موجودہ دور میں بچوں کی پرورش کیسے کی جائے

اچھی و بہترین تعلیم و تربیت ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ تمام والدین خواہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں اپنی اولاد کو علم و تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں اور ان کے مستقبل کے حوالے سے کئی خواب بنتے ہیں۔

علم حاصل کر لینے کا کوئی فائدہ نہیں جب تک اس پر عمل نہ ہو۔ پھر تعلیم اور علم حاصل کر لینے میں اور تربیت میں فرق ہے۔ ایک مہذب و فعال شخص بننے میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔

لڑکا ہو یا لڑکی اس کی شخصیت کو بنانے اور نکھارنے میں والدین ’گھر اور اردگرد کا ماحول بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب بچہ آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے اپنی ماں کو دیکھتا ہے۔ اس کی پہلی درسگاہ اس کی ماں کی گود ہوتی ہے۔ ماں کا اچھی تربیت کرنے کے لئے پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں لیکن اس کا مضبوط کردار‘ مثبت سوچ ’ذہنی و جسمانی صحت بچے کی تربیت میں واسطہ اور بلا واسطہ اثرانداز ہوتی ہے۔

بچہ جیسے جیسے اس دنیا میں آنکھ کھولتا چلا جاتا ہے اس کے سیکھنے کا عمل بھی پروان چڑھتا چلا جاتا ہے جس میں باپ کا کردار بہت اہم ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کے گھر کا ماحول ’گھر والوں کے آپس کے تعلقات‘ رہن سہن ’اس کی شخصیت بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے چلے جاتے ہیں جن کا احساس تک نہیں ہو پاتا کہ بچے نے کیسے اور کب کیا عادت اپنا لی۔ یہ بھی سچ ہے کہ بچے کو جو سکھایا یا بتایا جائے وہ کبھی نہیں سیکھے گا بلکہ وہ اپنے مشاہدے اور تجربات سے سیکھے گا لہذا بچے کو ماحول ہی ایسا دیا جائے کہ بعد میں پچھتانے کی نوبت نہ آئے۔

یہ یاد رہے کہ تربیت کرنا صرف ماں کا فرض نہیں بلکہ باپ اور گھر کے سبھی افراد برابر کے شریک ہوتے ہیں لہذا اپنا اپنا کردار با خوبی نبھانا ہی عقلمندی ہے۔

جیسے پودا لگانے کے لئے بیج لگایا جاتا ہے اس کو پانی دیا جاتا ہے گرمی سردی سے بچایا جاتا ہے اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ سوکھے پتوں کی کانٹ چھانٹ کی جاتی ہے ’مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لئے اسپرے کیے جاتے ہیں بالکل اسی طرح ایک بچے کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ اس کو سازگار ماحول مہیا کیا جاتا ہے‘ حلال حرام کی تمیز سکھائی جاتی ہے ’اچھے برے کا فرق سمجھایا جاتا ہے‘ اخلاقیات ’سچ جھوٹ‘ امانت داری ’احسان‘ محنت ’حقوق کی پاسداری‘ مستحق لوگوں کی مدد کی تربیت دی جاتی ہے۔

رشتوں کی اہمیت اور حسن سلوک کا سبق سکھایا جاتا ہے ’سیدھے اور غلط راستوں کا فرق سمجھایا جاتا ہے۔ ڈانٹ ڈپٹ‘ پیار محبت و شفقت اور خلوص کی کھاد سے اس کی آبیاری کی جاتی ہے۔ بے جا لاڈ پیار ’آسائش بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔ بچوں کو شروع سے ہی خود مختاری‘ میانہ روی ’اعتدال پسندی‘ کفایت شعاری ’بچت کرنا‘ زندگی کے معاملات میں ڈسپلن کا سبق دیں۔ ان کو آسائش مہیا کر کے آرام طلب نہ بنائیں ’محنت کرنا‘ جدوجہد کرنا ’ناکامیوں کا سامنا کرنا سکھائیں۔ یہ کہہ دینا کہ بڑا ہو کر سیکھ جائے گا غلط ہے۔ جب ایک عادت بن جاتی ہے اس کو بدلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

واصف علی واصف فرماتے ہیں کہ : ”انسان کی فطرت کبھی نہیں بدلتی۔“

کہتے ہیں کہ کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو عقاب کی نظر سے۔ جیسے خودرو جھاڑیوں کو صاف نہ کیا جائے تو پودے کی نشو و نما میں فرق پڑتا ہے اسی طرح اگر بچے کو بتایا نہ جائے ’سمجھایا نہ جائے اس پر کڑی نظر نہ رکھی جائے تو وہ غلط رستے کا مسافر بن جاتا ہے۔

بچہ چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی تربیت کے حساب سے عمر کا ہر حصہ بہت اہم ہے لیکن شروع کے پانچ سال انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں اس میں عادتیں بننا شروع ہو جاتی ہیں جو وقت کے ساتھ معمولی رد و بدل کے ساتھ پختہ ہوتی چلی جاتی ہیں لہذا جیسا ماحول اس کو ملے گا وہ ویسا بنتا چلا جائے گا۔

عموماً 12 سے 18 سال کی عمر بہت خطرناک ہوتی ہے۔ اس عمر میں والدین کو بہت سمجھداری اور احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ کیونکہ یہی وہ عمر ہے جب بچے کو صرف وہ خود اور اس کے دوست ہی صحیح لگتے ہیں والدین اور ہر سمجھانے والا کم عقل۔

وہ ان راستوں کا راہی بن جاتا ہے جس رستے پر جانے سے اس کو منع کیا گیا ہو یا سختی برتی ہو۔ ہر بچے کو اس کے مزاج کے مطابق اس کی عمر کے حساب سے اس سطح پر آ کر سمجھانا چاہیے۔ بچوں میں فرق نہیں رکھنا چاہیے نہ ہی ایک دوسرے سے موازنہ کرنا مناسب ہے۔

والدین کو سوچنا چاہیے کہ وقت بدل گیا ہے۔ بچے اور آپ کی سوچ میں زمین آسمان کا فرق آ گیا ہے۔ بچے کو روبوٹ نہ سمجھا جائے کہ جو جیسا آپ کہیں گے وہ مان جائے گا۔ تھوڑی لچک دکھانی پڑتی ہے کبھی ان کی ماننی پڑتی ہے اور کبھی اپنی منوانی پڑتی ہے۔

آج کا دور جو کہ ٹیکنالوجی کا دور کہلاتا ہے سب سے زیادہ خطرناک دور ہے کیونکہ والدین کے لئے بچوں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ جبکہ اب ڈیجیٹل دور ہونے کی وجہ سے موبائل فون ’آئی پیڈ‘ لیپ ٹاپ جو کہ وقت کی ضرورت بھی ہیں ان کو دور بھی نہیں رکھا جا سکتا۔ لیکن والدین کو چاہیے کہ وہ نظر رکھیں کہ بچے کیا دیکھ رہے ہیں کون سی ویب سائٹس پر جا رہے ہیں کس قسم کی گیمز کھیل رہے ہیں ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ یہ زیادہ مشکل کام نہیں ای میل آئی ڈی ایک رکھنے سے بھی ان پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پاسورڈ بھی اپنے کنٹرول میں رکھیں وقتاً فوقتاً ان کو آ کر دیکھتے رہیں۔

یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو اچھے اور برے کے نتائج بتائیں ’سزا رکھیں تاکہ ان کو احساس رہے کہ اگر کچھ غلط کیا تو سزا ملے گی۔

بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کریں ’وقت گزاریں‘ اس کے ساتھ ساتھ اسپیس بھی دیں ’ہنسی مذاق کریں تاکہ وہ کوئی بات آپ سے کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ ان کے ساتھ اپنے دل کی بات کریں تاکہ وہ بھی اپنا دل کھول سکیں۔ ان کو چھوٹے اور بڑے فیصلوں میں شامل کریں تاکہ احساس ذمہ داری چھوٹی عمر سے ان کی شخصیت کا حصہ بن جائے اور اعتماد بھی حاصل ہو تاکہ اپنی زندگی کے بڑے فیصلے آرام سے کر سکیں۔ اس طرح ان کے دل میں احساس جاگے گا کہ وہ اور ان کی رائے اہم ہے آپ کی نظر میں۔

سب سے اہم بات اگر وہ کوئی اپنے دل کی بات آپ سے کریں تو اس کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں دوست بن کر حل کریں تاکہ مستقبل میں بھی وہ آپ سے بات شیئر کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔

جو والدین اپنے بچوں پر بے جاہ پابندیاں لگاتے ہیں یہ عمل ان میں تجسس بھر دیتا ہے اسی طرح زیادہ آزادی بھی نقصان دہ ہے لہذا اعتدال قائم کریں تاکہ وہ کوئی انتہائی قدم نہ اٹھا سکیں۔ اگر کسی بات سے منع یا انکار کریں تو اس کا سیاق و سباق ضرور بتائیں۔

لڑکا ہو یا لڑکی ان کے لباس کے انتخاب کا خیال کریں۔ آپ جتنے بھی آزاد خیال ہوں فیشن اور موڈرن ازم کے نام پر سمجھوتہ نہ کریں۔ لباس کو مختصر نہ ہونے دیں۔ ہمارا لباس ہماری شخصیت میں نکھار لاتا ہے۔ ان کو اتنی تمیز دیں کہ وہ اپنا لباس مہذب رکھیں۔

گھر میں آنے جانے کے اوقات کار مقرر ہونے چاہیے اور اس پر پہلے خود عمل کریں پھر نصیحت کریں۔ رات کا کھانا ہر حال میں ایک ساتھ کھائیں اور بچوں سے سارے دن کی روداد سنیں۔ گروپ اسٹڈی کا رواج نہ ڈالیں اپنے بچے کو اپنے سامنے رکھیں تاکہ وہ رات گئے تک کسی غلط کام ’منشیات وغیرہ کے استعمال میں نہ پڑے۔ اس کے دوستوں سے وقتاً فوقتاً ملتے رہیں تاکہ اندازہ ہو کہ وہ کن لوگوں میں اٹھ بیٹھ اور وقت گزار رہا یا رہی ہے اور وہ کسی غلط کمپنی کا شکار نہ ہو جائے۔

بچوں کو شروع دن سے رشتوں کی اہمیت اور احترام سکھائیں ’ہر رشتے کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ بہن کی حفاظت کرنا‘ اس کے حقوق کے لئے لڑنا ’اس کی خاطر قربانی دینا سکھائیں۔ ان کو بتائیں کہ عورت جس روپ میں بھی ہو اس کی عزت و احترام میں کمی نہیں آنی چاہیے۔ عورت آپ کی موجودگی میں خود کو غیر محفوظ نہ سمجھے۔ اسی طرح بہن کو بھائی پر جان نثار کرنا‘ باپ اور بھائی کی عزت کی پاسداری کرنا ’اس کی اپنی حدود کا بتائیں۔ لڑکے اور لڑکی کی دوستی کوئی معیوب بات نہیں۔ اگر آپ ایسا کرنے سے ان کو منع کریں گے تو وہ تجسس میں وہی کام کریں گے لہذا ان کو سمجھائیں کہ ہر رشتہ کی اپنی ایک حد ہوتی ہے یا دائرہ ہوتا ہے اس دائرے کو عبور نہیں کرنا چاہیے۔ ہر رشتے کی اپنی جگہ اور احترام ہوتا ہے جو پامال نہیں ہونا چاہیے۔

والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ وہ ہر طرح کی بات شیئر کر سکیں اور خودکشی جیسے انتہائی اقدام تک کی نوبت نہ آئے۔

ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں۔ وہ وہی بنیں گے جیسا ہم ان کو ماحول دیں گے جیسی ان کی تربیت کریں گے۔ کوئی ماں باپ نہیں چاہتا کہ اس کی اولاد کسی غلط کام میں ملوث ہو لیکن ہم جانے انجانے میں کچھ غلطیاں کر جاتے ہیں جن کے نتائج بہت بھیانک ہوتے ہیں۔

بچوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اگر وہ کہیں جاتے ہیں تو وہ اکیلے نہیں ہوتے بلکہ تعلیم ہماری تربیت ’تہذیب‘ عزت و وقار کو ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ ان کی تربیت ایسی کریں کہ اللہ کو جواب دیں سکیں اور کوئی آپ پر آپ کی تربیت پر انگلی نہ اٹھا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words