برہمن وادی مسلمان اور امبیڈکر وادی سیاستدان

کیوں ایسا ہوا کہ عقائد و ایمان کی اصلاح اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے تو شیخ احمد فاروقی سرہندی، شاہ ولی اللہ دہلوی، سید احمد رائے بریلوی، اسماعیل دہلوی، احمد رضا خان بریلوی، اشرف علی تھانوی اور ابوالعلی مودودی جیسے عبقری پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے اپنے فہم کے مطابق اسلام کی تشریح و توضیح اور ترسیل و تبلیغ میں تن من دھن کی بازی لگا دی اور اسلامی وحدت و مسلم اتحاد کے کلیجہ میں اپنے

Read more

مسلم پرسنل لا کے ”متبنی/لے پالک“ قانون کو سمجھنے کی مخلصانہ کوشش

واقعہ رسالت کے اعلان سے پہلے کا ہے۔ حکیم ابن حزام نے عکاظ کے بازار میں آٹھ سالہ زید بن حارثہ (غلام) کو چار سو درہم کے عوض خریدا اور اپنی پھوپھی (ام المؤمنین) سیدۃ خدیجہ بنت خویلد (رضی اللہ عنہا) کو ہدیہ کر دیا۔ سیدہ خدیجہ، رسول اللہ ﷺ سے نکاح کے بعد ، زید کو ان کی خدمت میں پیش کر کے ملکیت کے حق سے دست بردار ہو گئیں۔ رسول اللہ نے انہیں آزاد کر دیا، لیکن

Read more

توہین اسلام و رسول اسلام کے نام پر تشدد: پس پردہ عوامل، ذمہ داران اور اس کا حل

توہین اسلام اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نام پر تشدد اور ماورائے عدالت و انصاف گھناؤنے قتل کے جرم کا ارتکاب وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں عشق رسول کا دعوہ ہے۔ اس عمل میں کسی خاص فرقہ کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا، سبھوں کے دامن داغدار اور ہاتھ رنگین ہیں۔ ایسا کرنے والی بھیڑ کی غالب ترین اکثریت کے عشق اور اتباع رسول کا حال یہ ہے کہ روز مرہ کی

Read more

مسجد خدا کا گھر نہیں اسے منتقل کیا جا سکتا ہے

رائج بیانیہ: عوام و خواص میں ایک بیانیہ عام ہے کہ مسجدیں خدا کا گھر ہیں، لیکن آیات و احادیث اس کی نفی کرتی ہیں۔ انہیں مسجد کہتی ہیں، خدا کا گھر قرار نہیں دیتیں۔ اس کے بالمقابل انسان کے لیے جنت میں گھر بنانے کی بشارت دیتی ہیں۔ اسی طرح دوسرا بیانیہ یہ رائج ہو گیا ہے کہ ایک بار مسجد جس جگہ تعمیر ہو گئی وہ جگہ زمین کی تہوں سے لے کر آسمان کی بلندیوں تک تا

Read more

تعصبات کا مارا ہوا انسان: انوکھا ہندو اور نرالا مسلمان

اسرائیل، ایران اور سعودی عرب وغیرہ چند ایسی مذہبی ریاستیں ہیں جن کی آبادی کا غالب ترین حصہ کسی ایک خاص مذہب یا فرقہ سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے قوانین متعلقہ مذہب یا فرقوں کی دینی و فقہی ہدایات پر استوار ہیں۔ وہاں سماجی نظم و نسق کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اسی طرح وہ ممالک جن کے عوام سیکولر ازم پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے قوانین بھی سیکولر ہیں، وہاں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

Read more

اسلامی حکومت کا مغالطہ اور اس کی حقیقت

دانش اہل ایمان کا گم گشتہ خزانہ ہے، جہاں کہیں وہ اسے پائے اس کا پہلا حق دار وہی ہے۔ (حدیث) سورۃ الفاتحہ کو ام الکتاب کہا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کی اصل اور اس کی تعلیمات و ہدایات کی اساس ہے۔ جدید دستوری زبان میں اسے قرآن کا ”پری ایمبل“ /سر نامہ کہا جا سکتا ہے۔ بسم اللہ کو چھوڑ کر چھ آیتوں پر مشتمل اس سورۃ میں اخیر کی تین آیتیں

Read more

اسلامی حکومت: کوئی سمجھائے کہ یہ کیا ہے

معلوم نہیں قدیم زمانہ میں ”اسلامی حکومت“ جیسی کوئی اصطلاح رائج تھی یا نہیں، تھی تو اس کے اجزائے ترکیبی کیا تھے اور اس کے پڑھنے سننے کے بعد عوام و خواص کے ذہن میں ”اسلامی حکومت“ کی شبیہ کیا بنتی تھی۔ البتہ جدید دور میں رائج ”اسلامی حکومت“ کی اصطلاح کے عناصر ہر خاص و عام پر، کیا مسلم اور کیا غیر مسلم، عیاں اور بیاں ہے، اس کی شبیہ بھی واضح ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے،

Read more

کیا کورونا کی معاشی مار کے سبب قربانی کی عبادت میں رعایت مل سکتی ہے؟

ایک شخص نے خصی/بکرا پال رکھا ہے۔ عموماً وہ دو بڑے جانور اور ایک بکرے کی قربانی کیا کرتا تھا، اب ویسے حالات نہیں رہے۔ بکرے کی قربانی اپنے نام سے کرے تو اہلیہ کی دل شکنی ہوتی ہے اور اسے بیچ کر بڑے جانور میں حصہ لے تو تین حصوں سے زیادہ کی گنجائش نہیں نکل رہی ہے، پھر ماں باپ میں سے کوئی ایک رہ جاتا ہے۔ اب ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ وہ قرض لے

Read more

فیملی پلاننگ، اسلام اور ناخواندہ غریب مسلمان

رضا و رغبت کے ساتھ مسلم سماج کا ہر خاندان بلکہ ہر فرد بشر خواہ مرد ہو یا عورت فیملی پلاننگ کے اصول پر حسب سہولت جزوی عمل کرتا ہے، اس کے باوجود فکر و عمل کے دوہرے پن کا حال یہ ہے کہ عمومی طور پر اسے حرام بھی کہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے فیملی پلاننگ کو درست طریقے سے سمجھنے کی کبھی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی۔ اسے سماجی، معاشی، تعلیمی و

Read more

سر سید۔ مظلوم وبدنام سفیر علم

سر سید کی زندگی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ پیدائش 1817 سے 1838 تک جس میں وہ صرف اپنے لیے جیتے رہے۔ دوسرا حصہ 1838 سے 1857 تک جسے انہوں نے اپنے خاندان کے لیے جیا، اور تیسرا حصہ وہ ہے جسے انہوں نے صرف اور صرف قوم کے لیے وقف کر دیا۔ یہ تیسرا دور 1857 سے شروع ہو کر 1898 میں ان کی وفات پر ختم ہو گیا۔ حسین ترین اتفاق ہے کہ 1857 میں ان کی عمر چالیس سال تھی جب وہ قومی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر رہے تھے کیوں کہ یہی عمر قومی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے آئیڈیل بھی ہے۔

1857 کی پہلی جنگ آزادی اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات نے سر سید کے دل پر وہ کام کیا جو لوتھر کے دل پر بجلی کے گرنے نے کیا تھا۔ ان کے کسی دوست کا قول ہے کہ ان کی حالت اس شخص کی طرح تھی جس کے گھر کا ایک حصہ جل چکا ہو اور وہ باقی ماندہ حصہ کو بچانے کے لیے بے چین بھاگا پھرتا ہو۔ سر سید بے چین ہو اٹھے لیکن مسلمان صدیوں پر محیط غفلت سے بیدار ہونے کو تیار نہ تھے۔

Read more

سر سید کا مذہب: معروضی تجزیہ

سر سید احمد خان زندہ ہوتے تو زندگی کی 203 بہاریں دیکھ چکے ہوتے۔ ان کے انتقال کے بعد 122 خزائیں ان پر نوحہ کر چکی ہیں۔ انہوں نے جیتے جی جو شجر علم ومعرفت لگایا تھا وہ 145 سال پرانا، تناور، سایہ دار اور رنگ برنگے پھلوں پھولوں سے لدا ہوا اپنے لگانے والے کی عظمت پر کائنات کو مسلسل گواہ بناتا چلا جا رہا ہے۔ مدرسۃ العلوم علی گڑھ کا قیام 1875 میں اور محمڈن اینگلو اورینٹل کالج

Read more

محبت رسول ﷺ کے تقاضے

محبت رسول کے بلند آہنگ دعووں کے باوصف ہم ان کی شایان شان اظہار محبت کے اصول سے کورے معلوم ہوتے ہیں۔ دعوی جو بھی ہو، درست بات یہ ہے کہ یہ گراں قدر دولت ہر کس وناکس کے لیے ارزاں نہیں ہوتی، اور جنہیں حاصل ہوتی ہے وہ اپنے ڈھب سے پہچان لیے جاتے ہیں۔ سچی محبت کرنے والے عموماً ڈھنڈورا نہیں پیٹتے، محبوب کے نام کی تختیاں اپنے سینوں پر سجائے نہیں پھرتے، بلکہ چال ڈھال، رکھ رکھاؤ

Read more

فرانس میں مسلمان اور اسلام موجودہ صورت حال اور مثبت حکمت عملی

مڈل اسکول میں تاریخ کے استاد سمویل پاتی Samuel Paty نے 6 اکتوبر 2020 کو رسول اللہ ﷺ کا کارٹون طلبہ کو دکھایا، 16 اکتوبر کو 18 سالہ چیچن پناہ گزیں طالب علم عبد اللہ انظروف نے موصوف استاذ کو قتل کر دیا، عبد اللہ بھی موقع پر ہی پولیس کی گولیوں کا شکار ہو گیا۔ اسی سلسلہ کی کڑی کے طور پر 29 اکتوبر کو نیس شہر میں مزید تین فرانسیسی شہری قتل کیے گئے۔ ان واقعات کے بعد فرانس میں بسنے والے مسلمان سماجی و سیاسی مشکلات سے دوچار ہیں۔ زیر نظر مضمون میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ کہیں بھی اور خاص کر فرانس کے اندر ایسے حالات میں مسلمانوں کا رد عمل کیا ہونا چاہیے۔ اس سلسلہ میں موضوع بحث سے انصاف اور قاری کے تقریب فہم کے لیے فرانس اور یورپ کی جدید تاریخ پر سرسری نظر ڈالنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

Read more