سر باجوہ ویلکم بیک!

سر باجوہ، ویلکم بیک! سر باجوہ کہیں گے یو بلڈی فول، میں گیا ہی کہاں تھا۔ میں تو سرحدوں پر پہرہ دے رہا تھا۔ بس کچھ وقت نکال کر اپنے عمران خان اور اس کی بچہ پارٹی کو ٹیوشن پڑھانے گیا تھا کیونکہ وہ املا کی غلطیاں زیادہ کرنے لگے تھے۔ استادوں سے ڈانٹ پڑ…

Read more

ہانگ کانگ کے نیلے پیلے

ہانگ کانگ یونیورسٹی سے باہر جانے والے راستوں پر طلبا کے ناکے تھے۔ ہانگ کانگ والوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ویک اینڈ پر احتجاج سے بات نہیں بن رہی تو پیر والے دن بھی کام چھوڑ کر نعرہ بازی کرنے لگے۔ جن کا نوکری پر جانا ضروری تھا وہ اپنی لنچ بریک میں…

Read more

ہانگ کانگ کے شعلے – پہلی قسط

جہاز ہانگ کانگ کے ایئرپورٹ پر اتر رہا تھا جب پائلٹ نے اعلان کیا کہ ایک وائرس پھیلا ہوا ہے، آپ اس سے متاثر ہیں تو سرجیکل ماسکل پہن لیں۔ میں نے کہا کہ یہ پائلٹ مروائے گا کیونکہ چند ہفتے پہلے ہانگ کانگ کی حکومت ماسک پہننے کو جرم قرار دے چکی ہے۔ ہانگ…

Read more

وہ گیا نواز شریف!

ایک دفعہ ان گناہ گار آنکھوں نے یہ منظر دیکھا تھا کہ جلاوطنی سے نواز شریف واپس آنا چاہتے تھے۔ صحافیوں اور حواریوں سے بھرے جہاز میں لندن سے سوار ہوئے۔ ان کی آمد سے پہلے ہی سعودی خفیہ ایجنسی والے شہزادے اور ایک لبنانی وزیراعظم کے بیٹے اسلام آباد میں کاغذ کا پرچہ لہراتے…

Read more

چلو یہ اتفاق تو ہوگیا کہ غیر آرٹ کیا ہے!

ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے جب کوئی ہماری ثقافت کا احترام کرتا ہے۔ جب برطانیہ سے آنے والی شہزادی شلوار قمیض پہن کر سر پر ڈوپٹہ اوڑھتی ہے تو ہمارے ایمان کو جِلا ملتی ہے۔ جب کوئی گوری شمالی پاکستان کے خوبصورت مناظر میں پاکستان کا جھنڈا اٹھا کر تصویر بنواتی ہے تو ہمارے دل…

Read more

کراچی کا اصلی کچرا

ایک منٹ سے بھی کم کی ویڈیو ہے۔ لوہے کی کرین کا بڑا سا جبڑا ایک رکشے پر گرتا ہے، رکشے کی اوقعات ہی کیا کہ ریاستی حکم سے چلنے والی کرین کے جبڑے کا وار برداشت کرسکے۔ پھر دوسرا رکشا، پھر تیسرا، پھر چوتھا اور آخرکار پانچواں۔ کراچی میں ہر رکشے والا ہزار بارہ…

Read more

سر باجوہ سیٹھوں سے ذرا بچ کے

خبروں میں سنا ہے کہ کوئی پھٹ پڑا، کوئی رو پڑا، کسی نے دہائی دی، کسی نے نیب کی شکایت کی، تو کسی نے اپنی ناقدری کا رونا رویا، کسی نے زندگی کی بےثباتی کی شکایت کی۔ پاکستان کے سب سے بڑے سیٹھوں نے سپہ سالار جنرل باجوہ سے ملاقات میں ’یہ جینا بھی کوئی…

Read more

ہمارا بابا جیت گیا، گاندھی ہار گیا!

انڈیا کے بابائے قوم مہاتما گاندھی 150 سال پہلے پیدا ہوئے تھے۔ یاروں نے سوال کیا ہے کہ پاکستان میں لوگ گاندھی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ پہلے تو خیال آیا کہ کہہ دیں کہ ہمارے گھر میں اپنے ہی اتنے سارے پنگے ہیں کہ ہمیں گاندھی کے بارے میں سوچنے کا موقع نہیں ملا۔

پھر مجھے یاد آیا کہ ہمیں سکول میں گاندھی کے بارے میں بس اتنا پڑھایا گیا تھا کہ وہ ہندو تھے، باقی بات آپ خود سمجھ لیں۔

Read more

امُہ مانگے مور

بچپن میں ہی ہمیں علامہ اقبال کے اس شعر کا رٹا لگوا دیا گیا تھا جس میں انھوں نے اپنا دوسرا خواب بیان کیا تھا۔ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر قائدِ اعظم کو اللہ تعالیٰ نے مہلت نہ دی اور وہ خواب نمبر 1…

Read more

کراچی کے نئے بھتہ خور

ہم کراچی والے صبح شام پاک فوج کو سلام بھیجتے ہیں جس نے ہمارے شہر پر پے در پے آپریشن کرکے ہمیں بھتہ خوروں سے نجات دلائی۔ الطاف حسین کا مکوٹھپا اور فیصل واوڈا اور عمران اسماعیل جیسے ہیروں کو ہماری قسمت کا مالک بنا دیا۔

ویسے تو ان تحفوں میں عامر لیاقت بھی شامل ہیں لیکن ان سے پیار کرنے والے جانتے ہیں کہ ان پر کسی آپریشن کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

Read more