ہم بدلیں گے، سب بدلے گا
ہم سب ادھر ادھر بھٹکے ہوئے بے ہنگم ہجوم کی مانند سرگرداں کسی کا ریموٹ کنٹرول ایران کے پاس تو کسی کا سعودی عرب کے پاس، چند ایک مغرب کے پیروکار تو چند اب طالبان کی آمد پہ شاداں۔ کیا ہم قوم کی تعریف پر پورا اترتے ہیں جبکہ ہم کسی اور کے مقاصد کی تکمیل کے لئے بطور ہتھیار استعمال ہوئے جاتے ہیں۔
انقلاب ایران سے نکل کر، سوویت یونین کے انخلا سے ہوتے ہوئے، جب ہم فتح کابل تک پہنچتے ہیں تو اگر ہم مڑ کا دیکھ لیں تو اب ہمیں کم از کم اس بات کا ادراک ہو ہی جانا چاہیے کہ ہم وہاں سے یہاں تک سرکس کے شیر کی سی ہی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور یہ تو ہم خود ہی اپنے آپ کو سرکس کا شیر سمجھ رہے ورنہ دیکھنے والے تو ڈگڈگی پہ ناچنے والے بندر سے زیادہ ہمیں اہمیت نہیں دیتے۔
ایران والے ایرانی ہیں تو سعودیہ عرب والے عربی ہیں۔ ہر خطہ ارض پہ بسنے والا خود کو اسی خطے سے منسوب کرنا پسند بھی کرتا ہے اور اس پر فخر بھی کرتا ہے۔ ایرانی نہ تو پاکستانی بننا پسند کریں گے اور نہ ہی عربی۔ وہ اپنے اپنے مفادات کو سامنے رکھے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہیں نہ تو آپ کے عقائد سے مطلب ہے اور نہ ہی آپ کی مسلمانیت سے غرض۔
فرقہ واریت اور صوبائی تعصب ہماری بقاء کے لئے زہر قاتل ہیں۔ 74 سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک ہمیں تقسیم کیے ہوئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم یا وہ گروہ جس سے ہم وابستہ ہیں آزاد رہیں اور باقی سب کو قید کر دیا جائے ایسا ممکن نہیں ہے۔ دوسرے کو تکلیف میں دیکھ کر یا تکلیف پہنچاء کر ہم کیسے خوش رہ سکتے ہیں جب کہ ہم دونوں ایک ہی معاشرے کا حصہ ہیں۔ معاشرہ بدامنی کا شکار ہو تو فرد واحد کبھی بھی حالت سکون میں نہیں رہ سکتا۔
کسی بھی خطہ کے لوگ جب ترقی کی راہ پر چلتے ہیں تو وہ پہلے خود کو ایک قوم کے قالب میں ڈھالتے ہیں۔ قوم مل کر اپنی بقا کی جنگ لڑتی ہے، ذاتی مفادات اور نظریات کو پس پشت ڈال کر ایک ہی نظریے کو اپنا کر آگے کی طرف جب مل کر قدم بڑھائے جائیں تب ہی کہیں جا کر خاطر خواہ نتائج کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ چائنہ اور جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ہم نے ان کے ساتھ ہی سفر شروع کیا تھا آج دیکھ لیں وہ کہاں اور ہم کہاں ہیں۔
ہمیں ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑے ہونے کے لئے قوم بننا پڑے گا، ہمیں پنجابی، سندھی، بلوچ اور پٹھان یا شیعہ و سنی کی تفریق سے خود کو آزاد کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے کی بات سننی پڑے گی اور ایک دوسرے کو اہمیت بھی دینا ہوگی۔ ہم چاہے زندگی کے جس شعبے سے بھی وابستہ ہیں ہمیں اپنا کام ایمانداری اور دیانتداری سے سر انجام دینا ہوگا کیونکہ بات نسلوں کی ہے، نسلوں کی بھلائی کی خاطر ہمیں سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ آئیں آج ہم سب مل کر ”ہم سب“ کے اس خوبصورت سے پلیٹ فارم سے ”سب سے پہلے پاکستان“ کا نعرہ بلند کرتے ہیں جس کی پکار کراچی سے کشمیر تک سنائی دے کیونکہ ”ہم بدلیں گے سب بدلے گا“ ۔


