وزیراعظم کو پی ٹی وی سے علم ہوا کہ پاکستان نے طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا ہے

تازہ ترین موضوع تو افغانستان ہی ہے۔

لیکن اس حوالے سے میں، بلغاریہ نژاد امریکی خاتون جولیانہ کی کہانی کچھ دن بعد سناﺅں گا۔ سفید فام لیکن امریکیوں سے کچھ مختلف نظر آنے والی خوش مزاج سی جولیانیہ نے واشنگٹن میں ویت نام اور کوریا کی جنگوں کا ایندھن بن جانے والوں کی خوبصورت یادگاروں کے بیچوں بیچ، محمود شام سمیت جنوبی ایشیا کے پانچ جید صحافیوں کی موجودگی میں میرے کندھے پہ اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہا تھا

”Mr. Siddiqui, you will certainly fall into a big trouble some day.“

”مسٹرصدیقی! تم ضرور کسی دن، کسی بڑی مصیبت میں پھنس جاؤ گے۔“

اُس وقت شام گہری ہو رہی تھی۔ یادگاروں میں ایستادہ مجسمے سیاہ پڑنے لگے تھے۔ جولیانہ انہیں ”شہدا“ کی یادگاریں قرار دے رہی تھی۔ دونوں بے مصرف جنگوں کی نذر ہو جانے والے امریکیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ شاداب قطعوں میں بنی مرصع اور مسجع یادگاروں کو دیکھتے ہوئے میرا دھیان افغانستان کی طرف چلا گیا جہاں نائن الیون کے بعد سے امریکی سپاہ طالبان کو نیست ونابود کرنے میں جُت چکی تھی۔ واشنگٹن کی اس دل گرفتہ سی شام کو آج پورے اٹھارہ برس ہوچلے ہیں۔ میں نے جولیانہ سے بڑی سنجیدگی کے ساتھ ایک معصومانہ سا سوال پوچھاتھا۔

”جولیانہ! کیا پاس پڑوس میں کوئی ایسا ہی سرسبز وشاداب قطع اور بھی ہے؟“

اُس نے بڑی بڑی غلافی آنکھیں سکیڑتے ہوئے پوچھا ”کیوں؟“

میں نے کہا۔” مجھے لگتا ہے کہ تمہیں، ویت نام اور کوریا کے بعد افغانستان سے آئے ”شہیدوں“ کے لئے بھی ایک یادگار بنانا پڑے گی۔“

میرے رفقا نے دبادبا سا قہقہہ لگایا۔ جولیانہ کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔ اُس نے براہ راست میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے، میرے بائیں کندھے پہ ہاتھ مارتے ہوئے وہ جملہ کہا جس کا میں نے ابتدا میں ذکر کیا ہے۔

واشنگٹن کے ”جانبازوں“ کی یادگاروں، اٹھارہ سالوں پہ محیط زمانے کی کروٹوں، میرے معصومانہ سے سوال اور جولیانہ کی دوستانہ سی سرزنش کو یہیں چھوڑتے ہوئے، میں آج اپنے مرنجاں مرنج ہمدم دیرینہ، سینیٹر مشاہد حسین سیّد کے ایک تروتازہ شگوفے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو کابل پر طالبان کے قبضے اور مینارپاکستان کے واقعے کے باعث میڈیا میں زیادہ جگہ نہیں پاسکا۔ یوں بھی، اپنی تاریخ سے ہمارا کوئی خاص رشتہ و پیوند نہیں۔ گزشت آنچہ گزشت، جو ہوا سو ہوا، رات گئی بات گئی ہمارا قومی لائحہ عمل ہے جس کو ہم نے ”مٹی پاﺅ“ کے دو لفظی مرکب میں سمودیا ہے۔ سو جب ہم پیچھے پلٹ کر دیکھتے ہیں تو سارے حادثے، سارے سانحے، ساری وارداتیں، ساری انہونیاں ”مٹی پاو“ کے انباروں تلے دبی ملتی ہیں۔ کسی قبر کے سرہانے کوئی کتبہ بھی نہیں کہ منوں مٹی تلے سوئے تاریخ کے کسی باب کا اتہ پتہ ہی چل سکے اور اس کے سرہانے فاتحہ ہی کہہ لی جائے۔ ”مٹی پاﺅ“ کو نصب العین بنا لینے کے بعد احساس زیاں بھی گہری نیند سو چکا ہے۔

دانے دنکے کی تلاش میں عمریں بسر کر دینے والے چالیس فیصد سے زائد غریب غربا ماضی سے بے نیاز اور مستقبل سے لاتعلق ہیں۔ اُن کی زندگی کا محور صرف ایک دن ہوتا ہے۔ ایک دن، جس کی صبح کو شام کرنا، اُن کے لئے جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا۔ آسودہ حال طبقے کے لئے سب سے بڑی ترجیح اپنی آسودہ حالی کا تحفظ اور اُسے خوش حالی میں بدلنا ہے۔ دولت مندوں کو اپنی تجوریاں فربہ کرنے کا جنوں ہے۔ میڈیا کو بناﺅ سنگھار کے لئے ہر روز اچھا خاصا سامان آرائش میسرآجاتا ہے۔ تھکے ہارے اہل سیاست نے پتوار پھینک کر خود کو سرکش موجوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔ جان لیوا حبس کے باوجود کسی کو بہ آواز بلند دعا مانگنے کا یارا بھی نہیں۔

سینیٹر مشاہد حسین سیّد نے دو تین دن قبل ایک ٹی وی پروگرام میں بتایا کہ ”یہ ماضی کی بات ہے۔ میں وزیراطلاعات تھا جب طالبان نے کابل پہ قبضہ کر لیا اور پاکستان اُن کی حکومت کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا۔ اس کی خبر پی۔ٹی۔وی پہ 9 بجے آئی تو چونکہ میں وزیر اطلاعات تھا تو مجھے وزیراعظم نوازشریف کا ٹیلی فون آیا کہ آپ نے ابھی خبر چلائی ہے کہ پاکستان نے طالبان حکومت کوتسلیم کر لیا ہے تو آپ کو یہ خبر کس نے دی ہے۔ میں نے کہا کہ ہمیں خبر تو فارن آفس نے دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا_ ”اچھا مجھے تو اس کا کوئی پتہ نہیں۔“ جب پتہ کیا تو فارن آفس نے بتایا کہ ہمیں ایک ادارے کی طرف سے کہاگیا کہ طالبان حکومت تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔ اب ہمیں اس طرح کے بے ہنگم فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔“

میں بھی اس ہوشربا کہانی کے پیچ وخم سے کسی قدر آگاہ تھا لیکن آگاہی رکھنے والے بہت سے دوسروں کی طرح چونچ پروں میں دابے بیٹھا تھا۔ اب جب کہ ایک نہایت معتبر اور بڑی حد تک محتاط رہنے والے سلطانی گواہ نے ڈنکے کی چوٹ پہ یہ راز فاش کردیا ہے تو مجھے بھی حوصلہ ملا کہ تاریخ کے اس ورق سے مزید نقاب سرکا دیا جائے

شکست خوردہ روسی افواج کے انخلا کے بعد بننے والی مجاھدین کی حکومتیں ان عزائم کوعملی جامہ نہ پہنا سکیں جو غیرملکی جارحیت سے نبردآزما نوجوانوں کے دل ودماغ میں رچے بسے تھے۔ ہمہ گیر مایوسی بڑھی تو مختلف جہادی تنظیموں سے وابستہ طلبا، ملاعمر کی قیادت میں جمع ہوئے۔ قندھار میں پہلا باضابطہ اجلاس کرنے والے ان طلبہ کی تعداد پچاس کے لگ بھگ تھی۔ چمن کے قریب پاک افغان سرحد کی ایک اہم چوکی سپین بولدک سے شروع ہونے والی تحریک نے سب سے پہلے قندھار ائیر پورٹ اور پھر قندھار پر قبضہ جمایا۔ پھر یہ قافلہ پھیلتا اور آگے بڑھتا گیا۔ ستمبر 1996 میں طالبان نے کابل میں قدم رکھے اور یوں پورا افغانستان اُن کے زیرنگیں آگیا۔ تب پاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ پھر نگران انتظامیہ آ گئی۔ فروری 1997 میں نوازشریف کی وزارت عظمی کا دوسرا دور شروع ہوا۔ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے وہ نفع ونقصان کے زائچے بنانے میں مصروف تھے۔ دوست ممالک سے اُن کا رابطہ تھا۔ طالبان کے حوالے سے وہ بھی نرم گوشہ رکھتے تھے۔ امریکہ اور مغرب کے متوقع ردعمل کو بھی بھانپ رہے تھے۔

یہ 25 مئی 1997 کا ذکر ہے۔ وزیراعظم نوازشریف اپنی اقامت گاہ کے ایک کمرے میں بیٹھے پی۔ٹی۔وی پر رات 9 بجے کا خبرنامہ دیکھ رہے تھے۔ شہ سرخی تھی کہ پاکستان نے امارات اسلامی افغانستان (طالبان) کی حکومت کو تسلیم کرلیا ہے۔ میاں صاحب کو دھکچا لگا کہ یہ کب، کیسے، کیوں کر، کس کے حکم سے ہوگیا ہے؟ ”میں پاکستان کا وزیراعظم ہوں۔ بے تحاشہ عالمی الجھنیں رکھنے والے، قومی اہمیت کے حامل اتنے بڑے فیصلے کا علم مجھے پی۔ٹی۔وی کے خبر نامے کے ذریعے ہو رہا ہے؟“ حیرت زدگی کی کیفیت میں انہوں نے مشاہد حسین سیّد سے رابطہ کیا۔ وزیراطلاعات نے بتایا کہ جی ہاں میں نے بھی یہ خبر سنی ہے۔ میں معلوم کرتا ہوں کہ یہ کہاں سے آئی اور کیسے چلی؟

کچھ دیر بعد مشاہد صاحب نے وزیراعظم کو بتایا کہ یہ خبر وزارت خارجہ سے آئی تھی۔ ایم ڈی پی۔ٹی۔وی کی یہ وضاحت درست ہے۔ میں نے خود بھی وزارت خارجہ سے اس کی تصدیق کی ہے۔“ میاں صاحب نے مشاہد حسین کے ذمے لگایا کہ وہ وزیرخارجہ گوہرایوب خان سے پوچھیں کہ اس خبر کا ماخد کیا ہے؟ شاہ جی کے استفسار پر وزیرخارجہ نے بتایا کہ ”یہ خبر ایک اہم ایجنسی کی طرف سے آئی۔ ایک اعلی منصب پر فائز اہل کار نے خود مجھ سے بات کی اور یہ خبر چلانے کے لئے کہا۔“ وزیراعظم کی برہمی مزید بڑھ گئی کہ وزیرخارجہ میری کابینہ کا رکن ہے اور جس ایجنسی کا نام لیا جا رہا ہے وہ بھی براہ راست میرے ماتحت ہے۔ پھر مجھ سے بالا بالا یہ سب کچھ کیسے ہو گیا؟ انہوں نے اپنے پرنسپل سیکریٹری انور زاہد سے کہا کہ وہ وزیرخارجہ سے مل کر تفصیلات پوچھیں۔ تفصیلات کیا آنا تھیں۔ اس بات کی تصدیق ہو گئی جو مشاہد حسین سیّد پہلے بتا چکے تھے۔

ابھی نوازشریف کو دوسری بار وزارت عظمی کامنصب سنبھالے بہ مشکل تین ماہ ہوئے تھے۔ آغاز سفر میں ہی ملک کے منتخب چیف ایگزیکٹو کو اپنی ”حدوں“ میں رکھنے کی اس واردات نے میاں صاحب کو برہم کر دیا۔ چیف آف دی آرمی سٹاف، جنرل جہانگیر کرامت سے بات کی گئی تو انہوں نے ذمہ داری متعلقہ ایجنسی پر ڈال دی۔ ایجنسی کے سربراہ سے پوچھا گیا تو ملبہ ماتحت کے سر ڈال دیا گیا۔ وزیر خارجہ سے وضاحت چاہی گئی تو اس نے وہی کہانی سنا دی۔ میاں صاحب نے اگلے ہی دن قریبی رفقا کا ایک مشاورتی اجلاس بلایا۔ ساری صورت حال اُن کے سامنے رکھی۔ تقریباً وہی تمہید باندھی جو وزارت عظمٰی کے ہر دور میں متعدد مواقع پر باندھتے رہے۔

انہوں نے فیصلہ سنایا کہ ”اس معاملے کی پوری چھان بین ہونی چاہیے لیکن ایک بات اہم ہے کہ وزیر خارجہ کا رویہ ناقابل برداشت ہے۔ گوہرایوب صاحب کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ ایسا کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ اگر کسی نے کہا بھی تھا تو وہ بتا دیتے کہ اتنی بڑی بات میں وزیراعظم کی منظوری کے بغیر نہیں کہہ سکتا۔“ میاں صاحب نے کہا کہ ”اس کے بعد انہیں اپنے منصب پر برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔“ شرکا کی اکثریت نے رائے دی کہ ”اس معاملے کا تعلق محض داخلی بدانتظامی، دفتر خارجہ کی نااہلی، کسی وزیر کی خودسری یا ادارہ جاتی کشمکش سے نہیں، اس کا تعلق امور خارجہ کی حساسیت سے ہے۔ پیغام یہ جائے گا کہ وزیراعظم نوازشریف، طالبان حکومت تسلیم کرنے کے خلاف تھے لہذا انہوں نے وزیر خارجہ کو معزول کر دیا تو اس کا فوری اثر پاک افغان تعلقات پر پڑے گا۔ طالبان کے ساتھ کشیدگی پیدا ہو جائے گی۔ اپوزیشن کو بھی پراپگنڈے کا موقع ہاتھ آجائے گا۔ روایتی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک نیا محاذ کھل جائے گا۔ سو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مصلحت غالب آگئی۔ وقتی طورپر گوہر ایوب خان کے خلاف کارروائی ٹل گئی _ لیکن کچھ عرصہ بعد اُنہیں وزارتِ خارجہ سے ہٹا کر پانی اور بجلی کی وزارت سونپ دی گئی۔ وزارت خارجہ سرتاج عزیز کے حصے میں آ گئی۔

ہماری بیاض سیاست کے کسی صفحے پہ رقم یہ چھوٹی سی کہانی، بس کہانی ہی رہے گی۔ یہ پس پردہ تھی تو بھی قوم کا کچھ زیاں نہیں ہو رہا تھا اور اب منظر عام پہ آ گئی ہے تو بھی کوئی بھونچال نہیں آئے گا۔ ”مٹی پاﺅ“ کلچر کے سبب جہاں سقوط ڈھاکہ جیسا پہاڑ جتنا سانحہ، گورستانِ ماضی میں گم ہوگیا ہے وہاں اس نومولود انکشاف کی ننھی منی قبر کس کھاتے میں آتی ہے؟

تاہم ممکن ہے کہ اس کہانی سے کچھ سوالوں کی گنجلک گرہیں کھل سکیں۔ مثلاً یہ کہ نوازشریف کی ”اسٹیبلشمنٹ“ سے کیوں نہیں بنتی؟ ہر بار اس کا جھگڑا کیوں ہو جاتا ہے؟ کیا توتکار کا آغاز اس کی طرف سے ہوتا ہے یا پہلا تیر کسی اور کمین گاہ سے آتا ہے؟ وہ ”ریاست بالائے ریاست“ کا گِلہ کیوں کرتا ہے؟ ممکن ہے اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں بھی کچھ مدد مل سکے کہ وہ وزیر خارجہ تعینات کرنے کے بجائے، وزارت خارجہ کا قلم دان اپنے پاس رکھنا کیوں پسند کرتا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words