اسلامی حکومت: کوئی سمجھائے کہ یہ کیا ہے

معلوم نہیں قدیم زمانہ میں ”اسلامی حکومت“ جیسی کوئی اصطلاح رائج تھی یا نہیں، تھی تو اس کے اجزائے ترکیبی کیا تھے اور اس کے پڑھنے سننے کے بعد عوام و خواص کے ذہن میں ”اسلامی حکومت“ کی شبیہ کیا بنتی تھی۔ البتہ جدید دور میں رائج ”اسلامی حکومت“ کی اصطلاح کے عناصر ہر خاص و عام پر، کیا مسلم اور کیا غیر مسلم، عیاں اور بیاں ہے، اس کی شبیہ بھی واضح ہے۔

چور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے، زانی کو کوڑے مارے جائیں گے یا قتل کیا جائے گا، مخلوط نظام تعلیم و عمل پر پابندی ہوگی، نشہ آور اشیاء کی دکانیں اور سنیما گھر نہیں ہوں گے۔ یہ عناصر ہیں۔

شبیہ یہ ہے کہ پردہ کے نام پر خواتین خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ان کے لیے نقاب ضروری ہوگا، دوسرے فرقوں یا مذاہب کی پیروکار اقلیتوں کو دینی تعلیمی ادارے اور عبادت گاہیں قائم کرنے کے لیے مشروط اور خاص علاقوں تک محدود اجازت ہوگی۔ خاص لباس میں ملبوس اور مخصوص بھیس بھوسا/وضع قطع کی حامل دینی پیشوائیت کو انسانی زندگی اور اس کی آزادی جیسے بنیادی حقوق پر دسترس حاصل ہوگی۔

سعودی عرب کی مملکت اسلامیہ نے کم وبیش گزشتہ ایک سو سال اور ایران کی جمہوریۂ ولایت فقیہ نے بیالیس سال کے عرصہ میں ”اسلامی حکومت“ کی جو مثال پیش کی ہے، مندرجہ بالا سطور میں اس کا خلاصہ بیان ہوا۔

ایک طرف اسلامی حکومتوں نے اپنے شہریوں پر عائد مذکورہ شرعی پابندیوں کی ضرورت سے زیادہ تشہیر کی اور سزاؤں کے علانیہ نفاذ پر حماقت آمیز حد تک فخر محسوس کرتے رہے، اور دوسری طرف ان کے حقوق سے مجرمانہ غفلت کو اپنا طرز عمل بنائے رکھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صدی، نصف صدی اور نسلوں کے گزر جانے کے باوجود عوام نہ دیندار بن سکے اور نہ ہی خود ساختہ ”اسلامی حکومتوں“ کے لیے ان کے دلوں میں احترام پیدا ہو سکا، دو دلانہ زندگی گزارتے گزارتے وہ بزدل اور منافق ہو گئے۔

روٹی، کپڑا، مکان، صحت، تعلیم، تفریح، نظام عدل و مساوات اور ذرائع اطلاعات و معلومات جیسے بنیادی حقوق اور سہولتیں بہت پیچھے کہیں چھوٹ گئیں۔ انہوں نے آزاد عدلیہ اور معاشیات و عمرانیات کا کوئی اسلامی نظام متعارف نہیں کروایا۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا کوئی ضابطہ متعین نہیں کیا، انہیں انتظامیہ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا اور کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے حکومتوں کے چہرے پر لفظ ”اسلامی“ کا نقاب ڈال دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خود ساختہ ”اسلامی حکومتیں“ عوامی ترغیب سے زیادہ اجتماعی ترہیب و معاشرتی خوف کی علامت بن گئیں۔ اب جب کوئی گروہ ”اسلامی نظام“ کے نعرہ کے ساتھ سامنے آتا ہے تو مسلمانوں کی غالب ترین اکثریت اس میں کشش محسوس نہیں کرتی بلکہ خوف زدہ ہو جاتی ہے اور غیر مسلم عالمی برادری کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ تلہ کرنے لگ جاتی ہے۔

شہری حقوق سے غفلت اور تعزیراتی قوانین پر ضرورت سے زیادہ زور ڈالنے اور سزاؤں کے غیر محتاط نفاذ نے دین اسلام کا چہرہ مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ درست بات یہ ہے کہ موجودہ دور میں رائج ”حکومتی اسلام“ یا ”اسلامی نظام“ کے عناصر اور اس کی شبیہ محمد رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین کے بالکل الٹ ہے۔ اللہ کے رسول اور ان کے خلفاء حقوق کے تحفظ پر زیادہ زور دیتے اور تعزیرات کے نفاذ میں جلد بازی سے گریز کرتے تھے۔ ایک زانیہ آتی ہے اپنے گناہ کا اعتراف کرتی ہے، رسول اس سے یہ نہیں پوچھتے ہیں کہ وہ مرد کون تھا جس نے بدکاری کی اور وہ کہاں رہتا ہے۔

آپ ﷺ نے بچہ کی پیدائش اور پھر دودھ پلانے کی مدت تک سزا کو ٹال دیا، نہ اس کا نام پتہ لکھا اور نہ ہی اس کو پکڑ لانے کے لیے پولیس کو بھیجا، وہ خود حاضر ہوئی تو سزا کا نفاذ کیا گیا۔ اسی طرح ایک زانی آپ کی خدمت میں آ کر اعتراف گناہ کرتا ہے، آپ اسے باندھ کر قید نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی یہ پوچھتے ہیں کہ وہ عورت کون تھی جس کے ساتھ تم نے زنا کیا، اس کے بر عکس آپ اس شخص کے اہل خانہ سے اس کی دماغی حالت دریافت کرتے ہیں، اور جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوران سزا (سنگساری) وہ شخص بھاگنے لگا تھا تو آپ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دینا چاہیے تھا۔

گناہوں کی عمومی پردہ پوشی اور گلیوں میں گھوم کر اور جھونپڑیوں پہنچ کر محتاجوں کی حاجت روائی والے اسلامی نظام اور آج کی ”اسلامی حکومتوں“ میں کوئی قدر مشترک نظر نہیں آتی۔ سعودیہ کے علماء، ایران کے فقہاء اور خراسان کے طلباء کو نظر آتا ہو تو اور بات ہے۔ واضح رہے کہ رسول اور خلفائے رسول کے زمانے میں سیاسی سطح پر بھلے ہی مسلم اور غیر مسلم شہریوں کے حقوق و فرائض جدا گانہ رہے ہوں لیکن معاشرتی و معاشی اعتبار سے ان کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں تھا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھیک مانگنے والے سن رسیدہ یہودی کا نہ صرف جزیہ معاف فرمایا بلکہ اس کی تا حیات کفالت بیت المال کے ذمہ ٹھہرائی جسے موجودہ زمانہ کی زبان میں ”بوڑھوں کی پنشن“ کہا جاتا ہے۔

موجودہ دور کی ”اسلامی حکومت“ کے مقاصد میں جن چند مسائل کو مرکزی اہمیت حاصل ہے ان میں ”اسلامی پردہ“ بھی شامل ہے۔ ذیل کی چند مثالوں سے اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ام محجن (رضی اللہ عنہا) نامی خاتون مسجد نبوی کی صفائی کیا کرتی تھیں، موت کے بعد رسول ﷺ کے علم میں لائے بغیر رات کے وقت انہیں دفن کر دیا گیا تو آپ نے قبر پر جا کر جنازہ کی نماز پڑھی۔ ام ورقہ رضی اللہ عنہا صحابیہ تھیں جنہیں آپ ﷺ نے اپنے خاندان کے مردوں اور عورتوں کی نماز کی امامت کا حکم دیا تھا اور ان کے لیے ایک مؤذن بھی متعین کیا تھا۔ رسول ﷺ کی پھوپھی صفیہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہا دوسری مسلم خواتین کے ساتھ جنگوں میں زخمی مجاہدین کا علاج کرتی تھیں، گویا موبائل ہاسپیٹل کی سربراہ تھیں۔

غزوہ خندق کے موقع سے انہوں نے بنو قریظہ قبیلہ کے ایک یہودی کو قتل بھی کر دیا تھا جو جاسوسی یا نقصان پہنچانے کے ارادے سے ان کے خیمہ تک آ پہنچا تھا۔ صلاح الدین ایوبی کا نام سبھی جانتے ہیں لیکن ان کی اہلیہ شجر الدر جن کا لقب عصمت الدین ہے ان سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ انہوں نے اپنے شوہر کی وفات کا تین مہینے تک اعلان نہیں کیا کہ خدا نا خواستہ اس خبر سے مسلم فوج کے حوصلے پست ہو جائیں گے، انہوں نے اس دوران فوج کی کمان اپنے ہاتھ میں رکھی اور صلیبی افواج کو شکست سے دو چار کیا۔

اتنا معلوم ہے کہ خواتین کے چہرے، ہتھیلیاں اور پاؤں شرعی پردہ کے حکم میں داخل نہیں ہیں۔ آج کے مجددین دین اور اکیسویں صدی کے خلفائے راشدین کے نمائندوں سے معلومات میں اضافہ کی غرض سے یہ دریافت کرنا تھا کہ پردہ کے نام پہ جس غلاف کا چڑھانا ضروری قرار دیا جاتا ہے، جس میں آنکھیں بھی بمشکل نظر آتی ہیں، ان کے پاس اس کی کیا دلیل ہے؟ مذکورہ بالا صحابیات اور ان جیسی سیکڑوں دختران اسلام نے جو نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں ان کے نقاب کس رنگ کے تھے اور کہاں تک دراز تھے؟ غیر محرم مریضوں کا علاتھے، ر در انداز یہودی سے نمٹنے کے سلسلہ میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ صفیہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہا کا مکالمہ گناہ کے زمرہ میں شمار ہوگا یا ثواب لکھا جائے گا؟

اسلامی حکومت کے دعویداروں کے پاس مبہم دعوے ہیں، لائحۂ عمل نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ کلمۂ حق کی بلندی کے لیے ان کی ترجیحات متعین نہیں ہیں۔ سو سال پہلے آنے والے نے روایتی پگڑی اتاری، لال رومال اوڑھے اور مولوی طبقہ سمیت پوری قوم کو اڑھا دیا۔ دین دھرم کا فرق کیے بغیر اہل وطن اور تارکین وطن خواتین کو کالا نقاب پہنوایا، نماز کے اوقات میں بازار بند کرواتے رہے، تعزیرات کے نام پر گردنیں کاٹیں اور کوڑے لگوائے، اور نماز، روزے کے بشمول عائلی مسائل میں سلفی (وہابی) فقہ پر عمل کروانے کے ساتھ ان کی اسلامی حکومت کا خواب پورا ہو گیا۔

بیالیس سال پہلے قائم ہونے والی ولایت فقیہ کی اسلامی جمہوریہ نے عمامے باندھے، عزاداری کو فروغ دیا، فقہ جعفری کی ترسیخ کی، نقاب کی ثقافت کو عام کیا اور اس طرح ان کی اسلامی حکومت کا نمونہ بھی تمام و کمال کو پہنچا۔ نیا آنے والا خراسانی دستہ عورتوں کو کھوپ پہنائے گا، مردوں کو داڑھی رکھوائے گا، مزارات کو منہدم کرے گا، عزاداری کو محدود کرے گا اور فقہ حنفی کی ترویج و تعمیل کے ساتھ اپنی اسلامی حکومت کی تکمیل پہ نازاں ہو جائے گا۔ کسی کے پاس اسلام کے معاشرتی اور معاشی نظام کا ایسا مرتب اور واضح لائحۂ عمل نہیں ہے جسے دنیا کے سامنے پیش کرے اور ٹھسے سے کہہ سکے کہ یہ وہ دستور ہے جو تمام نظام ہائے اقوام عالم سے بہتر اور بنی نوع انسان کی فلاح کا ضامن ہے۔ اور جس کی برکات دیکھ کر دوسری اقوام بھی اسے قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے۔

سمجھ سے باہر ہے کہ ہم لوگوں نے اتنا دو مونہا پن کہاں سے سیکھا ہے۔ خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارے بیٹے اور بیٹیاں ملک اور بیرون ملک کی بڑے تعلیمی اداروں میں اعلی ترین تعلیم حاصل کریں، لیکن اسی لمحہ کسی دوسرے ملک میں ایک ایسے نظام حکومت کی تائید بھی کر رہے ہوتے ہیں جو لڑکوں کو خاص لباس پہنانے اور لڑکیوں کو خاص قسم کے سات پردوں میں محبوس کر دینے کی بزور و پر زور وکالت کر رہا ہوتا ہے۔ مسلمان رہتے ہوئے ایک عمل ہمارے لیے پسندیدہ ہے تو دوسرے کے لیے کیوں نہیں اور دوسرے کے لیے ہے تو ہمارے لیے کیوں نہیں! خدا کے دین کو ڈھکوسلہ بنا دیا جائے تو اسی قسم کی منافقتیں جنم لیتی ہیں۔

اسلام کتاب و حکمت کی تعلیم و تزکیہ بمعنی تربیت کا دین تھا، حکومتی اسلام کے نمائندوں نے اسے چند تعزیراتی، عائلی اور تعبدی قوانین کا مذہب بنا دیا۔ کہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد وعورت کے لیے فرض ہے۔ اس لحاظ سے ترجیحات میں تعلیم کو سر فہرست رکھا جانا چاہیے تھا لیکن سرے سے اس کا وجود ہی نہیں ہے، فرماں روایان حکومات اسلامیہ کو معلوم ہے کہ تعلیم آ گئی تو ان کی پیشوائیت اور پاپائیت کا جنازہ نکل جائے گا۔ اسلام فرائض کے ساتھ حقوق کے تحفظ کا دین تھا، فرائض کو سزاؤں کا بہانہ بنایا گیا اور حقوق دریا برد کر دیے گئے۔ بشارتوں اور آسانیوں کا دین تھا اسے حکومتی جبر اور خوف کی علامت بنا دیا گیا۔ یہ سب گزشتہ ایک صدی کی اسلامی حکومتوں کی نحوستیں ہیں۔

کسی زمانے میں مسلمان علم و حکمت اور عقل و خرد کے حامل تھے، ان کے پاس عزائم اور بڑے منصوبے تھے، چھوٹی باتوں میں میں توانائی صرف نہیں کرتے تھے، پردہ کروانے اور داڑھی کی لمبائی ناپنے کے ٹھیکیدار نہ تھے، حکومتیں ان کے پاس تھیں لیکن ”اسلامی حکومتوں“ کے دعویدار نہ تھے، لہذا غیر مسلم دنیا انہیں اپنا مد مقابل سمجھ کر ان سے ہاتھ بھی ملاتی تھی اور ان کے ساتھ بر سر پیکار بھی ہوتی تھی، آج کے مسلمان ”اسلامی حکومتوں“ کے دعویدار ہیں لیکن علم و حکمت سے خالی اور عقل و خرد سے پیدل ہیں لہذا انہیں مد مقابل نہیں سمجھا جاتا بلکہ حقیر سمجھ کر ٹھوکروں میں رکھنے کی کامیاب کوشش کی جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words