گر تم برا نہ مانو

پاکستان کے اندرونی اور بیرونی حالات کچھ ایسے ہیں کہ ان کے متعلق بہت سے موضوعات پر لکھا جا سکتا ہے۔ بیرونی حالات پر لکھنا ہو تو افغانستان، امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات بارے لکھا جا سکتا ہے۔ اور اگر ملک کے اندرونی معاملات پر بحث کرنی ہو تو ٹک ٹاکرز کے کی خبروں کو تحریر میں لانا جا سکتا ہے۔ لیکن ان سب موضوعات پر تو بہت سے لکھاری ہر فورم پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں جو مسئلہ اہم ہے وہ ہمارے رویوں کا ہے حکومت عوام اور ادارے سب اپنے روزمرہ مسائل کو حل کرنے کے طریقے کا ازسرنو جائزہ لیں۔

عوام کا کا رویہ کچھ اس طرح کا ہو گیا ہے کہ وہ اپنے سامنے جرم ہوتا دیکھتے ہیں اس کی ویڈیو بنانا اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں۔ بندہ سڑک پر تڑپتا رہے یہاں تک کہ زندگی کی بازی ہار جائے اس کی ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کرنا ہمارا اولین کام ہے۔ اس معاملے پر حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو اس نے بھی یہ وتیرہ بنا رکھا ہے کہ جب تک سوشل میڈیا پر شور نہ مچ جائے اس نے خراٹے ہی لیتے رہنا ہے۔ اب اداروں کا ذکر کروں تو ان کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں دادرسی کے لیے پولیس، ریونیو، انکم ٹیکس، ایکسائز یا کسی بھی ایسے ادارے میں جایں جہاں عوام کو اپنے کاموں کے سلسلے میں جانا پڑتا ہے وہاں پر بیٹھے صاحب بہادر کی جب تک خدمت نہ کی جائے ممکن نہیں کہ آپ کا مسئلہ حل ہو جائے۔

عوام کے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر نئی حکومت نے بہت دعوے کیے لیکن نتیجہ صفر ہی ریا۔ اسی وجہ سے عوام کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے ہوں یا اسپتال یا پھر عدالت میں پیش ہونے والے سائلین سب شکایت کرتے ہی نظر آ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کئی شکایت سیل تشکیل دینے کے باوجود مسائل جوں کے توں ہیں۔ ان اداروں کی کارکردگی کا جائزہ ایسے لیا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد میں ایک سابق سفیر کی بیٹی کا قتل ہوا اور آج کے دن تک اس کی خبریں چینلز اور سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں لیکن دوسری طرف شکر گڑھ کی ایک غریب خاتون جس نے اپنے خاوند کے تشدد سے تنگ آ کر اور اپنی جان بچانے کے لیے گھر کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی جس کے باعث ٹانگوں کی ہڈیاں تڑوا بیٹھی۔

اس غریب بے سہارا خاتون کو اس کے سسرال والوں نے اس کی دوسری بہن کو طلاق کی دھمکی لگا کر خاموش اور صلح پر مجبور کر دیا کیا یہ حوا کی بیٹی نہیں تھی؟ جی یہ حوا کی بیٹی ہی تھی لیکن اس کا باپ با اثر شخص نہیں تھا۔ اس لیے وہ صلح پر مجبور ہوئی۔ اسی طرح ہم کسی بھی خبر کو لے کر سوشل میڈیا پر شور مچا دیتے ہیں اس میں عوام اور میڈیا کا رویہ خطرناک صورتحال پیدا کر دیتا ہے۔ ہم کوئی بھی واقعہ رونما ہوتے ہی اس کے نتائج کا مطالبہ کرتے ہیں ایک دن گزر گیا دو دن گزر گئے کی گونج شروع ہو جاتی ہے اور اگر متعلقہ ادارے کی جانب سے تاخیر ہو تو ہم اپنی تفتیش شروع کر کے قیاس آرائی پر مبنی خبر چلا دیتے ہیں اور یہ سب کچھ اپنی ریٹنگ کو بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

اسی طرح کچھ روز سے مینار پاکستان پر ایک ٹک ٹاکر خاتون خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے اس کے ساتھ ہونے والے واقعہ کا جو بھی نتیجہ نکلے لیکن ایک بات طے ہے کہ پوری قوم افغانستان کے حالات پر تبصرے میں مصروف ہے۔ اور ایسے میں حکومت وقت خوش ہے کہ عوام نہ ہی مہنگائی پر شور مچا رہے ہیں اور نہ اپنے روزمرہ کے مسائل پر آواز بلند کر رہے ہیں۔ یہ ہیں وہ رویے جن کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے عوام کو اپنے مسائل حل کی آواز خود بلند کرنی ہو گئی۔ پاکستانی سیاست میں سیاست دان عوام کے حقوق کی اس حد تک ہی آواز بلند کرتے ہیں جہاں تک ان کے اپنے مفادات کو خطرہ نہ ہو

Comments - User is solely responsible for his/her words