وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اتفاق سے عورتوں کے دن پر ہونے والی کچھ ریلیوں کے بینر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جن میں سے کچھ کو پڑھ کر افسوس ہوا۔ کچھ کو پڑھ کر شرم محسوس ہوئی۔ کچھ کو پڑھ کر دُکھ ہوا اور کچھ تو اچھے خاصے مضحکہ خیز بھی لگے۔ میں خود بھی ایک عورت ہوں اور باقی عورتوں کو بھی ایک انسان سمجھتی ہوں اور اسی طرح مردوں کو بھی انسان ہی کی نظر سے دیکھتی ہوں اور انہیں بھی خاک کا پتلا ہی سمجھتی ہوں۔

اس لیے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ نہ سب عورتیں اچھی ہوتیں ہیں اور نہ سب مرد بُرے ہوتے ہیں۔ سب انسان ہوتے ہیں اچھائیوں اور برائیوں کا مجموعہ، خطا کار سب کمزور، سب اپنی زندگیوں میں غلطیاں بھی کرتے ہیں ان کو سُدھارتے بھی ہیں اُن سے سبق بھی سیکھتے ہیں۔ پھر عملی طور پر اگر ایک عورت کو اپنی ذاتی زندگی میں کوئی بہت نزدیکی رشتہ اچھا نہ ملے یا اُسے تکلیف پہنچائے تو وہ سارے مردوں کو اُسی نظر سے دیکھنا شروع کر دیتی ہے۔

Read more

آو جنگ کریں

شاید میرا یہ مشورہ طبع نازک پر گراں گزرے کہ کیسی احمق ہے جو امن کی بجائے جنگ کی بات کر رہی ہے جی میں بقائمی ہوش و حواس لکھ رہی ہوں کہ چلیں ہم سب مل کر جنگ کرتے ہیں۔ جنگ کیا ہے؟ اپنی اپنی بہترین قوتوں کا استعمال ہے ناں؟ اپنی سلطنت کی بقا کی لیے لڑئی جاتی ہے۔ اپنی قوم کے کمزوروں کی حفاظت کے لیے طاقتور ان کا دفاع کرتے اور ان کو دشمن سے بچاتے ہیں۔تو آیئں آج سے ہم بھی ایک نئی جنگ شروع کرتے ہیں۔ اگر ہم اتنے ہی طاقتور ہیں۔ اتنی ہمت رکھتے ہیں تو میں ان دونوں ملکوں سے کہتی ہوں

Read more