ہمیں انصاف دو


نام اسلامی جمہوریہ پاکستان، اسلام کے نام پر حاصل کیا ہوا ملک پاکستان، اسلام کا قلعہ، واحد مسلم ایٹمی طاقت، سبحان اللہ۔ پاکستان بنے چوہتر سال ہو گئے اگلے سال پلاٹینم جوبلی منانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں منائیے شوق سے منائیے لیکن ذرا گردن جھکا کر اپنے گریبان میں تو جھانک لیں کیا ہم اس قابل ہیں کہ کوئی جشن منا سکیں، سب جانتے ہیں یوم آزادی پہ یادگار پاکستان کے سائے تلے کیا گھناؤنا کھیل کھیلا گیا۔ تفصیل تو سب ہی جانتے ہیں کے کس طرح چار سو مردوں نے ایک نہتی لڑکی پر اپنی مردانگی دکھانے کی کوشش کی چاہے وہ لڑکی کتنی ہی بدکردار تھی، ٹک ٹاک گرل تھی آپ تو باکردار تھے اس جگہ کہ احترام میں ہی سنبھل جاتے، جہاں مولوی فضل الحق نے قرارداد پاکستان پیش کی، جی ہاں اسی مملکت خداداد پاکستان کو بنانے کی قرارداد۔

اسی جگہ آپ حضرات نے بے حیائی اور بد معاشی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ اقبال پارک میں دن کے اجالے میں یہ سب کچھ ہوا، کیا روح اقبال اپنے شاہینوں کی اتنی نیچ اور گری ہوئی پرواز پر کانپ نہ اٹھی ہوگی لیکن کسے فرق پڑتا ہے۔ ایک ٹک ٹاک لڑکی کے ساتھ ہوا اس نے دعوت دے کر اپنے فینز کو بلایا تھا لیکن شاید وہ بھی نہیں جانتی تھی کہ اس دن اتنا بڑا جاہلوں کا ہجوم جمع ہو کر اس کی عزت کا جنازہ نکال دے گا اور سارا زمانہ چٹخارے لے لے کر اس داستان کو سنا رہا ہو گا، دیکھ رہا ہو گا بار بار، میڈیا کو بھی تمیز نہیں کہ فوٹیج کو بلر ہی کر دیں، بار بار دکھا کر کون سا آپ انصاف دلا دیں گے، آپ صرف ریٹنگ کی دوڑ کے گھوڑے ہیں۔

آج ایک اور قیامت گزر گئی آج ہی کے اخبار میں چار خبریں زیادتی کی ہیں دو بچوں کے ساتھ ایک بچی کی اور چوتھی خبر بھیانک ترین، سوات میں ایک بھائی نے بہن کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا، کئی بار، جواز یہ دیا کہ ماں بہن شادی نہیں کروا رہے تھے، یا اللہ یہ معاشرے کو کیا ہو گیا ہے یہ کیس تو عدالت میں منٹوں میں حل ہو سکتا ہے کیونکہ مجرم خود اقرار کر چکا ہے۔ اس بد ذات بد عمل شخص کو فوراً سر عام پھانسی دی جائے یا سنگسار کیا جائے اس کی لاش لٹکتی رہے اور چیل کوے اسے کھائیں تاکہ پھر کسی بھائی کی ہمت نہ ہو، کڑی سزائیں ہی حل ہیں لیکن یہ کیس بھی لمبا کھینچا جائے گا اور انصاف ندارد۔ یہ پاکستان ہے یہاں بچیاں بچے انصاف کے لیے روتے سسکتے رہیں گے، کیونکہ انصاف کی دیوی آنکھوں پر پٹی باندھے خاموش کھڑی ہے۔

کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ اس طرح کے واقعات نہ ہوتے ہوں۔ سوائے نوٹس لینے اور کمیٹی بنانے سے آگے بات ہی نہیں بڑھ پاتی، کس طرح رکے گا یہ شیطانیت کا ننگا ناچ، کس طرح بتائیے؟ ارباب اختیار کو سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ آپ قانون کو مضبوط کیوں نہیں بناتے، کیوں عدالتی نظام اتنا سست ہے کیوں ان مقدمات کے فیصلے جلد نہیں ہوسکتے۔ تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ کیا یہی کام ہے عدالتوں کا پھر آخر میں کچھ بھی کہہ کر کیس ختم کردو، اپنی مرضی کے فیصلے دینے ہوں تو اتوار کو بھی عدالت لگا سکتے ہیں۔

کیا پولیس کے محکمے سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو سکتا ، کیوں کالی بھیڑوں کا صفایا نہیں کیا جاسکتا، پولیس کے محکمہ کو اصلاحات کی ضرورت ہے، سب سے پہلے اخلاقی تربیت کی جائے تاکہ اکیلی عورت بھی تھانے جاکر اپنا کیس رجسٹر کروا سکے، سب جانتے ہیں تھانے کے نام سے شریف آدمی کے بھی پاؤں کانپتے ہیں، جب تک کوئی سفارش یا پہنچ نہ ہو ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، شاید یہی وجوہات ہیں کہ زیادتی، بدمعاشی، بد فعلی کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔

اب وقت ہے کہ پولیس کے محکمے اور عدلیہ کے نظام میں موجود سقم دور کیے جائیں تاکہ جلد اور فوری انصاف ملے سکے، انصاف ہوتا نظر آئے گا والا جملہ نہیں چلے گا بلکہ فوری انصاف ہو گا۔ اس قسم کے واقعات میں سخت سے سخت سزا دے کر مجرم کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے، تب ہی یہ معاشرہ سدھرے گا۔ حکومت پاکستان اس بات پر توجہ دے یہ میری گزارش ہے پاکستان کی شہری کی حیثیت سے، ورنہ اس ملک کی لڑکیاں عورتیں ذہنی مریض بن جائیں گی۔ یاد رکھیں ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی مفلوج ہو گئی تو ملک بچانا مشکل ہو گا۔ معصوم بچیوں کی چیخیں جو زیادتی کے دوران منہ بند کر کے گھونٹ دی جاتی ہیں عرش کو ہلا دیں گی پھر اللہ کا انصاف ہو گا۔

خواتین کو مافوق الفطرت بنانے کے بجائے ایک انسان کی طرح ان کے ساتھ سلوک کیا جائے۔ گھروں میں ماں باپ بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دینا بند کریں، اپنی بیٹیوں کو اعتماد دیں کہ وہ ہر بات آپ سے کرسکیں، بیٹے کو بھی غلطی پہ سزا دی جائے، اخلاقیات سکھائی جائے، گاؤں دیہات کی سطح پر تعلیم بالغاں کا اہتمام کیا جائے مرد عورت دونوں کے لیے۔ لڑکی کو پرایا دھن کہنا ترک کر دیں وہ دھن نہیں جیتا جاگتا وجود ہے اور اسی کے وجود سے نسل انسانی جنم لے گی، اس لیے لڑکی کو مضبوط بنائیں کہ کوئی غلط نگاہ سے دیکھے تو اس کی کی آنکھیں نکال دے، تب جاکر یہ واقعات تھمیں گے۔ عورت کمزور نہیں برابر کی انسان ہے اور ہم یہ حق منوا کر رہیں گے۔

Facebook Comments HS