میرے درد کو جو زباں ملے

فیض صاحب کی یہ نظم جب بھی پڑھیں ایک نئی امید جگاتی ملتی ہے۔ اور یہ سبق دیتی بھی کہ اپنے درد کو زباں دے کر ہی اس درد کا کوئی علاج تلاش کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اس درد کو زباں دینا ہی تو اصل معرکہ ہے۔ کئی درد بس دل کے نہاں خانوں میں دبے رہتے ہیں وہاں ہی گل سڑ کر ناسور بن جاتے ہیں۔

میری تحریرات کو پڑھنے والے قارئین جانتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ انسان کی بات کی ہے کبھی مرد بلیم گیم اور عورت کارڈ نہیں کھیلا۔ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہا مرد عورت کی تخصیص نہیں کی۔ ابھی چودہ اگست کو مینار پاکستان پر ہونے والا واقعہ ہر ”انسان“ کی طرح میرا دل بھی دہلا گیا۔ اتنا درد اتنی تکلیف ہے کہ کچھ بھی کہنے سے کچھ بھی لکھنے سے یہ درد کم نہ ہو گا۔ پہلے بھی اس طرح کے انفرادی سطح پر بہت واقعات رونما ہوتے رہے اور ہم اپنے دل کو تسلی دیتے رہے کہ ہزاروں لاکھوں مردوں میں یہ چند افراد ہی ان حرکات میں ملوث ہیں۔ باقی تو عورت کو تحفظ دینے والے ہیں اس کی عزت کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ لیکن اس واقعہ نے جیسے آنکھوں پر پڑے سارے پردے اتار دیے۔ کہیں پڑھی ہوئی وہ بات یاد آ گئی کہ یہاں شریف وہی ہے جسے موقعہ نہیں ملا۔ ان چارسو مردودں یہ مرد نہ پڑھا جائے مردہ پڑھیں یا مردود پڑھیں خدارا!

ان کو بھی ایک عورت موقع لگی بس۔

ان کو اپنے گھر میں بیٹھی کوئی عورت ذات یاد نہ آئی کسی ایک بھی عزیز کا چہرہ ان کی آنکھوں کے سامنے نہ آیا۔ اتنے بے قابو، نفس کے ہاتھوں مجبور تو کتے سور بھی نہیں ہوتے جتنے یہ نام نہاد اشرف المخلوقات ہو گے۔ وہ عورت نیک تھی یا بد اس کا فتوی دینے والے آپ کون ہوتے ہیں۔ آپ کو کس نے کسی کے تقوی اور پرہیزگاری کا معیار جانچنے پر مقرر کیا تھا؟ آپ کون ہوتے ہیں کسی کے گناہ کی سزا دینے والے؟ یہ کام خدا کا ہے کسی انسان کا نہیں۔

ان چار سو جانوروں کے ہجوم میں کوئی ایک بھی انسان کیوں نہ تھا کیوں ڈھائی گھنٹے تک کسی انسان کی اس قدر تذلیل برداشت کرتے رہے کیوں کسی نے مقامی پولیس کو اطلاع نہ دی۔ کیوں کسی نے ان بے شرموں کو شرم اور غیرت کا سبق نہ پڑھایا۔ ان کو نہ محرم کا مقدس مہینہ یاد رہا نہ چودہ اگست کا وہ دن جب غیر مسلم کی غلامی سے آزاد ہوئے تھے کہ ایک مسلمان ملک میں اسلامی تعلیمات کا نفاذ کر کے رہیں گے۔ کیا چودہ اگست کو صرف ان جانوروں کو آزادی ملی تھی؟

یہ بھیڑیے آزاد ہوئے تھے جو جہاں کوئی بے بس بکری دیکھیں اس پر جھپٹ پڑیں۔ یہ چہرہ دکھایا اپنی ریاست مدینہ کا دوسرے ملکوں کو کہ یہ ہے اصل حقیقت ان مسلمان اور پاکستانی مردوں کی جو موقع ملنے پر اپنے ہی گھر کی عورت کو نوچ کھسوٹ ڈالتے ہیں۔ اصل دکھ اس شرمناک واقعہ کے بعد آنے والے ردعمل کا بھی رہا کہ جن بچاروں کو اس مفت کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع نہ ملا وہ اپنے گندے الفاظ سے اس بات کا مزا لے رہے کہ جی وہ تو تھی ہی ٹک ٹاکر۔ وہ کرنے کیا گئی تھی؟ اچھا ہوا ایسی بے حیاء عورت کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ یہ وہ بھیانک چہرہ ہے ہمارے معاشرے کا جس کے بارے میں سوچ کر دل اور فکر مند ہوا۔

ان سب بے ضمیر مرد عورتوں سے میرا صرف یہ سوال ہے کہ اگر کوئی انسان غلط کام کرتا ہو تو کیا دوسرے کو اس سے بھی غلط کام کر کے اسے دکھانا چاہیے۔ یہ جو پاکستانی عوام ٹک ٹاک کے اتنے خلاف ہے ان سے صرف یہ پوچھنا ہے کہ فحش عورتوں کے اتنے فالورز کہاں سے آتے ہیں؟ کون لوگ ہیں وہ جو ہر فحش اور غیر اخلاقی ویب سائٹس پر جانا ثواب سمجھتے ہیں؟ اگر وہ سب اتنے شریف ہیں تو پھر یہ فضول ٹک ٹاکرز یا کسی بھی سوشل میڈیا پر ایسے لوگ کامیاب کیوں ہیں؟

اس لیے کہ وہ یہ سب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسلامی چینلز کتنے لوگ فالو کرتے ہین اور غیر اخلاقی مواد کتنا شیئر ہوتا ہے یہ ہر کوئی جانتا ہے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے مورد الزام عورت کو ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ جہاں کا صاحب اقتدار مردوں کو یہ اختیار دے ریا ہو کہ بھئی جہاں عورت کو دیکھو اس پر جھپٹ پڑوں کیونکہ تم روبوٹ نہیں۔ کپڑوں کی چھوٹائی یا لمبائی عریانی یا فحاشی کا فیصلہ تو مرد کی نظر کرے گی۔

جس، مرد کو ڈائپر پہنے بچی بھی فحش لگتی ہو اس کا کیا جائے جسے کفن اوڑھے، منوں مٹی تلے سوئی عورت بھی بے حیاء اور اس کے جذبات بھڑکانے والی محسوس ہو۔ جو اسی سالہ بوڑھی عورت کے جھریوں زدہ جسم میں بھی کشش محسوس کر لے ایسے درندوں کو واقعی آپ انسان نہیں کہ سکتے صاحب اقتدار ان کو تو روبوٹ ہی کہا جا سکتا ہے وہ روبوٹ جس کی اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی جسے اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی اس میں جو پروگرام ڈاؤن لوڈ کر دیا جائے وہ اسی کے مطابق عمل کرتا ہے۔

تو یہ سب روبوٹ ہیں جنسی روبوٹس جن کے اندر صرف ایک ہی پروگرام فکس ہے کہ کسی بھی عورت کو دیکھ کر اس کو کھسوٹ لو۔ یہ وہی لوگ ہیں جن سے ان کی گھر کی عورتیں بھی محفوظ نہیں اپنے مقدس رشتوں کو پائمال کرنے والے جنگلی درندے۔ جو مرد اپنے گھر کی عورت کو انسان سمجھتا ہو اس کی عزت کرتا ہو وہ کبھی کسی غیر عورت کی اس طرح سے تذلیل نہیں کر سکتا۔ اس طرح کے کمنٹس کرنے والے اس واقعہ کو درست سمجھنے والے بھی دراصل وہی بدنما وجود ہیں جو کوئی ایسا موقعہ چاہتے ہیں۔ میری اللہ سے دعا ہے کہ وہ ان کے گھر کے عورتوں کو ایسے مردوں کے شر سے بچا کر رکھے۔ آمین

اور عائشہ اکرم میں تمہیں بالکل نہیں جانتی تمہاری بنائی کوئی وڈیو میری نظر سے کبھی نہیں گزری تم نیک ہو یا بد اس کا اختیار مجھ سمیت کسی کو بھی خدا نے نہیں دیا لیکن تمہارے ساتھ ظلم عظیم ہوا انسانیت سوز سلوک ہوا جو کسی بھی طرح جائز نہیں۔ کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس طرح کسی کو سنگسار کرے۔ میں تمہارا درد کم تو نہیں کر سکتی نہ بٹا سکتی ہو لیکن زبان دے سکتی تھی جو میں نے دی۔ اللہ تمہارے درد کو کم کرے اور تمہارے ساتھ یہ انسانیت سوز سلوک کرنے والوں کو ایسی عبرت کا نشان بنائے کہ دوبارہ کبھی کوئی ایسا کرنے کا سوچے بھی ناں۔

خدا سے ہی درخواست کر سکتے ہیں کیونکہ گورنمنٹ پولیس وزیر اعظم یہ سب تو انہی جانوروں کا حصہ ہے۔

لشکر شیطان کے نرغے میں جہاں ہے گھر گیا
بات مشکل ہو گئی قدرت دکھا اے میرے یار
نسل انساں سے مدد اب مانگنا بے کار ہے
اب ہماری ہے تری درگاہ میں یارب پکار

Comments - User is solely responsible for his/her words