کابل: ایئر پورٹ کے باہر ‘سات افغان باشندوں کی ہلاکت’، داعش کے حملے کا بھی خطرہ

طالبان جنگجو بھی ایئر پورٹ جانے والے راستے پر موجود ہیں۔

کابل میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ حکومتی ہدایت کے بغیر ایئر پورٹ کا رُخ نہ کریں جب کہ برطانوی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ کابل ایئر پورٹ کے باہر بھگدڑ مچنے کے باعث سات افغان باشندے ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب کابل ایئر پورٹ پر افغانستان سے نکلنے کے خواش مند شہریوں کا رش ہے اور ایئر پورٹ کے داخلی راستے پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ (داعش) کے حملے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے اتوار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صورتِ حال بہت پیچیدہ ہے تاہم وہ اس پر قابو پانے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔

ادھر ایک امریکی اہل کار نے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کو بتایا کہ کابل ایئر پورٹ پر حملے کے خطرے کے پیشِ نظر امریکی فوج محفوظ انخلا کے لیے نئی حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔

اُن کے بقول ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ ایئر پورٹ سے باہر مخصوص مقامات پر لوگوں کو جمع کیا جائے اور وہاں سے امریکی فوج سیکیورٹی حصار میں اُنہیں ایئر پورٹ تک لائے۔

ایک امریکی اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر داعش کے حملے کے خطرے سے متعلق مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ خطرات سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔

امریکی حکام مقامی طالبان رہنماؤں سے بھی اس بابت بات کر رہے ہیں تاکہ ایئر پورٹ کے قریب طالبان کی چوکیوں سے لوگوں کی آمدورفت آسان بنائی جائے۔

ہفتے کو امریکی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران 3800 افراد کا کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے انخلا کیا گیا۔

کابل ایئر پورٹ پر ایک امریکی فوجی افغان بچے کو پانی پلا رہا ہے۔
کابل ایئر پورٹ پر ایک امریکی فوجی افغان بچے کو پانی پلا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ہفتے کو تصدیق کی تھی کہ 14 اگست سے لے کر اب تک مجموعی طور پر 17 ہزار افراد کو افغانستان سے نکالا جا چکا ہے جن میں امریکی شہری اور امریکی فوج کے لیے کام کرنے والے افراد شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق جولائی کے اواخر سے لے کر اب تک 22 ہزار افراد کو کابل ایئر پورٹ سے منتقل کیا چکا ہے۔

امریکی فوج کے میجر جنرل ولیم ٹیلر نے ہفتے کو پینٹاگان میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کابل سے جن 17 ہزار افراد کو منتقل کیا گیا ان میں 2500 امریکی شہری تھے۔

میجر جنرل ولیم ٹیلر کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت کابل ایئر پورٹ سے محفوظ انخلا کے لیے 5800 امریکی فوجی تعینات ہیں۔

بریفنگ کے دوران پینٹاگان کے ترجمان جان کربی نے بتایا کہ اُن کے پاس مستند اعداد و شمار نہیں ہیں کہ اس وقت کابل اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں کتنے امریکی شہری موجود ہیں۔

امریکہ نے کابل سے اپنے سفارتی عملے، شہریوں اور امریکی فوج کے لیے خدمات سر انجام دینے والے افغان شہریوں کو ملک سے نکالنے کے لیے ہنگامی طور پر مزید فوج تعینات کر رکھی ہے۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ امریکی شہریوں اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر امریکہ کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہریوں کے انخلا تک امریکہ افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔

وائٹ ہاؤس میں نائب صدر کاملا ہیرس اور وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا تھا کہ "جو بھی امریکی وطن واپس آنا چاہتا ہے ہم اسے واپس لائیں گے اور کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے یہ بہت خطرناک ہے۔ اس میں ہماری فوج کے لیے خطرات ہیں کیوں کہ یہ انخلا بہت مشکل حالات میں کیا جا رہا ہے۔”

صدر کا مزید کہنا تھا کہ اُن کی انتظامیہ اپنے افغان حلیفوں، شراکت داروں اور امریکی مفادات کے لیے کام کرنے والے افغان شہریوں کو بھی منتقل کرے گی جن کی جان کو خطرات ہو سکتے ہیں۔

ہفتے کو وائٹ ہاؤس نے بتایا تھا کہ سی 17 طیاروں کی چھ پروازوں اور 32 چارٹر طیاروں کے ذریعے ان ہزاروں افراد کو افغانستان سے منتقل کیا گیا ہے۔

کابل ایئر پورٹ پر افراتفری اور کنفیوژن کے باوجود صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ کابل ایئر پورٹ کا مکمل کنٹرول اس وقت امریکی فوج کے پاس ہے جس کے ذریعے ہزاروں افراد کو یہاں سے منتقل کیا جا رہا ہے۔

اس رپورٹ میں وائس آف امریکہ کی نمائندہ پیٹسی وڈاکوسوارا اور اسٹیو ہرمن نے معاونت کی ہے جب کہ بعض معلومات خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے لی گئی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words