دوسرے کا عیب ہی آپ کو سچ بولنے پے مجبور کیوں کرتا ہے؟
جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، اور سچ کا دل نہیں ہوتا۔ سچ کا بول بالا اور جھوٹ کا منہ کالا، اسی محاورے کے مصداق سچ بولنے کو ایک طاقت سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ سچ بولنا اکثر اوقات آپ کو مشکلات میں بھی ڈال دیتا ہے، تو پھر یہ تاویل دی جاتی ہے کہ سچ کڑوا ہے نا، ہضم نہیں ہوتا۔ جو سچ آپ بول رہے ہوتے ہیں، وہ کڑوا اس لیے ہوتا ہے، کیونکہ وہ کسی کا عیب ہوتا ہے۔
Read more
