یہ کرکٹ ہے یا کچھ اور!

جب سے عمران خان کا سیاست میں عروج شروع ہوا ہے پوری قوم کی طرح میں بھی ان کے سحر میں مبتلا ہوں۔ وہ زندگی اور سیاست کے مشکل سے مشکل ترین مسئلے کی جس طرح کرکٹ کی اصطلاحوں میں تشریح کرتے ہیں کوئی شاعر ہی کر سکتا ہے۔ کہیں امپائر کی انگلی اٹھواتے تھے…

Read more

اُستاد ولایت کی یاد میں

جو لوگ برصغیر کے کلاسیکل میوزک کے بارے میں نہیں جانتے انھوں نے بھی روی شنکر کا نام سن رکھا ہے۔ وہی روی شنکر جو ستار بجاتے بجاتے ہندوستانی کلاسیکل میوزک کو دنیا کی سٹیج پر لے گیا اور اس فیوزن میوزک کی روایت ڈالی جو آج ہمیں کوک سٹوڈیو جیسی جگہوں پر سننے کو…

Read more

میری نوٹ بک میں دفن ہزارہ کہانیاں

میں نے کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر تازہ حملے کے بعد ٹی وی نہیں دیکھا لیکن شنید یہی ہے کہ شام کو ہونے والے ٹاک شوز میں کسی نے اس موضوع پر سیر حاصل بحث نہیں کی۔ کوئی چیتا اینکر جہاز پکڑ کر ہزار گنجی نہیں پہنچا اور شہیدوں کے ورثا کے سامنے مائیکروفون رکھ کر نہیں پوچھا کہ آپ عوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ہم صحافی اس مسئلے پر بات کرنے سے اس لیے کتراتے ہیں کہ ہم دو بنیادی سوال نہیں پوچھ سکتے۔ اگر کیوں پوچھیں گے تو ملک میں فرقہ واریت پھیلنے کا خطرہ ہے اور اگر پوچھیں گے کہ کون مار رہا ہے تو ملکی سلامتی پر ضرب لگے گی کیونکہ جتنی سکیورٹی کسی برادری کو دی جا سکتی ہے وہ ہزارہ برادری کو دی جا چکی ہے

Read more

جنازے پر سیاست

جوانی میں جنازوں پر جانے سے وحشت ہوتی تھی۔ کبھی غم، کبھی غصہ، اور ہمیشہ زندگی کی بے ثباتی کا احساس۔اب ایسا کچھ نہیں ہوتا، ایک نماز، ایک معانقہ اور ایک دعا۔اب کسی جنازے پر جانا ایسا ہی لگتا ہے جیسے بچے کو اس کے دوست کی برتھ ڈے پارٹی پر لے کر جانا۔وہاں پر دوسرے بچوں کے والدین سے ہلکی پھلکی گپ شپ کرنا اور واپس آ جانا۔بلکہ اب تو یہ احساس بھی ہونے لگا ہے کہ ہمارے جنازے بڑے سہل ہیں اور جدید زمانوں کے تقاضوں کے مطابق ہیں۔ جتنا ٹائم ایک سگریٹ پینے میں لگتا ہے اتنی دیر میں ہم نماز جنازہ پڑھ کر سلام پھیر لیتے ہیں۔

Read more

’جانتے نہیں میں کون ہوں؟‘

ایک صبح ٹی وی کھولا تو ایک بھولا بسرا مصرع یاد آ گیا۔ لگا کہ ہم کچھ حرکت تیز تر اور سفر آہستہ والی صورت حال کا شکار ہیں۔ نواز شریف جیل سے چھ ہفتے کی میڈیکل چھٹی پر باہر آ رہے تھے، بلاول بھٹو ٹرین پر سوار ہو کر لاڑکانہ جا رہے تھے احتجاج کرنے، شیخ رشید ٹی وی پر کسی تعلیمی ادارے سے خطاب کر رہے تھے اور دھمکیاں دے رہے تھے کہ اگر ان کے بس میں ہو تو وہ سمارٹ فونوں پر پابندی لگا دیں۔

اس کے بعد بچے کو لے کر حجام کے پاس گیا تو پتہ چلا کہ وہاں زیادہ تر لوگ فواد چوہدری کے دیوانے ہیں اور ابو مارچ پر تبصرے کر رہے ہیں۔ بچے کو ہیئر کٹ پسند آ گیا اور میں نے خوش ہو کر حجام کی دکان کے سیاسی تجزیے ٹھنڈے دل سے سنے اور دل کو تسلی دی کہ عظیم قومیں ایسے ہی بنتی ہیں۔ شام کو ٹوئٹر کھولا تو اس قوم کے عظیم سپوت، کم از کم کراچی کے عظیم سپوت اور کبھی کبھی دھانسو صحافت کرنے والے فہیم زمان کچھ

Read more

جاوید بھٹو نے پوری ایک نسل کو غیرت کے نئے معنی سکھائے

جب میں جاوید بھٹو سے ملا تو اس کی بہن ڈاکٹر فوزیہ بھٹو کو قتل کیا جا چکا تھا۔ لاش غائب کرنے کے بعد تلاش کی جا چکی تھی۔ میبنہ قاتل کا ڈرائیور قتل کا اقرار کر چکا تھا۔ 25 سال بعد بھی اس قتل کی جزیات یاد کرتا ہوں تو کانپ سا جاتا ہوں۔…

Read more

مردانہ ہدایت نامہ برائے عورت مارچ

(مردانہ ہدایت نامہ برائے عورت مارچ)
محمد حنیف

اگر کوئی اس بات پر حیران ہے کہ اتنے سارے مرد موزے ڈھونڈنے والی بات پر کیوں برہم ہیں تو انھوں نے نہ صرف مرد کی شناخت، اُن کی مردانگی، بلکہ تحریکِ پاکستان کے مقاصد اور ہمارے مکمل ضابطہ حیات پر حملہ کیا ہے۔

انھوں نے یقیناً کبھی وہ آسمانی صحیفہ نہیں پڑھا جس کا آغاز ہمیشہ اس طرح سے ہوتا ہے کہ ’جب تھکا ہارا مرد گھر واپس آتا ہے۔ ‘
اب ہو سکتا ہے کہ مرد گھر سے کہیں گیا ہی نہ ہو، مرد مرد ہے، ٹی وی روم سے باتھ روم تک جاتے ہوئے بھی تھک ہار سکتا ہے۔ جب تھکا ہارا مرد گھر واپس آئے اور موزے نظر نہ آنے کی صورت میں پوچھے کہ ’وہ میری جرابیں کدھر گئیں‘ اور آپ نے کہہ دیا مجھے نہیں پتہ!

اس صورت میں تھکے ہارے مرد کے دل سے یہ آواز نکلتی ہے : ’تجھے نہیں پتہ؟ کیا ماں باپ نے تجھے پڑھایا لکھایا اس لیے تھا۔ اس لیے تجھے اسلام نے اتنے حقوق دیے کہ تو مجھے یہ بتائے کہ مجھے نہیں پتہ کہ تمہارے موزے کہاں ہیں؟ کیا ہم نے یہ ملک اس لیے آزاد کرایا تھا، کیا ہندوؤں اور انگریزوں سے آزادی اس لیے حاصل کی تھی کہ اپنے موزے خود ڈھونڈنے پڑیں! ‘

Read more

کیا سب کو چھوڑ دیں؟

پاکستان میں جب بھی کچھ اچھا کام ہوتا ہے لوگوں کو دس کام وہ یاد آجاتے ہیں جو ابھی نہیں ہوئے۔ انڈین پائلٹ کو چائے پلا کر، وڈیو بنا کر چھوڑ دیا، سب نے کہا بہت اچھا کیا۔ انٹرٹیٹ پر بیٹھے کچھ سورما جو ہر روز کشتوں کے پشتے لگاتے رہتے ہیں، ان کو چھوڑ…

Read more

کتوں کے بارے میں اسلام کا کیا موقف ہے؟

جب میں اپنے کتے کو کراچی میں اپنے گھر کے قریبی ساحل پر سیر کے لیے لے جاتا ہوں تو لوگوں کا رد عمل یوں ہوتا ہے: مائیں اپنے بچوں سے کہتی ہیں دیکھو، کتا۔  بچے مجھ سے کتے کا نام پوچھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کیا وہ اس کو چھو سکتے ہیں۔ کئی…

Read more

اقبالیات اور غلاموں کا دیس

کیا کہا کسی نے کہ سکول میں بچوں کو اقبالیات اور اسلامیات پڑھائی جائے؟ دل سے صدا نکلی ’نواں آیاں اے سوہنیا‘۔ پھر دماغ نے پوچھا کہ آپ لوگ کون سے سکولوں میں پڑھے ہو؟ ایچی سن کالج میں۔ آپ کے زمانے میں شاید یہ نہ پڑھاتے ہوں، اب تو پچھلے 30 سال سے ٹاٹ…

Read more