یہ دشمن سے لڑائی ہے یا سماجی گھٹن کا اہتمام کیا جا رہا ہے؟

پاکستانی سیاست کے بارے میں یہ تاثر قوی ہورہا ہے کہ موجودہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت مضبوط ہوئی ہے۔ اپوزیشن انتشار کا شکار ہے اور اس میں شامل پارٹیوں کے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بحران کا شکار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) بیانیہ کے تضاد اور پیپلز پارٹی پنجاب میں عدم مقبولیت کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ کے لئے قابل قبول نہیں ہوگی۔

راوی ان حالات میں یہی خبر دیتا ہے تحریک انصاف کے سوا کسی بھی سیاسی پارٹی کو اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل نہیں ہوگی۔ زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس رائے کے لئے ٹھوس شواہد تلاش کئے جاسکتے ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز ’ہائیبرڈ وار‘ کے خلاف کامیاب دفاع کرنے کاعزم ظاہر کیا تھا۔ حکومت اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہر ممکنہ اقدام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ سائیبر کرائمز پر قابو پانے کے لئے نت نئے قوانین بنائے گئے ہیں۔

وزیروں و مشیروں کی فوج مختلف سماجی جرائم کے سلسلہ میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ملزموں کے خلاف شواہد جمع کرنے کے طریقہ کو یہ ثابت کرنے کے لئے دلیل کے طور پر استعمال کرتی ہے کہ موجودہ حالات میں ان قوانین کی شدید ضرورت تھی۔ حالانکہ حکومت نجی ڈیٹا اکٹھا کرنے ، سوشل میڈیا پر اظہار خیال کو مشکل بنانے اور کسی بھی قسم کے تنقیدی تبصرہ کو ’قوم و ملک ‘ کے خلاف جرم کے طورپر پیش کرکے دراصل آزادی رائے کے محدود اور گنے چنے پلیٹ فارمز پر بھی سرکاری کنٹرول مستحکم کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کا ارادہ تو یہ ہے کہ بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیوں کو سرکاری ہدایات کے مطابق کام کرنے کا پابند کیا جائے ۔ اسی سلسلہ میں یہ کوشش کی جاچکی ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں معلومات شئیر کرنے کے سرکاری جال میں پھنس جائیں تاہم ابھی تک ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔

دنیا کا ہر ملک سائیبر کرائمز کی روک تھام کے لئے قوانین بناتا ہے اور سوشل میڈیا پر سرگرمیوں پر خود ان کمپنیوں کے نگران اس بات پر نظر رکھتے ہیں کہ کوئی نازیبا مواد شائع نہ ہو اور ان پلیٹ فارمز کو انتہا پسندی کے فروغ کے لئے استعمال نہ کیا جائے ۔لیکن عام طور سے یہ اقدامات آزادی رائے کو محدود کرنے کے لئے استعمال نہیں ہوتے بلکہ ایسے مواد کی تشہیر روکنا مقصود ہوتا ہے جس سے انسانی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو یا دہشت گرد گروہ اپنا شدت پسندانہ بیانیہ عام نہ کرسکیں۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جاری جد و جہد میں اس قسم کے اقدامات معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ جب بھی یہ محسوس ہو کہ کسی سوشل میڈیا کمپنی کی طرف سے اس اختیار کو اظہار کی آزادی پر حد بندی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے تو فوری طور سے اس کے خلاف آواز بلند ہوتی ہے اور متعلقہ کمپنی کو یا تو اپنی پالیسی تبدیل کرنا پڑتی ہے یا اپنے طرز عمل کا جواز پیش کرنا پڑتا ہے۔ جدید مواصلت کے نظام میں اب یہ طریقے اور مباحث جدید مزاج کا حصہ بن چکے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ وقت کے ساتھ سب لوگ یہ تسلیم کرنے لگیں گے کہ انسانی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے بعض رکاوٹوں کو قبول کرکے ہی آگے بڑھنا پڑے گا۔

پاکستان میں اس حوالے سے دوسرے ملکوں کی مثال ضرور دی جاتی ہے لیکن مین اسٹریم میڈیا کو مختلف ہتھکنڈوں سے کنٹرول اور بے بس کرنے کے بعد اب ساری توجہ سوشل میڈیا پر سرگرم لوگوں کو لگام ڈالنے کی طرف مبذول کی گئی ہے۔ یوں تو حکمران سیاسی پارٹی اور اسٹبلشمنٹ کے اداروں نے معاشرے میں اپنے ایسے طاقت ور وکیل پید اکرلئے ہیں جو کسی بھی قسم کے ’ناقابل قبول اظہار‘ پر متعلقہ لوگوں کا پیچھا کرنے، انہیں عاجز کرنے یا ہراساں کرکے زبان بندی پر مجبور کرنے میں مناسب حد تک ’معقول‘ کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال کسی بھی ناپسندیدہ تبصرے کے بعد کسی صحافی یا اینکر کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں پاکستان دشمنی یا غداری کے الزامات میں درج کروائی گئی شکایات سے کیا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں جیو ٹی وی کے اینکرو صحافی حامد میر کے خلاف درج کروائی گئی پولیس رپورٹس اس کی ٹھوس مثال ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ’قومی مفاد‘ کا تحفظ کرنے والے یہ گروہ اس وقت منقار زیر پر رہتے ہیں جب کسی صحافی پر حملہ ہوتا ہے یا انہیں کسی دوسرے طریقے سے ہراساں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اگر کوئی جرات کرکے یہ کہہ دے کہ اس قسم کے ہتھکنڈے بنیادی انسانی حقوق پر حملہ ہیں تو اسے نکو بنانے اور ’غدار وطن‘ ثابت کرنے کے لئے تما م وسائل بروئے کار لائے جاتے ہیں۔

اس سے پہلے یہ صورت حال بلاسفیمی قوانین کے حوالے سے چند اقلیتی گروہوں کے بارے میں پائی جاتی تھی۔ دنیا بھر میں کوئی بھی آج تک یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ اسلام کو صرف پاکستان ہی میں کیوں خطرہ لاحق ہے اور کیا وجہ ہے کہ اسلامی عقائد و شعائر پر پاکستانی شہری ہی کیوں ’حملہ آور ‘ ہوتے ہیں حالانکہ یہاں پر اکثریت مسلمانوں کی ہے ۔ ملکی اقلیتیں تو ایسے جائز حقوق کا مطالبہ سامنے لانے سے بھی گریز کرتی ہیں جو دوسرے ملکوں میں آباد ہر قسم کی اقلیتوں کو یا تو حاصل ہیں یا وہاں ان حقوق کو مؤثر کرنے کے لئے سیاسی کام ہوتا رہتا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال ان مغربی ممالک میں آباد مسلمان اقلیتوں ہی کے بارے میں دی جاسکتی ہے، جہاں ہمارے وزیر اعظم کے بقول اسلاموفوبیا اس قدر بھیانک شکل میں رونما ہوچکا ہے کہ اس کے خلاف عالمی تحریک لازم ہوچکی ہے۔ مغربی ممالک میں آباد مسلمان اقلیتوں کو اپنے عقیدے پر عمل، مذہبی رسوم منانے کی سہولت اور عبادت گاہیں بنانے اور ان کی حفاظت کے حوالے جو ضمانتیں فراہم کی گئی ہیں ، پاکستا ن کی مذہبی اقلیتیں ان کا تصور بھی نہیں کرسکتیں۔ پاکستان میں تو اقلیتی مذاہب کی عبادت گاہوں پر حملہ کرنا اسلام کی سربلندی کی علامت بنالیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ملکی حکومت پاکستان میں اقلیتوں کو حفاظت فراہم کرنے سے پہلے مراعات یافتہ مسلمان اقلیتوں کو مغربی ممالک کے اسلاموفوبیا سے بچانے پر زیادہ زور دیتی نظر آتی ہے۔

اب دشمن کی پروپیگنڈا مہم جوئی کے حوالے سے ’ہائیبرڈ وار فئیر ‘ کی بھاری بھر کم اور ناقابل فہم اصطلاح استعمال کرتے ہوئے دراصل ہر اس مؤقف کو ملک دشمنی قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے جو سرکاری بیانیہ، حکومتی حکمت عملی یا اسٹبلشمنٹ کے کردار پر رائے سازی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے پہلے ملک کے میڈیا مالکان کی اقتصادی مجبوریوں کو استعمال کرکے انہیں ’سیلف سنسر شپ‘ پر آمادہ کیا گیا، ناپسندیدہ صحافیوں کو بیروزگار کرنے کا اہتمام ہؤا اور اب ذاتی حیثیت میں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے رائے دینے یا روٹی روزی کمانے کی کوشش کرنےوالے ایسے ہی ناپسندیدہ صحافیوں کا بلیک آؤٹ کرنے کے لئے سائیبر کرائمز کی دہشت اور دشمن کی ہائیبرڈ وار کا نعرہ استعمال کیا جارہا ہے۔

قومی ضرورتوں کو ملک کے بعض طاقت ور گروہوں (حکومت، اسٹبلشمنٹ کے ادارے، بیورو کریسی یا سرمایہ دار) کے مفادات کے ساتھ یوں خلط ملط کردیاگیا ہے کہ یوں لگے کہ جمہوریت ، انسانی حقوق، مساوات، جنسی ہراسانی ، سماجی تفادت اور ایسے ہی دیگر مسائل پر بات کرنے والے دراصل دشمن کی پروپیگنڈا مشینری کا آلہ کار بن چکے ہیں۔ اسی لئے ان کے خلاف کسی بھی قسم کی سرکاری کارروائی جائز و درست ہے۔ فی الوقت یہ کارروائی دو سطح پر دیکھنے میں آتی ہے۔ یا تو ماورائے قانون اقدام کرتے ہوئے مارپیٹ، اغوا یا حملوں کے ذریعے انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ اور اس کے لئے زیر نگیں میڈیا کے ذریعے یہ تاثر قوی کیا جاتا ہے کہ یہ عناصر دراصل ملکی مفاد کے خلاف دشمن کے ایجنٹوں کا کردار ادا کرتے ہیں ، اس لئے انہیں سبق سکھانے کے لئے یہ ’اقدام‘ مجبوری میں کرنا پڑتے ہیں۔ پھر اس زور زبردستی کا مجموعی تاثر زائل کرنے کے لئے وزیر اعظم و وزیر اطلاعات کی سربراہی میں سرکاری ترجمان یہ اعلان کرنے لگتے ہیں کہ پاکستان میں تو میڈیا امریکہ اور مغربی ممالک سے بھی زیادہ آزاد و خود مختار ہے۔ ان دعوؤں کی تردید کے لئے زمینی حقائق کی بنیاد پر دلیل لانے تک عام رائے پر یہ نقش ثبت کرلیا جاتا ہے کہ دراصل ظلم کا شکار ہونے والا مظلوم نہیں بلکہ قوم کا مجرم تھا۔ اس لئے اگر کسی ادارے کے چند محب وطن ارکان نے قومی حمیت و غیرت سے مغلوب ہوکر انہیں سبق سکھانے کا کوئی اقدام کر بھی لیا تو اس میں ’ناجائز‘ والی کون سی بات ہے۔

مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ آزادی رائے اور میڈیا کی خود مختاری کے حوالے سے قومی سطح پر ’دشمن کی ہائیبرڈ جنگ جوئی‘ کو ناکارہ بنانے کے لئے جو ہتھکنڈے اور طریقے اختیار کئے گئے ہیں، سماجی سطح پر ہونے والے جرائم کے بارے میں بھی اسی رویہ کا عکس موجود ہوتا ہے۔ اسے موٹر وے گینگ ریپ کیس کے حوالے سے بھی محسوس کیا گیا پھر نور مقدم قتل کے معاملے اور عائشہ اکرم کی بے حرمتی کے واقعہ پر احتجاج کو غیرمؤثر کرنے کے لئے مظلوم خواتین کے اخلاق و کردار پر سوال کھڑے کرنے میں اسی رجحان کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس لئے یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کرنی چاہئے کہ حکمران طبقہ جب اپنے گروہی مفادات کے لئے ناجائز اور غیر قانونی ہتھکنڈے اختیار کرے گا تو پورا سماج اس کی زد میں آئے گا۔ اور ایسے لوگ بھی اس کی حدت محسوس کریں گے جنہیں درحقیقت قانون اور اخلاقیات کی کسی بھی تشریح کے مطابق تحفظ، سرپرستی اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔

ملک کو دشمن کی پروپیگنڈا مہم جوئی سے محفوظ کرنے کے اقدامات کو اگر عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا تو اس سے سیاسی لاچاری کے علاوہ سماجی گھٹن کا ایسا ماحول پیدا ہوگا جس کے تمام آثار اس وقت پاکستان میں موجود ہیں۔ یہ وہی علامات ہیں جو کسی بڑے طوفان سے پہلے طاری خاموشی کی صورت میں دیکھی یا محسوس کی جاتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words