ڈوبتا بلوچستان
آپ کچھ لوگوں کو ہر وقت اور تمام لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بے وقوف بنا سکتے ہیں، لیکن آپ تمام لوگوں کو ہر وقت بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ ابراہم لنکن۔
گزشتہ روز وزیراعلی بلوچستان جام کمال اور ان کی میڈیا ٹیم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بڑے فخر سے کوئٹہ میں نئے تعمیر کیے گئے 6 کلومیٹر روڈ کی تصویریں دیکھی۔ جس کے نیچے ابھرتا بلوچستان کا فریب نما جملہ لکھا ہوا تھا ( حالانکہ اس روڈ کی فیزبیلٹی رپورٹ پچھلی حکومت کے آخری ایام میں بن چکی تھی) ۔ کاش کتنا اچھا ہوتا کہ جام کمال تھوڑا سا حقیقت سے کام لیتے اور دنیا کو تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھاتے۔ اگر روڈوں کی تعمیر کا موازنہ کیا جائے تو 2013 سے 2017 تک اس وقت کے پی اینڈ ڈی وزیر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ڈاکٹر حامد خان اچکزئی کے روڈز ڈویلپمنٹ کے پروجیکٹس کا آدھا بھی جام حکومت نے نہیں بنایا ہے۔
جام کمال کے اس ڈھونگ نما نعرے کی پوسٹ مارٹم کے لیے ڈوبتے ہوئے بلوچستان کے حقائق سے پردہ اٹھانا کافی ہوگا۔
جام کمال کی ابھرتے ہوئے بلوچستان میں بدانتظامی کی انتہا یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس نا اہل حکومت کے ترقیاتی فنڈز کے استعمال نہ کرنے کی وجہ سے تین سالوں میں 100 ارب روپے لیپس ہوئے۔ نقصان کس کا ہوا۔ ڈوبتے ہوئے بلوچستان کے عوام کا۔ ابھرتے ہوئے بلوچستان کے معمار جام کمال کو سازشوں، خوشامدی، باپ پارٹی کے اندر اقتدار کے لئے باہمی رسہ کشی اور اتحادیوں کے بلیک میلنگ سے فرصت ملے تو اس نا اہلی پر بھی تھوڑا سا توجہ دے۔
2020، 21 کے بجٹ میں ٹوٹل چالیس 40 ڈیپارٹمنٹس کے لیے پیسے رکھے گئے۔ اب یہاں جام صاحب اور اس کی کابینہ کی نا اہلی دیکھے ان 40 میں سے 19 ڈیپارٹمنٹس کے لئے ٹوٹل بجٹ کا صرف 67۔ 6 فیصد رکھا گیا ان میں منرل ڈیپارٹمنٹ کے لئے 79۔ 0 فیصد، عورتوں کی ترقی کے لیے 35۔ 0 فیصد، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے لئے 52۔ 0 فیصد رکھے گئے۔ حالانکہ یہ ڈیپارٹمنٹس معاشرتی ترقی کے لئے زینہ کا کام دیتی ہے۔ بدقسمتی سے اس بجٹ کا 60 فیصد کنکریٹ ڈویلپمنٹ کے لیے رکھے گئے ہیں جہاں پر سب کی مٹھی گرم ہوتی ہے۔
بلوچستان میں تعلیمی ابتری تمام ملک سے بدتر ہے۔ اساتذہ کی کمی، سکولوں کی قلت اور سکولوں میں بنیادی سہولیات کے فقدان کے ساتھ ساتھ صوبے میں لٹریسی ریٹ ملک کا کم ترین یعنی 45 فیصد ہے۔ جام کمال کا اپنا ضلع لسبیلہ جہاں سے اس کے والد اور دادا وزیراعلی تھے اور جہاں یہ خاندان 70 سالوں سے اس صوبے کے فنڈز اور انتظامیہ کو کنٹرول کرتے رہے ہیں وہاں کا لٹریسی ریٹ 37 فیصد ہے۔ اب جام صاحب کو کون سمجھا ہے کہ قومیں خیالی پلاؤ اور دھوکے کے نعروں سے نہیں بنتی۔ اور ابھرتا بلوچستان کا کھوکھلا نعرہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔
تباہ حال بلوچستان کے تباہ شدہ صحت کا نظام ابھرتے بلوچستان کے نعرے لگانے والوں کے منہ پر تمانچہ ہے۔ ہسپتالوں کی کمی، وہاں سہولیات کا فقدان اپنی جگہ، دوسری طرف صوبے 3000 افراد کے لئے صرف ایک ڈاکٹر موجود ہے۔ 52 فیصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں
زچگی کے دوران شرح اموات 98 / 100000 ہے جو کہ ملک میں سب سے زیادہ ہیں اور ہمارا وزیراعلی صاحب ڈرامہ باز نعروں سے جی بھلانے کی کوششوں میں مگن ہے۔
بیروزگاری، مہنگائی، کرپشن، اقربا پروری، بدانتظامی نے زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ صوبے میں بیروزگاری کی شرح 09۔ 4 فیصد ہے جو کہ ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ 25000 طلبا ہر سال گریجویشن کرتے ہیں ان میں سے صرف 2000 کو جاب ملتی ہیں۔ مزید براں 71 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ڈاکٹر حفیظ پاشا کے بقول بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں فی کس آمدنی بڑھنے کی بجائے ہو رہی ہیں۔ تباہی کے دہانے پر کھڑا بلوچستان بقول جام کمال کے چکمے کے ساتھ ابھر رہا ہے۔
بنیادی سہولیات سے محروم صوبے کے معاشرتی اشاریے مزید دل رلانے والے ہیں۔ صوبے کی 85 فیصد آبادی کو صاف پانی میسر نہیں نہیں۔ سی پیک کے جھومر گوادر میں ایک ٹینکر پانی 15000 روپے میں مل رہا ہے۔ گوادر کے ساتھ ساتھ دوسرے علاقوں میں شدید ترین گرمی میں لوگ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت کی وجہ سے روڈز بند کر کے روزانہ احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔
نیپرا کے مطابق صوبے کے 2 / 3 گھروں بجلی کی سہولت نہیں۔ دوسری طرف ماحولیاتی تبدیلی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے جس سے پانی کی کمی، اور درجہ حرارت میں اضافہ سے صوبے کی زراعت کو جس پر صوبے کی اکثریت کا دار و مدار ہے، شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے اقدامات ندارد۔ جبکہ وزیراعلی صاحب کو فریبی نعروں سے فرصت نہیں۔
وفاق سے حقوق کے حوالے سے جام صاحب کے اقدامات اور کوشش نہ ہونے کے برابر۔ کاش کہ وزیراعلی صاحب خیالی نعروں اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی بجائے وفاق سے بلوچستان کے جائز حقوق کے لئے بھرپور مقدمہ لڑتے۔ وفاق کی ستم ظریفی یہ ہے کہ ان زیر کنٹرول 255 فیڈرل کارپوریشنز، جس کا
سالانہ بجٹ 1000 ارب سے 1200 روپے ہیں، اس میں بلوچستان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ اٹھارہویں ترمیم کی منظوری بعد آرٹیکل ( 3 ) 172 کے تحت صوبوں کو ان کے وسائل میں 50 فیصد کوٹہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن افسوس اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ کیا جام صاحب اس سلسلے میں اپنی خاموشی کے بارے میں بتانا پسند کریں گے؟ یا ابھرتے بلوچستان کے دھوکے باز نعرے میں انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اپنی توانائیاں خرچ کرے گے۔
روڈوں کی تعمیر اپنی جگہ تسلیم۔ لیکن صحت، روزگار، تعلیم، پانی، اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات بلوچستان جیسے صوبے کے لیے سب چیزوں پر مقدم ہے۔ بدقسمتی سے صوبائی حکومت اس جانب توجہ دینے میں ناکام یو چکی ہے۔ 21 ویں صدی اور سوشل میڈیا کے اس جدید دور میں فریب زدہ نعروں سے لوگوں کو شاید ہی زیادہ دیر ٹرخایا جاسکے۔ جام کمال کے بچگانہ اور دغا والے اشتہارات سے لوگوں کے آنکھوں میں عارضی طور پر دھول شاید ڈالا جا سکے۔ لیکن اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے یہ حربے ان کے زیادہ کام آنے والے نہیں۔


