مینار پاکستان کے سائے میں ”مردانہ طاقت“ کا مظاہرہ

14 اگست کو گریٹر اقبال پارک میں مینار پاکستان کے سائے میں اکیلی لڑکی کے ساتھ ہونے والی اجتماعی دست درازی اور بد ترین سلوک قابل شرم نہیں یہ تو ہمارے معاشرے کا اصل چہرہ ہے۔ شرم و حیا اور اخلاقیات کا تصور تو انسانوں کے معاشرے میں ہوتا ہے۔ حیوان ان خصوصیات سے محروم ہوتے ہیں۔ چار سو درندے تھے جو ایک نہتی لڑکی کے سامنے اپنی ”مردانہ طاقت“ کا مظاہرہ کر رہے تھے۔

ان درندوں کی حمایت میں کئی خود ساختہ دانشور سامنے آ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس لڑکی کو اتنے رش میں جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ کیا اسے علم نہیں تھا کہ لا تعداد بھیڑیے جشن آزادی منانے نکلے ہوئے ہیں مگر یہ دلیل دیتے ہوئے وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ سیالکوٹ موٹر وے ریپ کیس میں یہی ”دانشور“ کہہ چکے ہیں کہ اس عورت کو سنسان سڑک پر سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ یعنی عورت نہ رش میں جائے نہ خالی جگہوں پر جائے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ عورت اکیلی قبر میں نہ لیٹے تو آخر کیا طریقہ اختیار کرے کہ بے حرمتی سے بچ جائے کیوں کہ یہی درندے عورت کو قبر سے نکال کر بھی اس کا ریپ کرتے ہیں۔

پاک سر زمین کے صالحین یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں عورت کو جتنا تحفظ حاصل ہے وہ کسی معاشرے میں نہیں۔ یہاں عورت کو ماں، بہن، بیٹی سمجھا جاتا ہے۔ بے حد احترام دیا جاتا ہے۔ شاید ان کے نزدیک یہی احترام کا طریقہ ہے کہ کسی لڑکی کے جسم کو اس کی مرضی کے خلاف بار بار چھوا جائے، گھسیٹا جائے، ہوا میں اچھالا جائے اور اس کے جسم پر کپڑے کی ایک دھجی بھی باقی نہ چھوڑی جائے۔ واقعی یہاں کے مرد بہت باحیا اور غیرت مند ہیں اور ان کے مقابلے میں مغرب کے مرد بہت بے غیرت اور بے حیا ہیں وہاں آدھی رات کو مختصر لباس پہنے نائٹ کلبوں سے نکلنے والی لڑکیوں کا کوئی ”احترام“ نہیں کرتا اور وہ ”بے توجہی“ کا شکار ہو کر چپ چاپ اپنے گھر چلی جاتی ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ارباب اختیار بھی اسی نظریے کے حامی ہیں اسی لیے تین گھنٹے تک نہ کوئی پولیس اہلکار آیا نہ کسی گارڈ نے مداخلت کی کوشش کی۔ نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ لڑکی عائشہ ہی قصوروار ہے۔ اسے علم ہونا چاہیے کہ اس معاشرے میں عورت مال غنیمت اور کٹی پتنگ کی طرح ہے جسے کوئی بھی لوٹ سکتا ہے۔ نام نہاد مرد صرف اپنی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی ہی کو کسی حد تک قابل عزت سمجھتے ہیں باقی تمام عورتیں کٹی پتنگ ہیں جسے لوٹنے کے لیے چھینا جھپٹی سے بھی دریغ نہیں کرتے جبکہ انہی کے ہم خیال اسی طرح کے خیالات ان کے گھر کی عورتوں کے بارے میں رکھتے ہیں۔

عائشہ نے فرض کر لیا تھا کہ وہ انسان ہے اور اسے بھی جشن آزادی منانے کی آزادی حاصل ہے۔ اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ وہ اپنی پسند کے کپڑے پہن سکتی ہے، ویڈیو بنا سکتی ہے، کسی پارک میں جا سکتی ہے اسے خبر ہی نہیں تھی کہ وہ جس معاشرے کی فرد ہے وہاں وہ صرف ایک سیکس اوبجیکٹ ہے، ایک شے ہے اور کچھ نہیں۔ اگر وہ سوشل میڈیا یا ٹک ٹاک کے لئے ویڈیو بنانے گئی تھی تو اس سے کسی انسان نما بھیڑیے کو یہ حق حاصل نہیں ہو جاتا کہ وہ اس کی مرضی کے بغیر اسے چھوئے۔

مینار پاکستان ایک یادگار ہے۔ ایک آزاد وطن کے حصول کی قرارداد کی نشانی ہے۔ آزادی تو حاصل ہوئی مگر یہ آزادی فرسٹریشن کے مارے ہوئے ان حیوانوں کو ہی ملی جو ہجوم کی شکل میں کسی مشال خان کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں کسی مندر، کسی چرچ کو آگ لگا دیتے ہیں، ہسپتالوں پر حملے کرتے ہیں، گاڑیوں پر ڈنڈے برساتے ہیں، سڑکوں پر توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔

کمزور کا معاشرے میں نہ کوئی مقام ہے نہ عزت۔ کمزور طبقے کو تحفظ دینا قانون اور حکومت کا فرض ہے مگر افسوس کہ کمزور طبقات چوہتر برسوں سے پستے چلے آ رہے ہیں۔ عورت ان میں کمزور ترین ہے لہٰذا سب سے زیادہ زور اسی پر چلتا ہے۔ جس معاشرے میں پابندیاں ہی پابندیاں ہوں، اظہار پر قدغن ہو، تفریح کو گناہ سمجھا جاتا ہو وہاں جنسی گھٹن اور فرسٹریشن کے شکار حیوان ہی پیدا ہوتے ہیں۔ حیوان یہ ادراک نہیں رکھتے کہ معاشرہ کیا ہوتا ہے، سماج کسے کہتے ہیں، اعلیٰ انسانی اقدار کیا ہوتی ہیں، انسانیت اور اخلاقیات کیا ہے، انسانوں کے معاشرے میں کمزور اور طاقتور برابر ہوتے ہیں۔ صنفی اختلاف کی بنیاد پر کسی سے امتیازی سلوک نہیں ہوتا۔ جب کہ جنگل میں طاقت کا قانون چلتا ہے۔ طاقت ور درندہ کمزور کو چیر پھاڑ ڈالتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ جنگلی معاشرے میں حیوان اپنی ”مردانہ طاقت“ کا اظہار اسی طرح کیا کرتے ہیں جیسا مینار پاکستان کے سائے میں کیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words