اسلام اور اقتصادیات۔ تبصرہ کتاب

ہمارے ہاں یہ نعرہ ہر طرف گونجتا رہتا ہے کہ ”اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے“ اور یہ مطالبہ بھی کہ ”ملک کے اقتصادی نظام کو اسلامی اصولوں کی بنیاد پر استوار کیا جائے“ ۔ عملی صورت حال البتہ یہ رہی ہے کہ یہ معاملات اکثر و بیشتر کھوکھلے نعروں تک محدود رہے۔ اس کا ایک سبب اصحاب منبر اور ماہرین اقتصادیات کے درمیان مکالمے کا نہ ہونا بھی ہے۔ عملی سطح پر جدید اقتصادی و مالیاتی نظام اور مذہبی تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی اگر کوئی کوشش نظر آتی ہے تو وہ بینکاری کے نظام کو ”مسلمان“ کرنے کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ محض انگریزی اصطلاحات کو عربی نام دینے کا کھیل ہے اور درحقیقت اسلامی اور غیر اسلامی بینکنگ میں کم از کم گاہکوں کو کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ اس تنقید کے صائب ہونے سے قطع نظر، یہ حقیقت ہے کہ علم اقتصادیات کا دائرہ پورے سماج میں ہونے والے ہر نوعیت کے لین دین کا احاطہ کرتا ہے اور کسی ایک چنیدہ شعبے مثلاً بینکاری پر کسی بھی اخلاقی یا مذہبی نظام اقدار کے نفاذ کو اس علم کے ماہرین اگر ظاہری لیپا پوتی قرار دیں تو بے جا نہ ہو گا۔

اقتصادی نظام کے سماجی اور اخلاقی اثرات اور اس کے مطلوب نتائج پر بحث نئی نہیں ہے اور فلاحی اقتصادیات یا ویلفیئر اکنامکس اس علم کا ایک اہم شعبہ ہے جس پر عالمی سطح پر بے تحاشا کام موجود ہے۔ اسلامی اقتصادیات پر اکیڈیمک حلقوں میں ماضی قریب میں ہونے والا کام اکثر و بیشتر علمی اور نظریاتی مباحث پر مبنی نظر آتا ہے اور اس کے عملی اطلاق پر توجہ ناکافی رہی ہے۔ ایسے میں محترم علی سلمان کی انگریزی کتاب بہ عنوان ”اسلام اور اقتصادیات۔ منڈی، اخلاقیات اور عدل“ محترم ذیشان ہاشم کے توسط سے نظر نواز ہوئی جس میں، میرے علم کے مطابق کم از کم پاکستان میں، پہلی بار ایک ہمہ گیر اسلامی اقتصادی حیطہ فکر یا ”اسلامک اکنامک فریم ورک“ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

سلمان صاحب کا یہ دعوی نہیں ہے کہ وہ ہر اقتصادی مسئلے کا عملی اسلامی حل تجویز کر رہے ہیں۔ ان کی توجہ ایک وسیع تر، کائناتی دائرہ فکر و اطلاق پر ہے۔ کتاب عام قاری کی تفہیم کے نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے چنانچہ اس میں مختلف ذرائع سے اخذ کردہ مصنف کے فہم اسلام کے مطابق چند بنیادی اخلاقی/ مذہبی اصطلاحات کو متعارف کروایا ہے جو ان کی رائے میں کسی ملک یا معاشرے کے اقتصادی فریم ورک کی حدود کا تعین کرتی ہیں۔ پھر اقتصادیات سے متعلق کچھ اساسی امور کا تعارف کروایا گیا ہے اور چند بنیادی مباحث مثلاً قدرتی وسائل کی ذاتی، اجتماعی اور ریاستی ملکیت کی حدود، محاصل، وراثت، منافع وغیرہ پر مجوزہ ”اسلامی اقتصادی فریم ورک“ کا اطلاق کیا گیا ہے۔

مصنف کا علمی رجحان واضح طور پر منڈی کی معیشت کی جانب جھکاو رکھتا ہے چنانچہ انہوں نے کئی جگہ قرآن سے بالواسطہ اور حدیث سے بالواسطہ اور بلا واسطہ اس کے حق میں استنباط کیا ہے۔ کتاب میں بیسویں صدی میں کئی مسلم اکثریتی ممالک، خصوصاً مصر میں صنعتوں اور دیگر ذرائع پیداوار کو، اس دور کے حکم رانوں کے اشتراکی نظریات کے تحت قومی ملکیت میں لیے جانے کے حق میں کچھ علماء کی تاویلات کو زیر بحث لایا گیا ہے اور قرآن و حدیث کے حوالے دے کر ان پر گرفت کی ہے۔ لیکن علمی دیانت داری کا ثبوت دیتے ہوئے رسول کریمﷺ اور خلفائے راشدین کے عہد میں مختلف ذرائع پیداوار کی ملکیت کے بارے میں بظاہر باہم مختلف احکامات کا ذکر حذف نہیں کیا ہے بلکہ ان کی تاویل اور تطبیق کر کے ان کے مصنف کے مجوزہ فریم ورک کی رو سے پابند شریعت ہونے کا اظہار کیا گیا ہے۔

اس مبصر کی رائے میں آزاد منڈی کی معیشت کے ضمن میں کتاب میں مشمول سب سے دل چسپ بحث قیمتوں پر سرکاری کنٹرول سے متعلق ہے۔ ایک حدیث کی رو سے ایک موقع پر مدینہ میں اشیاء کی کمیابی کے سبب قیمتیں چڑھنے لگیں تو رسول کریمﷺ نے صحابہ کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے قیمتیں مقرر کرنے کو رد کر دیا۔ فقہاء نے قیمتیں مقرر کرنے کے حق اور مخالفت میں جس طرح اس حدیث کی تاویل کی ہے وہ چاروں سنی فرقہ ہائے مقلدین کے اصول فقہ کی اساس پر بہت دل چسپ پیرایہ میں روشنی ڈالتی ہیں۔ ایسی ہی دل چسپ بحث منڈی کے دیگر افتراقات مثلاً غیر مساوی معلومات، ذخیرہ اندوزی، اجارہ داری وغیرہ کے ضمن میں بھی ہے اور قاری کو فکر کا سامان مہیا کرتی ہے۔ ان مباحث کو مد نظر رکھتے ہوئے مصنف نے جس چابک دستی سے ان کا اطلاق جدید معیشت کے مظاہر جیسے سٹاک ایکسچینج، علامتی کرنسی اور مرکزی بینک [مثلاً سٹیٹ بینک آف پاکستان] کے تعاملات پر کیا ہے، وہ قابل داد ہے۔

مسلم ممالک میں سود یا ربوی کا مسئلہ جدید طرز کی اقتصادی سرگرمیوں کی ابتدا سے ہی ایک درد سر رہا ہے۔ ایک انتہا پر یہ رائے ہے کہ اصل زر پر رونما والا ہر قسم کا منافع سود کے زمرے میں آتا ہے چنانچہ قرآن کی واضح ہدایت کے مطابق حرام مطلق ہے جب کہ دوسری جانب بھی علماء کا ایک گروہ ہمیشہ سے رہا ہے جس کے خیال میں مروجہ بینکنگ نظام میں اس طرز کے سود کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا جو قرون اولی میں ہوا کرتا تھا اور جدید بینک قرض نہیں دیتے بلکہ سرمایہ کاری کرتے ہیں لہذا ان کے منافع پر ”ربوی“ کے احکامات کا سرے سے اطلاق ہی نہیں ہوتا۔ مصنف نے اس ضمن میں چار معاصر مسلم دانش وروں کے حوالے دے کر اس بحث کو واضح کیا ہے۔ ان میں مصنف موخر الذکر گروہ سے اتفاق کرتے نظر آتے ہیں۔

کتاب میں مالیاتی پالیسی، زکواۃ، عوامی فلاح اور مفاد عامہ کے اداروں اور انتظامات پر بھی دل چسپ مباحث موجود ہیں لیکن ہر جگہ آزاد منڈی کی معیشت اور اس کے متعلقہ اداروں کی سمت مصنف کا جھکاو واضح ہے۔ اس خادم کو یاد ہے کہ ستر اور اسی کی دہائی تک اسی طرز کے مباحث اقتصادیات کے دوسرے، مائل بہ اشتراکیت گروہ کی تصانیف میں بھی پائے جاتے تھے جن کی تاویلات اشتراکی معاشی نظام کو اسلام سے برامد کرنے کی سعی کرتی تھیں۔ مثلاً جہاں سلمان صاحب آیات و احادیث سے ذاتی ملکیت پر کسی قسم کی قدغن کو خلاف اسلام ثابت کرتے ہیں، کچھ مصنفین و مفکرین، حتی کہ علامہ اقبال تک آیہ ”قل العفو“ سے حکومت کی طے کردہ فی کس ضرورت کی حد سے زیادہ دولت کو قومی تحویل میں لینے کا جواز لاتے رہے ہیں۔ اشتراکیت کا حامی گروہ تو اب اپنی پہلی سی اہمیت کھو بیٹھا ہے لیکن مذہب اور اقتصادی اصول و ضوابط کی بحث اب تک تازہ ہے۔ اس خادم کی رائے میں یہ مباحث بنیادی طور پر علم الکلام کے زمرے میں آتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب کا علم الکلام کا دائرہ اہل سنت کے فہم اسلام اور اس کے ذیلی چار یا پانچ مکاتیب فکر پر مشتمل ہے۔ یہ دیکھنا بجائے خود دل چسپ ہو گا کہ دیگر مسلمان مکاتب فقہ مثلاً اثنا عشریہ کے ہاں ان مباحث نے کیا رنگ اختیار کیا ہے۔

کتاب ایک سو آٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کا ہدف پالیسی ساز، علماء، ماہرین اقتصادیات اور موضوع سے چل چسپی رکھنے والے عام قاری ہیں چنانچہ مصنف نے بھاری بھرکم تکنیکی و فقہی اصطلاحات سے حتی الوسع گریز کیا ہے جس کے سبب اس کی قرات سہل ہے اور مصنف کے نکتہ نظر کا ابلاغ واضح طور پر ہوجاتا ہے۔ کتاب کا پہلا ایڈیشن بیرون ملک طبع ہوا ہے اور پاکستانی ایڈیشن بھی عن قریب بازار میں دست یاب ہو گا۔ اس خادم کے خیال میں موضوع کی اہمیت کے پیش نظر مصنف کو اس کا اردو ترجمہ بھی شایع کرنے کی توجہ دینی چاہیے تاکہ اس موضوع پر پڑے جعلی تقدس اور تکنیکی اصطلاحات کے پردے ہٹا کر ان پر مباحثے کی راہ کھلے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words