گوشت کھالیں۔ اس نے لوگوں کو غصے سے دیکھا اور جھجھلاہٹ میں سر جھٹکا۔ کوئی دوسرا کہتا ہے، باگھڑی کے گاڑی والے جب آئیں تم اپنا سامان ان میں سے کسی کی گاڑی پر رکھوا دینا لیکن اس بیمار بیل کو۔“

کوئی چہرے پر طنز آمیز مسکراہٹ لیے کہتا، ”یہ بیمار بیل زیادہ دیر نہیں بچے گا۔ دیکھو، مردار جانور ڈالنے کی جگہ وہ ہے۔“

ہرائی کے ہونٹ کپکپائے۔ اس کے منہ سے کوئی آواز نہیں نکلی۔ آس پاس لوگوں کی ایسی بھیڑ جمع ہو گئی تھی کہ اس کے اور دھنا کے لیے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ دونوں کو ہوا چاہیے۔ اور زیادہ ہوا۔ خدا کے واسطے یہاں سے ہٹ جاؤ لوگو! ہمیں سانس تو لینے دو۔ ایک عجیب سا خیال اس کے دماغ میں آیا۔ ایک بے بس آدمی اور ایک لاچار مخلوق کی آنکھوں سے نکل کر آنسو گالوں پر بہنے لگے۔ بھیڑ بڑھتی ہی گئی۔ لوگ آتے رہے، جاتے رہے۔ کوئی کوئی جاتے ہوئے اس بیمار جانور کے بارے میں اپنا آخری فیصلہ بھی دیتا جاتا۔ اس کے بعد بھیڑ سے نکل کر ایک آدمی سامنے آیا۔ ”السلام علیکم بھائی جان۔“

ہرائی نے نظر اٹھا کر دیکھا، دل جان سامنے کھڑا تھا۔ اس کے تیل سے چمکتے بالوں میں بیچ سے مانگ نکلی ہوئی تھی۔ چگی ڈاڑھی، آدھی بانہہ والی قمیص کے جیب سے جھانکتا ہوا کاغذ قلم، چار خانہ دار لنگی اور پمپ جوتے پہنے ہوئے۔ دل جان نے کندھے پر رکھے گمچھے سے ہونٹوں پر لگی پان کی پیک پونچھی۔ ہرائی نے نظر جھکالی اور انگلی سے زمین پر کچھ بنانے لگا۔ یہ وہی آدمی ہے جس نے رات اسے بد دعا دی تھی۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ اب اس آدمی کے چہرے پر مسکراہٹ ہی مسکراہٹ تھی۔

”ہاں میاں اب کیا خیال ہے۔“ دل جان اس کے پاس بیٹھ گیا۔ کل میں پچاس روپے دے رہا تھا۔ تب بیل کی حالت بہتر تھی۔ اب میں تیس روپے بھی نہیں دوں گا۔ اب جلدی سے اپنا دام بتاؤ۔ ”

ہرائی نے رندھی ہوئی آواز میں کہا، کیا؟ ”

”پاگل نہ بنو۔ تیس روپے کوئی مذاق نہیں ہے۔ یہ بیل اگر راستے میں مر جائے گا تو تمہیں کچھ بھی نہیں ملے گا۔ میں بھی جو کھم میں پڑ رہا ہوں۔ اگر تم نے اب بھی فیصلہ نہیں کیا تو ہم دونوں گھاٹے میں رہیں گے۔“

آس پاس کھڑے لوگوں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ کئی آوازیں ایک ساتھ ابھریں ”بیچ دو بیچ دو“ اس بیل کو بیچ دو۔ کسی اور نے تو یہاں تک کہا، اچھا ہے کہ اس کا گوشت انسان کھالیں۔ ورنہ گدھ، سیار کھائیں گے، بیچ دو بیچ دو کی آواز دائرے کی طرح اس کے گرد گھومنے لگی۔ دل جان نے جیب سے پیسے نکالے، یہ لو، لاؤ اپنا ہاتھ ادھر۔ اس نے تین نوٹ ہرائی کے ہاتھ میں زبردستی تھما دیے اور جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے کسی کو آواز دی۔

گاڑی لاؤ، یہ بیل چل نہیں سکتا۔ جلدی کرو جلدی، وہ دوڑ کر دھنا کے پاس پہنچ گیا۔ ہرائی پہلے کی طرح بیٹھا رہا۔ اس کے کھلے ہاتھ میں تین کڑکڑیا نوٹ پڑے تھے۔ آنسو خاموشی سے اس کے گالوں پر بہنے لگے۔ کسی نے کہا ”ارے ارے روؤ نہیں۔ اس جانور کو کم از کم اس دنیا کے بندھنوں سے نجات مل گئی۔ کیوں؟ ہے نا، تمہیں اس سے دکھ تو ہو رہا ہوگا۔ لیکن تمہارے پاس اور کوئی چارہ تھا کیا؟ تم نے اسے بڑے چاؤ سے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔ اس بات سے دکھ تو ضرور ہو رہا ہوگا لیکن ذرا سوچو اگر تمہارا اپنا جوان بیٹا مر جائے تب تم کیا کر لو گے۔“

ہرائی نے بولنے والے پر نظر ڈالی۔ لمبا تڑنگا آدمی، بڑی بڑی مونچھیں، رانوں کے بیچ کس کر باندھی ہوئی دھوتی، کمر کے اوپر سے ننگا، بغل میں تیل پلائی ہوئی لاٹھی دبائے، کمر کے گرد ایک لال گمچھا بندھا ہوا، ہتھیلی پر تمباکو رگڑ رہا تھا۔ ہرائی کو پکا یقین ہو گیا کہ یہ ہندو ہے۔ کھینی کو منھ میں ڈالنے کے بعد اس نے اپنی ہتھیلی جھاڑی۔

”دل جان کی وجہ سے ہم لوگ بہت سے نقصان سے بچ جاتے ہیں۔ آج کل یہ جو تھوڑا بہت مل جاتا ہے یہ بھی بہت ہے۔ اس پیسے سے کم از کم تم ایک بچھڑا خرید سکتے ہو۔ تم کہو تو میں تمہیں ایک بچھڑا دلا دوں۔ میرے پاس بھی ایک بچھڑا ہے۔ سستے میں دے دوں گا۔ کہو تو لاکر دکھاؤں؟“

ہرائی سے سر اٹھائے بغیر کہا، ”ارے بھیا اس بچھڑے کے جوان ہوتے ہوتے مونا مر جائے گا۔ میں بھی مرجاؤں گا۔“

بھٹیا ماٹی کے بدر حاجی اس وقت کھیت پر تھے جہاں ڈیڑھ بیگھہ کھیتوں میں لگائے ہوئے گنے کٹ رہے تھے۔ آج ہی دوپہر کو پیرائی مشین اور ایک بڑا سا کڑھاؤ بھینسا گاڑی پر لاد کر لایا گیا تھا۔ ان کے گھر سے ملے ہوئے بانس کے جھنڈ کے پاس یہ مشین لگادی گئی تھی۔ حاجی صاحب کھیت میں گنے کی کٹائی کی دیکھ ریکھ کے لیے خود آ گئے تھے۔ ان کے کھیت کے گنوں سے آدھی رات سے گڑ بننا شروع ہو جائے گا۔ وہ بڑے بھلے آدمی ہیں۔ بہت سے مقدس مقامات کی زیارت کرچکے ہیں۔

لگتا ہے کہ خدا ان پر بہت مہربان ہے۔ گاؤں کے ہر کام میں ان کی موجودگی ضروری ہے۔ خاص طور سے گڑ بناتے وقت جب کہ اس بات پر شک نہیں جا سکتا کہ اچھی بری نظریں گڑ پر پڑتی ہیں، کبھی تو گنے کے رس کو کتنا بھی ابالو یہ گاڑھا نہیں ہوگا اور کبھی ایسا چپ چپا ہو جائے گا کہ سارا گڑ خراب۔ کیا بری نظر سے بچا جاسکتا ہے؟ بد روحوں کو بھگانے کے لیے دعا پڑھنی ضروری ہے۔ بدر حاجی مکہ معظمہ سے آب زمزم لائے ہیں۔ ذرا سا پانی شیرے پر چھڑک دو اور دیکھو کیسا سنہرا گڑ تیار ہوتا ہے۔ بدر حاجی کی زبان کی طرح میٹھا، ان کے دل کی طرح نرم۔

بدر حاجی گھٹنے سے نیچے تک لمبا کرتا اور لنگی پہنے ہوئے ہیں جو ان کی چپل کے اوپر جھول رہی ہے۔ کاندھے پر پیلی دھاری والا دیوبندی رومال ہے جو انھیں ایک مولوی نے لا کر دیا تھا۔ مولوی صاحب دیوبند کے فارغ ہیں۔ اب انھوں نے بھٹیاماٹی میں ہی ایک مدرسہ کھول لیا ہے۔ ان دنوں وہ حاجی صاحب کے دیوان خانے میں مہمان ٹھہرے ہیں۔

بدر حاجی نے گول عربی ٹوپی پہن رکھی ہے جو انھوں نے مکے میں خریدی تھی۔ ان کے ہاتھ میں تام چینی کا لوٹا ہے۔ پیار محبت سے گنے کٹوانے کے بعد اب وہ ایک کنارے کھڑے ہیں۔ اونچے اونچے درختوں کے پتے جھڑ گئے ہیں اور اب دھوپ میں سوکھ رہے ہیں۔ انھیں گڑ بنانے کے لیے ایندھن کے کام میں لایا جائے گا۔ حاجی صاحب روز دو بار آتے ہیں اور پتوں کو دیکھ جاتے ہیں۔ عصر کی نماز کے بعد انھوں نے پتے دیکھنا شروع ہی کیا تھا کہ سڑک پر ایک عجیب سا منظر انہیں نظر آیا، وہ جہاں کے تہاں کھڑے رہ گئے۔

ایک آدمی ایک بیل کے ساتھ جتا گاڑی کھینچ رہا ہے۔ گاڑی کے دھرے میں تیل نہ ہونے کی وجہ سے بڑی بھاری اور کرخت آواز نکل رہی ہے۔ دبلا پتلا آدمی ہے۔ اس نے میلی سی لنگی کو موڑ کر کاچھا باندھ رکھا ہے۔ اس کی دونوں رانیں کھلی ہیں۔ وہ کوئی مردہ سا لگ رہا ہے جو اپنی قبر سے اٹھ کر آ گیا ہے اور بائیں طرف کے بیل کی جگہ خود کھڑا ہو کر گاڑی کھینچ رہا ہے۔ کتنے تعجب کی بات ہے نا؟

بدر حاجی نے، جنھوں نے بہت دنیا دیکھی ہے، کلکتہ میں رکشا اور ٹھیلہ کھینچتے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے لیکن بھٹیا ماٹی میں نہیں۔ انھوں نے ہم دردی سے کہا، ”ارے بیچارا۔“

وہ رحم دل آدمی ہیں۔ غریبوں اور مجبوروں کو خیرات زکوٰۃ دیتے ہیں۔ وہ آوارہ گردوں تک کو اپنے دسترخوان پر بٹھا لیتے ہیں۔ پیارے بھائیو، زندگی کتنی مختصر ہے۔ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہوں۔ تھلتھلے بدن والے بدر حاجی تالاب کے اونچے کنارے سے نیچے راستے پر آ گئے۔ انھوں نے شفقت سے کہا، ”گھر کہاں ہے بیٹا؟“

ہرائی رکا۔ اپنے سوکھے ہونٹوں پر مسکراہٹ لاتے ہوئے اس نے دھیرے سے سلام کیا۔ گردن جھکائے اور نظریں نیچی کیے اس نے حاجی صاحب کو وہ سب کچھ بتا دیا جو انھوں نے پوچھا۔ اپنا نام، پتہ، ظہر کی نماز کے بعد میدی پور بازار سے یہاں تک کے سفر کا حال، دوپہر میں اس نے چیوڑا گڑ کھایا وہ، سب کچھ اسے لگا بدر حاجی کوئی بہت مہربان بزرگ ہیں جن کے سامنے اپنے دل کی ہر بات بیان کر کے اسے اپنا بوجھ ہلکا کرلینا چاہیے۔ لیکن شرم کے مارے وہ یہ نہیں بتا سکا کہ اس نے دھنا کو کیسے بیچا۔ اس نے صرف اتنا کہا، ”بائیں طرف والا بیل راستے میں مر گیا۔“

بدر حاجی نے ایک بار پھر اس سے ہم دردی کا اظہار کیا ”اوہو، تمہاری قسمت بڑی خراب رہی۔ تم نے کیا بتایا، تم پدما کے کنارے شیمول کیشٹوپور کے رہنے والے ہو۔ وہ تو بہت دور ہے۔ تم کو تو کئی ندیاں پار کرنی ہوں گی۔“

”جی ہاں“ ہرائی نے سر ہلایا۔
بدر حاجی نے جھلائی ہوئی آواز میں کہا، ”ہاں جی کیا؟ تم باگھڑی کے گاڑی بان سچ مچ کے بدھو ہوتے ہو۔“
ہرائی منمنا کر رہ گیا۔
ایک کام کرو۔ جی جناب، ہرائی نے بڑی امید سے بدر حاجی کو دیکھا جو اس وقت اسے اپنا مسیحا نظر آرہے تھے۔

باگھڑی کے کچھ گاڑی بان میرے یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ وہ آج رات کو جائیں گے، انھوں نے مجھ سے ایسا ہی کہا ہے، سمجھ گئے نا؟ ”

”جی جناب“

”میں ان سے کہوں گا کہ وہ تمہاری گاڑی اپنی گاڑی کے پیچھے باندھ لیں اور وہ بوریاں بھی لاد لیں۔ ویسے ان بوریوں میں کیا ہے؟“

”دھان، بابا۔“
بابا کے لفظ سے بدر حاجی خوش ہو گئے۔
”تم نے بڑی غلطی کی ہے۔ ساری رات اس طرح سفر کرنے سے پہلے تمہیں سب کچھ سمجھ لینا چاہیے تھا۔“

خوشی اور اداسی کے ملے جلے جذبے کے ساتھ ہرائی نے کہا ”چنڈی تلا کے چارو ماسٹر کی بیٹی کی شادی پھاگن میں ہے۔ میرا ایک بھائی تھا جس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ شادی کے لیے سارا کونہڑا اور مٹر دے گا۔ اب وہ اپنی قبر میں سو رہا ہے۔ مجھے اس کا وعدہ پورا کرنا تھا۔“

ہرائی نے اپنی آنکھ اور ناک کے نیچے سے پانی پونچھا۔ حاجی نے اس کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی۔ ”آؤ مہربانی کر کے میرے ساتھ آؤ۔ کیا بدقسمتی ہے! اکیلے اس طرح اتنے لمبے سفر پر ہرگز نہ نکلا کرو۔ شیمول کیشٹوپور نزدیک نہیں ہے۔ تمہیں دو ندیاں پار کرنی ہوتی ہیں پھر تیسری ندی کے کنارے تک جانا ہوتا ہے۔ راج شاہی ضلع میں ندی کے اس طرف گودا گاڑی گھاٹ ہے۔ حال تک وہاں اسٹیمر چلتا تھا۔ لیکن اس کم بخت تقسیم ملک کی وجہ سے ہر چیز بدل گئی۔“

بدر حاجی پدما کے کنارے آباد لوگوں کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے آگے آگے چلنے لگے۔ انھوں نے بہت دنیا دیکھی ہے۔ ہرائی کو سمجھانے والے انداز میں انھوں نے کہا، دیکھو میاں! باہر کے آدمی کے لیے انجانے لوگ بھی اپنے ہی ہوتے ہیں۔ میں بہت گھوما ہوں۔ ہر جگہ مجھے نئے نئے لوگ ملے جن سے میری دوستی رہی۔ یہاں آنے والے لوگ میرے لیے مہمان کی طرح ہوتے ہیں۔ خدا کے فضل سے جو کچھ مجھ سے بن پڑتا ہے وہ میں اپنے مہمانوں کو پیش کرتا ہوں۔ کیا تم دال بھات کھاؤ گے؟ شرماؤ نہیں، تم میرے مہمان ہو۔ ”

بدر حاجی کے دیوان خانے کے سامنے ایک کشادہ آنگن ہے۔ سامنے کھلیان ہے جس میں دھان کوٹ کر ذخیرہ کیا گیا ہے۔ مٹی کا فرش بالکل صاف ستھرا ہے۔ ایک کونے میں ڈھیر ساری پیال پڑی ہے۔ کھلیان کے ایک طرف باگھڑی کے لوگوں کی گاڑیاں کھڑی ہیں۔ ایک پیڑ کے نیچے وہ اینٹوں سے بنائے چولہوں پر کھانا پکا رہے ہیں۔ وہ مغرب کے بعد سفر پر نکلیں گے۔ ہرائی کو مایوسی ہوئی۔ وہ لوگ کاتلاماری جائیں گے اس لیے برہامپور میں ہرائی ان سے الگ ہو جائے گا۔ اس کے بعد اسے اپنی گاڑی کو پھر خود ہی کھینچنا پڑے گا، مگر اتنی دور تک بھی ان کا ساتھ رہے تو بھلا۔ اس نے سوچا، پھر کیا پتہ قسمت سے راستے میں اسے اپنی طرف کے بیل گاڑی والے بھی مل ہی جائیں گے۔

پاس کی مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد گاڑی بان کھانا کھانے بیٹھ گئے۔ ہرائی بدر حاجی کا مہمان ہے۔ اس مہمان نوازی کے خیال سے اس کا سینہ پھول گیا۔ کمرے کے وسط میں بچھے تخت پوش پر کڑھائی کیا ہوا دسترخوان بچھایا گیا۔ مولوی صاحب نے اپنے ہاتھ دھوئے اور آ کر بیٹھ گئے۔ بدر حاجی نے اسے آواز دی۔ ادھر آؤ بیٹا ہارون علی۔ ”ہرائی جھجکتے ہوئے ان کے پاس بیٹھ گیا۔ آج پہلی بار وہ کسی امیر آدمی کے دسترخوان پر اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہا ہے۔

وہ اپنی زندگی کی ساری پریشانیاں بھول گیا۔ غریبی، اپنی محرومیاں حتی کہ دھنا کی موت بھی۔ اس کے سامنے ایک بڑے سے قاب میں سفید لمبے لمبے دانوں والا خوشبودار شاہ دانہ بھارت رکھا ہوا ہے۔ گھر واپس پہنچ کر وہ اپنی بیوی بچوں کو اس شاندار دعوت کا قصہ ضرور سنائے گا۔ اس کے خاندان کی تاریخ کا یہ ایک یادگار واقعہ ہوگا کہ ایک گاڑی بان کو کسی امیر و شریف آدمی کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا۔

شریعت کے مطابق کھانا کھاتے وقت زیادہ باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ لیکن بدر حاجی بات کیے بغیر رہ نہیں سکتے۔ مسکراتے ہوئے انھوں نے مولوی صاحب سے کہا، ”آپ خوش قسمت ہیں جناب“ اس کے بعد ہرائی کی طرف دیکھتے ہوئے بولے، ”تم بھی خوش قسمت ہو بیٹا۔“

ہرائی نے سر اٹھایا۔ مولوی نے پوچھا، ”کیسے؟“

بدر حاجی نے چینی کے پیالے میں سے ایک چمچے سے کچھ نکالا اور مولوی کی پلیٹ میں ڈال دیا۔ اس کے بعد انھوں نے ایک چمچہ ہرائی کی پلیٹ میں ڈالا اور خود بھی لیا۔ ذرا رک کر فخریہ انداز میں انھوں نے کہا ”ہمارے گاؤں میں یہ نہیں ملتا۔ یہاں کے ہندو زمین دار نے بہت پہلے اسے بند کروا دیا تھا۔ یہاں آپ گائے ذبح نہیں کر سکتے۔“

مولوی بھڑک اٹھا۔ ”یہ کیا بات ہوئی۔ یہ غلط ہے، ناجائز ہے۔ پھر زمین داری بھی تو اب نہیں رہی۔“

”اصل میں یہ جائز ناجائز کی بات نہیں ہے۔“ بدر حاجی نے کہا ”یہاں زمین دار اور اس کی رعیت باپ اور بچوں کی طرح ہیں۔ میرے دادا نے ہندو زمین دار سے اس بات کا وعدہ کیا تھا۔ ہم لوگوں کو اس وعدے کا لحاظ ہے۔ ایک اور بات ہے۔ اس علاقے کے بیشتر مسلمان پوروجی ہیں۔ وہ گائے کا گوشت نہیں کھاتے۔ آپ یہاں نئے آئے ہیں۔ شادی بیاہ کی دعوتوں میں آپ اس طرح کا اعلان ضرور سنیں گے۔ بھائیو! جو جو پوروجی ہیں وہ اپنا ہاتھ اٹھائیں اور آپ دیکھیں گے کہ زیادہ تر ہاتھ اٹھ گئے۔“ بدر حاجی نے خوش دلی سے ہنستے ہوئے کہا۔ مولوی نے ہاتھ جھٹک کر کہا ”یہ ہماری شریعت کے خلاف ہے۔ یہ غلط ہے۔“

حاجی نے جواب میں کہا ”لیکن کیا کیا جاسکتا ہے۔ کبھی کبھی میدی پور میں گائے ذبح کی جاتی ہے، چوری چھپے کوئی گوشت دے جاتا ہے۔ میرے بھتیجے کو گائے کا گوشت بہت پسند ہے۔ آج ہاٹ کا دن ہے۔ دل جان کو پتہ چلا کہ ذبیحہ ہو رہا ہے تو وہ تھوڑا گوشت لے آیا۔ مجھے بہت اچھا لگا۔ آپ ہیں، پھر یہ ہمارا نیا مہمان ہے۔ یہ میری خوش نصیبی کہ ایسے اچھے کھانے سے آپ لوگوں کو تواضع کر رہا ہوں۔“

ہرائی نے گوشت کا ایک ٹکڑا منہ میں رکھا تھا۔ حاجی صاحب کی بات سنتے ہی اسے زور کی ابکائی آئی اور اس نے تخت پوش کے نیچے الٹی کردی۔

بدر حاجی یہ دیکھ کر بھونچکا رہ گئے۔
”بیٹے کیا تم بھی پوروجی ہو؟ تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔ میں معافی چاہتا ہوں۔“

ہرائی ایک ہاتھ اپنے منھ پر رکھے تخت سے اٹھا اور باہر لپکا۔ ایسی آواز آ رہی تھی جیسے وہ بہت زور سے قے کر رہا ہے۔ بدر حاجی بھی دوڑتے ہوئے اس کے پاس آ گئے۔ وہ قے کرنے کی آواز نہیں تھی۔ باگھڑی کا ادھیڑ عمر گاڑی بان دھاڑیں مار کر رو رہا تھا اور اپنا سینہ ملے جا رہا تھا۔ حاجی کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔

”اوہو! کیا بات ہے، کیا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“

ہرائی نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، ”حاجی صاحب، آپ نے مجھے وہ کھلا دیا جو میرے لیے منع ہے۔ حرام ہے۔“

تب تک مولوی بھی کمرے سے نکل آئے تھے۔ انھوں نے گرجتے ہوئے کہا کہ ”ارے کم بخت اپنی زبان بند کر۔ تو ایک حلال چیز کو حرام کہہ رہا ہے۔ توبہ توبہ نعوذ باللہ۔ اللہ کا قہر تجھ پر نازل ہو۔“

اس کی بات پر دھیان دیے بغیر وہ برآمدے سے اتر آیا۔ آہ و زاری سے اس نے آسمان سر پر اٹھالیا تھا۔ آپ نے مجھے میرے بیٹے کا گوشت کھلا دیا حاجی صاحب۔ میرے اندر آگ جل رہی ہے۔ ایسی آگ کہ پدما ندی کا سارا پانی بھی میرے اندر کی اس جلن کو ٹھنڈا نہیں کر سکتا۔ ”

بدر حاجی ہنستے ہوئے بولے، ”باگھڑی والوں کی طرح تم بھی سچ مچ بے وقوف ہو۔“ مولوی نے لقمہ دیا۔ ”حدیث میں لکھا ہے کہ جس نے حلال اور حرام کو خلط ملط کیا اس کو چالیس کوڑے مارنے چاہئیں۔“ لالٹین کی روشنی میں کھانا کھا رہے باگھڑی کے دوسرے گاڑی بان ہکا بکا یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

دیوان خانے کے باہر زمین پر ایک آدمی ایسا تڑپتا ہوا دکھائی دے رہا تھا جیسے ذبح کیا ہوا کوئی جانور۔

مغرب سے ایک سڑک مشرق کو جاتی ہے، بھوری زمین سے نرم زمین کی طرف جو سوکھے دودھ جیسی سفید دکھتی ہے۔ کالی کولتار کی سڑک بھاگیرتھ اور بھیرب سے ہوتی ہوئی پدما کے کنارے تک جاتی ہے۔ آج کی رات اس سڑک پر چارو ماسٹر کی وائلن کی اداس دھن گونج رہی ہے۔ اس کی بیٹی کی شادی پھاگن میں ہے۔ دولائی نے کہا تھا کہ اس کی شادی کی دعوت میں جتنا کونہڑا اور مٹر درکار ہوگا وہ دے گا۔ دولائی اب پدما کے کنارے گاب کے ایک درخت کے نیچے اپنی قبر میں ابدی نیند سو رہا ہے۔ اس کا بڑا بھائی وعدے کے مطابق سبزیاں پہنچا کر اب تھوڑے سے راڑی چاول اور چارو ماسٹر کے وائلن کی اداس دھن کے ساتھ لوٹ رہا ہے۔

وہ نظر اٹھا کر دیکھتا ہے اور اسے تاروں بھرے آسمان میں ایک منظر دکھائی دیتا ہے۔ دور ایک گاؤں میں اس کے بیٹے کلیم الدین کی ماں، اس کی بیوی پٹ سن کے ڈنڈوں سے بنائی ہوئی باڑ کے پاس کھڑی ہے۔ اس کے پاؤں کے پاس مٹی کا گھڑا ہے جس میں پدما کا پانی بھرا ہوا ہے۔ وہ اس پانی سے دھنا اور مونا کے پاؤں دھونے کے لیے انتظار کر رہی ہے۔

منظر کتنا واضح ہے۔ ہوہی نہیں سکتا کہ وہ ہرائی کی نظروں سے چوک جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words