سقوط کابل اتنا آسان کیوں ثابت ہوا؟

چند دن قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ ہم نے پچاسی ارب ڈالرز افغان فوج کی تربیت پہ لگائے ہیں۔ تو یہ ممکن نہیں کہ چند ہزار گوریلا فائٹرز جن کے پاس نہ جدید اسلحہ ہے اور نہ ہی وہ تربیت یافتہ ہیں وہ ساڑھے تین لاکھ کی فوج سے جیت جائے۔

لیکن اب دنیا حیران ہے کہ ایسا کیسے ہوا۔ اندازہ تو یہ تھا کہ اگلے نوے دنوں میں افغان طالبان کابل پہ فتح پا لیں گے لیکن اک ہفتے کے اندر اندر کابل ایسے فتح ہو گیا کہ خود طالبان حیران ہے ان کا کہنا ہے کہ ہمیں امید نہیں تھی کہ یہ سب اتنی آسانی سے ہو جائے گا۔ اگر ہم صورت حال کا تجزیہ کریں تو سمجھ میں آتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا سب سے پہلی بات تو یہ ہمیں اس چیز کا ادراک کرنا ہو گا کہ افغان فوج کی تعداد کے متعلق جھوٹ بولا گیا تھا افغان حکومت جانتی تھی کہ امریکہ کو جھوٹ بولا گیا ہے کہ ہمارے پاس ساڑھے تین لاکھ کی فوج ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق اصل تعداد چھ گنا کم تھی یعنی ساٹھ ستر ہزار افراد پہ مشتمل فوج تھی۔ پچھلے چند ماہ میں آدھے سے زیادہ فوجی فوج چھوڑ کر جا چکے تھے۔ طالبان نے اک طرف قطر میں پیس ٹاک جاری رکھے اور دوسری طرف وہ بزور طاقت افغانستان پہ قبضہ کرنے کی پریکٹس بھی جاری رکھی۔ پچھلے کچھ سالوں سے اچانک ہی طالبان کا کارواں نکلتا اور شہر پہ قبضہ کر لیا چند گھنٹوں بعد وہ قبضہ چھوڑ کر واپس چلے جاتے نہ تو افغان فوج اور نہ ہی امریکی ڈرونز نے ان کو روکنے کی کوشش کی جبکہ امریکہ اور افغان رجیم کا خیال تھا کہ قطر پیس ٹاک میں ہی ہم کوئی حل نکال لیں گے اور بات قبضے تک نہیں جائے گی۔

کسی بھی ملک کی فوج سرحدوں کی محافظ ہوتی ہے اندرون ملک سیکیورٹی کی ذمہ داری پولیس کی ہوتی ہے جبکہ افغانستان کے حالیہ ایشو میں افغان پولیس کا کردار صفر رہا اور منظرنامے پہ افغان پولیس کہیں نظر ہی نہیں آئی۔

افغانستان رقبے کے لحاظ سے اک بہت بڑا ملک ہے ریموٹ ایریاز اور دور دراز کے دیہاتی پوسٹوں پہ تعینات فوجیوں کو پیچھے سے کمک ہی نہیں پہنچائی جا رہی تھی۔ فوج بغیر کسی کمک کے بغیر کسی سٹریٹجی کے بغیر کسی کمیونیکیشن کے آخر کب تک لڑتی۔ افغانستان میں جاری کرپشن بھی اس کی اک وجہ ہے اک طرف جنرل رشید دوستم جیسے فوجی افسران جن کی چھاتیوں پہ نئے میڈلز لگانے کی جگہ ہی نہ بچی ہو جن کے محل دیکھ کر بڑے بڑے بادشاہ شرما جائیں دوسری طرف عام افغان فوجی جسے کئی کئی ماہ سے تنخواہیں ہی نہ ملی ہوں۔

جن کو کئی کئی ہفتے لڑائی لڑنے کے بعد بھی چھوٹے چھوٹے آلووں کا اک ڈبہ بھیجا جائے کہ چپس بنا کر کھا لو۔ بھوک فٹیگ اور پے بیک کا نہ ہونا پہلے ہی فوجی مورال کو گرانے کا باعث تھا رہی سہی کسر افغان طالبان کی نئی سٹریٹجی نے نکال دی۔ پچھلی بار کی طرح وہ فوجیوں کے گلے کاٹنے کی بجائے انہوں نے فوجیوں کو پیسے دے کر کہا راشن خریدو اور گھر جاؤ حکومت کو تمہارا کوئی خیال نہیں۔

اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ اشرف غنی نے حمداللہ محب کو افغان فوج کا سربراہ بنا دیا جس کا ملٹری کا کوئی تجربہ ہی نہیں تھا اس نے فوجی رینکس کی پرواہ کیے بغیر من مرضی کی تبدیلیاں کیں۔ فوجیوں کو کہا جاتا کہ تم واپس آؤ نہ آؤ لیکن جس جہاز پہ جا رہے ہو اسے خراش نہیں آنی چاہیے۔ یعنی فوجیوں کی جان کی اہمیت نہیں ان کو اپنے ایکوئپمنٹس صحیح سلامت چاہیں۔

جب جنگی صورت حال ہوتی ہے تو فوج کا پورا سسٹم اوپر سے نیچے تک کام کرتا ہے نقشوں کو جانچا جاتا ہے دشمن کی تعداد کا اندازہ لگایا جاتا ہے فوج کی ترتیب بنائی جاتی ہے حملے ترتیب دیے جاتے ہیں مگر یہاں تو فوجی اشرافیہ اپنے جوانوں سے رابطے تک میں نہیں تھی۔

چند محاذوں پہ افغان فوجیوں نے مزاحمت کی کوششیں کی بھی تو بنا کسی ایرئیل امداد کے وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ جب کہیں جنگ ہوتی ہے تو فضائیہ کا اک موثر کردار ہوتا ہے جبکہ یہاں افغان فوجیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے اک بھی جنگی جہاز نے اڑان نہیں بھری۔ طالبان کو اگر ڈر تھا تو وہ فضائیہ سے تھا جس کا سرے سے استعمال ہی نہیں کیا گیا۔

امریکہ کا کردار بھی اس سارے منظر نامے میں نہایت مشکوک ہے پچھلے دس سالوں سے امریکہ کا طالبان پہ اور طالبان کا امریکیوں یا اتحادیوں پہ کوئی قابل ذکر حملہ نہیں ملتا۔ امریکہ قطر میں آرام سے بیٹھ کر دیکھتا رہا اور طالبان ملک پہ قابض ہو گئے۔ ماہرین اس کے پیچھے کی وجہ طالبان اور امریکہ کے اس معاہدے کو قرار دیتے ہیں جس میں طالبان کی طرف سے پاکستان اور چین کو تجارتی راستہ نہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ہمارے ہاں لوگ جشن منا رہے ہیں اور طنز کر رہے ہیں کہ خونی لبرلز پہ موت کا سکوت ہے اشرف غنی بزدل ہے فرار ہو گیا بھاگ گیا۔ لیکن ہمارے لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ افغان جیلوں میں قید پاکستان تحریک طالبان کے کمانڈرز جن پہ اے پی ایس کے معصوم بچوں کا خون قرض ہے ہزاروں کی تعداد میں آزاد ہو چکے ہیں۔ وہ عالمی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہمارا اور افغان طالبان کا کوئی جھگڑا نہیں اور ہم پاکستان میں آپریشن کا آغاز کرنے والے ہیں۔

افغان جیلوں سے آزادی پانے والے جنگجو پاکستانی سرحد پہ کھڑے ہمارے فوجیوں کا مذاق اڑا رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ اگلی باری تمہاری ہے ۔ جشن ضرور منائیں لیکن اس سے پہلے مسجدوں میں ہونے والے دھماکوں سکول میں شہید ہونے والے معصوم بچوں اور کوہاٹ کی پہاڑیوں تک آ جانے والے طالبانوں کا ضرور سوچیں جو اسلام آباد سے صرف 90 کلومیٹر دور تھے اور ہم سجدوں میں گر کر دعائیں مانگ رہے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words