طالبان، افغانستان کی آزادی اور عمران خان

عمران خان وزیراعظم پاکستان نے پاکستان میں یکساں نصاب کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے بارے میں کہا کہ آج انہوں نے غلامی سے نجات حاصل کر لی یہ وہ وقت ہے جب طالبان افغانستان پر دوبارہ قابض ہو چکے ہیں۔ اس کو افغان عوام کی فتح کے طور پر اس لیے پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ امریکہ اور نیٹو افواج وہاں سے اپنی افواج کا انخلا مکمل کر چکے ہیں۔ اگر یہ افغان عوام کی فتح ہے تو وہ اس سے خوفزدہ کیوں ہیں؟ افغان عام کو بار بار یہ خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ اس دفعہ طالبان کا انسانی حقوق کا ریکارڈ مسلسل چیک کیا جائے گا اور ان کے اوپر مسلسل نظر رکھی جائے گی کہ وہ کسی قسم کے انسانی حقوق کی پامالی نہ کریں۔

اس کے ساتھ ساتھ مسلسل ان کا soft image بلڈ کیا جا رہا ہے کبھی دکھایا جاتا ہے کہ وہ dodging cars میں بیٹھے ہیں، کبھی وہ Trempolin کے مزے لے رہے ہیں، ہیلی کاپٹر چلا رہے ہیں، پشتو اور انگریزی ملا کر بولنے پر واہ واہ ہو رہی ہے، بتایا جا رہا ہے کہ طالبان کتنے روشن خیال ہیں دیکھیں خاتون اینکر کو انٹرویو دے رہے ہیں، سی این این کی خاتون رپورٹر کو انہوں نے کچھ نہیں کہا، محرم کی مجالس ہو رہی ہیں اور وہ اس میں شرکت کر رہے ہیں اور اس سب سے ہمیں یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ طالبان سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں وہ ہمارے مسیحا ہیں جن کے پاس ہمارے سب مسائل کا حل ہے خاص بات یہ کہ وہ بالکل کرپٹ نہیں اور فوری انصاف فراہم کرتے ہیں۔ ہم جس دور میں رہ رہے ہیں وہ میڈیا وار کا دور ہے آدھی جنگ میڈیا پر جیتی جاتی ہے۔ اس لیے پاکستانی میڈیا مسلسل طالبان کے بارے میں ایسے خبریں دے رہا جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ طالبان کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہو چکا ہے اب وہ نئے نکور طالبان ہیں آپ کو ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں وہ اب انسانی حقوق کو ماننے لگے ہیں اور بدل گئے ہیں اس لیے ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں پاکستانی عوام کا کیونکہ حافظہ کمزور ہے اس لیے وہ تو خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں لیکن افغان عوام پکے مومن ثابت ہوئے ہیں اس لیے کہ مومن ایک ہی سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جا تا وہ طالبان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ان کو جدھر جگہ مل رہی ہیں وہ بھاگ رہے ہیں۔

نہ ہی ہمارا میڈیا ہمیں یہ بتانے کو تیار ہے کہ کلیرسا وارڈ سی این این رپورٹر نے اپنی پوری رپورٹ میں کیا کہا۔ ان کا یہ جملہ کہ طالبان عورتوں کے حقوق کے بارے میں جو باتیں کر رہے ہیں وہ اس کو عملی جامہ کیسے پہنائیں گے یہ ان کی سمجھ سے باہر ہے کیونکہ طالبان کے بقول بلوغت کے بعد لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ کسی قسم کی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتی تو وہ پڑھنے کے لیے کہاں جائیں گی یہ سمجھ سے باہر ہے۔ اسی طرح جب انہوں نے طالبان سے بات کرتے ہوئے ان کے حجاب کے نظریے کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے اپنی طرف اشارہ کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ عورتیں ایسی عبائیں پہنیں تو انہوں نے صاف انداز میں شٹل کاک برقے کا عندیہ دیا بغیر لگی لپٹی رکھے بغیر۔ افغان عوام اس زبردستی کے حق میں نہیں ان کو لباس، کام اور روزمرہ میں ویسی ہی آزادی چاہیے جس کے سب انسان خواہاں ہیں، بات کرنے کی، اپنے فیصلے خود کرنے کی آزادی۔

انسانی حقوق کی فہرست میں پہلا حق اپنی رائے کے اظہار کا ہے بغیر اس خوف کے، کہ آپ کو مار دیا جائے گا خوشیاں مناتے ہوئے پاکستانیوں اور طالبان کی ماڈرن فارم کی خوشخبری دیتے ہوئے پاکستانی میڈیا سے پوچھنا یہ ہے کہ کیا طالبان یہ حق افغان عوام کو دیں گے؟ کیا وہ اقوام متحدہ کی زیرنگرانی الیکشن کے لیے رضامند ہیں کہ جس جو افغان عام چنیں گے وہ حکومت اس کے حوالے کریں گے؟ نہیں وہ حکومت کو اپنا حق سمجھتے ہیں یہ نہ ہی انسانی حقوق کے اور نہ ہی اسلامی قوانین کے مطابق ہے اسلام میں یہ حق عوام کے پاس ہے اور جنیوا کنونشن کے مطابق بھی یہ حق عوام کا ہے اگر آپ یہ حق ہی نہیں دے رہے تو باقی حقوق تو بعد میں آتے ہیں۔

عمران خان صاحب ان سے اس لیے متفق ہیں کیونکہ ان کو خوشی ہے کہ پڑوسی ملک میں بھی ان کی طرح عوام کو ”جاہل عوام“ سمجھنے والوں کی حکومت ہو گی اور ان کی طرح وہ بھی جب تک اپنے سلیکٹر کے منظور نظر رہیں گے حکمران رہیں گے جے ہو کیپٹیلزم کی کہ ہار میں بھی جیت ہے اور جیت میں تو پھر دنیا نثار ہے۔ جن طالبان کی فتح کا جشن منا رہے ہیں یاد رہے کہ ان ہی کو ”سب سے پہلے پاکستان“ کے نعرہ کے تحت ہم نے پکڑ پکڑ کے امریکہ کے حوالے کیا تھا جب وہ امریکہ کے افغانستان پر حملے کے بعد بھاگ کر پاکستان آئے تھے اور خوب کمائی کی تھی عجیب زمانے کی کرشمہ سازی ہے کہ آج امریکہ بہادر کے ساتھ طالبان کی گتھ جوڑ کے بعد ہم خوش ہیں کہ امریکہ کو شکست ہوئی اور افغانستان آزاد ہوا کیسے؟

ہم تو خود پکڑ پکڑ کے طالبان امریکہ کے حوالے کر رہے تھے۔ یہ ویسی ہی آزادی ہے جو ہمیں میسر ہے انگریز چلے گئے اور ہم پر مخدوم، گیلانی، قریشی، کھر، لغاری، جمالی، پیرزادے مسلط کر گئے جن کی چنگل سے ہم آج تک آزاد نہیں ہو سکے اور ہمیں نوچ نوچ کے کھا رہے ہیں اور رہی سہی کسر ان نو دولتیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے فرزندان ارجمند پوری کر رہے ہیں جو انگریزوں سے بڑھ کر اپنی گردن میں سیسہ رکھتے ہیں، تن کر جھوٹ بولتے ہیں اور آرام سے پیسہ بناتے ہیں کہ جس دن حکومت گئی وہ بھی شوکت عزیز اور اشرف غنی کی طرح ڈالر سمیٹ کر نو دو گیارہ ہو جائیں گے۔

طالبان کی صورت میں امریکہ نے جو مسلسل مسئلہ چین، روس اور ایران کے گلے میں فٹ کیا ہے اسے ہمارے گلے میں فٹ ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی اگر ہم نے اچھے بچوں کی طرح بات نہ مانی امریکہ کیا چاہتا ہے اور چین اور امریکہ اقتصادی سپر میسی کی کس جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں یہ دیوار پر لکھی تحریر ہے یہ ہاتھیوں کی جنگ ہے جس میں سب کو رگڑا لگنے والا ہے اس لیے وزیراعظم صاحب بچارے افغان آزاد نہیں ہوئے بلکہ کنویں سے نکل کر کھائی میں گرے ہیں ان کا ملک، ان کا کلچر، ان کی موسیقی، شاعری ان کی نوجوان نسل سب تباہ ہو گئی۔ سب پرائی آگ میں جل گئے وہ کئی اداس نسلوں کا ملک ہے ایسا باغ جہاں سے خزاں جانے کا نام نہیں لے رہی بلکہ وہ خزاں ہمارا رخ کر رہی ہے۔ امید ہے کہ ہم افغانوں کا دکھ بانٹیں گے، زخموں پر نمک نہیں چھڑکیں گے اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کا سدباب کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words