طالبان کو افغانستان سے پہلے اپنے مستقبل کا سوچنا پڑے گا

افغانستان سے آنے والی تمام بری خبروں کے باوجود یہ امر خوش آئیند ہے کہ ملا برادر کی سرکردگی میں طالبان حکومت سازی کے لئے مذاکرات کررہے ہیں اور یک طرفہ طور سے حکومت قائم کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ کابل ائیرپورٹ پر بھگدڑ میں متعدد افراد کی ہلاکت کے واقعہ سے البتہ یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت افغان عوام کس بے چینی، پریشانی اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ موجودہ حالات میں بیشتر لوگ ملک سے باہر جانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔

طالبان کے لئے حکومت سازی سے بھی زیادہ افغان عوام میں اعتماد بحال کرنے کے لئے کام کرنا اہم ہوگا۔ اس مقصد کے لئے سب سے ضروری یہ بات ہے کہ طالبان ترجمانوں کے معتدل اور خوشنما بیانات کے ساتھ زمین پر تعینات افغان جنگجو بھی اب عام شہریوں کے ساتھ جنگ کے مد مقابل فریق کی بجائے عام انسانوں کا سا سلوک کریں ۔ انہیں تحفظ و احترام کا احساس دلایا جائے۔ معتدد مقامات پر طالبان کے مقامی اہلکاروں نے سول آبادی کے ساتھ ناروا برتاؤ کیا ہے۔ افغان جھنڈا لہرانے کی پاداش میں لوگوں کو ہلاک کیا گیا یا انہیں مارا پیٹا گیا۔ اس وقت افغانستان میں جنگ نہیں ہے۔ کیوں کہ کوئی فوج طالبان کی عسکری طاقت کو چیلنج نہیں کررہی لیکن وادی پنج شیر میں مزاحمتی گروہ جمع ہیں اور طالبان نے اس وادی پر لشکر کشی کے لئے جنگجو بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

پنج شیر کی خود مختاری کے لئے بضد احمد مسعود نے اعلان کیاہے کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات پر تیار ہیں لیکن پنج شیر کو طالبان کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو مقابلہ ہوگا۔ اگر یہ مقابلہ ہوتا ہے تو بظاہر پرسکون افغانستان پل بھر میں میدان جنگ میں تبدیل ہوجائے گا۔ یوں تو طالبان تمام گروہوں سے بات چیت کے ذریعے ’اتفاق رائے‘ سے حکومت قائم کرنے کی بات کرتے ہیں اور اس کے لئے کوششیں بھی ہورہی ہیں۔ کابل میں ان مذاکرات کی نگرانی طالبان کے بانی اور سینئیر لیڈر ملا برادر کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کئے تھے اور غیر ملکی فوجوں کو افغانستان چھوڑنے پر آمادہ کیا تھا۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ طالبان تمام گروہوں پر مشتمل حکومت قائم کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ اسلام آباد میں پاکستانی حکام اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اسی بات پر اصرار کررہے ہیں کہ طالبان سب گروہوں کو ساتھ لے کر چلیں تاکہ ملک میں دیرپا اور پائیدار امن قائم ہوسکے۔

مزاحمتی لیڈر احمد مسعود نے مختلف میڈیا سے بات کرتے ہوئے مستقبل میں شراکت اقتدار کے لئے بات چیت کو اہم قرار دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ طالبان کی انتہا پسندانہ مذہبی سوچ کے خلاف واضح نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ ان کے والد احمد شاہ مسعود ستمبر 2001 میں القاعدہ کے حملہ آوروں کے ہاتھوں مارے جانے تک طالبان کی حکومت کے خلاف برسر پیکا رہے تھے۔ اس لئے قیاس کیا جارہا ہے کہ احمد مسعود بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلیں گے۔ احمد مسعود کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی حکومتی انتظام میں ایک تو علاقائی خود مختاری کا اہتمام ہونا چاہئے ، دوسرے وہ کسی ایسے سیاسی فارمولے کی بات کرتے ہیں جس میں طالبان کے شرعی قوانین نافذ کرنے کے منصوبہ کی روک تھام ہوسکے۔ طالبان کے لئے اس مطالبہ کی بنیاد پر بات چیت کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے تمام لیڈر اور ترجمان اگرچہ تعاون، باہمی اشتراک اور خواتین کو اسلامی شریعت کے مطابق حق دینے کی بات کرتے ہیں لیکن ان کا یہ اصرار جاری ہے کہ ملک کو کسی آئین یا قوانین کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن اور شریعت کی صورت میں سب قانون و قاعدے موجود ہیں۔ بس انہیں نافذ کرنے کے طریقہ کار پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ طالبان کے اسی سخت گیر رویہ کی وجہ سے خوف و ہراس میں اضافہ ہورہا ہے۔

کابل میں جاری مذاکرات میں بھی شاید یہی نکتہ سب سے مشکل ثابت ہوگا۔ عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی کی سربراہی میں طالبان کے ساتھ سیاسی و حکومتی انتظام پر بات چیت کرنے والے متعدد لیڈر 20 سال پہلے کی طالبانی حکومت کے ہتھکنڈوں میں کچھ رعایت چاہیں گے۔ طالبان مفاہمت کے نام پر مذاکرات کرتے ہوئے یہ تاثر تو قوی کرنا چاہتے ہیں کہ اب وہ بدل چکے ہیں اور پہلے جیسے سخت گیر نہیں رہے لیکن ان کے عمل اور باتوں سے اب تک اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں مل سکا ۔ وہ خواتین کو سماجی و سیاسی ذمہ داریوں میں شراکت دار بنانے کے لئے تیار ہیں لیکن اس بات پر بھی اصرار کرتے ہیں کہ انہیں برقع پہننا ہوگا اور مردوں سے فاصلے پر رہنا ہوگا۔ گزشتہ دو دہائی کے دوران معاشرے میں برابری کی بنیاد پر کام کرنے کی عادی خواتین اور ان کی ترجمانوں کے لئے طالبان کے اس مطالبہ کو ماننا آسان نہیں ہوگا۔ برقع اور خواتین کو مین اسٹریم سے باہر نکالنے کی شرط پر عمل کروانے کے لئے طالبان کو زور زبردستی کرنا پڑے گی ۔ یہی تنازعہ سماجی تصادم کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔

قندھار اور ننگر ہار کے سابق گورنر اور امریکیوں کے دیرینہ ساتھی گل آغا شیر زئی نے کابل میں طالبان کی ’بیعت‘ کا اعلان کیا ہے اور طالبان کا بھی کہنا ہے کہ شیرزئی اب ان کے ساتھی ہیں۔ اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ طالبان قیادت باقی لیڈروں سے بھی ایسی ہی توقع رکھتی ہے۔ طالبان ماضی کی ’غلطیوں‘ کو معاف کرنے اور اقتدار میں حصہ دینے پر تو تیار ہیں لیکن اس کے عوض وہ مکمل وفاداری کا تقاضاکرتے ہیں ۔ ان کی خواہش ہے کہ اقتدار میں حصہ لے کر یہ سب لیڈر اس نظام کو نافذ کرنے میں ان کا دست و بازو بن جائیں جسے وہ شرعی نظام سمجھتے اور کہتے ہیں اور جسے نافذ کرنے کے نام پر ہی انہوں نے بیس برس تک گوریلا جنگ کی ہے۔ میڈیا سے بات چیت میں طالبان لیڈر ’دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘ کو امریکہ کا سیاسی سلوگن قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے تو ملک کی آزادی کی جد و جہد کی ہے۔ لیکن اس جد و جہد میں ان کے بم دھماکوں اور دہشت گرد حملوں میں غیر ملکی فوجیوں کی بجائے افغان شہری زیادہ بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں بیس سالہ جنگ کے دوران امریکی و اتحادی فوجی یا ان کے لئے کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے کل 7438اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس کے مقابلے میں مارے جانے والے افغان باشندوں کی تعداد165000 کے لگ بھگ تھی۔ ان میں پچاس ہزار شہری اور ساٹھ ہزار افغان فوجی تھے ۔ جنگ میں طالبان کی اکاون ہزار جنگجو بھی کام آئے۔ افغان باشندوں کو اس طویل جنگ میں جس طرح دربدر ہونا پڑا اور جنگ میں ان کی املاک اور کاروبار کو جو نقصان پہنچا ، وہ ایک علیحدہ المناک کہانی ہے۔ اس پس منظر میں افغانستان میں امن کی شدید خواہش ضرور موجود ہے لیکن اگر طالبان نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو شاید یہ خواہش پوری ہونے میں مزید خوں ریزی اور جنگ جوئی کا ایک طویل سفر طے کرنا پڑے۔

یہ تاثر عام کیا جارہا ہے کہ طالبان اب بدل چکے ہیں۔ اب انہیں ایک تعمیر شدہ افغانستان ملا ہے ، اس لئے وہ اب مزید جنگ اور تباہ کاری کی طرف جانے کی بجائے مفاہمانہ رویہ کا مظاہرہ کریں گے اور ہمسایہ ملکوں خاص طور سے پاکستان، چین، روس وغیرہ کے ساتھ زیادہ بہتر طرز عمل اختیار کریں گے اور دنیا پر یہ ثابت کریں گے کہ وہ اب الگ تھلگ ہو کررہنے پر تیار نہیں ہیں۔ تاہم جب تک افغانستان میں نئے آئینی ڈھانچے اور حکومتی انتظام کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آتیں ، یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ طالبان افغانستان کو ایک مہذب قوم کے طور پر تسلیم کروانے کے لئے ان بنیادی تصورات سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہوں گے جن کے لئے وہ گزشتہ تیس سال سے برسر پیکار ہیں۔ طالبان افغانستان کو حقیقی معنوں میں امارات اسلامیہ بنانے کا عزم آسانی سے ترک نہیں کریں گے۔ یہ تو ممکن ہے کہ طالبان اگر پاکستان ، چین اور روس کے خلاف اپنی سرزمین سے سرگرم عناصر کو لگام ڈالتے ہیں تو یہ تینوں ملک انہیں عالمی سفارتی شناخت فراہم کرنے کے لئے تعاون فراہم کریں۔ لیکن طالبان کے لئے بھی پاکستان تحریک طالبان اور ترکستان اسلامی پارٹی کے جنگجوؤں کو مکمل طور سے قابو کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

یہ قیاس کیاجارہا ہے کہ تبدیل شدہ طالبان افغانستان کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہیں عالمی امداد ملتی رہے گی اور وہ ترقی یافتہ ملکوں اور اداروں کی مدد سے افغانستان کو خوشحال معاشرہ بنانے کے منصوبہ پر کام کرسکیں گے۔ یہ سوال البتہ موجود رہے گا کہ کیا طالبان یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے اپنی حقیقی شناخت سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہوجائیں گے؟ اس سوال کا حتمی جواب دینا ممکن نہیں ۔ لیکن جس جواب کے لئے قیاس آرائی کی جاسکتی ہے، وہ منفی ہے۔ طالبان ایک ایسا نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں جس میں ان کے امیر کو افغانستان کے بااختیار سربراہ کی حیثیت حاصل ہو اور ہر قومی فیصلہ کوطالبان کی مقرر کردہ چند رکنی کونسل ویٹو کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔

اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ سب عناصر ملک میں ایک پائیدار حکومت قائم کرنے کے لئے طالبان کا یہ مطالبہ مان لیتے ہیں اور اسلامی نظام کی کوئی ایسی شکل اختیار کی جاتی ہے جو دنیا کے لئے قابل قبول ہو اور افغانستان کے لئے مالی اور فنی امداد کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو بھی یہ راستہ عملی طور سے طالبان کا سیاسی سفر ختم ہونے کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔ ملک میں اگر کوئی ٹھوس اور پروفیشنل نظام قائم ہوتا ہے جس میں سول بیوروکریسی معاملات کی دیکھ ریکھ کرتی ہے۔ ملکی فوج کو عالمی معیار کے مطابق استوار کرنے کے لئے باقاعدہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کا ایک نظام استوار کیا جاتا ہے تو چند ہی برس میں یہ ادارے اتنے طاقت ور ہوسکتے ہیں جو مدرسوں کو مسکن بنا کر ملک پر حکم چلانے والے چند ملاؤں کے اختیار کر چیلنج کرنے لگیں گے۔

کیا طالبان لیڈر اس اندیشے سے آگاہ نہیں ہوں گے؟ یہ واضح ہے کہ طالبان اب جو فیصلے کریں گے وہ افغانستان سے زیادہ ان کے اپنے مستقبل کے حوالے سے زیادہ اہم ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words