چار سو اور باقی ہم سب

محمد حنیف - صحافی و تجزیہ کار

ہم سب جانور ہیں، ہم حیوان ہیں۔ ہمیں چوراہوں پر پھانسی لگاؤ یا وزیراعظم عمران خان کے فارمولے کے مطابق خصی کر دو۔ وہ بھی نہیں کر سکتے تو پارکوں میں، بازاروں میں آنے پر پابندی لگا دو۔ ماؤں سے کہو ہماری تربیت ٹھیک کریں۔ بہنوں کو بتاؤ ہمیں ہمارے مذہب میں عورتوں کے مقام والی آیتیں اور حدیثیں پڑھ کر ہمارے کانوں میں پھونکیں۔ کوئی آ کر ہماری آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دے، کوئی ہمارے ہاتھ باندھ دے، کوئی ہماری زبان کھینچ لے۔

کوئی ہمارا کچھ کر دے کیونکہ ہم مردوں نے (اور میرے غیر سائنسی اندازے کے مطابق مردانگی نو سال کی عمر سے شروع ہوتی ہے اور قبر تک چلتی ہے) کچھ نہیں کرنا۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے اور وہ اس لیے کہ ہم تو ایسے ہیں ہی نہیں۔

نہ ہم نے کسی لڑکی کے کپڑے پھاڑے، نہ ہم نے چلتے رکشے پر چڑھ کر کسی لڑکی کو چھونے کی کوشش کی، نہ ہم نے غصے میں آ کر کسی پر تیزاب پھینکا، نہ ہم نے ٹیلیویژن پر آنے والی کسی خاتون صحافی کو رنڈی کہا، نہ ہم نے کسی کو گھر بلا کر اس کا گلا کاٹا، نہ ہم نے بازار میں گھومتے ہوئے کبھی گردن اتنی گھمائی کہ بل ہی پڑ گیا، نہ کم نے کبھی ماں، بہن، بیٹی، بیوی یا گرل فرینڈ پر ہاتھ اٹھایا۔ گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کلچر تو ویسے ہی غیر اسلامی ہے اور یہ ملک کس نام پر بنا تھا یہ تو آپ سب جانتے ہیں۔

جنسی دہشت گردی کے بارے میں ہمارا رویہ وہی ہے جو بہت عرصے تک دہشت گردی کے بارے میں تھا کہ یا تو یہ ہوتی نہیں یا ہوتی ہے تو کوئی مسلمان کر ہی نہیں سکتا۔ ہمیں مار کر ہمارے ملک کو بدنام کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

70 ہزار بندہ گنوا کر اور ہزاروں کو گم کروا کر ہم یہ ہی کہتے رہے کہ ہم تو ایسے نہیں ہیں اور ہیں بھی تو ہم سب ایسے نہیں ہیں۔

دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کا ہم نے شمار شاید اس لیے کر لیا کیونکہ بندوق چلتی ہے، بم دھماکہ ہوتا ہے تو اس کی آواز آتی ہے۔ جنسی دہشت گردی کا بنیادی مرکز چونکہ ہمارے گھر ہیں اور چاردیواری ایک مقدس چیز ہے تو گھروں سے آواز نہیں نکلتی۔ جب کبھی عورت کی لاش نکلتی ہے تو بھی محلے والے گواہی دینے کو کم ہی تیار ہوتے ہیں۔

مختلف اندازوں کے مطابق پاکستان میں ہر سال ڈیڑھ ہزار یا تین ہزار عورتیں قتل ہوتی ہیں۔ اکثر اپنے پیاروں کے ہاتھوں لیکن ابھی تک ہم صحیح اعدادو شمار کا اندازہ نہیں لگا سکے اور یہ گنتی بھی عورتوں کو خود ہی کرنی پڑتی ہے کیونکہ ہر پاکستانی مرد کو (جس میں آٹھویں جماعت کے جوان سے لے کر پوری دنیا گھومنے والے عمران خان شامل ہیں) یورپ اور امریکہ کے ریپ کے، طلاق کے، عورتوں کے ساتھ مارپیٹ کے اعدادوشمار تو یاد ہیں لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا اور اگر ہوتا بھی ہے تو کہاں ایسا نہیں ہوتا۔ کیا اپ نے یورپ میں ریپ کے کیسز کی تعداد کے بارے میں نہیں پڑھا۔

چونکہ تمام مرد حضرات ایسے نہیں ہیں اس لیے وہ عورت، جنسیت اور فیمنزم کے بارے میں مسلسل بولے چلے جا رہے ہیں اور ان کی گفتگو سن کر لگتا ہے کہ ان کی آدھی تعلیم نیشنل جیوگرافک پر حیوانی نفسیات دیکھ کر ہوئی اور باقی دینیات کی کلاس میں۔

مردوں کو حیوان قرار دینے والے یہ نہیں بتاتے کہ کوئی بھی حیوان دوسرے کمسن حیوان کے ساتھ زبردستی کر کے اس کی لاش کوڑے کے ڈھیر پر نہیں پھینکتا اور دینی تعلیم سے مسلح بھائی عورت کو دیکھتے ہی مفتی بن جاتے ہیں کہ عورت شاید کسی اور بات کی تو دلیل لے آئے لیکن حدیث کا جواب کہاں سے لائے گی۔

میں نے ایک نوجوان خاتون کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ چلو مان لیتے ہیں عورت دنیا کی گھٹیا ترین مسلمان ہے لیکن اس کا حساب بھی تو اللہ ہی کرے گا لیکن ہمارے جوان اور بزرگ ہیں کہ عورت کے لیے ہر روز محشر بپا کرنے کو تیار ہیں۔

ویسے بھی 400 میں سے 67 پکڑے گئے ہیں باقی جب تک دس، گیارہ کروڑ نہیں پکڑے جاتے ہم یہی کہتے جائیں گے کہ سب مرد ایسے نہیں ہیں اور آپ کو پتا ہے کہ عورت کہاں محفوظ نہیں ہے؟

بھارت میں۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words