وہ لوگ جن سے خدا محبت کرتا ہے


سمیرا کے والدین ستر کی دہائی میں ہجرت کر کے کینیڈا آباد ہو گئے تھے۔ سمیرا کی پیدائش، پرورش، شادی کینیڈا میں ہی ہوئی۔ شوہر کا خاندان بھی کینیڈا میں ہی آباد تھا۔ دونوں کی اچھی نوکری تھی اور اچھی زندگی گزر رہی تھی۔

اس دوران شادی کے پانچ سال گزر گئے مگر وہ اولاد کی خوشی نہیں پا سکے تو دونوں میاں بیوی نے پاکستان سے بچہ گود لینے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں ایدھی سینٹر سے رابطہ کیا اور ساتھ ہی ساتھ کینیڈا میں درکار قانونی کارروائیوں کا بھی آغاز کیا۔ گود لینے کا مرحلہ طویل ہونے کے ساتھ صبر آزما بھی تھا۔ کینیڈا کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سمیرا اپنے والد کے ساتھ کراچی روانہ ہوئی۔ وہاں بلقیس ایدھی سے ملاقات کی۔

پاکستان میں آٹھ مہینے کے قیام، انتظار اور پیپر ورک مکمل کرنے کے بعد ایک ننھی پری کو گود میں لے کر سمیرا کینیڈا واپس آئی۔

یہاں سمیرا نے بچی کی خاطر کیرئیر کو خیر آباد کہنے اور اپنے آس پاس حلقۂ احباب میں ان بے اولاد جوڑوں کی رہنمائی کرنے کا فیصلہ کیا جو بچہ گود لینے کے خواہشمند تھے۔ اللہ تعالی کی قدرت کہ بچی کو گود لینے کے دو سال کے بعد اللہ تعالی نے سمیرا کوایک بیٹے کی مزید خوشی سے نواز دیا۔ ان کی فیملی ماشااللہ مکمل اور مزید خوشیوں بھری ہو گئی۔ سمیرا نے اس دوران کئی بے اولاد جوڑوں کی مدد کی، ان کا ایک چھوٹا سا گروپ بن گیا جو آپس میں اپنے تجربات اپنے بچوں کی تصاویر ایک دوسرے سے شیئر کرتے رہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ایک دوسرے سے ملتے بھی رہتے ہیں۔

ادھر پاکستان میں بلقیس ایدھی کو نوابشاہ کے ایدھی سینٹر سے ایک نومولود بچی کی اطلاع ملی جسے لوگوں نے کوڑے کے ڈھیر سے اٹھا کر ایدھی سینٹر پہنچایا تھا اور جس کا آدھا چہرہ کتوں نے شدید زخمی کر دیا تھا۔ بچی کی حالت خراب تھی۔ بلقیس ایدھی نے چارٹرڈ جہاز کیا اور بچی کو ایمرجنسی میں نوابشاہ سے کراچی لائیں۔ آغا خان ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بچی کو نہ صرف بچا لیا بلکہ کے چہرے کی reconstruction surgeries بھی سر انجام دیں۔ بچی کی حالت کافی بہتر ہو گئی۔ مگر چہرہ مکمل طور پر ٹھیک نہ ہو سکا۔

بلقیس ایدھی کے پاس سمیرا کے ریفرینس سے کئی بے اولاد جوڑے آئے تھے اور سمیرا سے ان کی اچھی جان پہچان تھی۔ اس مشکل وقت میں انہوں نے سمیرا سے رابطہ کیا اور کہا کہ اگر کوئی جوڑا بچی کو گود لینے کو تیار ہو تو وہاں اس کا مزید بہتر علاج ممکن ہو پائے گا۔

سمیرا نے اپنے شوہر سے مشورہ کیا اور ان دونوں نے بلقیس ایدھی سے کہا کہ کوئی اور کیوں؟ ہم بچی گود لینے کو تیار ہیں۔ سمیرا اپنے دو چھوٹے بچوں کو لے کر دوبارہ پاکستان گئی۔ انہیں تمام مراحل سے گزر کر بچی کو اپنے ساتھ کینیڈا لے کر آ گئی۔

یہاں بچی کے چہرے کی مزید سرجریز ہوئیں اور بچی کے چہرے کے خد و خال میں بہت بہتری آ گئی۔

اس واقعے کو کئی سال گزر چکے ہیں۔ آج وہ بچی گیارہ سال کی ہے اور اپنے بھائی بہن کے ساتھ بے انتہا خوش و خرم اور خوشحال زندگی گزار رہی ہے۔

سمیرا کے گروپ میں تیس کے قریب فیملیز ہیں جنہوں نے پاکستان میں ایدھی سینٹر سے بچے گود لیے اور آج ایک مکمل اور خوشیوں بھری زندگی گزار رہے ہیں۔

کبھی سوچو کہ فرشتے کیسے ہوتے ہیں؟ بے لوث خدمت کیا ہوتی ہے؟ کیا نیکی کا کوئی چہرہ بھی ہوتا ہے؟ تو ایدھی صاحب کا بلقیس ایدھی کا اور سمیرا جیسے لوگوں کا چہرہ نظروں میں آ جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اچھائی سے ایمان اٹھنے نہیں دیتے۔ دنیا کی خوبصورتی انہی سے تو قائم ہے۔ ان کی بدولت کتنے چراغ بجھنے سے بچ گئے، کتنی ننھی کلیاں کھل کر پھول بن گئیں۔ خدا سے محبت کا دعوی تو بہت کرتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن سے خدا محبت کرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words