عائشہ اکرم اور ہمارا اجتماعی رویہ

پچھلے چند دنوں سے عائشہ اکرم اور مینار پاکستان کو لے کر جو مذمتوں کا ایک لا متناہی سلسلہ فیس بکی توشہ خانے سے برابر ماتم کناں ہے وہ حقیقت میں انسانیت کا سر شرم سے جھکا دینے کے لیے کافی ہے۔

ایک تن تنہا خاتون کے اردگرد بھیڑیوں کا جم غفیر اس بات کا غماز ہے کہ عورت مظلومیت کے آخری درجے سے بھی نکال باہر کر دی گئی ہے۔ اور یہ وحشت ناک درندگی اس بات کی چغلی کھا رہی ہے کہ آنے والا وقت عورت قبیلہ کے لیے کوئی بھی اچھی خوش خبری نہیں لا سکے گا۔

خشیت کے در و بام پر وحشت کے چراغوں سے اٹھنے والا دھواں، عورت قبیلہ کے گرد قائم کردہ حصار کی دیواروں کو سیاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اور کمزور بھی کر رہا ہے۔

47 کی آزادی کے وقت جب عزت کے جلادوں نے عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہا تو انہی غیرت کی پیکر پاک دامن عورتوں نے اپنی عصمت بچانے کے لیے اپنے آپ کو زندہ درگور کر لیا اور اپنے آپ کو دریاؤں کے حوالے کر دیا اس خونی طوفان کے تھمنے کے بعد جب نیرو چین کی بانسری بجانے لگا تو اس وقت ایک لمحے کے لیے یہ خیال دل میں کوندا کہ یہ ظلم و بربریت کی شاید آخری داستان ہوگی۔ لیکن اس بے رحم اور ظالم وقت نے یہ ثابت کر دیا کہ

تاریخ کبھی مرتی نہیں ہے۔ بلکہ تاریخ ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے
بہت لاچارگی کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ تاریخ آج پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔

اس جم غفیر میں 400 مرد نما وحشی درندوں نے ہر مرد کی غیرت اور مردانگی پر سوالیہ نشان لا کھڑا کر دیا ہے۔

اس بیباکی اور دیدہ دلیری کے پیچھے جہاں اور بہت سارے عوامل کار فرما ہیں وہی قانون کی نرم گوشی پر بھی سوال اٹھتے ہیں کیونکہ ”ہمارا سسٹم بچوں کے ڈائپر کی طرح ہو گیا ہے، کہیں سے تھوڑا گیلا اور کہیں سے تھوڑا ڈھیلا۔“

غریب آدمی کی کوئی سنتا نہیں ہے اور جو تھوڑا بہت اثر و رسوخ ادھار مانگ کر اپنا کیس جج کی ٹیبل تک پہنچاتا ہے تو پھر تاریخوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ، اتنی تاریخیں پڑتی ہیں کہ آخر پہ وہ کیس ایک ”تاریخی کیس“ بن جاتا ہے

اور آخر پہ پھر وہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ”ڈھاک کے تین پات“

اور اس موجودہ صورتحال میں جو سب سے زیادہ اذیت ناک بات ہے وہ یہ کہ بحیثیت مجموعی پڑھے لکھے ہونے کے باوجود ہماری سوقیانہ اور اخلاق سے عاری گفتگو ہے وہ یہ کہ

”وہ وہاں گئی کیوں تھی؟ وہ ویڈیو بنانے کیوں گئی؟ وہ اکیلی کیوں گئی؟ وغیرہ وغیرہ

یہ چند ایک ایسے سوال ہیں جو ہمیں جہالت کے سب سے اعلیٰ درجے پہ فائز کرتے ہیں

اس سے ہٹ کر کل کلاں اگر ایک مجبور لڑکی اپنے باپ کی دوا لینے کے لیے نکلتی ہے اور اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جاتا ہے تو تب بھی کچھ عالم فاضل لوگوں کا یقیناً یہ بیان ہوگا کہ وہ اکیلی دوا لینے نکلی ہی کیوں۔ ؟ اور ایسی بازاری سوچ کے حامل افراد کو لازماً بغیر چلو کے ہی مر جانا چاہیے

ہم جتنے زیادہ آنلائن ہوتے جا رہے ہیں، انسانیت اتنی ہی زیادہ آف لائن ہوتی جا رہی ہے ”

زیادتی کے پچھلے تمام واقعات کو پس پردہ ڈال کر اگر آپ صرف 2021 کے واقعات کی لسٹ مرتب کر لیں تو وہی آپ کو ڈر کا ہارٹ اٹیک کروانے کے لیے کافی ہوگی۔

ایک مجموعی رویہ یہ بھی پوری طاقت کے ساتھ تشکیل پا چکا ہے کہ

لنڈے کے کچھ ادیب ایسے واقعات سے حظ اٹھانے کے لیے، بصیرت کا چولا بہت سمجھداری کے ساتھ پہن کر میدان میں اترتے ہیں اور اشہب قلم کی جولانیوں سے دو چار روز چیخ چیخ کر انسانیت کا بھاشن دیتے ہیں، اخبار کے پنے کالے کرتے ہیں اور پھر اپنے حصے کی ہڈی لے کر غائب ہو جاتے ہیں۔

لیکن اب اس ذلالت کو ختم ہو جانا چاہیے۔ عورت قبیلہ کو اب اگر اپنی عصمت ان سفاک درندوں سے بچانی ہے تو اپنی بقا کی جنگ خود لڑنا ہوگی اور ہر محاذ پر لڑنی ہوگی۔

کیونکہ مسیحاؤں کی منتظر اس لاوارث قوم کو یہ بات اچھی طرح سے ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ وہ زمانے لد گئے جب کسی مظلوم عورت کی ایک آواز پر سینکڑوں میل کی دوری سے مسیحا ”لبیک“ کہتے ہوئے دوڑ پڑتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
ذیشان چودھری، پنجاب یونیورسٹی کی دیگر تحریریں