مسئلہ افغانستان: مساجد پر تالوں سے برقع پہننے کی پابندی تک

افغانستان تقریباً چالیس برسوں سے جنگ کے دائرے میں قید ہے۔ اب بہت ہی کم لوگوں کو یاد ہے کہ افغانستان میں مسائل کا آغاز کب، کیسے اور کیوں ہوا تھا؟ یہ سب کچھ پیسے، طاقت یا مذہب کی وجہ سے ہوا؟ اس سوال کا حتمی جواب تو کسی کے پاس نہیں ہے لیکن مختصر تاریخی وجوہات یہ ہیں۔

افغانستان میں مختلف قومیں آباد ہیں لیکن ان میں ایک چیز مشترک ہے۔ وہ ہے مذہب اور آزادی کی طلب۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال کا کڑیاں ساٹھ کی دہائی میں ظاہر شاہ حکومت سے جا کر ملتی ہیں، جن کا خواب افغانستان کو ایک جدید ریاست بنانا تھا۔ وہ دنیا کے لیے افغانستان کے دروازے کھولنا چاہتے تھے۔ ان کی اہلیہ ملکہ حمیرہ ایک ماڈرن خاتون تھیں۔ وہ پہلی خاتون تھیں، جنہوں نے دوپٹے یا پردے کے بغیر عوام کے سامنے آنے کا فیصلہ کیا اور ایسا کرنا اس سلامی ملک میں بہت سے لوگوں کے لیے ایک دھچکے سے کم نہیں تھا۔

ظاہر شاہ کو اقتدار کی طلب بھی تھی اور وہ اصلاحات پسند بھی تھے۔ سنہ 1964 میں انہوں نے آئین متعارف کروایا اور یہی وہ واحد آئین تھا، جو 1973ء تک نافذ العمل رہا۔ یہ سرد جنگ کا زمانہ تھا اور دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ ظاہر شاہ کی کوشش تھی کہ وہ اس دوران افغانستان کو ہر طرح سے نیوٹرل پوزیشن میں رکھیں۔ یہی وجہ تھی کہ افغانستان میں مغربی دنیا نے بھی سرمایہ کاری کرنا اور ڈیم بنانا شروع کیے اور سوویت یونین نے بھی پلوں اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے اپنا عملہ افغانستان بھیجنا شروع کر دیا۔ کابل ایشیا کا پیرس بننا چاہتا تھا اور ایک حوالے سے ایسا تھا بھی۔ کابل میں انگلش، فرانسیسی اور جرمن سکول کھلنے لگے۔ طلبا اور طالبات کی کلاسیں ایک ساتھ ہونے لگیں۔ دو سے تین سینما گھر تھے، کلب تھے اور شراب بھی تھی۔ کابل ایک ماڈرن شہر تھا، جہاں ریستوران بھی تھے اور جاز میوزک بھی۔ انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل میں شہر کا بہترین کلب تھا، جہاں راتیں جاگتی تھیں۔ یورپی نوجوان ایران سے ہوتے ہوئے افغانستان پہنچتے تھے اور پاکستان سے ہوتے ہوئے بھارت تک جاتے تھے۔

لیکن یہ صورتحال صرف کابل تک محدود تھی۔ افغانستان کی اسی فیصد آبادی دور دراز شہروں اور دیہات میں آباد تھی۔ ان کے لیے افغانستان بالکل دوسرا تھا۔ عوام غریب تھے، تعلیم بالکل نہیں تھی اور خواتین کا کردار روایتی تھا۔ یہاں تک کہ شادی کے لیے خواتین کو خریدا جاتا تھا۔ پیسہ، ترقی اور اقتدار افغانستان کے صرف چالیس خاندانوں تک ہی محدود تھا۔ یہ ایلیٹ کلاس تھی، جسے پتا ہی نہیں تھا کہ دیہات کے رہنے والوں کا کیا حال ہے؟ یہ ایک امیر اقلیت تھی، جو اصلاحات کی حامی تھی لیکن غریب اکثریت کے لیے ہر تبدیلی ایک نئی چیز تھی، اکثریت کے لیے مذہب اہم تھا۔ مقامی مذہبی رہنما نہ تو جمہوریت اور نہ ہی خواتین کے حقوق سے متفق تھے۔ یہی نظریہ قریہ قریہ پھیل رہا تھا کہ حکومتی ایلیٹ کو عوام کی پرواہ نہیں ہے۔

افغان ایلیٹ اور نظریات کی جنگ کا آغاز

گلبدین حکمت یار اس وقت کابل یونیورسٹی کے شعبہ انجنیئرنگ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اس وقت کابل یونیورسٹی میں کمیونسٹ آئیڈیالوجی عروج پر تھی اور یونیورسٹی میں کمیونسٹ طلبہ اور پروفیسروں کا عروج تھا۔ سوویت یونین صرف پل اور سڑکیں ہی تعمیر نہیں کر رہا تھا بلکہ وہ افغان فوج کے افسروں کو بھی تربیت فراہم کر رہا تھا۔ کابل یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کو وظائف دیے جاتے تھے اور سوویت یونین کے اداروں میں بلایا جاتا تھا۔ جو طلبہ واپس آ رہے تھے، وہ نئے خیالات بھی اپنے ساتھ لا رہے تھے۔ ساٹھ کی دہائی کے آخر میں دنیا بھر میں طلبہ تنظیمیں نظریات کا تبادلہ کر رہی تھیں۔ یورپ میں بھی طلبہ سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے اور یہ تحریک کابل تک بھی پہنچی۔ لینن کے نظریات اسپین، یورپی دارالحکومتوں اور لاطینی امریکا تک پہنچ رہے تھے اور خواتین کے حقوق کی تحریک بھی۔

King Zahir Shah

کمیونسٹوں کا ایک نعرہ خواتین اور مردوں کے حقوق میں برابری کا بھی تھا۔ لیکن کابل میں یہ نعرہ صرف اس کلاس کی طرف سے لگایا جا رہا تھا، جس کے مالی حالات بہت اچھے تھے یا ان طلبہ کی طرف سے، جن کا تعلق امیر گھرانوں سے تھا۔ یہ روس یا پھر کیوبا کی طرح کے انقلاب کا خواب دیکھ رہے تھے۔ اصل میں افغان نوجوانوں کے لیے یہ ریئل کی بجائے ایک آئیڈیل سیاست تھی۔

کمیونسٹ آئیڈیالوجی مذہب کی نفی کر رہی تھی اور افغانوں کی بڑی تعداد مذہب کی حامی تھی۔ کابل یونیورسٹی کے نوجوان مذہب میں بھی تبدیلی کرنے اور اصلاحات کے نعرے لگاتے تھے، جو مذہبی رجحانات کے طلبہ کے لیے ناقابل قبول تھا۔

یہ کابل یونیورسٹی ہی تھی، جہاں پہلی مرتبہ ایک مقرر نے خدا کے وجود کا انکار کیا اور حکمت یار جیسے طلبہ نے کمیونسٹ آئیڈیالوجی کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ 1970 ء کے قریب کابل یونیورسٹی دو گروپوں میں جھڑپوں اور مظاہروں کا مرکز بن چکی تھی، یہ نظریاتی اور ثقافتی تنازعات کے مرکز میں تبدیل ہو رہی تھی۔ ایک طرف کمیونسٹ تھے اور دوسری طرف اسلام پسند۔ جس دن کمیونسٹ طلبہ کی کوئی ریلی نکلتی، اسی دن ان کے مقابلے میں حکمت یار کی تقریر بھی ہوتی۔

daoud khan

دوسری جانب دیہات کے لوگوں کے اپنے مسائل تھے۔ گزشتہ کئی برس سے قحط سالی چل رہی تھی اور ہزاروں لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء کی کمی کا سامنا تھا۔ ظاہر شاہ کو اس کی کم ہی پرواہ تھی، یہاں تک کہ اس حوالے سے ایک جرمن اخبار نے ایک تفصیلی آرٹیکل شائع کیا۔ ظاہر شاہ کی شہرت میں کمی ہوتی جا رہی تھی اور عوام کا غصہ ان کے خلاف بڑھتا جا رہا تھا۔

سیاسی عدم استحکام کا آغاز

جولائی 1973 میں ظاہر شاہ اٹلی کے دورے پر تھے کہ پیچھے سے سوویت یونین میں تربیت حاصل کرنے والے فوجیوں نے بغاوت کر دی۔ ظاہر شاہ کے کزن داؤد خان اقتدار میں آ گئے۔ بادشاہت کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک ری پبلک کا اعلان کیا گیا۔ داود خان کے ساتھ ہی کمیونسٹ پارٹی بھی اقتدار تک پہنچ گئی۔ سوویت یونین کی ریڈ آرمی نے بڑے ہتھیاروں سمیت جنگی طیارے بھی فراہم کرنا شروع کر دیے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کابل کی فضاوں میں ہوائی جہازوں کا شور بلند ہونا شروع ہوا۔ ظاہر شاہ کو جلاوطن کر دیا گیا۔

ظاہر شاہ کی بادشاہت کے خاتمے کے ساتھ ہی افغانستان میں سیاسی عدم استحکام کا ایک ایسا دور شروع ہوا، جو آج تک جاری ہے۔

noor muhammad tarakai

صدر داؤد خان نے اصلاحات کا اعلان کیا اور جاگیرداروں سے زمین واپس لے کر کسانوں میں تقسیم کرنے کا وعدہ کیا۔ یہ وہ دور تھا، جس میں افغان خواتین کو خود مختاری اور آزادی حاصل ہوئی۔ ٹی وی پر ایسے اشتہارات چلے، جن میں خواتین کو اپنی مرضی کے خلاف شادی یا منگنی کرنے سے انکار کرتے دکھایا گیا۔ یہ بتایا گیا کہ نوجوان خواتین کا مقصد صرف شادی کرنا نہیں بلکہ وہ کئی دیگر کام بھی کر سکتی ہیں۔ جب 1975ء میں خواتین کا پہلا عالمی دن منایا گیا تو اس کی گونج کابل میں بھی سنائی دی اور لڑکوں نے لڑکیوں کو پھول پیش کیے۔

تاہم داؤد خان ایک سخت گیر اور کسی حد تک مطلق العنان صدر ثابت ہوئے اور انہوں نے پاگل پن کی حد تک اسلام پسندوں یا مذہبی رجحانات رکھنے والوں کا پیچھا کیا۔ داود ہر حال میں حکمت یار کی اسلامی تحریک اور دیگر مذہبی رہنماؤں کو کچلنا چاہتے تھے۔ وہ افغان معاشرے میں کمیونسٹوں کے ساتھ مل کر خود کو انقلابی ثابت کرنا چاہتے تھے۔ داود خان نے افغانستان پر آہنی ہاتھوں سے حکومت کرنے کی کوشش کی۔ آئین معطل کر دیا گیا اور جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اسلام کا نعرہ لگانے والوں کی گرفتاریاں شروع ہوئیں اور گھر گھر چھاپے مارے جانے لگے۔ مذہبی رجحان رکھنے والے سینکڑوں افغان فرار ہو کر پاکستان آ گئے اور انہوں نے داود خان کے خلاف مزاحمت کی تیاری شروع کر دی۔ گلبدین حکمت یار نے پاکستان میں پناہ لیتے ہوئے افغانستان کی آزادی کا نعرہ بلند کیا۔ داؤد خان قوم پرست تھے اور پختونستان کا نعرہ بلند کر رہے تھے، ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے تھے، پاکستان کو خوف تھا کہ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد کہیں قبائلی علاقے بھی الگ نہ ہو جائیں۔ پاکستان نے حکمت یار کو مدد فراہم کرنا شروع کر دی۔

hafizullah amin

داود خان پانچ سال سے بھی کم عرصہ اقتدار میں رہے لیکن انہوں نے اس دوران طاقتور دشمن پیدا کر لیے تھے۔ پہلے جاگیردار، پھر مذہبی رہنما اور آخر میں سوویت یونین کے رہنماؤں کو بھی ناراض کر لیا۔ سوویت یونین کے ساتھ اختلافات اتنے بڑھے کہ انہوں نے 1977 ء میں سوویت یونین کے دورے کے دوران ہی سفارتی تعلقات توڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ واپسی پر کابل میں داود خان نے کئی ان کمیونسٹ لیڈروں کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے، جنہوں نے انہیں اقتدار میں آنے کے لیے مدد فراہم کی تھی۔ انہی لیڈروں میں سے ایک جیل میں ہلاک ہوا اور نئے احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہو گیا۔

اپریل 1978 میں دیگر افغان کمیونسٹوں نے فوج کی مدد سے بغاوت کی اور اقتدار سنبھال لیا۔ ایک ہی رات میں داود خان اور ان کے خاندان کے 23 افراد کو قتل کر دیا گیا، ان میں خواتین اور نوجوان بھی شامل تھے۔ اسے انقلاب ثور کا نام دیا گیا۔ داود خاندان کے صرف ایک کزن ہمایوں آصفی زندہ بچے، جو آج تک فرانس میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مساجد پر تالے اور مسلمانوں کی گرفتاریاں

سن 1978 میں افغانستان کے نئے صدر نور محمد ترہ کئی بنے اور ان کا اقتدار 1979 تک قائم رہا۔ سوویت یونین کے حامی نور محمد اور ان کے وزیراعظم حفیظ اللہ امین کا ماضی کی طرح کابل میں تالیاں بجا کر استقبال کیا گیا۔ ان دنوں نے مل کر افغانستان کو ایک سوشلسٹ ملک میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بھی اصلاحات کا اعلان کیا اور حکومت نے املاک کو اپنے قبضے میں لینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ خواتین کے لیے تعلیم لازمی قرار دی گئی اور انہیں برابری کے حقوق دینے کا وعدہ کیا گیا۔ خواتین کو مرضی سے شادی کرنے اور ملازمت جیسے حقوق فراہم کیے گئے۔

تاہم نور محمد اور حفیظ اللہ امین نے ہر اپوزیشن کو ختم کرنے کے لیے سٹالنسٹ طریقہ اپنانے کی کوشش کی، یہاں تک کہ اختلاف رکھنے والے بائیں بازو کے رہنماؤں کی گرفتاریاں بھی شروع کر دی گئیں۔ لیکن سب سے بڑا نشانہ اسلام پسند تھے۔ مساجد پر تالے لگا دیے گئے اور عوامی مقامات پر پردہ کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ایک قدامت پسند ملک کے لیے یک دم یہ سب کچھ بہت زیادہ تھا۔ ایسے انتہا پسند فیصلے افغانستان کی مستقل جنگ کی بنیاد بن رہے تھے۔ افغانستان کے اس دور کو حکومتی جبر کا بدترین دور قرار دیا جاتا ہے۔ تمام طبقات کے ہزاروں افراد کو پکڑا گیا اور وہ پھر زندگی بھر اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹے۔ کابل میں جس کے ہاتھ میں تسبیح ہوتی تھی یا جس کی داڑھی ہوتی تھی، اسے گرفتار کر لیا جاتا تھا۔ جیلیں بھر چکی تھیں۔ لوگوں کو بڑے پیمانے پر قتل کیا گیا۔ نور محمد نے براہ راست احکامات دیے تھے کہ جو بھی سر اٹھائے، اسے کچل دیا جائے۔

کمیونسٹ نظریات کی حکومتی شخصیات کے لیے سب سے اچھا مسلمان وہ تھا، جو قتل ہو چکا ہو۔ بلاتخصیص نوجوانوں اور خواتین کو بھی قتل کیا گیا۔ بچوں کو اسکولوں میں یہ بتایا جانے لگا کہ اگر نماز پڑھیں گے تو جیل میں جائیں گی۔ کسی وقت کسی بھی گھر سے، کسی کو بھی اٹھایا جا سکتا تھا۔ کابل میں بائیں بازو کے ان اساتذہ کو بھی اٹھا لیا گیا، جو اسلام کے لیے نرم خیالات رکھتے تھے۔ مارچ 1979 میں افغانستان کے تمام اسلامی گروپوں نے کمیونسٹوں کے خلاف سڑکوں پر آنے کے لیے اتحاد کا اعلان کر دیا۔

ان کے پاس ہتھیار تھے اور گلبدین حکمت یار جیسے مطلوب رہنماؤں نے پاکستان سے واپس افغانستان جانے کا اعلان کر دیا۔ یہاں سے نور محمد ترہ کئی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کا آغاز ہوا۔ حکمت یار کی حزب اسلامی نے متعدد افغان صوبوں میں اپنے قدم جمانے شروع کر دیے۔

نور محمد ترہ کئی نے حالات کو دیکھتے ہوئے سوویت یونین سے مدد مانگی لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کا سب سے بڑا دشمن ان کا وزیراعظم حفیظ اللہ امین ہے۔ 1979 ء کے موسم خزاں میں حفیظ اللہ امین نے سب کو سرپرائز دیا۔ انہوں نے اقتدار پر قبضہ کیا اور نور محمد ترہ کئی کے قتل کا حکم دے دیا۔ حفیظ اللہ امین نے اقتدار میں آتے ہی اپنے متعلق ایک ایسی فلم بنانے کا حکم دیا، جس میں انہیں انقلاب کا اصل ہیرو دکھایا جائے۔ انہوں نے جہاں ممکن ہوا اسلام کا مذاق اڑایا اور جہادی گروپوں میں غصہ بڑھتا چلا گیا۔ ادھر گلبدین حکمت یار حفیظ اللہ امین کے خلاف مسلح کارروائیاں بڑھانے کے حتمی مرحلے میں تھے۔ سوویت یونین کو خدشہ تھا کہ افغانستان میں ایران کی طرح کا انقلاب آ سکتا ہے اور امریکا اس افراتفری سے فائدہ اٹھائے گا۔

دسمبر 1979 میں سوویت فوجیں افغانستان میں داخل ہو گئیں اور ان کا مقصد حفیظ اللہ امین کو قتل اور افراتفری کو ختم کرنا تھا۔ 26 دسمبر کو ایک اسپیشل سوویت ٹیم نے صدارتی محل پر حملہ کیا اور صدر حفیظ اللہ امین کو بیٹی اور بیوی کے سامنے قتل کر دیا گیا۔ امین کی لاش کارپٹ میں لپیٹی گئی اور دوسری جگہ منتقل کر دی گئی۔ پھر سوویت دستوں نے افغانستان بھر میں پھیلنا شروع کر دیا جبکہ ان کا جگہ جگہ استقبال کیا گیا۔ سوویت فورسز نے امیج کی بہتری کے لیے کابل کے تمام دس ہزار سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا۔ لیکن بہت سی سیاسی قیدیوں کو اس سے پہلے ہی قتل کیا جا چکا تھا۔

اس کے بعد جلد ہی افغان عوام کو ادراک ہوا کہ سوویت فوجی واپس جانے کے لیے نہیں آئے بلکہ وہ یہاں رہیں گے، یہ احساس بیدار ہوا کہ ایک غیرملکی طاقت ان پر قبضہ کر چکی ہے۔

امریکا کے کردار کا آغاز

سوویت فورسز کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور کابل میں ہر رات اللہ اکبر کے نعرے لگائے جانے لگے۔ یہ بالکل ایسے ہی اللہ اکبر کے نعرے تھے، جیسے حال ہی میں طالبان کے خلاف کابل میں لگائے گئے تھے۔ سوویت فورسز کے خلاف ان مظاہروں اور نعرے لگانے والوں میں سبھی شامل تھے، دائیں بازو کے اور بائیں بازو کے افراد، سبھی افغان تقریباً متحد ہو چکے تھے۔

سوویت فوجیوں کو یہی بتایا گیا تھا کہ افغان بھائیوں کو اس وقت مدد کی ضرورت ہے۔ فوجیوں کو افغانستان میں آ کر پتا چلا کہ مقامی افغان ان کو ناپسند کرتے ہیں۔ سوویت فورسز کے خلاف افغانستان کی ایلیٹ کلاس اور کسان تک ایک پیج پر تھے۔ غیرملکی فورسز کے خلاف سبھی افغان جہاد کے نام پر ایک جگہ جمع تھے۔ یہاں سے مجاہدین اور جہاد کو عروج ملنا شروع ہوا۔ امریکی میڈیا میں جہادی گروپوں کے حق میں رپورٹیں نشر ہونا شروع ہوئیں اور فریڈم فائٹرز کے چرچے ہر جگہ ہونے لگے۔

سوویت فورسز کے مقابلے میں جہادی گروپوں کے پاس ناقص ہتھیار تھے۔ یہاں امریکا اور اس کے دیگر اتحادیوں نے پاکستان کے ذریعے مجاہدین کو ہتھیار اور سرمایہ فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ پشاور جلاوطن مجاہدین کا دارالحکومت بن چکا تھا۔ پشاور میں سبھی ایجنسیوں کے جاسوس بھی موجود تھے، سوویت یونین، امریکا اور دیگر ممالک کے۔ مجاہدین میں اختلافات تھے اور یہی وجہ تھی کہ سات مختلف جہادی گروپوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوا۔

ان گروپوں میں دو لیڈر نمایاں تھے۔ ایک گلبدین حکمت یار اور دوسری طرف شمالی اتحاد کے سربراہ احمد شاہ مسعود۔ احمد شاہ مسعود کے مغربی ممالک سے اچھے تعلقات تھے، انہیں فرنچ آتی تھی اور انہیں ایک ہیرو گوریلا فائٹر قرار دیا جاتا تھا۔ مسعود فرانس اور برطانیہ کے پسندیدہ تھے جبکہ گلبدین کو سخت انتہاپسند سمجھا جاتا تھا۔ لیکن امریکا گلبدین حکمت یار کو سب سے موثر کمانڈر سمجھتا تھا۔ امریکا نے یہ فیصلہ افغانوں پر چھوڑ دیا تھا کہ وہ اپنا ہیرو خود ہی چن لیں گے۔

گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے درمیان اختلافات تھے، جو آہستہ آہستہ مزید گہرے ہوتے گئے۔ سوویت فوجیوں کے خلاف لڑنے والے ان مجاہدین کی آپس میں بھی جھڑپیں ہونا شروع ہو گئیں، جن سے افغان عوام کی امیدیں بدگمانیوں میں تبدیل ہونا شروع ہو گئیں۔ افغانستان میں بم دھماکوں میں عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی معمول کا حصہ بننے لگیں۔ 1986 میں سوویت فورسز کو ادراک ہوا کہ مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ سوویت فوجیوں کو یہی نہیں معلوم ہوتا تھا کہ عوام میں سے ان کا دشمن کون ہے؟

دوسری جانب غیرملکی جہادی بھی افغانستان میں جمع ہو رہے تھے اور پاکستان آنے والے مہاجرین کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ جن جن افغان شہریوں کے رشتے دار سوویت بمباری میں مارے جا رہے تھے، وہ افغان پاکستان آ کر مجاہدین کے ساتھ ملتے جا رہے تھے تاکہ سوویت فورسز کے خلاف لڑا جا سکے۔

پیسوں سے بھرے سوٹ کیس

خلیجی ممالک سے سوٹ کیس بھر بھر کے پیسہ آنے لگا۔ پشاور میں آنے والا یہ پیسہ ابتدائی طور پر فلاحی کاموں کے لیے تھا، کھانے، اسکولوں اور ادویات کے لیے، بے گھر ہونے والے مہاجرین کے لیے۔ اسامہ بن لادن بھی شروع شروع میں ایسے فلاحی کاموں کے لیے دولت لے کر آئے تھے۔ عرب جہادیوں کو افغانستان بھیجنے سے پہلے پشاور میں ٹھہرایا جاتا تھا۔ پشاور کے مدارس میں جہاد کی تعلیم عام ہو چکی تھی۔ تمام ممالک نے سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے قدامت پسند ترین افراد کا انتخاب کیا تھا۔

سوویت فورسز کے خلاف تین چیزیں جمع ہو چکی تھیں۔ مجاہدین کو مقامی حمایت حاصل تھی۔ امریکا ہتھیار فراہم کر رہا تھا اور پیسہ خلیجی ممالک سے آ رہا تھا۔ امریکی صدر رونلڈ ریگن نے ٹیلی وژن پر مجاہدین کو فریڈم فائٹرز قرار دیتے ہوئے ان کی مدد کا اعلان کیا اور مجاہدین کو سٹینگر میزائل دیے گئے، جو سوویت ہیلی کاپٹروں کے خلاف فیصلہ کن ثابت ہوئے۔ یہاں سے سوویت فورسز کی شکست کا آغاز ہوا۔ دس سال بعد سنہ 1989 میں سوویت فورسز کی افغانستان سے واپسی کا اعلان ہوا۔ پیچھے ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت بچی تھی۔ وہ بھی بالکل ایسی ہی حکومت تھی جیسی امریکا اشرف غنی کی چھوڑ کر نکلنے لگا تھا۔ اس جنگ میں میں کم ازکم پندرہ ہزار سوویت فوجی ہلاک اور دس لاکھ افغان مارے گئے تھے۔

سوویت فورسز کی واپسی کا معاہدہ امریکا اور سوویت یونین کے درمیان ہوا تھا اور مجاہدین اس میں شامل نہیں تھے۔ افغان عوام کو کچھ امید ہوئی کہ اب حالات بہتر ہوں گے لیکن دوسری جانب مجاہدین گروپوں کے مابین کابل پر قبضے کے لیے جھڑپیں شروع ہو چکی تھیں، جہاں سے ایک مزید ہلاکت خیز باب کا آغاز ہوا۔

جہادی گروپوں میں لڑائی کا آغاز

سوویت فورسز جا چکی تھیں لیکن کابل میں ابھی تک کمیونسٹ لیڈر نجیب اللہ حکمران تھے۔ وہ سبھی جہادی گروپوں کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے تھے تاکہ مل کر ایک حکومت بنائی جا سکے۔ وہ کمیونسٹ اور جہادی گروپوں کے درمیان ایک کمپرومائز چاہتے تھے۔ لیکن سوویت یونین کو شکست دینے کے بعد مجاہدین کے حوصلے بلند تھے اور وہ ایک اسلامی ریاست کا قیام چاہ رہے تھے۔ گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کی منزل اب کابل تھا۔

اپریل 1992 کو احمد شاہ مسعود کابل کے قریب تھے اور تمام اہم پوزیشنوں پر قبضہ کر چکے تھے۔ کابل کے لوگ بھی خوش تھے۔ کابل کے لوگوں کا مجاہدین سے یہ پہلا براہ راست رابطہ تھا۔ اس مرتبہ کابل کے کمیونسٹوں نے خوف سے اپنی کتابیں جلانا شروع کر دیں تاکہ وہ مجاہدین کے انتقام سے بچ سکیں۔ نجیب اللہ نے اپنے خاندان والوں کو رخصت کیا لیکن خود وہاں ہی رہے۔ چند روز بعد حکومت کے بعض فوجیوں نے بغاوت کرتے ہوئے کابل ائر پورٹ پر قبضہ کر لیا اور ڈاکٹر نجیب اللہ نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں پناہ لے لی۔ احمد شاہ مسعود کے مجاہدین صدارتی محل میں ایسے ہی داخل ہوئے تھے، جیسے دو روز قبل طالبان صدارتی محل میں جا کر بیٹھے تھے۔

حزب اسلامی کے لیڈر گلبدین حکمت یار نے احمد شاہ مسعود کی عبوری حکومت کا حصہ بننے سے انکار کر دیا کیوں کہ وہ خود ملک کے نئے صدر بننا چاہتے تھے۔ باقی سبھی جہادی گروپ احمد شاہ مسعود کے ساتھ مل چکے تھے۔ گلبدین حکمت یار کی مخالفت کے بعد احمد شاہ مسعود نے کہا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، اب ہمیں حکمت یار کا مقابلہ کرنا ہے۔ احمد شاہ مسعود نے حکمت یار کے گھر پر فضائی حملہ کیا اور پھر ان دونوں کے مابین کابل پر قبضے کی لڑائی کا آغاز ہو گیا۔

افغان پشتون حکمت یار کے ساتھ تھے اور احمد شاہ مسعود تاجک تھے۔ اس لڑائی میں کابل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور عوام کو انسانی ڈھال بنایا گیا۔ سوویت یونین کی شکست کے بعد امریکا اور دیگر طاقتوں کی افغانستان میں دلچسپی ختم ہو چکی تھی اور یہ انخلا افغانستان کے ہمسایہ ممالک نے پر کرنا شروع کیا۔ پاکستان نے حکمت یار کی مدد کرنا شروع کی جبکہ احمد شاہ مسعود کو ایران، بھارت اور تاجکستان کی مدد حاصل تھی۔

حالیہ تاریخ میں یہ کابل کے لیے بدترین دور تھا جبکہ خوراک کی شدید کمی ہو چکی تھی۔ یہ دونوں جہادی لیڈر افغان عوام کے ہیرو تھے لیکن اس لڑائی کے بعد یہ دونوں ولن بن چکے تھے۔ کابل میں کھنڈرات اور صرف راکھ ہی راکھ باقی بچی تھی۔

طالبان کا عروج

دوسری طرف پاکستان نے 1994 میں نئی جنم لینے والی تحریک طالبان کو مدد فراہم کرنا شروع کر دی تھی۔ قندھار سے شروع ہونے والی اس تحریک کا مقصد بھی اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ افغان عوام دونوں جہادی لیڈروں سے تنگ آ چکے تھے اور طالبان ان کی نئی امید تھے۔ طالبان نے امن اور انصاف کا نعرہ لگایا اور امن کے پیاسے افغانوں نے اس پر یقین کیا۔ طالبان کی ایک بڑی طاقت پاکستان سے جانے والے مجاہدین تھے۔ طالبان خون کے آخری قطرے تک لڑنے کے لیے تیار تھے تاکہ کابل میں امن قائم کیا جا سکے۔ طالبان کو پاکستان کی مدد حاصل تھی اور مقامی بھی۔ طالبان نے دو سال میں ہی حیران کن کامیابیاں حاصل کیں۔ طالبان میں عالم اور حافظ شامل تھے اور اسی وجہ سے سبھی ان کی عزت کرنا شروع ہوئے۔ مذہبی وجوہات کی وجہ سے حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے جنگجو بھی ان کے خلاف لڑنے سے ہچکچاتے تھے۔ ستمبر 1996 میں طالبان کابل پہنچے تو احمد شاہ مسعود پہاڑوں پر چلے گئے جبکہ حکمت یار نے ایران میں پناہ لی۔ افغان عوام جنگ اور لڑائی سے اس قدر تھک چکے تھے کہ انہوں نے طالبان کا خوشی سے استقبال کیا۔ افغان خوش تھے کہ جنگ ختم ہو جائے گی۔

نجیب اللہ ابھی تک اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں محصور تھے۔ طالبان نے نجیب اللہ کو نکالا اور گولی مار کر ان کی لاش ایک کھمبے سے لٹکا دی گئی۔ طالبان نے جلد ہی نئے اور سخت قوانین متعارف کروائے۔ ٹیلی وژن اور موسیقی پر پابندی لگا دی گئی۔ پتنگیں اڑانا منع کر دیا گیا۔ طالبان نے امن قائم کیا لیکن بدلے میں عوام کی آزادی چھین لی گئی۔ خواتین کو تعلیم سے روک دیا گیا، محرم کے بغیر گھر سے نکلنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہاں تک کے مردوں کے شیو کرنے پر سزائیں دی گئیں اور انہیں زبردستی مساجد میں بھیجا جانے لگا۔ جن افغان خواتین نے کبھی دوپٹہ نہیں لیا تھا، انہیں برقعے میں لپیٹ دیا گیا، یہاں تک کہ لوگوں نے چھپ کر ٹی وی اور بھارتی فلمیں دیکھنا شروع کر دیں۔

افغانستان کا یہ پردے پر پابندی سے لے پردہ لازمی کرنے کی پابندی تک کا سفر تھا۔ یہ دو انتہائیں تھیں، جہاں دوسرے نظریات رکھنے والوں کے لیے گنجائش بالکل ختم کر دی گئی تھی۔ کمیونسٹ دور میں مذہب کے ماننے والوں کے لیے زمین تنگ کر دی گئی اور اس کے ردعمل میں مجاہدین وجود میں آئے۔ طالبان آئے تو انہوں نے ایسے سخت قوانین متعارف کروائے کہ ایک درمیانے درجے کے مسلمان کے لیے بھی زندگی مشکل بنتی چلی گئی۔ نتیجتاً جب امریکی آئے تو کابل کے زیادہ شہریوں نے غیرملکی افواج کو اپنا نجات دہندہ سمجھا۔

طالبان کے کابل پر قبضے سے چند ماہ پہلے ہی سوڈان نے اسامہ بن لادن کو ملک چھوڑنے حکم دیا تھا۔ اس کے بعد اسامہ بن لادن وہاں ہی واپس آئے، جہاں انہوں نے اسی کی دہائی میں سوویت فورسز کے خلاف جہاد میں حصہ لیا تھا۔ طالبان نے اسامہ بن لادن کا بطور مہمان استقبال کیا۔ بن لادن نے طالبان کو مالی مدد فراہم کرنا شروع کی اور احمد شاہ مسعود کی آخری پناہ گاہ پنجشیر پر قبضے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ اس دوران احمد شاہ مسعود نے فرانس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چار اپریل 2001 کے دن امریکا کو پیغام دیا کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ تم سب کے لیے خطرہ ثابت ہوں گے۔

مارچ سے ہی یہ افواہ تھی کہ اسامہ بن لادن امریکا کو بڑا نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ستمبر دو ہزار ایک میں دو یورپی عرب نوجوانوں نے خود کو بطور صحافی پیش کیا اور وہ احمد شاہ مسعود کا انٹرویو کرنے پنج شیر پہنچے۔ ان نوجوانوں نے زیادہ تر سوال ایسے کیے کہ آپ نے اسامہ بن لادن کے خلاف فرانس میں پریس کانفرنس کیوں کی تھی۔ یہ دونوں القاعدہ کے رکن تھے۔ کیمرے میں دھماکا خیز مواد تھا اور احمد شاہ مسعود کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس کے دو دن بعد نیویارک میں حملے ہو گئے اور امریکا نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان پر حملہ کر دیا۔

اس کے بعد بیس سالہ جنگ کی کہانی سے زیادہ تر لوگ واقف ہیں۔ دو چیزیں واضح ہیں، افغان معاشرہ مذہب سے لگاو رکھتا ہے اور غیرملکی مداخلت کو پسند نہیں کرتا۔ افغانستان کو ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے، جہاں تمام طبقات اور مختلف نظریات رکھنے والوں کے لیے سانس لینے کی گنجائش ہو، جہاں اقتدار اور پیسہ صرف چند ہاتھوں تک محدود نہ رہے، جہاں عقائد مسلط نہ کیے جائیں، جہاں دھونس اور زبردستی نہ ہو، جہاں تمام طبقات اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے زندگی گزار سکیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو افغانستان میں عدم استحکام جاری رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words