سندھ کے منصف سے نا انصافی کیوں؟

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ قرارداد پاکستان کس نے اور کب منظور کی تھی تو میرا جواب ہوگا آل انڈیا مسلم لیگ نے 23 مارچ 1940 میں پر اگر کوئی مجھ سے یہ سوال کرے کہ قیام پاکستان کو آئینی بنیاد کب اور کس نے فراہم کیا تھا تو میرا جواب ہوگا 1943 میں صوبہ سندھ کی آئین ساز اسمبلی کی منظور کردہ اس تاریخی قرارداد نے جو جیئے سندھ ہلچل کے بانی سائیں جی ایم سید نے ایوان میں پیش کی تھی، کہا جاتا ہے کہ سندھ اسمبلی کی منظور کردہ اس تاریخی قرارداد کو لے کر قائداعظم مسلمانوں کے لئے الگ ریاست کے قیام کے لیے انگریز سرکار کے سامنے دلائل دیتے تھے کیوں کہ انگریز آئین، قانون اور منتخب نمائندوں کی رائے کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے، خیر سندھ اسمبلی کی قرارداد کے 4 سال بعد قیام پاکستان عمل میں آ تو گیا پر صوبہ سندھ اور سندھ کے عوام کو ان کے جائز حقوق فراہم کرنے سے پس و پیش سے کام لیا گیا اور نا انصافی کا یہ تسلسل آج بھی جاری و ساری نظر آتا ہے۔

سندھی بولنے والے عوام کو ہر دور میں یہ شکایت رہی ہے کہ ریاست ان کے ساتھ سوتیلی ماں کے جیسا سلوک اختیار کر رہی اور آج کل چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ کو اہلیت کے تمام معیار پر پورا اترنے اور صوبے کا سینئر ترین جج ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کا مستقل جج بنانے سے انکار کر دینا اس سوچ کو تیزی سے مزید تقویت فراہم کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ آیا جب سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے علی الاعلان نا انصافی کی جا رہی ہے، ان کو جائز، آئینی و قانونی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے تو ایک عام سندھی بولنے والے شہری کو کیا خاک اپنے حقوق مل سکیں گے؟

سابق وزیر قانون حامد خان، سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر، نامور قانون دان بیرسٹر ظفر علی، بیرسٹر ضمیر گھمرو اور علی احمد کرد سمیت ملک کے تمام بارز چیف جسٹس احمد علی شیخ کو ان کے آئینی حق سے محروم رکھنے والے عمل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان کے وزیر قانون فروغ نسیم اور قاضی القضاۃ پاکستان سمیت دیگر ذمہ داروں سے سوال کر رہے ہیں کہ آخر آئین کو بالائے طاق رکھنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی؟ اور ایک جونیئر جج کو سینئر ترین منصف پر فوقیت دینے کی کیا ضرورت ہے؟

ملک کے قانونی و آئینی ماہرین کی جانب سے اٹھائے گئے ان سوالوں کے جواب نہ تو وزیر قانون فروغ نسیم صاحب نے دینے کی زحمت گوارا کی ہے اور نہ ہی اٹارنی جنرل یا کسی اور طرف سے کوئی وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے، بہرحال سندھ ہائی کورٹ کے ایک سندھی بولنے والے چیف جسٹس احمد علی شیخ سے نا انصافی کا یہ معاملہ نہ صرف سندھ پر پورے پاکستان کے وکلا کے لیے باعث تشویش و غصہ ضرور بن چکا ہے اور وکلا نے چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف پرامن احتجاج کرتے نظر بھی آ رہے ہیں اور میرے خیال میں پاکستان کی عدلیہ جس پر پہلے سے کئی شدید الزامات لگتے رہے ہیں کیوں کہ یہ عدلیہ ہی ہے جس کے ذریعے ہر ڈکٹیٹر با آسانی ایکسٹینشن لے کر مزے سے ملک و قوم کا خون چوستے رہے پر انصاف کی دیوی اندھی کی اندھی رہی پر اس کے برعکس اگر کبھی بھی منتخب حکمرانوں کے ادوار پر نظر ڈالی جائے تو قلم کی مدد سے کوئی پاپولر وزیراعظم سولی پر لٹک گیا تو کسی کو کرپشن کے الزامات میں گھر بھیج دیا گیا تو کسی کو نا اہلی کا طوق گلے میں ڈال کر پی ایم ہاؤس سے نکال باہر کیا گیا۔

صد افسوس کہ ہمارے ملک کی عدلیہ کبھی بھی پرفیکٹ نہیں رہی اور یہی وجہ ہے کہ عوام عدالتی نظام پر بھروسے کے بجائے جرگہ، پنچایت، نیبرو سسٹم کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں پر اب جبکہ ایک تاثر ابھر رہا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ سندھی ہونے کے باعث یہ بدترین نا انصافی ہو رہی ہے کہ ان کے دو مرتبہ تحریری انکار کے باوجود انہیں سپریم کورٹ میں مستقل جج بنانے کے بجائے ایڈہاک جج بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کر کے ایک طرح سے ان کی تضحیک کرنے کا عمل مستقبل میں اعلیٰ عدلیہ کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے پر عاقبت نا اندیشی کی حد دیکھیں کہ 1971میں ملک کے دو ٹکڑے کروانے کے باوجود فیصلہ ساز قوتوں نے کوئی عبرت حاصل نہیں کی اور اعلیٰ عدلیہ میں بھی نفرتوں کو تسلسل کے ساتھ ہوا دی جا رہی ہے جس کے نتائج ظاہر ہے کہ منفی ہی آئیں گے کیوں کہ سندھ کے عوام تو پہلے سے شکایتیں کے ڈھیر لگائے ہوئے ہیں کہ انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے صوبے کے دارالحکومت کراچی میں بھی انہیں نفرت اور تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر ایک سندھی بولنے والے منصف کے ساتھ اس طرح کی نا انصافی ہوگی تو دکھ اور غصہ مزید بڑھے گا نہ کہ اس میں کوئی کمی واقع ہوگی۔

بہرحال ریاست کے فیصلہ ساز اداروں کو نہ صرف چیف جسٹس آف سندھ کے معاملے کو انصاف کے خطوط پر دیکھنے اور حل کرنے کے لیے فوری اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے پر سندھ کے عوام کے ساتھ نا انصافی کی شکایات کے ازالے کے لیے عمل بھی کرنا ہوگا کیوں کہ سندھ کا پڑھا لکھا نوجوان طبقہ اب تمام تر ریاستی اداروں میں یکساں مواقع چاہتا ہے کہ کسٹم، پورٹس، اسٹیٹ بینک، سوئی سدرن گیس، پی پی ایل، پی سی بی، پی آئی اے، ایف آئی اے، سول ایوی ایشن سمیت دیگر تمام وفاقی اداروں میں ان کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی دی جائے، جبکہ آرمی سمیت فورسز اور پوری دنیا میں قائم پاکستانی سفارتخانوں بشمول قونصلیٹس میں بھی ان کو روزگار فراہم کیا جائے کیوں کہ سندھ اور سندھیوں کی پاکستان بنانے میں بہت بڑی کنٹری بیوشن رہی ہے جس سے نظرانداز نہ کیا جائے تو بہتر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words