ٹرک کی بتی اور عمران خان کی حکومت


پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا قیام 25 اپریل 1996 میں لاہور میں ہوا تھا، جس کی بنیاد پارٹی کے چیئرمین عمران احمد خان نیازی نے رکھی

تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے کے بعد عمران خان نے کہا میں نے دنیا دیکھی ہے
میں کپتان رہا ہوں
میں فائٹر ہوں زندگی میں سب کچھ اچیو کیا ہے میں سب جانتا ہوں
اس لئے میں نے ایک سیاسی پارٹی بنائی ہے ہے ملک کی تقدیر بدل دوں گا عوام کو شعور دوں گا

2008 تک تحریک انصاف بنیادی طور پر ایک شخص کی جماعت سمجھی جاتی تھی، جس میں پارٹی کے ترجمان بھی عمران خان ہی تھے۔

اس وقت عمران خان کہتے تھے پہلے کبھی الیکٹ نہیں ہوا اس لیے چیزوں کا علم نہیں تھا پانچ سال اسمبلی میں بیٹھ کر سب کچھ جان گیا ہوں

عمران خان ورلڈ کپ فاتح ٹیم کے کپتان اور معروف شخصیت ہونے کی حقیقت کے باوجود ان کی جماعت ابتداء میں سیاسی پیروکار جمع نہ کر سکی۔

پی ٹی آئی کے حامیوں کی زیادہ تر تعداد شہری علاقوں سے تعلق رکھتی ہے، جو اس جماعت کو ملک میں تبدیلی کا نشان سمجھتی تھی

2011 کے بعد جنرل شجاع پاشا نے پی ٹی آئی میں ایک نئی روح پھونک دی اور مختلف پارٹیوں سے بندے توڑ کر پی ٹی آئی میں لائے گے جس کا ذکر پرویز الہی نے بھی کیا کہ ہماری پارٹی سے بندے توڑ کر پی ٹی آئی میں شامل کیے گئے پی ٹی آئی ایک سیاسی قوت بن کر ابھری، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے شاہ محمود قریشی، پاکستان مسلم لیگ (ف) سے جہانگیر خان ترین اور دیگر اہم رہنماؤں نے اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی، اس کے علاوہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں ان کی بھی ایک بڑی تعداد تھی جنہیں سیاسی حلقوں میں کوئی نہیں جانتا تھا، ان میں سر فہرست نام اینگرو کے سابق سی ای او اسد عمر کا جن کو پی ٹی آئی کا دماغ بھی کہا جاتا تھا جو پاکستان کے ناکام ترین وزیر خزانہ رہے۔

ایک مضبوط الیکشن مہم کے باوجود پی ٹی آئی 2013 کے انتخابات میں مرکز میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی،

عمران خان کہتے ہیں کہ سیاست مجھے پہلے سمجھ نہیں تھی کامیاب جلسے کر کے اب میں جان گیا ہوں کہ سیاست کیسے کی جاتی ہے شکر ہے ہمیں ابھی حکومت نہیں ملی ہے اب ہماری اور تیاری ہو جائے گی

2014 میں جنرل ظہیر نے عمران خان کو تبدیلی کا خواب دکھایا اور عمران خان نے اس وقت کی منتخب حکومت کے خلاف جلسے جلوس کیے ملک بند کیا دھرنے دیے بل جلائے اور سول نافرمانی کی تحریک چلائی اور کہا کہ ہمیں حکومت دی جائے تاکہ ہم ملک کو نیا پاکستان بنائیں اور عوام کے لیے خوشحالی لائیں

تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں اکثریت حاصل کی اور جماعت اسلامی سے اتحاد کر کے صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی

خیبر پختونخوا میں پانچ سال حکومت کرنے کے بعد 2018 کے الیکشن سے پہلے ایک ٹی وی وی ٹاک شو میں خان صاحب یہ فرماتے ہیں کہ ہمیں زیادہ تجربہ نہیں تھا اس لئے ہم کوئی خاطر خواہ کام خیبرپختونخوا میں نہیں کر سکے اب 2018 کے الیکشن کے بعد ہم مکمل تیاری کے ساتھ پاکستان اور خیبرپختونخوا میں کام کریں گے اور ترقی ہوتی نظر آئیے گی

عمران خان پر امید تھے کہ انہیں 2018 کے الیکشن کے بعد حکومت مل جائے گی کیونکہ اس وقت کے آئی ایس پی آر کے ڈی جی آصف غفور صاحب نے اعلان کیا تھا کہ دو ہزار اٹھارہ تبدیلی کا سال ہے

پھر 2018 کے الیکشن کے بعد عمران خان کی تبدیلی آئی اور نیا پاکستان بن گیا تو خان صاحب نے کہا شکر ہے 2013 میں حکومت نہیں ملی اب ہماری تیاری ہو گئی ہے تیاری کی بنیاد پر ملک کو ترقی دیں گے

جب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 18 اگست کو وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا تو پوری قوم کی پر امید نظریں ان پر مرکوز تھیں۔ اور آصف غفور صاحب نے بھی کہا کہ کہ میڈیا 6 مہینے تک مثبت خبریں دے۔

سنہ 2013 سے لے کر سنہ 2018 کے الیکشن ہونے تک، ان پانچ سالوں میں عمران خان اور ان کی جماعت نے جہاں ایک جانب ماضی کے حکمرانوں پر سخت ترین تنقید کے تیر برسائے، تو وہیں ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی جماعت کو اس حیثیت میں پیش کیا جو برسر اقتدار آتے ہی صرف 90 دن میں ملک کے حالات ’تبدیل‘ کر دے گی۔

اس کے بعد گزشتہ 3 سال میں اس حکومت نے جتنی ٹرک کی بتیاں عوام کو دکھائی ہیں اتنی شاید گزشتہ 70 برسوں میں کسی اور حکومت نے نہ دکھائی ہوں

خارجہ پالیسی کی کامیابی کی بتی
وزیراعظم ہاؤس کی کی بھینسیں اور پرانی گاڑیاں بیچ کر سادگی اور کفایت شعاری مہم کی بتی
انڈا کٹا مرغی پال اسکیم کی بتی
کرپشن پر کریک ڈاؤن کی بتی

پاکستان تحریک انصاف کے ممبر اسمبلی خود یہ بات ٹی وی پر بیٹھ کر مان چکے ہیں کہ اب کرپشن بڑھ چکی ہے ہمارے علاقے میں پولیس پٹواری کا ریٹ پہلے سے بڑھ گیا ہے

ادویات آٹا چینی پٹرول میں جس طرح پاکستانی عوام کو ان وزیروں مشیروں نے لوٹا ہے وہ پوری پاکستانی عوام اپنی آنکھوں سے دیکھا

ایسے ظالم لوگوں کو وزیر صحت بنایا گیا جنہوں نے انڈیا سے غیر معیاری اور ایکسپائر ڈیٹ ادویات منگوا کر عوام کو کھلا دی صرف اپنے فائدے اور جیب بھرنے کے لیے

کورونا کے دوران جب پاکستانی عوام بے روزگار تھی تو اس مافیا نے آٹا چینی بشمول کھانے پینے والی چیزوں کی بلیک مارکیٹنگ کر کے عوام کو لوٹا*

ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے شجر کاری مہم کی بتی

بلین ٹری منصوبے کے حوالے سے بہت بڑی کرپشن سامنے آ چکی ہے جس پر عدالت نے نوٹس لیا اور معزز چیف جسٹس نے یہ بھی کہہ دیا کہ ہمیں تو کہیں بلین ٹری نظر نہیں آ رہے

جب سے حکومت بنی ہے عوام کو ہر مہینے دو مہینے بعد ایک نئی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے

اگست میں جب وزیراعظم نے حلف اٹھایا تو اگست اور ستمبر کا مہینے ہم نے اس ٹرک کی بتی میں گزارا کے 200 ارب ڈالر ہمارا سوئس بینکوں میں پڑا ہے اور وہ واپس آنے والا ہے 100 ارب ڈالر جن کا قرضہ دینا ہے ان کے منہ پر مارے اور 100 ارب ڈالر عوام پر لگے گا ملک میں خوشحالی ہو جائے گی

پھر ستمبر اکتوبر میں ٹاسک فورسز بننا شروع ہو گئی

پولیس اصلاحات بنے گی کوئی تین درجن ٹاسک فورسز بنائیں اور دو ماہ ہم نے ٹاسک فورسز کی بتی میں گزار دیے

نومبر دسمبر میں نیا پاکستان اسکیم آئی تھی 50 لاکھ گھر بننے ہیں
پھر دسمبر جنوری میں مرغی اور انڈے کی اسکیمیں آنا شروع ہو گئیں

پھر فروری میں سعودی عرب اور یو اے ای سے شہزادے آرہے تھے ایک شہزادے نے کہا ہم نے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنی ہے پاکستان کی قسمت بدلنے والی تھی پھر پتا نہیں کیا ہوا نہیں بدلی

پھر مارچ اور اپریل ہم نے اس میں گزارے کے ہمارے پاس تیل نکل آئے گا گیس نکل آئے گی نوکریوں کی بارش ہو جائے گی پھر عمران خان صاحب نے کہا کہ گیس کہیں لیک نہ ہو جائے۔ پھر جب خان صاحب نے چیک کیا تو گیس واقع ہی لیک ہو گئی جس پر مراد سعید نے بھی کہا کہ ہاں گیس لیک ہو گئی۔

جو کہتے تھے قرضہ لیا تو خودکشی کر لوں گے پھر انہوں نے جون جولائی میں فیصلہ کیا کہ معیشت ہم سے نہیں چلتی معیشت آئی ایم ایف کے حوالے کردو

عموماً پاکستان میں سال میں دو فصلیں ہوتی ہے لیکن خان صاحب نے ایک نیا فارمولا بتایا کہ سال کے بارہ موسم ہے اور ہم ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس نئی ٹرک کی بتی سے عوام بڑی حیران اور پریشان تھی۔

عمران خان کی جانب سے اقتدار میں آنے سے پہلے اعلیٰ حکومتی شخصیات کی مبینہ شاہ خرچیوں کا تذکرہ اکثر کرتے اور اس کو ملک کی ابتر معاشی صورتحال سے جڑتے تھے۔

حکومت میں آنے کے بعد انھوں نے کفایت شعاری کے تحت وزیراعظم ہاؤس میں نہ رہنے کو ترجیح دی بلکہ بنی گالہ سے اپنے دفتر آنے کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال شروع کیا

عوام نے اسے غیر ضروری خرچہ قرار دیا تو وزیراطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں اس میں وضاحت کی تو بات مزید بگڑ گئی بلکہ لوگوں کے لیے تفریح کا باعث بن گئی کیونکہ مذکورہ وزیر کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کے اس سفر پر ’خرچ 50 سے 55 روپے فی کلومیٹر آتا ہے

یعنی 55 روپے کلومیٹر والی ٹرک بتی

عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی غیر ملکی دورہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے حوالے سے ہو سکتا تھا تاہم انھوں نے اعلان کیا کہ وہ چھ ماہ تک غیر ملکی دورے نہیں کریں گے اور ان کی توجہ ملکی مسائل کو سمجھنے پر ہے۔

تاہم ان کا یہ اعلان بھی دیگر اعلانات کی طرح یو ٹرن کا شکار ہو گیا

عمران خان نے وزارت اعظمی کا منصب سنبھالنے کے چند ہفتوں بعد پہلے سرکاری دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا جس پر زیادہ تنقید تو نہیں ہوئی لیکن ان کو سعودی عرب لیے جانے والی سرکاری جہاز کی خوب تشہیر ہوئی اور عمران خان پر پھر یوٹرن لینے کا الزام لگا۔

عمران خان کی جانب سے عام انتخابات سے پہلے بھی اعلان کیا گیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد چاروں صوبوں کے گورنر ہاؤسز اور وزیراعظم ہاؤس کو عوام کے لیے کھول دیں گے اور ان پرتعیش عمارتوں کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔

لیکن وہاں پر وزیر مشیر اور گورنر صاحب پارٹیاں کرتے ہوئے اور کشتی میں بیٹھے ہوئے انجوائے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں وہی شاہ خرچیاں پاکستانی غریب عوام کے پیسے پر ایک بزرگ بندہ عیاشیاں کر رہا ہے جس کا نام چودھری سرور ہے پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں یہی حال ہے

اقتدار میں آنے سے پہلے تحریک انصاف کے سربراہ پولیس اصلاحات کی بہت بات کرتے تھے

لیکن تحریک انصاف کے مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے کے کچھ دنوں بعد ہی پنجاب کے جنوبی ضلع پاکپتن کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر رضوان گوندل کے تبادلے پر تنازع پیدا ہوا اور بات بڑھتے بڑھتے سپریم کورٹ تک جا پہنچی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیتے ہوئے بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا کی بیٹی سے پولیس اہلکاروں کی مبینہ بدتمیزی اور پولیس حکام کے تبادلوں میں سیاسی مداخلت کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی اور بعد میں وزیر اعلٰیٰ عثمان بزدار سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور غیر مشروط معافی مانگی اور عدالت کو یہ بھی کہنا پڑا کہ سوال تو یہ ہے کہ کیا وزیر اعلیٰ پنجاب اس بات پر نا اہل ہو سکتے ہیں؟

ابھی یہ معاملہ عدالت عظمی میں ہی تھا کہ پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن کے چیئرمین ناصر درانی نے استعفیٰ دے

اسی دوران حکومت نے آئی جی پنجاب طاہر خان کو تقرری کے کچھ عرصے بعد ہی تبدیل کر کے امجد جاوید سلیمی کو پنجاب پولیس کا نیا آئی جی تعینات کیا تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئی جی پنجاب پولیس کے تبادلے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا لیکن ضمنی انتخابات کے بعد امجد جاوید سلیمی کو ہی آئی جی مقرر کیا گیا۔

ابھی یہ معاملہ ٹھنڈا نہیں پڑا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کے تبادلے کے زبانی احکامات کا تنازع اٹھ کھڑا ہوا اور اس معاملے نے سپریم کورٹ کی توجہ حاصل کی اور چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے احکامات کو منسوخ کر دیا اور ساتھ میں ان کی جانب سے یہ ریمارکس بھی دیے گئے کہ

یہ ہے وہ نیا پاکستان جس کے دعوے موجودہ حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے کر رہی تھی ’

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی وزیر اعظم سواتی کا کام نہ کرنے اور ان کا فون نہ سننے کی وجہ سے آئی جی اسلام آباد جان محمد کو تبدیل کر دیا تھا۔

پولیس میں اصلاحات کرنے کی بجائے پولیس میں سیاسی مداخلت جاری ہے پانچ آئی جی صرف دو سال اور چند ماہ کے قلیل عرصہ میں بدلے جا چکے ہیں اور ایک متنازعہ شخصیت عمر شیخ کو مخالف سیاسی جماعتوں کو پکڑنے کا ٹارگٹ دے کر سی سی پی او لاہور لگا دیا گیا تھا

اب ان کو بھی تبدیل کر کے غلام محمود ڈوگر سے یہ کام لیا جا رہا ہے

2019 میں خان صاحب کہتے ہیں کہ پچھلے ایک سال میں ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے اب مجھے پتا چلا ہے کہ حکومت کیسے کرتے ہیں

وزیروں مشیروں کے مشورے کے بعد خان صاحب نے بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں کے کرپٹ لوگ ہیں لیکن ہم بڑے ایماندار ہیں

جب خان صاحب سے کچھ بھی نہ ہوا تو خان صاحب نے وزیروں مشیروں اور ترجمانوں کو یہ کہا کہ زیادہ سے زیادہ عوام کو یہ بتائیں کہ پچھلی حکومتیں لوٹ کر لے گئی ہیں عوام کو اسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھو اور وقت گزارو

اسی دوران عمران خان نے شہد کی مکھیوں سے شہد حاصل کر کے معیشت کو بہتر بنانے کے فارمولے کی ایک اور ٹرک کی بتی کے پیچھے عوام کو لگا دیا میانوالی کے قریب جنگل سے سے کوئی چالیس کے قریب درخت کاٹ کر خان صاحب کے لیے ہیلی پیڈ بنایا گیا عمران خان صاحب وہاں پر گئے اور اعلان کیا گیا یہاں پر ہم بیری کے درخت لگائیں گے اور ان میں شہد کی مکھیاں چھوڑیں گے اور پھر جب وہاں سے شہد حاصل ہوگا تو ملک کی معیشت بہتر ہو جائے گی یعنی کہ ایک اور ٹرک کی بتی

پھر 2020 شروع ہو گیا اور خان صاحب کہتے ہیں دو سالوں میں ہم نے مسائل کو سمجھا ہے آب مسائل کا بھی پتہ چل گیا ہے

اب ہم جان گئے ہیں کہ ملک کو کیسے چلایا جائے گا

پھر ملک میں کورونا آ گیا اور کورونا وزیروں مشیروں کے لئے چاند رات ثابت ہوا انھوں نے کورونا کی آڑ میں عوام کو خوب لوٹا

کوئی وزیر آٹا بلیک کر رہا ہے کوئی چینی

کوئی ادویات کمپنیوں سے کیک بیک لے رہا ہے اور کبھی انڈیا سے غیر معیاری اور ایکسپائری ڈیٹ ادویات منگوا کر عوام کو کھلا رہا ہے کوئی پٹرول کی بلیک مارکیٹنگ کر کے عوام سے دوگنی قیمت وصول کر رہا ہے ‏عوام سے 300 ارب روپے کا فراڈ ہوا۔ پیٹرولیم کمیشن نے رپورٹ پبلک کر دی۔ ایمان داروں نے پیٹرول کے جہاز بیچ سمندر کھڑے کر کے پیٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کی سب کچھ عمران خان کے شجر سایہ کے نیچے عمران خان کے وزیروں مشیروں نے کیا*

عمران خان کی تبدیلی اور نیا پاکستان بننے کو 3 سال گزر گئے ہیں
خان صاحب کہتے ہیں کسی کو بھی تیاری کے بغیر حکومت میں نہیں آنا چاہیے
گزشتہ 3 سال میں صرف اور صرف ٹرک کی بتیاں چلی ہیں
جبکہ عام آدمی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مہنگائی اور بیروزگاری دیکھتا ہے
عام آدمی آپ کو بتا دے گا کے میری تنخواہ میں گزارہ بمشکل ہو رہا ہے
اس پر خان صاحب کہتے ہیں پھر میں کیا کروں
آئی ایم ایف نے 74 سال میں کسی ملک کی معیشت کو استحکام نہیں بخشا
یہ ان کا مینڈیٹ نہیں ہے
معیشت کو ہماری حکومت نے ٹھیک کرنا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے بتایا کے 2019 ء میں پبلک سیکٹر انٹر پرائزز میں 1300 ارب کا نقصان ہے آج وہ نقصان 2100 ارب پر پہنچ گیا ہے

آپ خوراک کی قیمتیں جب تک کم نہیں کریں گے۔
جب تک شرح سود کم نہیں کریں گے نہ کاروبار چلے گا نہ عام آدمی کی زندگی بہتر ہو گئی۔۔

پاکستان میں گزشتہ حکومت کے دوران اٹھنے والی سونامی کی لہر یعنی تحریک انصاف کو اب حکومت میں آئے 3 مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں کئی ایسے اعلانات اور بیانات سامنے آئے جو کہ نہ صرف متنازع رہے بلکہ ان پر حکومت کو موقف تبدیل بھی کرنا پڑا۔۔

بلکہ حکومت کی جانب سے پالیسیوں پر مستقل مزاجی نہ ہونے کی وجہ سے جب تنقید بڑھی تو وزیراعظم عمران خان کو یہاں تک کہنا پڑا کہ حالات کے مطابق یوٹرن لینے والا ہی کامیاب لیڈر ہوتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان یہ کہتے ہیں کہ وہ 22 برس تک پاکستان اور اس کے مسائل کے بارے میں سوچتے رہے تو انھوں نے کچھ تو سوچا ہو گا لیکن اس حوالے سے پالیسیاں سامنے نہیں آئی ہیں۔۔

عمران خان نے ابھی تک اپنی پالیسی کو واضح نہیں کیا۔۔

موجودہ حکومت کی جانب سے کوئی واضح سمت نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں وزیراعظم ان احساسات کا اظہار کیا ہے کہ ان کے پاس آگے بڑھنے کا کیا لائحہ عمل ہے۔

کیونکہ خان صاحب کو ابھی تک کسی بات کی سمجھ ہی نہیں لگی جس کا اظہار انہوں نے چند دن پہلے کیا ہے اسی وجہ سے عمران خان کی سونامی اب بدنامی بنتی جا رہی ہے۔

2020 بھی 2019 کی طرح عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر گزار دیا گیا۔ 2020 نوکریوں کا سال تھا تھا لیکن لیکن 70 لاکھ بے روزگار ہو گئے۔

ڈالر 160 سے اوپر کا انڈا 30 کا چینی 110 کی آٹا 75 کا ایسے ہی نہیں ہوتا اس کے لیے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا پڑتا ہے جو کام عمران خان بخوبی کر رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words