گریٹر اقبال پارک کا اونچا مینار اور چھوٹے لوگ


سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم موجودہ دور میں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں بے پناہ مقبولیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے لوگوں کی بہت بڑی تعداد آج کل کے فارغ دور میں گھر بیٹھے کمائی کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف ایپس یعنی فیس بک، ٹک ٹاک اور یوٹیوب وغیرہ نوجوان طبقے کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ سوشل میڈیا کے صارفین اپنی آئی ڈی کو مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچانے اور فالورز بڑھانے کے لئے ہر جائز اور ناجائز حربہ استعمال کرتے رہتے ہیں۔ تاکہ ان کی شہرت اور ویورز میں اضافہ ہو۔

سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی وڈیوز کے معیار کو اگر پرکھا جائے تو ان کی اکثریت بیہودگی اور لچر پن پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان میں کام کرنے والی خواتین کے لباس کسی طرح پر بھی مشرقی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اور نہ ہی پرفارمرز کے مکالمے اخلاقی معیار کی کسوٹی پر پورا اترتے ہیں۔ پاکستان میں ٹک ٹاک نامی ایپ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ نوجوان مرد اور خواتین کی اکثریت اپنے موبائل فون یا منی کیمرے کے ذریعے گھروں، پارکس یا مارکیٹس میں وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیتے ہیں۔

پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد یوٹیوب کے ذریعے بھی پیسے کمانے میں مصروف ہے۔ صحافی حضرات اور بلاگرز سیاسی اور سماجی معاملات کو اجاگر کر کے لوگوں کی ذہن سازی میں مصروف عمل ہیں۔ جب کہ عام خواتین اور مرد حضرات کھانے پکانے کی تراکیب، رنگ گورا کرنے کے طریقے، مردانہ طاقت بڑھانے کے ٹوٹکے اور دیگر مسائل کے حل پر مبنی وڈیوز اپلوڈ کر کے پیسے بنا رہے ہیں۔ کرونا وبا کی وجہ سے سکول بھی بند ہیں۔ لہذا آن لائن کلاسز کا سلسلہ بھی چل رہا ہے۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر صاحبان بھی ایک سکرین کے ذریعے مریضوں کو چیک کر رہے ہوتے ہیں۔

مگر افسوس کی بات یہ ہے۔ کہ سوشل میڈیا نے نوجوان طبقے کی ذہنی صلاحیتوں کی شکست و ریخت میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارا نوجوان بے راہ روی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ 2014 کے بعد ایک سیاسی جماعت نے بھی نوجوان طبقے کی اخلاقی بگاڑ میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے بھی نوجوانوں کے لئے نوکریوں اور کاروبار کے دروازے بند ہیں۔ محض اسی وجہ سے وہ فرسٹریشن کا شکار ہو کر غیر اخلاقی حرکتوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

ریاست پاکستان آئینی اور اخلاقی طور پر اس بات کی پابند ہے۔ کہ وہ یونیورسٹیوں اور کالجز سے فارغ التحصیل نوجوانوں کے لئے نوکریوں کا بندوبست کرے۔ نہ کہ عالمی مالیاتی فنڈ کی غلامی کرتے ہوئے پہلے سے بھرتی شدہ ملازمین کی فراغت یا ان کی مراعات میں کمی جیسے عوام دشمن اقدامات کرے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے لوگوں اور خاص کر نوجوان طبقے کو خوشنما باغ دکھا کر اپنے ارد گرد جمع کیا تھا۔ نوجوان بھی شاید اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے تھے۔

کہ عمران خان کے دور حکومت میں ملازمتیں وافر مقدار میں دستیاب ہوں گی۔ اور وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیز میں تبدیل کر کے انہیں ان میں لیکچرار بھرتی کر دیا جائے گا۔ یہ بھی ممکن ہے۔ خان صاحب دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں۔ مگر نوجوان طبقے کے ارمان اور خواب کپتان نے اپنے UTURNS کے ذریعے چکنا چور کر دیے ہیں۔

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔

ٹک ٹاکر عائشہ اکرام 14 اگست کو وڈیو بنانے کی غرض سے گریٹر اقبال پارک لاہور میں داخل ہوتی ہے۔ چند لوگ اس کے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ سیلفیاں بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک فنکارہ ہونے کے ناتے وہ بڑے اعتماد کے ساتھ ہجوم کے درمیان کھڑی رہتی ہے۔ ہجوم آہستہ آہستہ بڑھنے لگتا ہے۔ اور دن کی روشنی شام کے دھندلکے میں بدلنے لگتی ہے۔ مینار پاکستان کے عین نیچے وہ کچھ ہوجاتا ہے۔ جس کی ایک اسلامی معاشرے میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

درندگی کے اس المناک اور دردناک واقعے پر نہ زمین پھٹی اور نہ آسمان گرا۔ بعض تبصرہ نگاروں کے مطابق خاتون اگر چاہتی تو پارک سے باہر جا سکتی تھی۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ وہ کافی دیر تک مجمع کے بیچ کھڑی رہی۔ چند لوگ اس کی پراسرار حرکتوں کو شبے کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان جو پوری دنیا میں مختلف حوالوں سے تنقید کی زد میں تھا۔ یہ واقعہ اب ہمارے ملک کے لئے مزید سبکی کا باعث بن گیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس سانحے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی ایک بھونچال سا آیا ہوا ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں اس سانحے پر تبصرے اور تجزیے کرنے میں مصروف ہے۔

حکمرانوں کی ترجیحات میں شاید لوگوں کو اس طرح کے گھناؤنے واقعات سے بچانا شامل نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ ان مظالم کو ختم کرنے کی ذمہ داری کون اٹھائے گا۔ ریاست کی رٹ کیسے بحال ہوگی۔ قانون اپنا راستہ کب بنائے گا۔ ریاست مدینہ بنانے کے دعوے دار مظلوموں کو ان وحشیوں سے بچانے کے لئے کب حرکت میں آہیں گے۔ ہماری پارلیمنٹ، جوڈیشری اور انتظامیہ کب ان وحشی درندوں کو نکیل ڈالنے کے لئے مناسب قانون سازی کریں گی۔ معاشرہ اور سوسائٹی کب تک تماشا دیکھتے رہیں گے۔ کون ان وحشی درندوں کا راستہ روکنے کے لئے آگے بڑھے گا۔

ماضی میں دھرنے کے نام پر دو جتھوں نے اسلام آباد میں یلغار کر کے اخلاقی انحطاط کی ایک تاریخ رقم کی تھی۔ نوجوان لڑکیوں اور مردوں کو ڈی چوک اسلام آباد میں جمع کیا گیا۔ اور انہیں سول نافرمانی پر اکسایا گیا۔ اس کے علاوہ ایک منتخب وزیراعظم کو کارکنوں کے ذریعے ایوان وزیراعظم میں محبوس کر دیا گیا۔ دھرنے کے دوران رات کے پچھلے پہر تحریک انصاف کے راہنما رقص کی محفل سجایا کرتے تھے۔ ایسے ماحول میں پارٹی کے کارکن کیسے پیچھے رہتے۔ انہوں نے بھی بڑی دھما چوکڑی مچائی۔

اگر انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر سوچا جائے۔ تو ایک قومی لیڈر کی طرف سے اس قسم کا رویہ بڑا شرمناک تھا۔ اچھے لیڈر نوجوانوں کی فکری تربیت کرتے ہیں نہ کہ ان کے اندر بغاوت اور منفی جذبات کو ابھاریں۔ اس بات میں رتی بھر شبہ نہیں کہ بدنام زمانہ دھرنوں کے بعد نوجوانوں کی کثیر تعداد ذہنی اور اخلاقی طور پر حواس باختگی کا شکار ہو چکی ہے۔

موجودہ حکومت کے تین سالوں میں اغوا، زیادتی اور ہراسمنٹ کے جتنے واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ جب بھی اس قسم کا واقعہ پیش آتا ہے۔ حکمران نوٹس لے کر ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔ پہلے تو ملزمان ہی نہیں پکڑے جاتے۔ اگر ایسا ہو بھی جائے تو تھانے کچہری کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اگر ملزم ایلیٹ طبقے سے تعلق رکھتا ہو تو اسے کوئی مائی کا لال سزا دینے کی جرآت بھی نہیں کر سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words