قرآنی آیات: جدید مسلم معاشرے میں نامی گرامی مسلمانوں کی ڈھال

گو کہ مذہبی انتہا پسندی، دہشتگرد تنظیموں کا مسلمان ہونا، غیر قدامت پسندی اور آزاد خیالی کی تحریکوں کی وجہ سے آج کل مذہبی ہونا ایک خامی قرار دیا جاتا ہے، پھر بھی مسلم معاشرے میں رہتے ہوئے مذہبی بننا اپ کو کئی معاملات میں کافی عزت اور سہولت بھی دیتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا کافی مشکل ہے، اب کون میٹھی نیند اور ضروری کام کاج چھوڑ کے اٹھک بیٹھک کرے، کون غضب کی گرمی میں بنا بجلی تیس دن بھوکا رہے، کون رقم کا ایک بڑا حصہ ہاتھ پھیلانے والے بھوکے ننگوں کو دے، اور پتا نہیں کیا کچھ۔ نا بابا نا۔ اب اسلام اتنا بھی مشکل نہیں، نا ہی اسلام اتنا سخت ہے۔ باقی مسلمان ہونا بہت ضروری ہے۔ وہ بھی نامی گرامی مسلمان۔

اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ قرآن کی دس بارہ آیات بمع ترجمہ ذہن نشین کر لیں۔ پھر جب کبھی آپ کا کوئی کام نا ہوتا دکھائی دے یا آپ کے خلاف دکھائی دے تو ان آیات میں سے کچھ متعلقہ آیات اپنے مخالف کے سامنے بیان کردیں۔ ضروری نہیں کہ سامنے والا فوراً ہی چت ہو جائے۔ لیکن اس کی مجال نہیں ہو سکتی کہ وہ آپ سے اختلاف کرے۔ کیونکہ قرآنی آیت سے انحراف کر کے وہ کافر بننے کی سعی نہیں کر سکتا۔ اگر بہت روشن خیال مسلمان ہوا تو صرف خاموش ہی ہو جائے گا۔

اگر تھوڑا خدا سے ڈرنے والا ہوا تو آپ کا گرویدہ بھی بن سکتا ہے، بس پھر تو آپ کی لاٹری نکل آئی، اب آپ کو مزید نشانے مارنے کی اور کچھ اور آیتیں رٹنے کی صورت نہٖیں پڑے گی، آپ بہت مذہبی ثابت ہو چکے ہیں، اس لیے آپ کی عزت کرنا اور آپ کی ہر بات ماننا عام مسلمان پر فرض ہے۔ اتنی کس کو فرصت ہے کہ آپ کے روز مرہ کے امور کا جائزہ لے کہ آپ قرآن و حدیث پر عمل کرتے ہیں بھی کہ نہیں، بنیادی ارکان اور حقوق العباد کی ادائیگی کرتے بھی ہیں کہ نہیں، دیگر امور میں آپ اسلام پر کتنے عمل پیرا ہیں۔

آپ کو قرآنی آیات مع ترجمہ یاد ہیں تو آپ کے اچھے مسلمان ہونے کا اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ سونے پہ سہاگہ، انواع و اقسام کے فرقے اور مسالک، جو کہ ویسے ہی مسلمانوں کا کام آسان کر چکے ہیں، اتنے فقہی اختلافات ہیں کہ کسی پہ بھی عمل نا کر کے، بس عام مسلمان کا مسلمان ہونا آسان ہو گیا ہے۔ اب میں اور آپ کوئی عالم فاضل اور مفتی تو نہیں کہ ان اختلافات میں سے مدلل اور اصل کی پہچان کر کے اس پر عمل کر سکیں، ہاں اللہ نے قرآن کو ہمارے لیے آسان کیا ہے جیسے کہ اللہ خود فرماتا ہے ’اور ہم نے تمہارے پاس سلجھی ہوئی آیتیں ارسال فرمائی ہیں اور ان سے انکار وہی کرتے ہیں جو بد کردار ہیں‘ سورہ البقرہ آیت 99، ’اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے، تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟‘ سورہ القمر آیت 32۔ تو ہم بھی اپنے حساب سے آیات کو مناسب جگہ پے استعمال کر کے عملی زندگی میں کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے مسلمان بھی بن سکتے ہیں۔

ویسے حدیثوں کا استعمال بھی کافی کار آمد ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک تو ان کے حوالے یاد رکھنا کافی مشکل ہے دوسرا کچھ حدیثوں کے ضعیف ہونے کی بناء پر آپ کا موقف کمزور ہو سکتا ہے لہٰذا آیات سے ہی کام چلایے۔ آپس کی بات ہے، قرآن روز روز کون پڑھتا ہے اور وہ بھی مع ترجمہ اور تشریح، آپ کے پکڑے جانے کا کوئی امکان نہیں، کیری آن۔

ہاں باعلم اور باعمل مسلمان سے اگر سابقہ پڑے تو تھوڑا احتیاط ضرور کریں، کہیں وہ آپ کا کوئی نکتہ پکڑ نا لے، ویسے اس کے آثار کم ہیں۔ کیونکہ عام طور پر وہ بھی یا تو آپ کی طرح صرف علم کا ذخیرہ کر رہا ہوگا بغیر تشریح و تجزیے کے، یا پھر اندھا دھند صرف عمل کرنے میں مصروف ہوگا۔ ’اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے خیالات باطن کے سوا (خدا کی) کتاب سے واقف ہی نہیں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں‘ سورہ البقرہ آیت 78۔ اللہ نے یہ بھی بتا دیا ہے۔

آیات کا استعمال آپ کو موجودہ دور کے سب سے بڑے خطرے سے بچا سکتا ہے وہ ہے دقیانوسی اور قدامت پسندی کا لیبل لگنا۔ چونکہ کوئی مسلمان قرآن کو قدیم نہیں کہہ سکتا البتہ داڑھی رکھ کے، برقعہ پہن کے، نماز پڑھ کے، روزے رکھ کے آپ قدامت پسندی کے زمرے میں آ سکتے ہیں، اس لیے اگر اس جدت پسند معاشرے میں بقا چاہتے ہیں تو ان چیزوں سے اجتناب کریں۔

ویسے کچھ لوگ آیات کے استعمال کے خلاف اس آیت کا حوالہ بھی دے سکتے ہیں ’اور میری آیتوں میں تحریف کر کے ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) نہ حاصل کرو اور مجھی سے خوف رکھو‘ سورہ البقرہ آیت 41۔ لیکن آپ آیت بیچ تھوڑی رہے ہیں۔ آپ تو اپنی بات کو دلیل دے کے منوا رہے ہیں، اور اللہ نے قرآن اسی لیے تو نازل کیا ہے تا کہ مسلمان کی ڈھال بن سکے۔ باقی رہا عمل وہ اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ ہے۔ میں جانو میرا خدا جانے۔

دیکھیں! میں نے بھی کیسے کچھ آیات کا حوالہ دے کے پورا مضمون لکھ دیا، آپ میری ذاتی زندگی کے بارے میں نا کچھ جانتے ہیں اور نا ہی اتنا وقت ہے کہ کسی رائٹر کے قول فعل کے تضاد کو دلیل بنا سکیں، بس ایگری اور ڈس ایگری کی یلغار کرنا ہی ہماری قوم کا فریضہ بن گیا ہے۔ لہٰذا قرآنی آیات کا استعمال کرتے رہیں اور کامیابی اور عزت پاتے رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
ڈاکٹر طیبہ مخدوم کی دیگر تحریریں