مینار پاکستان، احساس کمتری اور محروم طبقہ

چودہ اگست کے حوالے سے بقول شخصے 400 مردوں کا ایک نہتی اور معصوم لڑکی سے مینار پاکستان کے میدان میں دست درازی اور جبر کا مظاہرہ، ہمارا سوشل میڈیا معاملے کو خوب اچھال رہا ہے، یو ٹیوب سے ڈالر کما رہا ہے، کیا کریں؟ نہ روزگار ہے، نہ تعلیم ہے، نہ تہذیب و تربیت کے لیے کوئی پلیٹ فارم ہے، بس ہاتھ میں ایک موبائل ہے، اسی کے ساتھ سب کچھ وابستہ ہے، رزق بھی اسی سے کمانا ہے، تعلقات اور رشتوں کو بھی اسی کے دم سے استوار رکھنا ہے، ڈگری کے لیے زوم کلاسز بھی اسی پر، تلطف، دکھ سکھ، مزہ، سیکس، غصہ، پیار محبت، سب کچھ تو یہی موبائل ہے، اسی سے سیلفیاں لینے والے مینار پاکستان پہنچے ہوئے تھے۔

کچھ سال پہلے سیالکوٹ میں دو نوجوانوں کو دن دیہاڑے پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس کے بعد ایک یونیورسٹی سٹوڈنٹ مشعال کو مشتعل ہجوم کے سامنے زندگی سے ہاتھ دھونے پڑے، اور اب یہ مینار پاکستان کے زیر سایہ ایک اکیلی لڑکی کے ساتھ ہجوم کی اجتماعی دست درازی؛ ان تینوں عوامل کے پیچھے اجتماع کی نفسیات کا ایک جیسا ہی حیوانی جذبہ کارفرما ہے۔ یہ اجتماعی حیوانی جذبہ کسی واقعہ کے سرزد ہونے کے دوران میں وجود نہیں پاتا، اس کی آگ انفرادی سطح پر کافی عرصہ اندر ہی اندر سلگتی رہتی ہے اور پھر وقت کے ایک ایسے لمحے میں یہ انفرادی جذبے بھڑک کر آگ بن جاتے ہیں۔ چند ذاتی مشترکہ محرکات ہوتے ہیں جو اجتماع کی آواز بن جاتے ہیں۔

ہمیں ان چار سو لوگوں اور ایک عورت کے واقعہ کو زیربحث نہیں لانا چاہیے کہ یہ تو نتیجہ ہے، اصل بات تو وہ عوامل ہیں جو اس نتیجے کا سبب بنے۔ پھر بات یہاں ختم نہیں ہو جاتی، یہ دیکھیں کہ اس ایک واقعہ کی وڈیو سوشل میڈیا پر بنانے اور زیادہ سے زیادہ وڈیو وائرل کرنے میں کتنے لوگ مصروف ہیں، وہ بھی ویوور بڑھانے کی تگ و دو میں ہیں اور عائشہ اکرم بیگ بھی وڈیو کے ذریعے ویوور بڑھانا چاہتی تھی اور ہے ؛ دونوں کا بنیادی مقصد ڈالر کا حصول ہے جو یو ٹیوب پیش کرتی ہے۔

بے شمار بیروزگار عورتیں اور مرد اس کام کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ؛ ساتھ شہرت بونس میں مل جاتی ہے۔ نوجوانوں کا جو ہجوم ٹک ٹاکر کو دیکھنے اکٹھا ہو رہا تھا، سیلفیاں لے رہا تھا تب تک سب ٹھیک چل رہا تھا مگر جب یہی ہجوم شعلہ فگن ہو گیا؛ اخلاقیات کے دائرے میں سے شغل ہی شغل میں باہر نکل گیا، تب کسی کے کنٹرول میں نہ ہا۔ انتظامی کنٹرول کے لیے دفعہ 144 اسی وجہ سے لگائی جاتی ہے، اشتعال انگیزی جنسی ہو یا مذہبی بنیادوں پر، اتفاق سے بنیادی انسانی سرشت ایک ہی ہے جو متحرک ہو کر اجتماع کو اکائی میں تبدیل کر دیتی ہے۔ تب ہر کوئی اپنی ذات کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا رہا ہوتا، ذمہ داری اجتماع پر عائد کی جاتی ہے، اس لیے گلٹ پیدا نہیں ہوتا۔ اگر کبھی ان افراد کو کہ جو ایسے اجتماع کا حصہ بنتے ہیں، پوچھا جائے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، سب آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے وکیلوں کے ایک اجتماع نے کارڈیالوجی ہسپتال پر حملہ کر دیا تھا تب وہ سب وکیل ایک جتھے کی اجتماعی آواز تھے۔ ایک طرف ڈاکٹر دوسری طرف وکیل؛ معاشرہ دو حصوں میں منقسم تھا۔ اب ایک جانب مرد اور دوسری جانب عورت؛ ان مردوں کے تصور میں اپنی اپنی عائشہ اکرم بیگ تھیں کہ جہاں ان کا بس نہیں چلتا تھا، بس خواہش پھلتی تھی۔ یوں سمجھ لیں چار سو مردوں نے چار سو عورتوں کے ساتھ دست درازی کی۔ فرق یہ ہے کہ باقی 399 ان کے خیالوں میں تھیں، مگر مینار پاکستان کے سائے میں صرف ایک ہی عائشہ اکرم ان کی دسترس میں تھی۔ ڈاکٹر مبارک علی مختلف مفکرین کا حوالہ دیتے ہوئے افراد کی اجتماعی نفسیات کے حوالے سے لکھتے ہیں :

”ہجوم میں اکثریت غریب اور محروم طبقے کی ہوتی ہے، جن کا معاشرے میں کوئی عزت و مقام نہیں ہوتا ہے۔ یہ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں، لہذا جب ہجوم کی شکل میں انہیں طاقت ملتی ہے تو وہ اپنی محرومیوں سے نکل کر اس کا بھرپور استعمال کرتے ہیں، عمارتوں کو آگ لگا کر اور توڑ پھوڑ کے ذریعے ان میں ایک نئی توانائی اور زندگی آ جاتی ہے“ ۔

مینار پاکستان کے زیر سایہ ایک اکیلی لڑکی پر حملہ آور ہونے والے افراد معاشرے کا وہی محروم طبقہ ہیں جن کو نہ روزگار ملا، نہ تعلیم ملی اور نہ عزت ملی؛ سڑک پر کہیں بھی دھر لیا جاتا ہے، دفتروں میں جائز کام کے لیے سودے بازی کی جاتی ہے، معاشرے میں انہیں کوئی مقام اور عزت نہیں دی گئی؛ یہ احساس محرومی کا شکار طبقہ عزت نفس کی توقیر کے ذائقے سے محروم ہے، ان کی عزت نفس کو روزانہ کی بنیاد پر تار تار کیا جاتا ہے، یہ کیسے کسی دوسرے کی عزت اور وقار کے محافظ بن سکتے ہیں۔

ان سے ایسی توقع فضول، بے معنی اور بر مبنی جہالت ہے۔ آنے والے وقت میں اس سے زیادہ بھی کچھ برا ہو سکتا ہے۔ جب موٹر وے پر ماں کی آبروریزی بچوں کے سامنے ہو رہی ہو؛ جب قصور کی زینب کی عصمت دری کے بعد قتل کر کے کچرے کے ڈبے میں پھینک دیا گیا ہو؛جب باپ اپنی بیٹیوں کے ساتھ، استاد مدرسے کے بچوں کے ساتھ سیکس کرتے ہوئے وڈیو بنا رہے ہوں، منصفین اپنی راتیں رنگین کرنے اور ان یادوں کو تازہ کرنے کے لیے وڈیو ریکارڈ کر رہے ہوں، تب آپ کے لیے مینار پاکستان کا واقعہ کوئی حیرت کا مقام نہیں ہونا چاہیے۔ یہ سب اشاریے ہیں، اعلانات ہیں۔

معاشرے میں افراد کی تہذیب و تعلیم کے لیے کوئی جامع منصوبہ بندی کر لیجیے، ابھی بھی وقت ہے، اگلے چند برسوں میں، ممکن ہے مینار پاکستان کے سائے تلے یہی احساس کمتری اور اپنے بنیادی حقوق سے محروم طبقہ کسی بھی عائشہ اکرم کی سرعام عصمت دری کا خدانخواستہ مرتکب ہو جائے اور ہم مینار پاکستان کی تقدیس کا ماتم کرتے رہ جائیں۔ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی؛ ابھی بھی وقت ہے، ماتم کرنے کے بجائے کچھ بہتری کے لیے اقدامات کیجیے، لوگوں کی عزت نفس بحال کیجئیے، انہیں احساس محرومی سے نکال کر معزز ہونے کا یقین دلائیے، نہیں تو اس سے بھی بد تر وقت کا انتظار کیجیے، جو زیادہ دیر نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words