تباہ حال بلوچستان

اہم ترین تذویراتی اہمیت اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان اکیسویں صدی میں بھی پتھر کے زمانے کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس جدید اور ٹیکنالوجی سے بھرپور دور میں بھی بلوچستان کے اکثریتی علاقے گیس، بجلی، ہسپتال، روڈ اور دوسرے بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔

770 کلومیٹر کا ساحل اور لاتعداد وسائل سے بھرے اس صوبے کی حالت دگرگوں ہیں۔ اربوں روپے کے معدنیات والے صوبے میں غربت کی شرع 71 فیصد ہے جو کہ ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ بیروزگاری ملک میں سب سے زیادہ اسی صوبے میں ہے جس کی شرع 09۔ 4 فیصد ہے۔ ملک کی گیس کی ضروریات پورے کرنے والے صوبے کے 95 فیصد سے زائد گھروں میں گیس کی سہولت پہلے ہی سے موجود نہیں۔

ستم ظریفی یہ کہ 19 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں اور لٹریسی ریٹ ملک کا کم ترین یعنی 44 فیصد ہے۔ یہ بد تری اور تباہی یہاں پر نہیں رکتی۔ صحت کے شعبے کی بربادی پتھر کے زمانے کا سماں پیش کرتی ہے جہاں پر 3000 آبادی کے لیے صرف 1 ڈاکٹر موجود ہے۔ ہسپتالوں کی کمی اور بنیادی سہولیات کا فقدان کا اندازہ ڈاکٹروں کی کمی سے لگایا جاسکتا ہے۔ مزید براں، اس صوبے کے 52 فیصد بچے غزائی کمی کا شکار ہیں جبکہ انسانی ترقی کے پیمانے میں اس کا نمبر 47۔ 0 فیصد ہے جو کہ ملک میں سب سے کم شرح ہے۔

مانا کہ وفاق نے ہمارے وسائل لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ درست کہ آرٹیکل 172 ( 3 ) پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ لیکن کیا وفاق کی اس ناجائز سے ہم بری الذمہ ہو جاتے ہیں؟ کیا ہمارے ارباب اختیار نے اپنے عوام کو اندھیرے میں نہیں رکھا؟ کیا تعصب اور ذاتی عناد کا خمیازہ عوام نہیں بھگت رہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہر سال اربوں روپوں کے ترقیاتی بجٹ میں بنیادی سہولیات کی اسکیموں کی بجائے کنکریٹ پراجیکٹس کے لئے فنڈز رکھے جاتے رہے ہیں تاکہ حکمرانوں کی مٹھی گرم رہے۔ ؟

سی پیک جس سے اس صوبے کی حالت بدلنے کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ جس کا دل بلوچستان ہے اور جس کو 62 فیصد کوریڈور بلوچستان مہیا کر رہا ہے۔ بقول وزیراعلی جام کمال کے کہ سی پیک کا 5 فیصد بلوچستان میں خرچ ہو رہا ہے۔ کیا ہمارے رہبران نے یہ مسئلہ بڑے فورمز پر اٹھانے کی ہمت کی ہے؟ بدقسمتی سے جس طرح بلوچستان کو سی پیک میں وفاق نے نظرانداز کیا ہے اس ناقابل معافی جرم ہمارے ارباب اختیار برابر کے شریک ہیں۔ کیونکہ یا تو ہمارے نمائندگان خواب غفلت میں سو رہے تھے یا اپنی نوکری بچانے کی فکر میں اپنے ہونٹوں پر تالے لگائے ہوئے تھے۔

اقتدار کی ہوس نے کم و بیش ہمارے سارے نمائندگان کو ننگا کر دیا ہے۔ افسوس تو یہ کہ موجودہ صوبائی حکمرانوں نے بدانتظامی، ذاتی تعصب اور مفادات کے تمام ریکارڈز کو توڑ ڈالا ہے۔ سیاسی بے چینی میں اضافہ، ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے میں ٹال مٹول سے کام لینا، ان پر تشدد، خود کے لئے ہیلی کاپٹر اور قیمتی گاڑیوں کی خریداری، جام کمال کئی بچے کی سیاحت کے لئے سرکاری خرچے پر 20 سے زائد گاڑیوں کا پروٹوکول، باپ پارٹی میں اقتدار کی رسہ کشی، اتحادیوں کا روز روز بلیک میلنگ کرنے کے گر، اور کرپشن جیسے واقعات نے اس حکومت کو اچھی طرح نے نقاب کیا ہے۔ دوسری طرف صوبے کئی بنیادی مسائل جوں کے توں۔

وفاق کی زیادتیاں اپنی جگہ قابل گرفت۔ لیکن ہماری نالائقی، مفادات، ہوس، ذاتی عناد، اور بدانتظامی نے اس صوبے کو بدترین مقام پر لا کر کھڑا کیا ہے۔ جب تک ہماری اپنی لیڈر شپ مخلص نہیں ہوگی۔ تب تک ہمارا صوبہ بربادی اور تباہی کی چکیوں میں پھنستا چلا جا تا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words