علامہ اقبال کی خود کشی!

سب سے پہلے تو اس نشریاتی غازی کو سلام جس نے اس بے وقوف لڑکی کے سر پر اپنا پنجہِ شفقت رکھتے ہوئے پورے تام جھام نام کے ساتھ ہم جیسے کروڑوں سے اس عفیفہ کو متعارف کروایا۔

اس ابلاغی غازی کی انٹرویو وڈیو کو ہزاروں لائیکس ملے اور ہمیں اس لڑکی کے کردار کا ایکسرے، نیت کا سی ٹی سکین اور ترسے پیٹ بھرے جوانوں کو ورغلانے اور خود پر حملہ کروا کے سستی شہرت کو چوگنا کرنے اور اسلام و پاکستان کو ایک بار پھر بدنام کرنے کا شیطانی منصوبہ جاننے کا سنہری موقع ملا۔

اگر بچی کو پیدا ہوتے ہی دفن کرنے والے عربوں سے لے کر عورت کو چڑیل قرار دے کر زندہ جلا دینے والے پادریوں تک ‘اے عورت تیرا دوسرا نام کمزوری ہے’ جیسی شہرہِ آفاق لائن لکھنے والے عظیم شیکسپئیر سے بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کے مخالف سرسید احمد خان تک، بھری عبادت گاہوں میں حوروں کے ایک ایک عضو کی رسیلی تصویر کشی کرنے والے ریٹنگ سمیٹ پنج ستارہ مقبولِ عام مولویوں سے لے کر ریپ برائے ویزہ کے نظریے کے موجد پرویز مشرف اور بھڑکیلے کپڑوں سے جذبات بھڑکنے کی تھیوری کے داعی عمران خان تک سب ہی متفق ہیں کہ برائی کا منبع عورت ہے تو پھر عورت ہی شیطان کی چیلی ہے۔

یہ الگ بات کہ اسی شیطان کی چیلی نے ہی تمام عظیموں اور رزیلوں کو جنم دیا اور جنم دیتی رہے گی۔

جس جس نوجوان نے بھی اقبال پارک والی ٹک ٹاکر کے جسم کو مٹھائی سمجھ کر چھونے اور چکھنے کا لطف لیا، اسے یقین ہے کہ اس کی بہن ہمیشہ کے لیے محفوظ ہے۔ جس نے ٹھٹھہ کے ایک دیہی قبرستان میں تازہ قبر کھود کر اس لڑکی کا کفن تار تار کر کے جھاڑیوں میں پھینکا۔ اس نے بھی شاید اپنی ماں کو کبھی نہ کبھی چادر ضرور خرید کے دی ہو گی۔

جس نے بھی کورنگی میں کچرے کے ڈھیر پر ایک تین سالہ بچی کی ریپ زدہ لاش دبائی ہو گی، اس نے بھی کبھی نہ کبھی ایک بار تو اپنی چھوٹی بہن یا بھانجی بھتیجی کو گود میں اٹھا کر پیار کیا ہوگا اور شاید وہ ان گڑیوں پر میلی نظر ڈالنے والے کسی اجنبی سے کبھی گتھم گتھا بھی ہوا ہو۔

ایسا نہیں کہ ہماری آنکھوں میں شرم و حیا نہیں یا ہمیں اپنی اقدار کا علم نہیں یا ہمیں اپنے بزرگوں کی عزت پیاری نہیں۔ ہم ہر سگی بہن، بیٹی، بہو، ماں کا مکمل غیرت برتتے ہوئے احترام کرتے ہیں۔

دیگر گھروں، محلوں اور شہروں والے اپنی بہن بیٹیوں، ماؤں اور بزرگوں کے احترام و تحفظ کا وقت و حالات کے اعتبار سے خود اہتمام کریں۔

لیکن یہ سب لکھنے بتانے کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ ہم اپنی ہاتھ سے نکلی عورتوں کا احتساب کرتے کرتے احترامِ زن کے بارے میں نبیِ کریم کی تعلیم، احکامات اور عملی رویے کا منبر سے بیان سنتے وقت آنکھیں نم کرنا بھول جائیں۔

ہم ایک مظلوم عورت کی آواز ہزاروں میل پرے حجاج بن یوسف کے کانوں تک پہنچ جانے والے واقعہ کو درسی کتب سے نکال دیں۔

ہم ہجوم میں گھری ایک دیسی ٹک ٹاکر کی اپنی انگلیوں سے کرداری نپائی کی شدت میں کہیں سینتالیس کے فسادات میں اپنی عصمت کی حفاظت میں کنوؤں میں چھلانگ لگانے والی عظیم بچیوں کی دل سوز کہانی یاد نہ رکھیں۔

ہم فلسطینی عورتوں کو میلی نگاہ سے دیکھنے والے اسرائیلیوں، کشمیر کی مظلوم بیٹی کی آہ و بکا، مظلوم افغان عورت کی پبتا سن کر مٹھیاں بھینچ کر اس کی مدد و نصرت کے لیے بے تاب ہونا چھوڑ دیں۔ ہرگز ہرگز نہیں۔

کیا ستم ظریفی ہے کہ چودہ اگست کو یہ واقعہ تصورِ پاکستان کی جنم بھومی لاہور کے اقبال پارک میں ہوا۔ جوانوں کو پیروں کا استاد سمجھنے والی روحِ اقبال مینارِ پاکستان کی نوک پر براجمان، ممولے کو شہباز سے لڑتے دیکھتی رہی۔

جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

اقبال کے اچھوں کو بھی گمان نہ ہو گا کہ دو ہزار اکیس کا شاہین اس شعر کو یوں بھی سمجھے اور برتے گا۔
ایسی کمال سمجھ کے بعد لوحِ مزار پر تصیح تو بنتی ہے۔

ڈاکٹر محمد اقبال
پیدائش : نو نومبر اٹھارہ سو ستتر
وفات: چودہ اگست دو ہزار اکیس (خود کشی)۔

Comments - User is solely responsible for his/her words