طالبان، پشتون ،امن اور پراپیگنڈہ ‎‎

کابل پر افغان طالبان کے قبضے کے بعد سے ہمیں بہت سارے ایسے لوگ دیکھنے کو ملتے ہیں جو کابل/افغانستان پر افغان طالبان کے قبضے کے فوائد دوسرے لوگوں، بالخصوص ترقی پسند قوم پرست/ لیفٹسٹ/ طالبان مخالف نظریات رکھنے والے پشتون نوجوانوں کو بتا کر ان کو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر طالبان حکومت کے حق میں قائل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے کئی ایک پاپولر دلائل، پشتون وطن میں پچھلے چند ایک دہائیوں میں بارہا لوگوں کے ذہنوں میں انڈیل کر مختلف شدت پسند مذہبی گروہوں کے لیے لوگوں کے دلوں میں ایک نرم گوشہ پیدا کیا گیا یا لوگوں کو ان کی افادیت یا معاشرے کی بہتری کے لئے ان کے وجود کی ضرورتثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

افغانستان میں طالبان کے قبضہ کے حق میں ایک بڑی دلیل جو پیش کی جاتی ہے، وہ وہاں امن کے بحال ہونے کی ہے، یعنی کہ طالبان کے آنے کے بعد پشتون وطن/افغانستان میں امن بحال ہو جائے گا، اس لیے پشتونوں کو اس قوت کی حمایت کرنی چاہیے بجائے مخالفت یا کوئی اور رویہ رکھنے کے۔ یہاں بنیادی مقصد اس دلیل کو غلط یا صحیح ثابت کرنا نہیں بلکہ محض اس دلیل کے ذریعے بارہا عوام دشمن قوتوں کے لئے پشتون وطن میں جو عوامی حمایت پیدا کی گئی، اس پر بات کرنا مقصود ہے۔

پاکستانی پشتون ایریاز بالخصوص وزیرستان سے تعلق رکھنے والے اکثر وہ لوگ جن کو تحریک طالبان کی آمد یاد ہے، ان کے بقول ”امن“ کا یہی لفظ تھا جو کہ طالبان کے حق میں سب سے زیادہ استعمال کیا گیا۔ طالبان کی وزیرستان آمد سے پہلے وہاں چند ایک جرائم پیشہ گروہ تھے، جن کی وجہ سے لوگوں کو کئی مسائل کا سامنا تھا۔ یہ جرائم پیشہ گروہ منشیات کے کاروبار کے ساتھ ساتھ ڈاکا زنی یا گھروں میں چوری کرنے ملوث تھے۔ گو کہ ان گروہوں کے سدباب کے کے لئے مقامی سطح پر اثر رسوخ رکھنے والے لوگوں نے بھی لشکر تشکیل دیے لیکن ان گروہوں کے خلاف موثر کارروائی بظاہر پاکستانی طالبان نے کی اور منشیات اور دوسری سماجی برائیوں کو بھی بظاہر قابو میں کیا۔

حالانکہ کئی ایک لوگوں کے بقول۔ جس میں بلاشبہ کافی حد تک سچائی بھی ہے، پاکستانی طالبان نے ان میں سے بیشتر جرائم پیشہ لوگوں کو ختم کرنے کے بجائے اپنے ساتھ ملایا کیونکہ بہرحال ان کے لیے پیسہ دونوں کاموں میں تھا، منشیات کا جہاں کسی حد تک خاتمہ کیا وہی پاکستانی طالبان کی ایک قابل ذکر تعداد خود اس کام میں ملوث تھے۔ مختصراً یہ کہ ان برائیوں کے مکمل خاتمہ کے بجائے ان کو مختلف طریقوں سے ریگولیٹ کیا گیا اپنے تنظیمی فائدے کے لئے۔

انکے علاوہ مختلف تنازعات کے جلد فیصلے، عورتوں کو گھریلو تشدد کے مختلف اقسام سے کسی حد تک بچانا (یہ الگ بات ہے کہ مختلف فرسودہ قوانین کا اطلاق بھی کیا عورتوں پر، مذہبی قوانین نام پر) ، وزیرستان میں مختلف دشمنیوں کی بنا پر قتل و جدل میں کمی لانا، مختلف قبیلوں /گھرانوں سے بڑا اسلحہ جمع کروانا جن میں سے بیشتر اسلحہ طالبان نے پھر سیکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال بھی کیا، شرعی قوانین کے اطلاق اور جہاد وغیرہ کے نعرے، وغیرہ۔

یہ اور چند ایک دیگر، وہ طریقہ کار/ اقدامات تھے جن کے ذریعہ پاکستانی طالبان اور ان کے ہمدردوں نے شروعات میں اپنے لیے کسی حد تک عوامی حمایت/تائید پیدا کی لیکن ہم جانتے ہیں پاکستانی طالبان نے عوام کو بظاہر یہ ریلیف دینے کے بدلے، آگے چل کر کن بڑی مصیبتوں سے ہمکنار کروایا، جس سے نا صرف وزیرستانی بلکہ پوری پشتون قوم اب تک باہر نہیں نکل پائی۔

افغان طالبان اور ان کے بنانے والوں اور ان کے حامیوں نے ماضی میں، جب افغان طالبان کابل تخت کے لئے لڑ رہے تھے اور جب ان کا کابل پر قبضہ ہوا تو انہی دلائل جن میں سے ”امن“ کے لفظ کا سب سے زیادہ پرچار کیا گیا، کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا لیکن چند سالوں کے ”مثالی امن“ کے بعد دو دہائیوں کی جنگ افغانیوں کو تحفے میں دی گئی۔

ماضی میں طالبان کے بیشتر حامی ( بشمول طالبان کے ) آج کل یہی دلائل پھر سے لوگوں کے ذہنوں میں افغان طالبان کے متعلق انڈیل رہے ہیں اور ان کے لیے عوامی تائید پر کام کر رہے ہیں، گو کہ میرا مقصد ہرگز کوئی پیش گوئی کرنا نہیں، نہ ہی میں تاریخ کا خود کو دہرانے کا دعوی کر رہا ہوں لیکن کوئی بھی تخریبی قوت/پراکسی ( خاص طور پر مقامی) انہی جیسے دیگر خوشنما نعروں / اقدامات کے ذریعے پہلے مقامیوں / معاشرے میں جگہ بناتی ہے اور پھر وقت آنے پر ان کو ماضی کی برائیوں سے زیادہ بڑی بلائیں / مصیبتیں دے جاتی ہیں۔

یہ ممکن ہے کہ اب کی بار طالبان دیگر علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں کے آلہ کار مزید نہ بنیں اور وہ ایک دیرپا امن قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوں لیکن اس کے لیے دوستوں کو چاہیے کہ ماضی کے ان فرسودہ اور خوشنما نعروں کی بنیاد پر پراپیگنڈہ کے ذریعے افغان طالبان کے لئے عوامی حمایت حاصل کرنے کے بجائے وہ پشتون عوام کو خود موقع دیں کہ وہ اس ”نئی“ طاقت کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر جانچیں اور اگر ان کے اقدامات اگر عوام دوست ہوں گے تو عوامی تائید ان کو خودبخود بنا اس پراپیگنڈہ کے حاصل ہو جائے گی، نہیں تو پشتون قوم نے اس پہلے بھی جبر کی کافی ساری کالی راتیں دیکھی ہیں، ایک رات یہ بھی سہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
محمد اسد، جنوبی وزیرستان کی دیگر تحریریں