شرمندگی و درد سے عبارت یوم آزادی

کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ہم اخلاقی گراوٹ کے اس درجہ تک پہنچ جائیں گے، تعلیم و ہنر میں دنیا سے صدیوں پیچھے چلنے والی قوم اخلاق و تہذیب میں بھی پستیوں کی اتھاہ گہرائیوں تک پہنچ جائے گی کبھی سوچا نہ تھا۔ جنسی درندگی اور کمینگی سے بھرپور پے در پے واقعات معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفسیاتی بیماری کی انتہا کی جانب مسلسل اشارہ کر رہے ہیں بلکہ چیخ چیخ کر توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے مگر معاشرے کی بے حسی، اخلاقی دیوالیہ پن اور ارباب اختیار کی ان معاملات سے نمٹنے میں نا اہلی اس طرح کے واقعات میں بڑھاوے کا ایک بڑا سبب بن رہے ہیں۔

زینب قتل کیس سے لے کر موٹر وے گینگ ریپ، موٹر وے پر ہی گاڑی میں پیٹرول ختم ہو جانے پر اپنے ننھے بچوں کے سامنے آبرو گنوا بیٹھنے والی خاتون اور پھر مینار پاکستان پر عین یوم آزادی والے دن نوے ہزار لوگوں کی موجودگی میں ایک بے بس لڑکی کے ساتھ سیکڑوں لوگوں کے ہجوم کی انتہا درجے کی بدتمیزی اعلان ہے اس بات کا کہ مرض اتنا بڑھ چکا ہے کہ اگر فوری علاج نہ کیا گیا تو وہ دن بھی دیکھنا پڑ سکتے ہیں کہ یہ جنسی جنون زدہ بھیڑیے لوگوں کے گھروں میں گھس جائیں اور وہی سب کچھ آپ کی بہن بیٹیوں کے ساتھ کریں جو آج انہوں نے گریٹر اقبال پارک میں عائشہ کے ساتھ کیا۔

اگر آج اس ناسور کو نہ کاٹا گیا تو یہاں کسی کی بھی عزت و آبرو محفوظ نہیں رہ سکے گی۔ سرعام کئی ہزار لوگ محض اس کوشش میں مصروف رہے کہ ظلم کا شکار بے بس و بے سہارا لڑکی کو برہنہ ہوتے دیکھ سکیں، اس کی مووی بنا سکیں اور اگر موقع مل جائے تو اس کے جسم کے کسی حصہ کو چھو بھی لیں۔ یہ سب کیا ہے، یہ درندگی و وحشی پن تو شیطان اور اس کے چیلوں کو بھی شرمائے دے رہا ہے اور شدید ترین ذہنی پسماندگی اور اخلاقی پھکڑ پن کو ظاہر کر رہا ہے۔

یہ ظلم کے نظرانداز کیے جانے کی بدترین مثال ہے، ظلم کے معاشرے میں پنپنے اور جزو زندگی بن جانے کی علامت ہے جو بلاشبہ بہت ہی خطرناک ہے، ذرا تصور کیجئے ایک نہتی مظلوم لڑکی جان بچانے کے لئے بھاگ رہی ہے اور شیطان کی اولادوں کا جم غفیر اس کا پیچھا کر رہا ہے، کوشش صرف یہ ہے کہ اس لڑکی کے ساتھ کچھ لمحے محض کچھ لمحے شیطانی و نفسانی جذبے کی تسکین کی جاسکے۔ کس قدر گھٹیا اور کمینگی کی بات ہے مگر ہے حقیقت کیوں کے ہزاروں لوگوں کے سامنے یہ سب کچھ ہوا جان بچاتی لڑکی نے لوگوں سے مدد مانگی جو نہ مل سکی، پولیس کو کال ملائی جو نہ آ سکی، آخر جب بچنے کے لئے آہنی جنگلے کے پیچھے پناہ لینا چاہی تو جنسی وحشت کا شکار لوگوں نے وہ آہنی جنگلہ اور آہنی گیٹ ہی توڑ ڈالا،

ہر ایک اولاد شیطان کے سر پر بس ایک ہی سودا سوار تھا کہ بس کسی طرح اس لڑکی تک پہنچا جا سکے۔ یہ ایک بہت ہی حساس بات کی جانب اشارہ کر رہا ہے کہ پورا کا پورا ہجوم گھٹیا ترین لوگوں پر مشتمل تھا ورنہ کچھ لوگ بچانے والے بھی ہو سکتے تھے یہ بھی کمینگی و وحشی رویوں کے معاشرے میں بڑے پیمانے پر موجود ہونے اور پنپنے کو ظاہر کرتا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ ڈھائی سے تین گھنٹے تک یہ گھناؤنا کھیل جاری رہا، نہ لوگوں نے روکا نہ پولیس آئی اور ذہنی مریضوں نے وہ کچھ کر ہی لیا جو وہ چاہ رہے تھے، لڑکی کو برہنہ بھی کیا گیا بے عزت بھی کیا گیا، یعنی جو جو کمینگی کی جا سکتی تھی وہ سب کی گئی۔

نہ زمین پھٹی نہ آسمان گرا بس ایک مظلوم حوا کی بیٹی پر قیامت ڈھائی جاتی رہی۔ آخر یہ سب کچھ کب تک اور کیوں کر ہوتا رہے گا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک اس طرح کے عناصر کو قرار واقعی سزا نہیں دی جائے گی، بلکہ انہیں نشان عبرت نہیں بنایا جائے گا، یہی ہوتا رہے گا۔ لوگوں اور اداروں کو اب مصلحت اندیشی اور مصلحت کوشی کا دامن چھوڑ کر حقیقی معنوں میں عملی اقدامات کرنا ہوں گے، زمانہ کیا کہے گا، دنیا کیا سوچے گی کی بندش اتار پھینکنا ہوگی۔

ان ہی مصلحتوں نے ان درندہ صفت لوگوں کے حوصلہ کو بڑھایا ہے اور آج یہ وقت آن پہنچا ہے کہ سرعام ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں شیطانی کھیل کھیلا گیا اور بہت دیر تک کھیلا گیا، جس کا مطلب ہے کہ کسی کو بھی جلدی نہ تھی جرم کرنے والوں کو یقین تھا کہ کوئی ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا، کوئی بھی مدد کو نہیں آئے گا، یہ شیطان کی پاٹھ شالہ ہے یہاں ایک ہی قانون چلتا ہے اور وہ ہے شیطان کا قانون۔

حکومت وقت اور ذیلی اداروں کو ان معاملات پر فوری توجہ دینا چاہیے، اور اس طرح کی بے راہ روی کی روک تھام اور سزاؤں کا زبردست اطلاق کیا جانا چاہیے، تاکہ کچھ تو حالات قابو میں آئیں ساتھ ساتھ والدین کو بھی اپنے بچوں پر سخت نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہر قسم کے حوادث کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words