ماہ محرم، چودہ اگست، مینار پاکستان اور عائشہ اکرم

بہت عرصہ پہلے کسی ہندوستانی شاعرہ کی ایک نثری نظم پڑھی۔

میں آدھی رات کو اکیلی گھر جا رہی تھی
میں نے دیکھا کہ سامنے باگھ ہے
میں نہیں ڈری
چند قدم بعد میں نے دیکھا
سامنے مرد ہے
میں ڈر گئی

یہ نظم ذہن سے چپک کر رہ گئی۔ ہر بار جب وطن عزیز میں کسی بچی کی عصمت دری ہوتی ہے اور پھر سنگدلی سے اسے قتل کر دیا جاتا ہے، کسی لڑکی سے اجتماعی زیادتی ہوتی ہے اور اسی کو قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے، اس کے لباس، اس کے اکیلے باہر جانے کے سبب؛ یا کسی عورت کو اس کے بھائیوں، بچوں، شوہر کر سامنے بھنبھوڑ ڈالا جاتا ہے تو یہ نظم یاد آتی ہے۔ مرد، عورت کے لیے باگھ جیسے درندے سے بڑھ کر خطرناک ثابت ہوا ہے۔ عورتوں نے جن تجربات کی مدد سے اس دنیا کے بارے میں ایک تصور قائم کیا ہے، ان میں مردوں کی چیرہ دستیاں سب سے نمایاں ہیں۔ مردوں کے قصوں میں آمروں کے مظالم کا جو کردار ہے، وہی کردار عورتوں کی کہانیوں میں مردوں کا رہا ہے۔ کسی ایک عورت کو تلاش کرنا مشکل ہے جس کی زندگی میں کسی نہ کسی مرد کی طرف سے، اس کی شخصی نجی حدود کو پامال کرنے کا واقعہ شامل نہ ہو۔ یہ الگ بات کہ وہ اسے ظاہر نہ کرے۔ بلاشبہ سب مرد ایک جیسے نہیں، لیکن عورتوں کے ساتھ جتنے المناک واقعات ہوئے ہیں، ان کے ذمہ دار اسی سماج کے مرد ہیں۔ مرد کو بھولنے میں دیر نہیں لگتی کہ اسے ایک عورت نے جنم دیا ہے یا خو داس کے نطفے سے ایک عورت کا جنم ہوا ہے۔ ایک بڑا مسئلہ مرد کی یادداشت کا ہے۔ وہ ”دوسری عورت“ کو دیکھ کر بھول جاتا ہے کہ کچھ عورتیں اس سے بھی وابستہ ہیں۔

ماہ محرم کے پہلے عشرے، چودہ اگست اور مینار پاکستان کے عین سائے میں عائشہ اکرم کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہم پر منکشف کرتا ہے کہ چار سو سے زائد مرد مل کر ایک عورت کے ساتھ درندگی کی کس انتہا کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ درندگی کا لفظ، مردوں کے اس فعل کو ٹھیک ٹھیک بیان نہیں کر سکتا، اس لیے کہ درندے اپنے ہم جنسوں کے ساتھ اس دہشت انگیز سلوک کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ یوں بھی یہ ہم ہیں جنھوں نے جانوروں کے اعمال کو نام دے رکھے ہیں۔ وہ اپنی جبلتوں سے وفاداری کرتے ہیں مگر ہم انسانوں نے شعور، ارادے، علم سے، دوسروں کی زندگیوں کو جہنم بنانے کے نظریے اور طریقے ایجاد کر لیے ہیں۔ عورتوں کی عصمت دری کا جنسی جبلت سے اتنا تعلق نہیں جتنا عورت سے متعلق ذہنی تصورات سے ہے۔

جس جگہ اکیاسی برس پہلے، اسلام کے نام پر ایک جدا وطن حاصل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا، اس کی یاد میں بنائے جانے والے عظیم الشان مینار کے نیچے، ایک لڑکی سبز ہلالی پرچم کا مکمل لباس پہنے، اس ملک میں ایک آزاد شہری ہونے کے احساس کے ساتھ، اسی ملک کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ویڈیو بنانے آتی ہے۔ آزادی کا جشن مناتے نوجوان لڑکے، کچھ بچے بھی (اس پر حیرت ہے کہ ختم نہیں ہوتی!)، اس کے ساتھ پہلے سیلفیاں لیتے ہیں، پھر رفتہ رفتہ، کہانیوں کے کسی دیو کی مانند مانس گندھ محسوس کر کے، اس کی انتہائی نجی حدود کو روندنے لگتے ہیں۔ جسم ہر آدمی کی انتہائی نجی حد ہے، اس میں کسی شخص کو مداخلت کا حق نہیں۔ لیکن یہ مرد ہیں۔ باگھ سے بھی خطرناک، اور پھر آزادی کا جشن، آزادی کے اپنے ”مردانہ تصور“ کے ساتھ منانے آئے ہیں۔ انھیں دیکھیں تو لگتا ہے کہ انھیں کسی قانون کی پروا ہے نہ کسی اخلاقی قدر کی۔ ایک آمر مطلق بھی کسی قاعدے قانون کو توڑتے ہوئے ایک لمحے کو سوچتا ہو گا مگر یہ ہجوم آمرانہ اختیار سے بھی بڑھ کر اختیار کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ایک مکمل انسانی وجود کو ایک شے کی مانند اچھال رہا ہے اور اس احساس سے یکسر عاری ہے کہ سرعام برہنگی کی ذلت کیا ہوتی ہے اور ایک بے بس انسانی جسم سے بے ہودگی کے سرعام، اجتماعی مظاہرے سے اس کی روح کس ناقابل بیان کرب سے گزرتی ہے۔ ایک عورت کو قتل کرنے کے بعد اس کے سر کو فٹ بال کی طرح پاؤں کی ٹھوکر پر رکھنے اور ایک ہجوم کے ایک ننگے نسوانی جسم کو گیند کی مانند اچھالنے میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ اسی واقعے کے ساتھ ہی رنجیت سنگھ کے مجسمے کو نعرہ لگا کر گرانے کے واقعے کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔

مرد کی جنسی نفسیات، جب ہجوم کی نفسیات سے آمیز ہوتی ہے تو وہی کچھ ہوتا ہے، جو عائشہ اکرم کے ساتھ، ڈھائی گھنٹے تک ہوتا رہا۔ جنسی نفسیات اور ہجوم کی نفسیات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ دونوں میں وہ طاقت قدر مشترک ہے جو ہر ضابطے کو روند ڈالنے میں لمحہ بھر تامل نہیں کرتی۔

یہ سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ سیکڑوں مردوں میں، کیوں کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا، جس نے اس بے لباس عورت کو نوچنے والوں کے ہاتھوں کو روکنے کی کوشش کی ہو؟ اس ہجوم کو برا بھلا کہا ہو۔ ون فائیو پر بار بار کال کی ہو۔ کاہل پولیس کو شرم دلانے کی کوشش کی ہو۔ ارد گرد کے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے چیخ پکار کی ہو۔ وہاں موجود لوگوں پر ہجوم کا ڈر غالب تھا یا وہ ایک انسان کی بدترین تذلیل، جس میں جان بھی خطرے میں تھی، کو محسوس کرنے ہی سے عاری ہو گئے تھے؟ وہ انتہائی خوفزدہ تھے، سنگ دلی کی حد تک بے حس تھے یا تماشائی بن کر لذت یاب ہو رہے تھے۔ ایک نوجوان اپنے موبائل کے سامنے کے کیمرے سے اس واقعے کو فلما رہا ہے، اس کے دیکھنے سے لگتا ہے کہ اکثر تماشائی بن کر اس سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

یہ ہجوم ایک مظلوم انسان اور ظالم گروہ میں تقسیم تھا۔ عائشہ نے ایک انٹرویو میں یہ خوفناک انکشاف کیا ہے کہ جو اسے بچانے کے لیے (بہ ظاہر) آئے، وہ اس کے جسم سے کھیلنے لگے۔ ایک سماج کے لیے اس سے زیادہ خوفناک بات کیا ہو سکتی ہے کہ کمزور کا ساتھ دینے و الا اس جگہ کوئی نہ ہو جہاں اس پر ظلم ہو رہا ہو۔ ماہ محرم میں، جب ہم مظلومین کربلا کی یاد میں پوری سچائی کے ساتھ آنسو بہاتے ہیں اور ان عظیم ہستیوں کی یاد میں لکھے گئے اشعار کی داد دیتے ہیں کہ: ”حسین تم نہیں رہے، تمھارا گھر نہیں رہا / مگر تمھارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا“، ایسے میں یہ حقیقت ہم سب کو اپنی روح تک شرمسار کرتی ہے۔ ہمارے قول اور عمل میں فاصلہ کئی نوری برس کا ہے۔ ایک ایف آئی آر اور ہماری یہ باتیں، عائشہ کے جسم اور روح کے زخموں کا مداوا نہیں کر سکتیں۔ اس ہجوم میں شامل چند لوگوں کو تھوڑی بہت سزا (وہ بھی اس وقت ملے گی جب میڈیا شور مچائے گا) مل بھی جائے تو جس ذلت اور کرب سے عائشہ گزری ہے، اور اس واقعے کے جو نفسیاتی اثرات سب خواتین پر ہوں گے، ان کا چارہ کہاں ہے؟ یہ سوال ہمیں بار بار اٹھانا چاہیے۔ کیا ہم ہر واقعے کے بعد بس چند جملے لکھ کر، اگلے کسی واقعے کے منتظر رہیں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words