کیا آپ بیٹے کے والدین ہیں؟ تو آپ کو ڈرنا چاہیے

میں پانچویں کلاس میں پڑھتی تھی جب اپنے چھوٹے بہن بھائی اور محلے کے بچوں کے ساتھ اسکول سے گھر آیا کرتی تھی۔ صبح اسکول چھوڑنے کی ذمہ داری ابو کی تھی واپسی پر بچوں کا گینگ مل کر آ جاتا تھا اس پر بھی سو ہدایات تھیں کہ راستے میں رکنا نہیں ہے، دکان پر جانا نہیں ہے بس سیدھا گھر آنا ہے۔ اسکول اور گھر کا فاصلہ پیدل پانچ منٹ کی مسافت پر تھا۔ ایک دن گلی میں داخل ہونے سے ذرا پہلے ایک بائیک والا بہت قریب سے گزرا اور مجھے ہاتھ لگا کر چلتا بنا۔

میرے ساتھ جو لڑکی تھی وہ سہم گئی اور اس نے کہا کہ کیا اس نے تمہیں مارا ہے؟ میں سن ہو چکی تھی لگتا تھا جیسے کسی گہرے کنویں میں گرتی جا رہی ہوں۔ گھر پہنچی تو بہت دیر چپ رہی جب امی نے نوٹس کر لیا کہ ان کی باتونی بیٹی آج گم سم ہے تو انھوں نے پوچھ گچھ کی اور میں نے رو رو کر احوال بتایا۔ شام میں امی ابو نے آپس میں بات کی اور پھر امی نے چھٹی کے ٹائم اسکول آنا شروع کر دیا۔ ایک سال بعد ہمارا اسکول بدل گیا اور وین میں آنا جانا شروع کر دیا۔

لیکن یہ واقعہ ذہن میں نقش ہو گیا وہ شخص جس کی عمر اس وقت بھی چالیس سال کے قریب ہوگی اس کے چہرے کی کرختگی اور آنکھوں کی ہوس مجھے نہیں بھولی۔ کئی برس گزر گئے کالج سے ایک دن واپسی پر میری دوستیں میرے گھر ساتھ آ رہی تھیں میری دونوں دوستیں عبایہ پہنتی تھیں اور نقاب بھی لگاتی تھیں۔ ہم بس سے اترے اور ایک گلی سے گزر کر اپنی گلی میں جانے کے لئے نکلے تو مجھے اپنی دوست کے چیخنے کی آواز آئی جو کچھ قدم پیچھے رہ گئی تھی۔

اسے ایک بائیک والے نے بری طرح نوچا تھا اور اب وہ بھاگنے کے لئے بائیک موڑنا چاہ رہا تھا کیونکہ سامنے سے اسے ایک اور بائیک آتی نظر آئی اسے یہ محسوس ہوا کہ اسے پکڑا جاسکتا ہے لیکن جب وہ تیزی سے مڑنے لگا تو بائیک سلپ ہو گئی۔ اس روز مجھے برسوں پرانا واقعہ یاد آیا اور اپنی روتی ہوئی دوست بے بس نظر آئی میں نے اپنا بیگ اٹھا کر اس شخص کو گھما کر دے مارا جو اس کے چہرے پر لگا ابھی وہ سنبھلنا نہیں تھا کہ وہی پڑا ہوا ایک بڑا سا پتھر میں نے اسے اٹھا کر دے مارا مجھے لگا کہ اسے سنگسار کر دینا چاہیے مجھ پر جنون سوار تھا اور اس بات کا دکھ بھی کہ وہ جس بائیک والے سے ڈر کر بھاگنے جا رہا تھا وہ تو مدد کے لئے رکا ہی نہیں تھا۔

اس کارروائی کو فلیٹ کی ایک گیلری سے خاتون دیکھ رہی تھیں جنھوں نے شور ڈال کر فلیٹ کے کمپاونڈ میں کھیلنے والے لڑکوں کو گلی میں دوڑایا جب وہ لڑکے آ گئے تو میں نے اس بد ذات کو ان کے حوالے کر دیا اور اپنی دوستوں کے ہمراہ گھر کی جانب نکل گئی۔ پھر کیا ہوا نہیں معلوم لیکن امی کو شام بتانا پڑا کہ میری دوست کے ساتھ آج کیا ہوا ہے جو بہت شوق سے اجازت لے کر میرے گھر آئی تھی کیونکہ وہ سارا وقت گھٹ گھٹ کر روتی رہی۔ وہ بہت عرصہ اس واقعے کے سبب ذہنی صدمے کا شکار رہی اور ان ہی الجھنوں کے ساتھ اس کی شادی ہوئی جس سے نکلنے میں اس کے شوہر نے اس کی بہت مدد کی۔

میں جب پہلی بار نوکری کے لئے نکل رہی تھی تو میرے والد (مرحوم) نے مجھے بلایا اور سمجھایا کہ زمانہ بہت خراب ہے لیکن تم نے بہت بہادری سے اپنا دفاع کرنا ہے ڈرنا نہیں ہے۔ مجھے نوکری کرتے ہوئے آج گیارہ برس ہو گئے ہیں اور ان برسوں میں، کچھ ایسے مواقع آئے جب مجھے بے قابو ہجوم، بدتمیز لوگوں، اخلاق باختہ اشاروں القابات، گھٹیا اور غلیظ سوچ کے انسانوں کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن میں نے اس لئے ان کا مقابلہ کیا کہ مجھے میرے گھر کے مرد نے یہ سکھا دیا تھا کہ تم نے اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی پر چپ نہیں لگانی اس کا جواب دینا ہے۔

کسی بھی ہونے والے ناخوشگوار واقعے کا ذمہ دار خود کو نہیں سمجھنا نہ خود کو کوسنا ہے بلکہ یہ بات ذہن میں رکھنی ہے کہ تم انسان ہو، جہاں تم ہو وہاں پر تمہاری موجودگی، تمہارا حق، تمہاری ضرورت اتنی ہی اہم ہے جتنی ایک مرد کی ہے اور اگر کوئی مرد اپنی نام نہاد حاکمیت اور بالا دستی، زور طاقت سے زبردستی تم پر مسلط کرنے کی کوشش کرے تو تمہیں اپنے دفاع کا پورا حق ہے۔

عجیب سی بات ہے کہ آج سے برسوں پہلے ابو نے کہا کہ بیٹا زمانہ خراب ہے لیکن اس کے ڈر سے بیٹیوں کو تالے لگا کر تو نہیں رکھ سکتے اس لیے خود کو مضبوط بنانا ہوگا اور دو روز قبل مینار پاکستان والے واقعے پر میری والدہ نے آہ بھرتے ہوئے کہا کہ زمانہ تو شروع سے خراب ہے یہاں تک کہ انھوں نے اپنے بچپن میں کچھ ایسا دیکھا سنا تو اس کا اظہار بہت کرب سے کیا۔ مجھے سمجھ یہ آیا کہ زمانہ ازل سے خراب ہے لیکن اسی خراب زمانے میں پلنے بڑھنے والا میرا باپ مجھے سکھا گیا کہ تم نے کیسے جینا ہے۔

اسی خراب زمانے میں وہ مرد بھی پرورش پائے جن کے ساتھ میں، برسوں سے کام کر رہی ہوں اور خود کو محفوظ تصور کرتی ہوں اور وہ اچھے باپ بھی ہیں اور بھائی، بیٹے بھی۔ لیکن ایک بات آج میں بہت شدت سے محسوس کرتی ہوں کہ دور حاضر میں ایک چیز جو بہت خطرناک ہے وہ یہ کہ ایسے بھیڑیے اور نفس کے غلام جو پہلے اکا دکا تھے اب وہ ہر جگہ ہیں پہلے کسی ایسے غلیظ شخص کو اپنی تسکین کے لئے سنسان گلی کا چکر لگانا پڑتا تھا جہاں اسے گزرتے ہوئے کوئی اکیلی لڑکی، بچی یا عورت مل جائے تو وہ اپنی ہوس کو چند سیکنڈز میں پورا کرنے کو ہی بڑی اچیومنٹ سمجھ لیتا تھا۔

آج ایسے لوگ ہر گلی، ہر نکڑ، ہر محلے، ہر دفتر، ہر بازار، ہر تفریح گاہ کے ساتھ ساتھ میرے آپ کے گھر کے اندر تک گھس چکے ہیں۔ جانتے ہیں کیسے؟ ہم نے چوروں سے بچنے کے لئے دیواریں اونچی کر لیں، دروازوں پر نئے تالے لگا لئے، باہر سی سی ٹی وی کیمرا بھی لگائے لیکن اس سوشل میڈیا پر بیٹھے یہ بھیڑیے روز ہماری بچیوں، بہنوں، عورتوں کی عزتیں تار تار کرتے ہیں کیونکہ سب کے ہاتھ میں موبائل ہے۔ وہ ایک بائیک پر آنے والا غلیظ شخص جو آپ کی بیٹی کے جسم کو نوچ کر گزر جائے وہ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک نہیں بھولا جاسکتا یہاں تو روز عورتوں، لڑکیوں کے جسم پر اپنے غلیظ تبصروں اور تشبیہات سے چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے۔

آپ نہیں جانتے کہ آپ کا بیٹا جس کی تعلیم و تربیت پر ماں نے اپنی زندگی اور باپ نے اپنی جوانی اور جمع پونجی لٹا ڈالی ہے وہ سوشل میڈیا پر گمنام آئی ڈی بنا کر لوگوں کی بیٹیوں کو روزانہ زبانی کلامی ریپ کرتا ہے، دھمکیاں دیتا ہے، ہراساں کرتا ہے اور یہ اس کی سب سے بڑی اچیومنٹ ہوتی ہے۔ وہ وہاں بتاتا ہے کہ اے عورت تو اپنے حق کے لئے بات کیسے کر سکتی ہے؟ تیرا کام تو چپ رہنا ہے تو بولتی ہے تو مجھے صرف فاحشہ، گشتی اور جانور جیسی نظر آتی ہے۔

یہی بیٹا خاندان میں معتبر اور اعلی کردار کا حامل سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ خاندانی محفلوں میں اور سوشل میڈیا پر کئی مواقعوں پر یہ کہتا ہوا بھی پایا جاتا ہے کہ اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے وہ کسی دین نے نہیں دیا۔ وہ یہ بتاتا ہے کہ عورت اگر پردہ کرے گی تو مرد بھی نظر نیچی رکھے گا بس یہاں اس کا لیکچر تمام ہوجاتا ہے کیونکہ یہ واضح پیغام ہوتا ہے کہ جو عورت پردہ نہیں کرتی وہاں میں نظر نیچی نہیں کروں گا بلکہ وہ عورت معاشرے میں ذمہ داری کے بجائے موقع سمجھی جائے گی۔

یہ منافقانہ رویہ، دوہرا معیار، دو چہرے رکھنے والے بیٹے اپنے والدین کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں۔ کیونکہ حادثے اتنے ہوچکے کہ اب لڑکیوں اور عورتوں کو اتنی سمجھ آ چکی ہے کہ انھیں بولنا ہے، چیخنا ہے، چلانا ہے چاہے ان کی آواز کو دبانے کے لئے کتنے ہی اور الزام لگائے جائیں لیکن یہ زمانہ بہت خراب ہے کیونکہ آپ کے گھر میں بیٹا ہے جو اب بڑا ہو رہا ہے اور اسے کل کو کسی کا شوہر بننا ہے اور پھر باپ بننا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ نے اس کے جسم کو طاقتور بنانے کے لئے اسے اچھا کھلایا پلایا ہو، سہانے مستقبل اور اعلی نوکری کے حصول کے لئے اچھے تعلیمی اداروں سے پڑھا لکھا دیا ہو۔ اسے دور حاضر کی تمام سہولیات بھی مہیا کی ہوں لیکن ایک چیز دینا بھول گئے ہوں؟

یہ بتانا بھول گئے ہوں کہ بیٹا تم جب باہر نکلو گے تو کسی کی بہن بیٹی بھی باہر نظر آئے گی جیسے تم ہماری اولاد ہو وہ بھی کسی کی اولاد ہوگی، مان ہوگی اور اپنے والدین کے لئے سب کچھ ہوگی۔ وہ تمہارے ساتھ پڑھے گی، سفر کرے گی، کام کرے گی، ہنس کر بات بھی کرے گی، شاید تم سے کسی موقع پر کوئی مدد بھی طلب کرے گی، وہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی ہو سکتی ہے تم نے اسے یہ احساس دلانا ہے کہ تم عورت ذات کی عزت کرتے ہو چاہے وہ کوئی بھی ہو، جہاں بھی ہو، جیسی بھی ہو، جس بھی عورت کا تم سے واسطہ پڑے وہ یہ دل میں اطمینان رکھ سکے کہ مجھے اس کے ہوتے ہوئے کبھی اپنا آپ غیر محفوظ نہیں لگتا۔

اگر تم ایسا نہ کرسکے تو ہماری ساری محنت رائیگاں چلی جائے گی۔ کوئی بھی والدین کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کے بیٹے کی وجہ سے کسی کی بھی بیٹی کی عزت آبرو پر حرف آئے، ان کے بیٹے سے کسی سڑک، چوراہے، بازار، دفتر یا تفریح مقامات پر کوئی عورت ہراساں ہوں، وہ اس کے گھورنے سے اپنے سراپے کو بار بار دیکھے، وہ یہ ڈر محسوس کرے کہ نہ جانے اب میرے ساتھ کیا ہوگا؟ یا تو مجھے خدا بچا لے یا پھر اٹھا لے، کسی کی بھی بہو، بیٹی برسوں خوف میں مبتلا رہے اس کے لئے آپ کو اپنے بیٹوں سے بات کرنا ہوگی کیونکہ جو جتھہ اب تیار ہو چکا ہے ان سے آج سے دس پندرہ سال پہلے ان کے والدین کو بات کرنی چاہیے تھی جو نہیں ہو سکی تب ہی آج یہ اتنے زیادہ ہیں کہ ہر عورت خود کو غیر محفوظ تصور کر رہی ہے۔

یہ اگر مگر، ایسا ویسا، عورت یہاں کیوں تھی، وہاں کیوں تھی، ایسی کیوں تھی کی بحث سے نکلیں۔ آپ بیٹے کے والدین ہیں تو آپ کو ڈرنا چاہیے اب آپ کے سر اٹھا کر رہنے کا نہیں سر جھکا کر رہنے کا وقت ہے کیونکہ زمانہ تو شروع سے خراب تھا کہیں ایسا نہ ہو کہ اسے مزید خراب کرنے میں آپ کا بیٹا بھی کہیں نہ کہیں اپنا حصہ ڈال رہا ہو یا ارادہ رکھتا ہو اسے آج سے روکیں ورنہ یہ آگ آپ کے گھر کی عورتوں کو بھی جھلسا دے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words