جنسی استحصال کا بڑھتا ہوا طوفان

ہر گزرتا دن ایک چیخ ایک آہ ایک نئے حادثہ کے ساتھ نمودار ہوتا ہے، لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتا ہے اور پھر ایک نا خوشگوار یاد بن کر ماضی کے پردوں میں روپوش ہو جاتا ہے۔ کہیں کسی ننھی بچی کے ساتھ جنسی زیادتی، تو کہیں کسی مظلوم عورت کے ساتھ اجتماعی آبرو ریزی، کہیں استاد کا شاگرد طالبہ کے ساتھ زیادتی، جیسے گزشتہ دنوں ایک نہایت ہی دلخراش خبر نے مغموم کر دیا، خبر کچھ یوں تھی کہ کراچی یونیورسٹی کی طالبہ نادیہ اشرف نے اپنے تھیسس سپروائزر کے رویے سے تنگ آ کر خود کشی کرلی۔

ہمارے معاشرے میں یہ کوئی نئی، انوکھی یا بہت چونکا دینے والی خبر نہ تھی، مجبور لڑکیاں اس طرح کے قدم اٹھا ہی لیتی ہیں، مگر اس معاشرے میں جہاں عام شہری کی تعلیم کا تناسب انتہائی کم ہو اور بالخصوص خواتین میں خواندگی کی شرح اور بھی کم ہو کسی Phd کی طالبہ کا دردناک انجام ہمارے جیسے نیم خواندہ معاشرے کے لئے بہت بڑا نقصان ہے۔ مگر شاید ہم اتنے بے ضمیر ہوچکے ہیں کہ ہمارے ضمیر کو بڑے سے بڑا سانحہ بھی جگانے میں ناکام رہتا ہے۔ وہ چاہے گریٹر اقبال پارک میں سینکڑوں لوگوں کا ایک لڑکی کے ساتھ وحشیانہ سلوک ہو، یا روڈ پر چنگچی رکشہ میں بیٹھی قوم کی بیٹیوں کی بے حرمتی۔

آخر یہ سب کیا ہے اور معاشرے میں اس اخلاقی ابتری کی کیا وجہ ہو سکتی ہے، یہ نئے نئے بدنما رجحانات کہاں سے آرہے ہیں کہ اب لوگوں کے گروہ کے گروہ عورتوں سے بدتمیزی و بدسلوکی میں ملوث ہیں۔ اگر ذرا سا ماضی قریب میں جھانک کر دیکھیں تو پائیں گے کہ اگر کوئی منچلا کسی راہ چلتی لڑکی کو چھیڑ دیتا تھا تو دس لوگ آ جاتے تھے اور وہ سبق سکھاتے تھے کہ لوگ برسوں یاد رکھتے تھے اور چھیڑنے والا تو زندگی بھر اس حرکت سے تائب ہوجاتا تھا، مگر ایسا کیا ہوا کہ لوگ عورتوں کی حمایت کرنے یا انہیں تحفظ دینے کی بجائے خود بھی شریک بن جاتے ہیں، کیوں اب لوگوں پر جنسی جنون سوار ہے کہ کسی بھی طرح لمحے بھر کے لئے ہی صحیح مگر نفسانی جذبے کی تسکین حاصل ہو جائے، یہ کون سی نا آسودگی ہے جو حیا، انسانیت، تہذیب اور رحم جیسے ہر جذبے پر حاوی ہے، یہ بہت ہی خطرناک علامت ہے، جو معاشرے میں بڑھتے ہوئے جنسی بے راہ روی اور جنسی ناآسودگی کے رجحانات کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔

اگر یہ واقعات اکا دکا ہوتے تو نظر انداز کیا جاسکتا تھا کہ ہر دور میں چند ایک نفسیاتی مریض تو ہو سکتے ہیں مگر اب تو ایسا لگتا ہے جیسے معاشرے کا بڑا حصہ اس بیماری میں مبتلا نظر آنے لگا ہے۔ کیونکہ ایسے واقعات کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے اور ہر روز کوئی نہ کوئی تکلیف دہ واقعہ مشاہدے میں آ رہا ہے جو یقیناً خطرہ کی گھنٹی ہے جس پر فوری توجہ دینا نہایت ہی ضروری ہے ورنہ یہ چلتا پھرتا آگ کا گولا کسی کی بھی زندگی خاک کر سکتا ہے۔

ذرا سوچیں اب حالت یہ ہے کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں خاتون بیوہ، مطلقہ، تنہا یا بے آسرا ہیں تو مردوں کے غول کے غول اس کوشش میں لگ جائیں گے کہ کس طرح اس عورت کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا جائے اور اس کا جنسی استحصال کیا جائے۔ اس مقابلے میں بڑے چھوٹے امیر غریب پڑھے لکھے جاہل سب کی بس ایک ہی خواہش اور ایک ہی کاوش ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح ایک مظلوم عورت کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا سکیں۔ چاہے وہ اس کی بیٹی سے چھوٹی یا ماں کی عمر کی ہو، ہوس کے پجاریوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

بلاشبہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں اور کسی بھی معاشرے میں اسے قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا، یہ ایک قبیح فعل ہے اور یقیناً باعث تذلیل و شرمندگی کے سوا کچھ بھی نہیں، تو پھر ہمارے جیسے قدامت پسند معاشرے میں یہ روئیے کس طرح پنپ رہے ہیں بلکہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اس کا آسان سا جواب ہے معاشرے میں حد سے زیادہ بڑھتا ہوا عریانیت کا فروغ، جس کی کوئی بھی صورت اور کوئی بھی ذریعہ ہو سکتا ہے، جیسے معاشرے میں حد سے زیادہ فحش مواد یا لٹریچر Litratureکا عام ہوجانا، اور ہر خاص و عام کی دسترس میں ہوجانا۔ معاشرے کی اکثریت کا دوسری تہذیبوں سے حد درجہ متاثر ہوجانا، اور بلا تحقیق دوسروں کے تمدن کو اپنا لینا، گھر سے تربیت کا کم یا ختم ہوجانا، والدین کا تربیت کی ساری ذمہ داری اسکول یا مدارس کے اساتذہ پر ڈال کر خود اس ذمہ داری سے دامن چھڑا لینا۔

برسوں ان عوامل نے قطرہ قطرہ ہمارے معاشرے میں سرایت کیا ہوگا تو آج اس کے نتائج ان روح فرسا اور غمناک واقعات کی شکل میں رونما ہو رہے ہیں۔ جو نہ صرف مقامی طور پر بلکہ دنیا بھر میں ذلت و رسوائی کا سبب بن رہے ہیں۔ اب تو میڈیا کا دور ہے، کہیں بھی کوئی واقعہ ہو جائے تو دنیا سے چھپا نہیں رہ سکتا اور یہی ہمارے ساتھ ہو رہا ہے، پوری دنیا میں یہ گھناؤنے واقعات ہماری جگ ہنسائی اور رسوائی کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں گھریلو خواتین سے لے کر کام کرنے والی خواتین تک جنسی استحصال کی روش عام ہے انہیں جنسی ہراساں کیا جانا عام ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ قانون کی موجودگی کے باوجود عموماً خواتین اس فعل قبیحہ سے بچ نہیں پاتیں اس کا شکار کوئی بھی حوا کی بیٹی ہو سکتی ہے، وہ پرائمری اسکول کی طالبہ سے لے کر کسی ادارے کی اعلی افسر تک ہو سکتی ہے۔ ان گناہوں کے پنپنے کی ایک وجہ انصاف کا میسر نہ ہونا بھی ہے، اگر متاثرہ خاتون انصاف مانگنے قانون کے پاس جاتی ہے تو وہاں بھی اس کا سابقہ کسی نہ کسی جنسی نفسیاتی بیمار سے پڑتا ہے، بارہا ایسا بھی ہوا ہے کہ قانون کے رکھوالے مظلوم کے مددگار بننے کی بجائے مجرموں کے گروہ شامل ہو گئے۔

گو کہ پاکستان میں باقاعدہ جنسی ہراساں کیے جانے کے خلاف قانون موجود ہے مگر اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کوئی بھی انہیں کسی صورت خاطر میں نہیں لاتا اور عموماً گھریلو خواتین، طالبات اور ملازم پیشہ خواتین بلا تفریق اس تکلیف دہ حالت کا شکار رہتی ہیں۔ قانون کے مطابق جنسی ہراساں کیا جانا ایک قابل سزا جرم ہے جس کے تحت اگر کوئی شخص کسی خاتون کو جسمانی طور پر چھو کر یا ذہنی طور پر لفظوں کے ذریعے تکلیف پہنچاتا ہے تو وہ جنسی ہراساں کرنے کے جرم کا مرتکب ہوا ہے جو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 1860 کے مطابق تین سال جیل یا بھاری جرمانے یا دونوں سزا دی جا سکتی ہیں۔

مگر امر حیرت یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہراساں کیے جانے کے باوجود مجرموں کو یا تو سزا ملتی ہی نہیں یا وہ چائے پانی پر ہی چھوٹ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نفسیاتی اور نا آسودہ جنسی مریضوں کے حوصلے بڑھتے جا رہے ہیں اور وہ اب گروہ کی شکل میں شکار کو نکلتے ہیں اور مظلوم خواتین پر حملے کرتے ہیں، لہذا معاشرہ ایک بہت ہی خطرناک اخلاقی بیماری و گراوٹ کا شکار ہو چکا ہے، جس کا فوری صد باب کیا جانا اشد ضروری ہے۔

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ پاکستان انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھنے والوں میں سر فہرست ہے، اس کی تصدیق باآسانی کوئی بھی کر سکتا ہے۔ لہذا حکومت وقت کے اداروں جیسے NEPRA کو چاہیے کہ کچھ پابندیاں عائد کرے اور فحش مواد دیکھے جانے پر پابندی لگائے، کیونکہ ایسے مواد تک سب سے آسان ذریعہ رسائی انٹر نیٹ ہے، جو بلاشبہ نوجوان نسل کو جنسی و نفسیاتی مریض بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں اخلاقی تنزلی بلا تفریق ملک بھر میں ہر طرف خوب پھل پھول رہی ہے۔

جو بذات خود ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ سخت سزاؤں کا اطلاق کیا جائے۔ قوم کی ماں بہن کی عزت کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے، معاشرے میں عورت کی عزت و وقار اور قدر و منزلت کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ ورنہ یہ سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے اور کبھی کوئی باعصمت ذلیل ہو رہی ہوگی تو کوئی نہایت تعلیم یافتہ اور محنت و قربانی سے پالی پوسی بیٹی خودکشی کرتی نظر آ رہی ہو گی اور معاشرہ ایک مقتل ایک ہیرا منڈی کے سوا کچھ نہیں رہ جائے گا۔ ابھی کچھ وقت ہے کچھ ایسا کام کر جائیں، کہ اپنی ماں، اپنی بیٹی، اپنی بہن کو اس کا صحیح مقام دے جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words