لاہور کے طالبان اور مزار شریف کا تاقیامت زندہ کافر

پاکستان کے دوسرے علاقوں کے بارے میں، میں یقین سے نہیں جانتا لیکن پختونخوا کے کھاتے پیتے خاندانوں کے نوجوان، ایک وقت تھا، سیر کرنے اور انڈین فلمیں دیکھنے کے لئے کابل جایا کرتے تھے۔ واپس آ کر دوستوں کے محافل میں مدتوں کابل کی آسودگی، خوبصورتی، ترقی، پھلوں، ارزانی اور مہمان نوازی کی کہانیاں سناتے۔ بچپن میں کابل میرے ذہن میں ’چین ماچین‘ اور کوہ قاف جیسی سرزمین تھی، جہاں پریاں بستی تھیں، پھول، پھل، خوشبوئیں اور آزادیاں گلے مل کر گاتی تھیں۔ میری شدید خواہش تھی کہ بڑا ہو کر بہت سارے اور کاموں کے علاوہ کابل کی خوبصورتی دیکھنے ضرور جاؤں گا۔

اور ہاں مزار شریف بھی، جہاں لیجنڈری تلوار باز اور میرے بچپن کی کہانیوں کا ہیرو یعنی ’دوست د خدائی‘ (نبی اسلام ﷺ) کے کزن، داماد اور دوست دفن ہیں۔ جنہوں نے ایک کافر کو ایسی تلوار ماری تھی کہ آج تک اس کا زخم ٹھیک نہیں ہوتا اور تاقیامت مزار شریف کے ایک قید خانے میں زندہ ہے۔ بزرگ کہانی یوں بتاتے رہتے تھے، کہ جب بھی وہ دن آتے ہیں جب اسے تلوار ماری گئی تھی وہ رات کو خواب میں ہڑبڑا کر چیخ اٹھتا ہے کہ تم نے مار دیا علی! تم نے مار دیا مجھے۔ یہ کفریہ کلمات سن کر دوران علی رضی اللہ تعالیٰ نے جواب میں اسے کہا تھا کہ مارنے والا اللہ ہے اور یہ سمجھنے کے لئے تم قیامت تک زندہ رہو گے۔

وہ ساٹھ گز لمبا کافر تب سے زنجیروں میں جکڑا ہوا قید ہے۔ اس کے زخم میں ایک من روئی بھری جاتی ہے۔ بڑھاپے کی وجہ سے اس کے پپوٹے اتنے نیچے لٹکے ہوئے ہیں کہ وہ اس کی وجہ سے آنکھیں نہیں کھول سکتا۔ کنڈے لگا کر ان کو اوپر کھینچا جاتا ہے تب کہیں جاکر وہ آنکھیں کھول لیتا ہے اور ملاقاتی کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کی آنکھیں دیکھ لینے میں ثواب ہے کیونکہ اس نے ’دوست د خدائی‘ (پیغمبر اسلام ﷺ) کو ان آنکھوں سے دیکھا ہے۔ میں ان بزرگوں کو حیرت اور حسرت سے دیکھتا جو مزار شریف کی زیارت کرنے کے علاوہ اس کافر سے بھی مل کر آئے ہوتے جس کو دیکھنے میں ثواب تھا۔

پھر کالج کے دور کو پہنچتے پہنچتے معلوم ہوا کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔ یہ باغوں، نہروں، کرکٹ کے میدانوں، تعلیمی اداروں، مزاروں، میلوں، عرسوں، فلمی سٹوڈیوز، اداکاروں اداکاراؤں، فیشن اور اخبارات و رسائل کا شہر ہے۔ یہاں مینار پاکستان ہے جو ایک ارادے کی سنگ میل ہے یہاں شاہی قلعہ ہے جو ایک عہد کی یادگار ہے۔ یہاں ایک بازار ہے جہاں کے باسی رات بھر جاگتے ہیں جہاں تان پورے، طبلے، ستار، وینا، گھونگرو، ہارمونیم اور ڈھولکی کے تال میل کے ساتھ میر و غالب ذوق و فیض کی کلام سے نا آسودہ روحیں آسودگی زخمی دل مرہم اور باذوق تماشبین اپنی ذوق کی تسکین پاتے ہیں۔ جہاں کھانے پکانا فن اور کھانا کھانا زندگی سمجھی جاتی ہے۔ جہاں ہر اسلامی اور جہادی پارٹی کے دفاتر ہیں رنگ رنگ کے خطیب اور اسلامی سکالرز ہیں لیکن اس شہر کو رتی بھر تبدیل نہیں کرسکے۔

کابل اور مزار شریف جانے کی ہماری عمر ہوئی تو وہ دونوں بارود خانہ بنے ہوئے تھے، وہاں سے سردہ اور اناروں کے ساتھ ساتھ اب پشاور بم اور گرینیڈ بھی آتے تھے۔ کیونکہ پہلے ’اللہ کا دین پھیلانے‘ اور ہمیں مسلمان بنانے کے لئے وہاں سے غزنوی، غوری، ابدالی ہمارے ہاں آتے تھے، اور پھر اس نیکی کا دگنا بدلہ چکانے کی خاطر، جب ہمارے ہاں حق اور حقانی پیدا ہوئے، تو ہم خود غوری غزنوی اور ابدالی بن کر ’اللہ کا دین پھیلانے‘ اور ان کو مسلمان بنانے کے کشٹ میں افغانستان جانے لگے۔

جس افغانستان میں پہلے صرف ایک افسانوی کافر موجود تھا جس کے زخم میں ایک وقت میں ایک من روئی کام آتی تھی، اور جو قیامت کا منتظر تھا تاکہ وہ مر سکے، وہ افغانستان راتوں رات سب کا سب کافر بنا اور اس کی قیامت چالیس سال ہوئے ختم ہی نہیں ہوتی۔ جس کے زخم میں ساری دنیا کی روئی اور روئی کے بنے لحافیں بھر دی جائیں پھر بھی وہ خون آلود رہتا ہے، مندمل ہوتا ہے نہ بھرتا ہے ممکن ہے وہ بھی اپنے زخم کے علاج کے لئے کسی قیامت کا منتظر ہو۔ پہلے افغانستان میں صرف ایک مشہور ترین شہید تھا جن کی مزار کی وجہ سے وہاں کا پورا شہر مزار شریف کہلاتا تھا، لیکن اب پورا افغانستان ایک بڑا ’مزار شریف‘ بنا ہوا ہے۔

افغانی شہادت کے شوق میں شاید جانتے ہی نہیں ورنہ وہ میرے نزدیک سارے کے سارے جنتی ہیں۔ کیونکہ وہاں اور یہاں کے ہر قبرستان میں ہر گھر کے پانچ پانچ دس دس شہید دفن ہو چکے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ ایک شہید دسیوں پسماندگان کو فری میں جنت لے جاسکتا ہے۔ لیکن یہ احمق اب بھی جنت جانے کے چکر میں لڑ لڑ کر اپنی زندگیوں کو جہنم بنا رہے ہیں۔ جب کہ اگر وہ چاہے تو پوری دنیا کے مسلمانوں کو اپنے کوٹے میں فری میں جنت لے جا سکتے ہیں، اور ہم پاکستانیوں کا تو ان پر خصوصی حق ہے کیونکہ جدید جنت کی مارکیٹنگ اور تعارف ہم شروع کرائی، پھر پہلے ان کے غوری غزنوی ابدالی ہماری مرضی کے بغیر ہمیں مسلمان بنانے آتے تھے اور اب ہم ان کی مرضی پوچھے، بغیر چالیس سال ہوئے ان کو مسلمان بنانے میں دانے درمے سخنے جان کھپا رہے ہیں۔ لیکن ایک بات ہے اگر وہ ہمیں ساتھ جنت لے گئے تو یہ باہمی جہاد وہاں بھی شروع ہو جائے گا اور وہ ختم ہی نہیں ہوگا کیونکہ قیامت تو گزر چکی ہو گی۔

اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے مومن کی فراست سے ڈرو، لیکن ملا عمر کی قیادت میں افغانستان میں ’دین پھیلانے‘ کے لئے جو طالبان اور استادان گئے تھے وہ سیاست کو جانتے تھے نہ اقتصاد کو، جغرافیہ سے باخبر تھے نہ تاریخ سے، سفارت کی نزاکتوں سے سروکار تھا نہ بین الاقوامی اصولوں کو درخور اعتنا سمجھتے تھے۔ جوتے تو وہ پہنتے نہیں تھے اس لئے جوتے کی نوک پر رکھنے کی بجائے وہ انسانی حقوق کو بندوق کی نال پر رکھتے تھے۔ کمپیوٹر سکرین ٹی وی سمجھ کر توڑا تو فٹ بال کھیلنے والے مہمان کھلاڑیوں کو اس جرم میں گنجا کیا کہ نیکر پہن کر کھیل رہے تھے۔

تعلقات، دل، شہر، سکول، مزار اور یہاں تک کہ اس بدھا کو بھی سلامت نہیں چھوڑا جس کو ’بت شکن‘ غزنوی نے بھی معاف کیا تھا۔ اگر وہ تاریخ کے بارے میں جانتے تو وہ ان کے ہاں مہمان بنے ایمن الظواہری سے پوچھ سکتے تھے کہ قاہرہ میں سب سے بڑے چوک کا نام رعمسیس کیوں ہے؟ اور مصر فرعونوں کی کمائی (سیاحت سے) کھانے کو کیوں جائز سمجھتا ہے؟ شاید وہ نہیں جانتے تھے کہ فرعون دریا برد ہو کر نابود ہو چکا ہے لیکن سامری آج بھی زندہ ہے، وہ کسی کہانی میں نہیں مرتا ایک دربار میں شکست کھا کر غائب ہوجاتا ہے تو دوسرے دربار میں نیا سوانگ رچا کر آ جاتا ہے۔

کابل جلال آباد اور مزار شریف کی گلیوں میں عورتوں، چیک پوسٹوں پر ان سے الگ فیشن کے افغانوں، محلے میں ان سے مختلف مذہبی عقیدے رکھنے والی اقلیتوں پر تشدد کرنے والے طالبان، سامری کہتا ہے، بدل گئے ہیں۔ وہ اب کہتے ہیں کہ عورتیں دفاتر سکولوں اور ہسپتالوں میں کام کر سکتی ہیں۔ اقلیتوں کی تقریبات میں جانا اور منانا بالکل جائز ہے۔ داڑھی رکھنا مرد کا ذاتی فیصلہ ہے۔ پہلے وہ پٹرول پمپ سے گاڑی میں تیل ڈلواتے وقت ٹنکی میں نوزل داخل کرتے تو اس پر کپڑا ڈالتے کیونکہ ٹنکی میں نوزل داخل کرنے سے گندا خیال آ سکتا ہے پھر گاڑی میں باپردہ عورتیں بھی یہ بے شرمی دیکھ سکتی تھیں، لیکن اب کہتے ہیں، عورتیں برقع نہ پہنے بس اسلامی حجاب کرے۔ اب معلوم نہیں وہ پہلے والے استاذان غلط تھے یا آج کے؟ کیونکہ اگر پہلے والے استاذان غلط تھے تو ان کے کارناموں سے برات کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ افغانوں سے ان پر کیے گئے مظالم پر معافی مانگنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں تو پھر موسیٰ کی کہانی میں صرف فرعون مرتا ہے سامری کی موت کی تصدیق کبھی نہیں ہوئی۔

امید زندگی ہے اور انسان روزانہ سیکھتا ہے پھر طالبان کا تو مطلب ہے سیکھنے والے۔ اس لئے اگر وہ سیکھ گئے ہیں تو خوش آئند ہے، ثابت کریں۔ لیکن لاہور میں پیدا ہونے والے محمود غزنوی کب بدلیں گے جو رنجیت سنگھ کے مجسمے تک کو برداشت نہیں کر سکتے؟ جو بامیان کے ہزار سالہ چوکیدار بدھا کو تباہ کرنے والوں کا پیروکار بن کر ’جہاد‘ پر نکل پڑنے پر تیار بیٹھے ہیں۔ ان طالبان کا کیسے راستہ روکو گے، جو کابل اور قندھار میں عورتوں پر تشدد کرنے والوں کی طرح عورت کو لاہور کے پارک اور بازار میں برداشت نہیں کر سکتے؟

کیا تاریخ کا پہیہ پھر واپس گھومنے والا ہے؟ کابل میں اپنے ہم خیالوں سے شہ پاکر کیا یہاں کے خوابیدہ مجاہد بھی ذہنی نمو پا رہے ہیں؟ طالبان تبدیل ہوئے ہوں یا نہیں، ہمیں تبدیل ہونے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ کہانیوں میں فرعون مرتے ہیں سامری نہیں، سامری کو مارنا ممکن نہ ہو تو نشاندہی ضرور کی جانی چاہیے ورنہ پائیڈ پائپر کی طلسماتی بانسری کے ذریعے کوئی سامری کسی دن ہماری نوجوان نسل کو بھی کسی تاریک غار میں بلا سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words