لبرل دہشت گرد۔

کیا دوران حج کسی مسلمان مرد کی نیت میں فتور آ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر عورت کو صفا مروہ میں بھاگ کر سعی کرنے سے اسلام نے کیوں روکا۔ عقل کے اندھو عورت شرم و حیا کا پیکر اور چھپا ہوا راز ہے۔ اسلام کا سب سے اہم اور بڑا رکن حج جس کے بارے حکم ہے کہ عورت محرم کے بغیر حج پہ روانہ نہ ہو۔

لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کی متعدد بیٹیاں کرکٹ کے میدانوں کی زینت بن گئی ہیں دولت اور تشہیر کی حرص میں بال صفا کریموں اور مردانہ شیونگ کریموں کی تشہیر کرتی نظر آتی ہیں۔ ٹک ٹاک اور دیگر آن لائن پروگرامز میں غیر مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش میں مصروف عمل دکھائی دیتی ہیں۔

میرے ہم وطن دوستو۔ تمھیں شعور ہی نہیں تم کس قسم کی دہشت گری کے چنگل میں دھنستے جا رہے ہو۔ تمھیں اور تمھاری نسلوں کو وہ زہر دیا جا رہا ہے جس کے اثرات بے حیائی کی شکل نمودار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

قوم کے نو عمر بیٹے اور بیٹیاں عریانی اور فحاشی کو اپنا حق قرار دینے لگے ہیں۔ ابھی تو نکر اور ٹائٹس تک پہنچے ہو عنقریب اگر ہوش کے ناخن نہ لیے تو گلیوں بازاروں میں پبلک مقامات پہ چڈی بنیان والی شخصیات نظر آئیں گی۔

دشمن کی تمامتر سازشیں چالیں ناکام ہو چکی مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ بے حیائی پھیلانے کی سازش کسی طور کامیاب ہونے کو ہے۔ کیونکہ بڑے بڑے صحافی باشعور بظاہر پڑھے لکھے نظر آنے والے لوگ اس فحاشی عریانی اور بے حیائی کو پس پردہ اور کھلم کھلا سپورٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایک نوعمر لڑکا جب رکشے میں بیٹھی ہوا کی بیٹی کو ہراساں کرتا ہے تو یہ قصور کس کا ہے۔

قصور اس نظام کا ہے جس نے اس لڑکے کو ہمت دی قصور اس تربیت کا ہے جو بے حیائی فحاشی کو عریانی کو شخصی آزادی کا نام دیتی ہے۔

جب گھر میں ماں بیٹے کو بھائی بہن کو کزن کزن کو یار کہہ کر مخاطب کرے اور گھر کے بڑے بزرگ کبوتر کی طرح آنکھیں کان اور زبان بند رکھیں تو ایسے واقعات پھر ممنوع اور جرائم نہیں رہتے۔

جب غیرمناسب لباس پہن کر بیٹی باپ سے پوچھے پاپا کیسی لگ رہی ہوں تو پھر شاہراہ عام پہ بوس و کنار ممنوع عوامل نہیں رہتے۔

جب ماں بیٹی سے بیٹی ماں سے بھائی بہن سے بہن بھائی سے بیوی شوہر سے شوہر بیوی سے استاد شاگرد سے شاگرد استاد سے اپنا موبائل چھپائیں جب باپ اس لیے پاسورڈ لگائے کہ اس کے بچے اس کی دوستوں کے میسجز اور بے ہودہ ویڈیوز نہ دیکھ سکیں تو پھر معاشرے اپنی موت آپ مرجانے کے دھانے پہ آن کھڑے ہوتے ہیں۔

جب تعلیمی اکیڈمیوں اور مدارس کے نام پہ والدین کے بھروسے نوچے جا رہے ہوں
جب تعلیمی سرگرمیوں کے نام پہ رقص و سرور کی محافل کا انعقاد کیا جا رہا ہو۔

جب سڑکوں چوراہوں پہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بے بس کھڑے ہوں تو پھر کہیں زینب لٹ جایا کرتی ہے کہیں اسامہ بے موت مر جاتا ہے کہیں موٹروے سانحہ وقوع پذیر ہوتا ہے کہیں مینار پاکستان پہ عائشہ نوچ لی جاتی ہے۔

معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمے داری کا احساس کرنا پڑے گا بصورت دیگر آپ پورا معاشرہ ان لبرل دہشت گردوں کی میٹھی سازشوں کی بھینٹ چڑھتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ اور چپ چاپ بے حیائی کی موت مارے جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words