افغان طالبان کی جنگی حکمت عملی پر ایک نظر


افغانستان میں افغان طالبان کی تیزی سے بڑھتی پیش قدمی اور قریبا پورے افغانستان کا کنٹرول بظاہر ’چند ہفتوں‘ میں حاصل کرلینا، دنیا کے لئے باعث حیرت ہے کہ یہ کس طرح ہو گیا، امریکی صدر بھی شدید تنقید کی زد میں اور انہیں فوجی انخلا کو عجلت کا موجب قرار دے کر موجودہ صورت حال کا ذمے دار قرار دیا جا رہا ہے۔ مغرب میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ جنگ تو اربوں ڈالرز خرچ کیے بغیر نہیں لڑی جا سکتی، تو اس پر مختلف آرا ء اور تھیوریوں سامنے آ رہی ہیں کہ افغان طالبان، مبینہ طور پر افیون کی پیداوار، اسمگلنگ، کان کنی، اغوا برائے تاوان سمیت روس، ایران اور پاکستان سے مالی امداد حاصل کرتے ہوں گے۔

امریکہ تو باقاعدہ روس پر الزام عائد کرچکا کہ مبینہ طور پر افغان طالبان کو جنگی ساز و سامان سمیت مالی مدد بھی دے رہا ہے۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکہ نے بھی اپنے خزانے کھولے تھے بالفرض مبینہ الزام کو مان لیتے ہیں تو جیسی کرنی ویسی بھرنی والا معاملہ ہی سمجھ لیں، ویسے بھی یہ کوئی انہونی بات نہیں، تاہم یقینی طور پر اس حوالے سے کوئی مصدقہ اطلاع نہیں۔

یہاں ایک نہیں بلکہ کئی سوال اٹھتے ہیں کہ یہ جو امریکی ٹینک و بھاری جنگی ساز و سامان افغان طالبان استعمال کر رہے ہیں، ان کے قبضے میں کیسے آئے؟ جنگی پوسٹوں پر بھاری ہتھیاروں کے ذخائر غنی انتظامیہ نے دیے یا ٹرمپ اور بائیڈن انتظامیہ نے، اب جو مکمل افغانستان پر افغان طالبان کی عمل داری کو دنیا تسلیم کرچکی تو وہاں موجود اربوں ڈالر و سونے کی شکل میں ملنے والی بلیک منی و کرپشن سے حاصل، مال غنیمت کیا افغان طالبان کے لئے کافی نہیں۔

اس نکتے کو یہیں تک محدود رکھ دیں کہ افغان طالبان کے لئے رقوم کا حاصل کرنا مشکل کام نہیں تھا اور نہ ہے۔ اب آتے ہیں کہ اتنے جلدی افغانستان ان کے کنٹرول میں کیسے آ گیا، یہاں تک کہ ماضی میں سب سے زیادہ مزاحمت کرنے والے علاقوں میں بھی انہیں جنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور افغان سیکورٹی فورسز سمیت کابل انتظامیہ کے ہمراہ جنگجو گروپوں نے بھی ہتھیار ڈال دیے، افغانستان کی صورت حال کا مستقل جائزہ لینے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ افغان طالبان نے اپنی گوریلا وار اسٹریٹجی ایک مہینے قبل نہیں بلکہ 20 برسوں سے اختیار کی ہوئی ہے، انہوں نے غیر ملکی افواج و افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ جنگجو گروپوں کے ساتھ سخت جھڑپوں کے بعد افغانستان کے پچاس فیصد سے زائد علاقوں پر کئی برس قبل ہی قبضہ کر لیا تھا، یہ باقی ماندہ و علاقے صرف اس لئے محفوظ تھے کہ امریکہ و نیٹو افواج زمینی جنگ کے بجائے فضائی حملوں میں اندھا دھند بمباریاں کرتے تھے۔ ٹرمپ کی جانب سے مدر آف آل بمز کا بھیانک تجربہ کسی کے ذہن سے محو نہیں ہوا ہوگا۔ گوریلا وار دنیا کی سب سے سخت اور دقت آمیز قرار دی جاتی ہے، ویت نام میں امریکہ کو ناکوں چنے چبانے میں گوریلا وار نے ہی اہم کردار ادا کیا تھا۔

اب کچھ حلقوں کے ان مفروضوں کی جانب بڑھ جاتے ہیں جیسے ہضم کرنے کے لئے اس الزام کے لئے بھی تیار رہنا ہوگا کہ افغان طالبان کی جنگی حکمت عملی کی تشریح کرنے والے ان کے حامی ہوسکتے ہیں، تاہم اسے ایک مفروضہ ہی سمجھ لیں کہ اگر افغان طالبان کی جنگی حکمت عملی سمجھ میں نہ آ رہی ہو تو تاریخ میں ایسے ان گنت واقعات درج ہیں کہ ہفتوں کے اندر اندر کئی حکمرانوں نے فتوحات حاصل کی، ایک ہی مثال سمجھانے کے لئے کافی ہے کہ الیگزینڈرسکندر اعظم نے آرگنائز آرمی کے ساتھ 10 برسوں میں 17 لاکھ مربع میل کا علاقہ قبضہ کیا تھا، جب کہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے صرف دس برسوں میں دنیا کی دو سپر پاور روم اور ایران کے ساتھ آرگنائز آرمی کے بغیر 22 لاکھ مربع میل کے علاقے کو فتح کیا۔

الیگزینڈر کا نام صرف کتابوں میں سمٹ کر رہ گیا جب کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے بنائے نظام دنیا کے 245 ممالک میں آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ یقین کیجئے کہ صرف جنگی حکمت کے عزم و جذبے کے حوالے سے موازنہ کرانے کے لئے صرف ان حقائق کو سامنے رکھنے کی جسارت کی، جس سے سمجھنے میں مدد ملے گی کہ افغانستان کا کل رقبہ تو صرف 652230 مربع کلو میٹر پر محیط ہے، یہاں تو چار دہائیوں سے جنگ جاری ہے، 20 برس پنجہ آزمائی کرنے کے بعد امریکہ نے 52 ممالک کے ساتھ واپسی کی راہ لی، کیا دنیا دیکھ نہیں رہی کہ پہلے گھوڑے ہوتے تھے جس پر سوار ہو کر فتوحات حاصل کی جاتی تھی آج صرف موٹر سائیکل سوار بھاری جنگی ہتھیاروں کے ساتھ اضلاع و دارالحکومتوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔ امریکہ کے خوف کا یہ عالم کہ پہلے تو اپنی تمام فوج کو واپس بلا لیا، لیکن چند افراد کے لئے تین ہزار سے زائد فوجی دستے دوبارہ کابل بھیج دیے، کویت میں ڈیرے جما لئے، سمندر میں بحری جنگی بیڑوں کو الرٹ کر دیا۔

افغان طالبان کی جنگی حکمت عملی میں بادی النظر یہی اسٹریٹجی نظر آتی ہے کہ ان کے حامیوں کی بڑی تعداد افغان سیکورٹی فورس میں شامل ہوئے، ”بلیو و گرین وار“ اس حکمت عملی کی توثیق کرتی ہے۔ جھڑپوں میں سیکورٹی فورسز پر حملوں اور پھر 52 ممالک اور سپر پاور امریکہ کی شکست کے بعد واپسی نے افغان عوام سمیت افغان فوجیوں کے دل و دماغ میں افغان طالبان کو تسلیم کرنے کا رجحان کو بڑھایا۔ افغان طالبان نے معروف جنگجوؤں کو عام معافی کے اعلان میں عزت کے ساتھ جان کی امان دے کر اپنی کامیابی کی راہ ہموار کی۔ کابل انتظامیہ نے افغان عوام کو نسلی و فرقہ وارانہ بنیادوں پر خانہ جنگی کروانے کی کوشش کی، لیکن مزار شریف جیسے شہروں اور تمام بارڈر کراسنگز پر قبضے نے ثابت کر دیا کہ افغان عوام اب طویل جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

کیا دنیا یہ نظارے نہیں دیکھ رہی کہ جہاں جہاں افغان طالبان جاتے ہیں عوام ان سے گھل مل جاتے ہیں، ان کے ساتھ بنا خوف و ڈر سیلفی بناتے ہیں، امریکی ٹینکوں پر جشن مناتے ہیں، کیا یہ افغان طالبان کے خلاف مزاحمت نہیں کر سکتے تھے، کیا یہ افغانی نہیں، ایسا نہیں ہے، افغانی صرف امن چاہتے ہیں، جو انہیں ایک مضبوط اور طاقت ور قیادت کی صورت میں مل سکے، فی الوقت تو افغان جنگ میں بھرپور مسلح مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔

یہ ضرور ہے کہ کابل انتظامیہ اور ان کے جنگجوؤں نے عوام میں اس قدر خوف و ہراس پیدا کیا کہ وہ بعض علاقوں سے نقل مکانی کرچکے، اور خود بھی فرار ہو گئے، لیکن ان کی جلد واپسی ہوگی کیونکہ وہاں تو افغان سیکورٹی فورسز نے بنا لڑے ہتھیار ڈال دیے، جسے عوامی ریفرنڈم بھی کہا جاسکتا ہے، اب کسی بڑی جنگ کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، اس لئے دنیا کو بھی دیکھنا چاہے کہ جن جن علاقوں میں افغان طالبان گئے وہاں عوام نے ان کا استقبال کر کے انہیں تسلیم کیا۔ پھر جبر کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ افغان عوام کے فیصلوں کو دنیا کو بالآخر تسلیم کرنا ہوگا کیونکہ یہی سب کے حق میں بہتر ہے۔

Facebook Comments HS