”دل من“ :سندھ کی تہذیب و تمدن کا عکاس ناول

دل من سندھ کے تمدن موہن جودڑو اور ہڑپائی تہذیب کی عکاسی کرتا نیم تاریخی ناول ہے، جو کہ یعقوب یاور کی ذہنی تخلیق کا شاہکار ہے۔ اسے جمہوری پبلی کیشنز نے 2012 ء میں شائع کیا۔ اس ناول کا انتساب ڈاکٹر اراوتی کے نام ہے جو وسنت کالج برائے خواتین، راج گھاٹ، وارانسی کے شعبہ تاریخ ہند قدیم کی صدر شعبہ ہیں۔ ناول کی ابواب بندی یوں ہے۔ غروب آفتاب، طلوع سحر، دیوانئی، ہجرت، گومل کی وادی، سنتان پراپتی نرتیہ، معتوب بستی، تارکی، ہریوپیکا، اجنبی شہر، پتری پال، دل من، نیا پالک نگر، سازش، آخری فیصلہ، اختتامیہ۔

سندھ کے تمدن کی تلاش بیسویں صدی کا قصہ ہے۔ موہن جودڑو اور ہڑپائی تہذیبیں تین ہزار قبل مسیح سے پندرہ سو قبل مسیح تک موجود تھیں۔ یہ تمدن پاکستان، ایران، ہمالہ سے کیمبے تک وسعت رکھتا تھا۔ منصوبہ بند شہری تعمیرات، سڑکیں، رہائشی مکان، کنویں، تالاب، برتن، اوزار، ہیرے جواہرات، زیورات، لباس، پکی مٹی، پتھر، اور دھات کے بنے مجسمے، مہریں دریافت ہوئیں تو اس تمدن کی شناخت ہوئی۔ ان دریافتوں سے اس تمدن کی تہذیبی ترقی تو معلوم پڑتی ہیں لیکن ان کے سماجی، سیاسی، مذہبی افکار کے حوالہ سے معلومات بہت کم دستیاب ہیں۔

ان دریافتوں سے ان تہذیبوں کے افکار و خیالات کی ترکیب کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن اس وقت جو زبان تحریر کی جاتی تھی اس کو آج پڑھنا ممکن نہیں ہے۔ اگر زبان کو پڑھنا ممکن ہو بھی جائے تب بھی اتنی مختصر تحریروں سے جو کہ پتھر، مجسموں، مہروں، تانبوں پر کندہ ہیں، ان سے جامع اور مربوط افکار کی تخریج ممکن نہیں ہے۔

یعقوب یاور ان قدیم شہروں کے تہذیب و تمدن کو سمجھنے کے لیے کوشاں ہیں اور اپنی تفہیم کو اپنے ناول کی بنیاد بناتے ہیں۔ موہن جودڑو شہر کو ”دل من“ کہتے ہیں۔ دل من کو وادی سندھ کا ہی ایک شہر تصور کیا جاتا تھا۔ سیلاب کے قصے میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ دل من کا ذکر سمیرین ادب میں موجود ہے۔ موہن جودڑو کو ”دل من“ کا نام دینے میں یعقوب یاور اپنی توجیہہ پیش کرتے ہیں۔

”موہن جودڑو (بمعنی مردوں کا ٹیلا) کا جدید نام مورخین نے اپنی سہولت کے لیے رکھا ہے یہ اس شہر کا اصل نام نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کریمر کے دلائل کی روشنی میں اس ناول میں موہن جودڑو کا قدیم نام“ دل من ”تصور کیا گیا ہے۔“ ( 1 )

ہڑپا کو ”ہریوپیکا“ کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔ اس نام کی وضاحت بھی ملتی ہے۔ یعقوب یاور اپنے ناول کے پیش لفظ میں تحریر کرتے ہیں۔

”وادی سند ہ کا دوسرا بڑا شہر ہڑپا ہے۔ شری ارن نے اپنی کتاب“ بھاتی پرا تہاس کوش ”کے صفحہ 541 پر ہڑپا کے قدیم نام کے لیے“ ہریوپیکا ”اسم کا استعمال کیا ہے۔ اس ناول ہڑپہ شہر کے اس نام کا یہی جواز ہے“ ( 2 )

ناول کی کہانی کچھ یوں ہے۔ مہامن کشال کے ہاں باغیچے میں متھو مالی کا کام کرتا ہے۔ متھو کی ایک بہن جس کا نام دیوانئی ہے وہ متھو کے ساتھ رہتی ہے۔ دیوانئی کی صورت اور بدن خوب صورتی میں بے مثال ہے۔ دیوانئی کے حسن و جمال کی چرچے ”دل من“ شہر میں پھیل جاتے ہیں۔ کشال اس شہر کا مالک و مختار ہے۔ ایک دن جب وہ شکار پر جاتا ہے تو اس کی مڈھ بھیڑ دیوانئی سے ہو تی ہے۔ دیوانئی کے حسن کو دیکھ کر اس کی رات کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔

وہ دیوانئی سے لذت آگیں ہونا چاہتا ہے۔ دیوانئی اس سے جھوٹ بولتی ہے کہ وہ شادی شدہ ہے۔ ”دل من“ کے شہر کا یہ اصول ہے کہ وہ شادی شدہ عورت کے بدن کو اپوتر نہیں کرتے۔ کشال اس سے معذرت کرتے ہوئے اسے جانے دیتا ہے۔ لیکن کشال کے من میں اس ناری کی مورتیا گھر کر گئی ہے۔ وہ اپنے ویروں یعنی ملازموں میں اپنے با اعتماد ویر کو یہ کام سونپتا ہے کہ اس ناری کا اتا پتا معلوم کرو۔ ویر اسے خبر دیتا ہے کہ دیوانئی متھو کی بہن ہے جو کہ اس کے باغیچے میں مالی ہے اور اس کا نک چڑھا بھی ہے۔

اور دیوانئی نے اس سے جھوٹ بولا کہ اس کی شادی ہو گئی ہے۔ جب متھو گھر آتا ہے تو دیونئی اسے اپنے خدشات بتاتی ہے۔ اور سارا معاملہ اس کے سامنے پیش کر دیتی ہے۔ متھو اس سے فی الفور شادی کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ وہ خانقاہ جاتے ہیں اور پروہت سے اجازت طلب کرتے ہیں۔ لیکن پروہت پہلے ہی کشال کی طرف سے ہدایات وصول کر چکتا ہے۔ وہ دیوتاؤں سے ان کی مرضی طلب کرتا ہے۔ متھو اور دیوانئی کو بتاتا کہ یہ شادی ان کے لیے مناسب نہیں۔

دونوں اپنے لیے کوئی اور ساتھی تلاش کریں۔ اتنے میں کشال کے ویر آتے ہیں اور متھو کو باندھ دیتے ہیں اور رات کے سمے ہی دیوانئی کو اپنے ساتھ کشال کے پاس لے جانا چاہتے ہیں۔ جب دیوانئی کشال کے کوٹ یعنی محل میں پہنچتی ہے تو کشال اس کے بدن سے لذت اندوز ہوتا ہے۔ اگرچہ اس میں دیوانئی کی مرضی شامل نہیں۔ لیکن اس نگر پالک کا یہی اصول ہے۔ دیوانئی اپنا بدن اس کے سپرد کر دیتی ہے۔ صبح ہوتے ہی دیوانئی کو اس کے نئے گھر بھیج دیا جاتا ہے۔

جہاں نگر پالک کے مرد اس کے بدن سے لطف اندوز ہو سکیں۔ مساکا جو کہ دیوانئی کا دیوانہ تھا جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ دیوانئی اب داشتہ بن گئی ہے تو اس کے پاس جاتا ہے۔ دیوانئی اس کا استقبال کرتی ہے۔ دیوانئی رات میں اس کو قتل کر دیتی ہے۔ صبح چرچا ہوتا ہے کہ دیوانئی نے مساکا کاقتل کر دیا ہے۔ اس کا مقدمہ کشال کے پاس جاتا ہے۔ کشال قتل کی پاداش میں اسے نگر پالک ”دل من“ سے باہر پھینکنے کا حکم دیتا ہے۔ دیوانئی کی چونکہ یہ حالت کشال کے باعث ہوتی ہے۔

دیوانئی اسے کہتی ہے کہ وہ اس سے بدلہ ضرور لے گی۔ جب دیوانئی کو گیٹ سے باہر پھینک دیا گیا تو دیوانئی کو یقین ہو جاتا ہے کہ اب دیوتا اس کی جان لیں گے۔ لیکن ایک مہرشی آتے ہیں اور اس کی جان بچاتے ہیں۔ اس کو اپنی بیٹی بنا کے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ نگر پالک کا اصول تھا کہ اگر کسی کو دیوتا کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے اور وہ زندہ بچ جائے تو اگلی صبح وہ نگر پالک میں آ کے دوبارہ اپنی زندگی کا آغاز کر سکتا ہے۔ اس کا جرم معاف ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی جان کا بچ جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ دیوتا نے انھیں معاف کر دیا ہے۔

لیکن دیوانئی اب واپس نہیں جاتی۔ مہرشی کے پاس اس کے دو چیلے بھی ہوتے ہیں۔ دیوانئی کو وہ دیوی ماننے لگتے ہیں۔ مہرشی بھی جان جاتا ہے کہ اس دیوی کے کارن بہت فائدہ ہونے والا ہے۔ دیوانئی کے ہاں کشال کے بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ اس کا نام سرال رکھا جاتا ہے۔ متھو کو قید کر کے مار دیا جاتا ہے۔ مہرشی ایک دن یہ خبر دیوانئی کے پاس لاتا ہے۔ اور دیوانئی کو کملا نگر منتقل ہونے کو کہتا ہے۔ دیوانئی کملا نگر جاتی ہے تو راستے میں ایک بستی میں وبا پھیلی ہوتی ہے۔

وہ علاج کرتی ہے اور سب صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ دیوانئی کو دیوی مان لیا جاتا ہے۔ کملا نگر پہنچنے سے پہلے اس کی شہرت وہاں پہنچ جاتی ہے۔ جب مہرشی اور دیوانئی اور دیوانئی کا نیا عاشق سوریم کملا نگر پہنچے تو وہاں کے نگر پالک کوشک نار ان کا استقبال کرتے ہیں۔ کوشک نار دیوانئی کو رہنے کے لیے اچھی جگہ دیتے ہیں اور اس کے تمام اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ سرال کی پرورش ہونے لگتی ہے۔ کوشک نار کے ہاں دیوانئی کی دعا سے ایک بچی پیدا ہوتی ہے۔

اس کا نام تارکی رکھا جاتا ہے۔ تارکی اور سرال کی بعد میں شادی بھی ہوتی ہے۔ سرال کو جب تعلیم کے لیے ”ہریوپیکا“ بھیجا جاتا ہے تو وہاں کشال کے لوگ پہنچ جاتے ہیں اور اسے مار دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ کشال کے تین آدمی مر جاتے ہیں۔ کشال سرال کو اس لیے مارنا چاہتا ہے کہ ایک بھوشیہ دان ان کو بتاتا ہے کہ سرال اپنے باپ کا قتل کرے گا اور نگر پالک بھی بنے گا۔ کوشک نار نے چوں کہ اس کی پرورش کی ہوتی ہے وہ سمجھتا ہے کہ اب میں ہی اس کا باپ ہوں اور وہ بھی دیوانئی اور سرال کا دشمن ہو جاتا ہے۔

مہرشی کو جب علم ہوتا ہے تو ہو سرال کو اور دیوانئی کو شک نار جو کہ کملا نگر کا نگر پالک ہے، اس سے نکال کے لے جاتا ہے اور منڈو میں جا کے بستا ہے۔ سرال ہریوپیکا سے بھاگتا ہے اور سمیریا جاتا ہے۔ وہاں اپنی بہادری کا ثبوت پیش کرتا ہے اور وہاں کی فوج کا سپہ سالار بن جاتا ہے۔ سمیرین کی اکد کے ساتھ ہمیشہ لڑائی رہتی ہے۔ سرال سمیرین کی جانب سے لڑتا ہے اور فتح یاب ہوتا ہے۔ سمیریا والے اس کو بہت سا سونا اور مال و دولت اور جنگی سازو سامان دیتے ہیں۔

لیکن سرال کو اب کشال کو ختم کرنا ہے۔ اس کی ماں اس کو ساری کہانی کہ سناتی ہے۔ لیکن یہ نہیں بتاتی کی کشال اس کا باپ ہے۔ وہ سرال کے دل میں کشال کے لیے نفرت پیدا کرتی ہے تا کہ وہ اسے مار ڈالے۔ کشال سے لڑائی کے سرال تیاری کرتا ہے۔ خفیہ طور پر دل من میں داخل ہوتا ہے جہاں کشال کی بیٹی کیتی سے اس کی راہ و رسم بڑھ جاتی ہے۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے پیار کرنے لگتے ہیں۔ کیتی اس سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ سرال کا مقصد کشال کو مارنا ہوتا ہے۔

وہ اپنی منصوبہ بندی کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ کیتی کو یہ نہ معلوم ہو کہ کشال کا قاتل سرال ہے۔ جب سرال کے ویر یعنی سپاہی کشال کو مارنے جاتے ہیں تو کشال ان کے سپرد ہو جاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اسے سرال کی تیاریوں کا علم ہے۔ لیکن سرال کے لیے ایک پیغام دیتا ہے۔ سرال کے ویر اس کو بتاتے ہیں کہ کشال تمھارا باپ تھا۔ کیتی سے شادی میں بھی حائل نہیں تھا۔ اس کی رضا شامل تھی۔ سرال کیتی سے شادی کر لیتا ہے۔ لیکن کیتی کو شک ہے کہ کشال کو مارا گیا ہے۔

سرال جب نگر پالک بنتا ہے تو لوگوں کو بتاتا ہے کہ کشال نے خودکشی کی ہے۔ کشال نگر پالک تھا۔ مگر اس کا انتظام کمزور ہو چکا تھا۔ شراب پینا اور روزانہ ایک ناری کی ساتھ ہم بستر ہونا ہی بس اس کا مشغلہ تھا۔ لوگوں کا کشال پر اعتماد اٹھ گیا تھا۔ کشال کی قریبی عمال اور امرا بھی اس کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ کیتی کو سب صورت حال کا پتا تھا لیکن کشال کے قتل کا معمہ اس کو پریشان کرتا رہتا تھا۔ وہ خفیہ انداز میں منصوبہ بندی کرتی ہے تا کہ وہ اس راز کو پا سکے۔

کیتی سمجھتی ہے کہ دیوانئی کی وجہ سے کشال کا قتل کیا گیا ہے۔ اس لیے وہ اس کی جان کی دشمن بن جاتی ہے۔ وہ دیوانئی اور اس کے بیٹے سرال کے درمیاں اختلافات بھی پیدا کرتی ہے۔ سرال کی تارکی سے شادی کے بعد ایک بچہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ تارکی اور سرال کے درمیاں تعلقات نا خوشگوار رہتے تھے۔ کیتی اس کو بھی استعمال میں لاتی ہے۔ تارکی ایک قتل کرتی ہے۔ لیکن اس قتل کا الزام دیوانئی کے سر آتا ہے۔ آخر سرال اس کو ایک بار پھر شہر سے باہر پھینکنے کا آدیش دیتا ہے۔ سرال اب شراب پینے لگتا ہے۔ نگر پالک کے معاملات میں دلچسپی نہیں لیتا۔ کیتی سارا انتظام سنبھال لیتی ہے۔ اب کی بار دیوانئی مر جاتی ہے۔ سیلاب آتا ہے اور دل من بھی اس میں ڈوب جاتا ہے۔ سب تباہ ہو جاتا ہے۔

کہانی میں ایک کردار شانو مگم کا ہے۔ وہ پاگل ہے اگرچہ ہے نہیں۔ وہ صدا دیتا ہے کہ کپڑے اتار دو۔ لوگ اس کو پاگل سمجھتے ہیں۔ ایک دن وہ اس کا مطلب دیوانئی کو سمجھاتا ہے۔

”سب کو دیوتاؤں نے ایک جیسا بنایا ہے جب ہم کپڑے پہن لیتے ہیں تو ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ ان کپڑوں نے تمھیں بھی کبھی بڑا بنایا ہے کبھی چھوٹا“ ( 3 )

ناول میں آج کے سماجی تناظر کے اعتبار سے ازدواجی تعلقات کا ایک نیا روپ دکھایا ہے۔ ناول میں دیوانئی اور متھو جو کہ بہن بھائی ہیں ان کے درمیان جنسی محبت کو اجاگر کیا ہے۔ دیوانئی اور متھو شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ پروہت ان کی اس شادی پر راضی نہیں ہے۔ مہامن کشال چونکہ خود دیوانئی سے شادی کرنا چاہتا ہے اس لیے پروہت اس کے کارن ان کی شادی کو سوئیکار نہیں کرتا۔ اسی طرح سرال اور کیتی کے درمیان جنسی محبت اور پھر شادی کے بندھن کو دکھایا گیا ہے۔ سرال اور کیتی بہن بھائی ہیں۔ ناول نگار یعقوب یاور اس قدیم رواج کو دلائل سے پیش لفظ میں پیش کرتے ہیں۔ وہ رگ وید اور پرانوں سے ایسے بندھن کو ثابت کرتے ہیں۔ یعقوب یاور لکھتے ہیں

”پرانوں میں ایسی شادیوں کا ذکر بھی ہے جو بھائیوں اور بہنوں کے درمیاں ہوئیں۔ مثال کے طور پر نہس ایل، شکر اس نس، کرشاشو، رہتا شو، جنھوں نے اپنی ہی بہنوں سے شادیاں کیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ مثالیں آریاؤں کی آمد سے قبل تمدن سندھ سے مستعار ہوں“ ( 4 )

عورت کے حقوق کے کی اس دور میں کیا صورت حال تھی، یعقوب یاور اس پر لکھتے ہیں، اس دور میں عورتوں کی خریدو فروخت ممنوع تھی، عورتوں کو گروی رکھنا بھی غیر اخلاقی تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن عورت مکمل آزاد نہ تھی، مردوں کے اختیارات لامحدود تھے، عورتوں کی سر پرستی مرد کرتے تھے۔ ایسی عورت جو خوب صورت ہوتی، مرد کے لیے اس کو تحفظ دینا مشکل ہوتا تھا۔ مقتدرہ مختلف حیلے بہانوں سے اس کو حاصل کر لیتے تھے۔ سرپرستوں کو مجبور کر دیا جاتا تھا۔ عورت اپنے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے میں آزاد نہ تھی۔

”وہ جس سماج میں رہتا تھا وہاں سمیریا اور مصر کی طرح عورتوں کو بیچے جانے اور گروی رکھنے کا رواج نہیں تھا لیکن ہر وہ شخص جسے عورتوں سے قرب حاصل کرنے کا جنون ہوتا تھا، مواقع کی تلاش کرتا رہتا تھا۔ کچھ لوگ سازش کر کے خوب صورت عورتوں کے سرپرستوں کو اس عمل پر مجبور بھی کر دیتے تھے۔ مردوں کے حقوق لا محدود تھے اور ان کے مقابلے میں عورتوں کے حقوق نہ کے برابر۔ کسی طرح کے فیصلے میں عورت کے مفادات کا تحفظ غیر ضروری سمجھا جاتا تھا۔“ ( 5 )

دل من کا قانون تھا کہ بغیر دیوتاؤں کی اجازت کے شادی نہیں ہو سکتی تھی۔ جن افراد کے درمیاں شادی کا بندھن ہونا ہوتا وہ پجاری کے پاس جاتے اور اپنا مدعا بیان کرتے۔ پجاری دعا کرتے اور دیوتا سے رابطہ کر کے ان کی مرضی ان کو بتا دیتے۔ اکثر دیوتا ان کی شادی پر رضامندی ظاہر کرتے۔ لیکن ایسا بھی ہوتا تھا کہ دیوتا کسی شادی کے لیے ہاں نہ کرتے۔ اسے مناسب نہ سمجھتے۔ درحقیقت اس نہ کے اندر سماج کا ایک گہرا بھید کام کر رہا ہوتا۔ پجاری بھی مقتدرہ کے ساتھ منسلک تھا۔ جہاں مقتدرہ کا مفاد ہوتا وہاں دیوتاؤں کی صلاح کو پس پشت ڈال دیا جاتا اور وہی کیا جاتا جو مقتدرہ چاہتی۔ اس سلسلہ میں دیوائتی اور متھو کی شادی کی مثال پیش ہے۔ یعقوب یاور لکھتے ہیں

”دل من کے قانون کے مطابق اس مہانگر میں رہنے والا کوئی شخص بغیر دیوتاؤں کی اجازت کے کسی سے شادی نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن یہ بس ایک رسم ہی تھی ایسا کبھی کبھی ہی ہوتا تھا کہ دیوتا کسی کو شادی کی اجازت نہ دیں۔ پھر بھی یہ کبھی کبھی کا انکار آنے والوں کے دلوں کی دھڑکن تیز کر دیتا تھا۔ متھو اور دیوانئی جن حالات میں یہاں آئے تھے۔ ان کی گھبراہٹ فطری تھی۔ ان کے دل دھڑک رہے تھے۔ اور ان کے سامنے بیٹھا پجاری آنکھیں بند کیے دیوتاؤں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کافی دیر کے انتظار کے بعد پجاری نے آنکھ کھولی تو اس کی آنکھیں انگارے کی طرح سرخ ہو رہی تھیں۔ اس کا چہرہ بھیانک لگنے لگا تھا۔ وہ بولا“ ناگرک، دیوتا اس وواہ سے پرسن نہیں ہیں۔ میں نے انھیں منانے کا پریتن کیا پرنتو ان کا کہنا ہے کہ یہ وواہ اشبھ ہو گا او وواہ ہوتے ہی دونوں کال کا گراش بن جائیں گے۔

متھو نے کسی سے سنا تھا کہ پجاری لالچی ہے۔ اگر اسے لالچ دے دیا جائے تو وہ ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتا تھا۔ چنانچہ اس نے پجاری سے کہا ’دیوتاؤں کو پرسن کے لیے میں پانچ گائے دان کرتا ہوں ان سے میرا کام کروا دیجئے۔ ”( 6 )

ہریوپیکا یعنی ہڑپا شہر کے حوالے سے لکھتے ہیں۔ یہ شہر راوی کے کنارے آباد تھا۔ جب دیوتاؤں نے زمین پر رہنے کا ارادہ کیا تو ہڑپا شہر کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ شہر تجارتی مرکز بن گیا اور دور دراز کے علاقوں سے تاجر یہاں آتے اور خرید و فروخت کرتے تھے۔ قریبی شہروں کے لوگ اپنی ضروریات کی اشیا اس شہر سے لے جاتے۔ مغرب سے پتھر اور تانبا فروخت کرنے کے لیے لوگ یہاں آتے۔ بادبانی کشتیوں کا ایک کارخانہ بھی یہاں قائم تھا۔ یعقوب یاور اس شہر کے حوالے سے لکھتے ہیں۔

”دریائے راوی کے کنارے بسا یہ شہر اپنے محل وقوع کے اعتبار سے مثالی تھا۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ دیو لوگ میں رہتے تھے جب دیوتا اکتانے لگے تو انھوں نے دھرتی پر رہنے کا ارادہ کیا اور اس شہر کی بنیاد رکھی۔ ترقی کرتے کرتے یہ شہر کئی معنوں میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ یہ ایک بڑا تجارتی مرکز تھا۔ جہاں دور دراز کے تاجر آ کے اپنا سامان فروخت کرتے تھے اور کئی دوسرے شہروں کے لوگ اپنی ضرورت کا سامان حاصل کرنے کے لیے یہاں آتے تھے۔

سونے کے زیورات فروخت کرنے والے وسطی ہند سے، چاندی کے تاجر مغرب سے، قیمتی پتھر اور تانبا فروخت کرنے والے مغربی ہند سے یہاں آتے تھے۔ یہاں پر سمندر پر چلنے والی بادبانی کشتیاں بنانے کا ایک بڑا کارخانہ تھا۔ سونے، چاندی اور تانبے کی اشیا بنانے والے کاریگر یہاں اپنی فنکاری اور کمال مہارت کا کمال دکھاتے تھے۔ تانبے کی مورتیاں، ہاتھی دانت اور سیپ کی بنی آرائشی چیزیں۔ سوتی کپڑے، خوب صورت کشیدہ کاری اور آلات جنگ بنانے کا کام یہاں جگہ جگہ پھیلا تھا۔ اور یہ لوگ اپنی مصنوعات کی فروخت کے لیے دریائے دجلہ و فرات کے درمیانی دور دراز خطوں اور وادی نیل تک کا سفر بہ آسانی طے کر لیتے تھے۔ سمیریا اور اسیریا اور مصر سے ان کے تجارتی روابط تھے اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ شہر میں چاروں طرف خوش حالی اور امن کا دور دورہ تھا۔“ ( 7 )

غرض کہ اس ناول میں موہن جودڑو اور ہڑپا کی تہذیبیں ہماری آنکھوں کے سامنے اپنے منظر نامے کے ساتھ پیش ہیں۔ کہانی کو خوب صورتی کے ساتھ اس تہذیب کے ساتھ جوڑا گیا اور ان قدیم شہروں کے تہذیبی آثار کی نشاندہی کی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words