ہمارے ہیں حسینؓ

واقعہ کربلا حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا۔ جہاں دو مختلف نظریات، منشور اور سوچوں کے درمیان فرق ظاہر ہونا تھا۔ کربلا میں مختلف افواج، لشکروں، قبائل یا طبقات کے درمیان محض ایک جنگ نہیں تھی بلکہ دین محمدی کی بقاء اور حفاظت کے لیے وفاؤں، صبر اور آزمائش کا امتحان تھا۔ کربلا میں اللہ کے دین کو دوام حاصل ہونے یا اس کے خاتمے اور بگاڑ کی ابتداء ہونا تھا۔

گو کہ یزید بھی صحابی کا بیٹا تھا اور مسلمانوں کا ہی حکمران تھا لیکن وہ ہوس اقتدار اور طلب دنیا کی بھوک اور لالچ میں مبتلا تھا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے آفاقی دین کو اپنی منشاء کے مطابق ڈھالنے اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے حدود اللہ سمیت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعلیمات و احکامات میں ترامیم کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا جس سے بگاڑ کی ابتداء شروع ہوئی۔

یزید کے انداز حکمرانی اور دین کو حکومت کے تابع کرنے جیسے عزائم کو تقریباً سارے صحابہ کرام ہی بھانپ چکے تھے کئی اکابرین نے تحاریر و تقاریر کے ذریعے لوگوں کی آگاہی کا بیڑا بھی اٹھایا تاکہ رسول عربی کا سکھایا ہوا دین اپنی اصل حالت میں قائم رہے اور تاقیامت اس کی برکات سے لوگوں کے قلوب اذہان منور ہوتے رہیں۔

حضرت امام حسینؓ چونکہ نواسہ رسول اور آغوش رسالت میں پرورش پانے والے پاک و نیک سیرت انسان تھے اس لیے جتنا وہ دین محمدی کو سمجھتے اتنا کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکتا تھا اور اپنے نانا کے دین کی بقاء اور سربلندی کی ذمہ داری امام پاک جتنا اپنے اوپر عائد کرتے اتنا کسی دوسرے کو اس کی حفاظت کا ذمہ دار نہ ٹھہراتے۔ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیشہ اپنی امت کے لیے متفکر رہتے اسی طرح امام پاک بھی اپنے نانا کی امت تک اصل حالت میں دین کی منتقلی کو اپنا نصب العین جانتے۔ خود تو وہ نوجوانان جنت کے سردار تھے لیکن نانا کی امت کو جہنم سے بچانے اور راہ ہدایت پر گامزن کرنے کو اپنا مشن جانتے۔

اس لیے ایک ظالم جابر حکمران اور بگڑے ہوئے نوجوان کے مقابلے کے لیے امام پاک کا انداز دیگر اصحاب سے مختلف تھا۔ آپ خاندان نبوت کے چشم و چراغ ہونے کی وجہ سے امت کے سربراہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ یزید جانتا تھا جیسے تیسے ممکن ہو حضرت امام حسینؓ کی حمایت حاصل کر کے اپنے اقتدار کو تحفظ و طوالت فراہم کر سکتا ہے۔ لیکن حضرت امام حسینؓ نے فرمایا مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت کیسے کر سکتا ہے۔ خاندان نبوت کا لاڈلا جنت کا مکین عارضی اقتدار کے نشے میں دھت ایک آوارہ کے ہاتھ میں اپنا مقدس دست بیعت کیسے دے سکتا ہے۔

اس لیے حضرت امام حسینؓ نے دین کی سربلندی اور بقاء کے لیے ظالم و جابر کو خلیفہ ماننے سے انکار کیا۔ جس کی پاداش میں امام پاک اور ان کے خاندان پر تاریخ انسانی کے سخت ترین ظلم ڈھائے گئے۔ ایسے ظلم کی داستان رقم کی گئی جس کی اس سے قبل یا بعد تاریخ انسانی میں مثال نہیں ملتی۔ نبوی خاندان کی مقدس خواتین اور پاک و معصوم بچوں کا بد ترین استحصال کیا گیا تاکہ جابر حاکم وقت کے سامنے سینہ سپر ہونے والوں کا انجام دنیا دیکھے۔

لیکن اللہ بڑی حکمتوں والا ہے وہ ہی اس کائنات اور تمام جہانوں کا بادشاہ ہے۔ اسی کو دوام حاصل ہے۔ جن کے لیے اللہ تعالٰی نے یہ کارخانہ قدرت تخلیق کیا یہ جہان رنگ و بو معطر کیے ان کو ہمیشگی دینا بھی اسی رب کا کمال ہے۔ یزید کا اقتدار تو صرف چند برس ہی رہا لیکن زمانہ اب بھی حسینؓ کا ہے اور صدیاں حسین کی ہیں۔ زندگی حسین کو ملی اور ہمیشگی بھی حسین کے حصے میں آئی۔

حضرت حسینؓ تمام انسانوں کے لیے عزت، آزادی اور کامیابی کا نشان ہیں۔ حسین پاک نے عظیم قربانی پیش کر کے دین اسلام کو رہتی دنیا تک محفوظ کر لیا اور سچائی اور بہادری کا ایک ایسا فلسفہ بیان کیا جو ہمیشہ مشعل راہ ہے۔

آج پوری دنیا میں یزید کا کوئی بھی نام لیوا نہیں۔ سب حسینی ہیں۔ صرف مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی حضرت امام حسین سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہر مذہب اور طبقہ کے پیروکار کہتے ہیں ”ہمارے ہیں حسین“ ۔

اس میں کوئی شک نہیں حسین ہمارے ہیں لیکن آج کے مسلمان اپنے حالات و واقعات اور معاملات کا جائزہ لے کر یہ بھی بتائیں کہ کیا وہ حسین کے بھی ہیں؟ جس امت کے لیے حسین پاک نے اپنا سب کچھ قربان کیا کیا وہ امت فلسفہ حسینی پر کاربند بھی ہے؟ کیا ہم کردار کے حسینی ہیں؟ کیا ہم روز قیامت نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بتا سکیں گے کہ ہم نے آپ کے نواسہ سے کتنی وفا کی؟ کیا ہم ان کی قربانی کے احسان مند رہے؟ کیا ہم نے دین نبوی کی سربلندی کے لیے حسینی تعلیمات پر عمل کیا؟

قارئین کرام! انتہائی افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ ہم سب خود کو حسینی کہہ کر فلسفہ حسینی کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ہمارے کردار، اعمال، معاملات، سوچ اور فہم حسینی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ افسوس! حسین تو ہمارے ہیں لیکن ہم حسین والے بن کر نہ دکھا سکے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی زندگیوں میں حضرت امام حسین کی تعلیمات کا عملی مظاہرہ پیش کیا جائے۔ جس سے محبت کی جاتی ہے اس کی طرح بنا بھی جاتا ہے۔ حسین کی طرح صبر، ایثار، برداشت، تدبر اور قناعت کو بھی اپنایا جائے۔ معاشرتی، سیاسی، علمی، گروہی اور اجتماعی معاملات حسین کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ڈھالنے چاہیں۔ تب جا کر ہم حسینی ہوں گے اور حسینؓ ہمارے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words