سقوط کابل کے پاکستان پر اثرات

افغانستان میں امریکی سی آئی کی سرپرستی میں پاکستانی مدرسوں کے زورایمانی سے بھرتی ہونے والے مجاہدین نے جب سعودی ریال کی طاقت سے سوویت یونین کو شکست دی تھی تو اس وقت بھی مملکت خداداد کے عوام میں سے ایک گر وہی جذبات تھے جو حالیہ دنوں افغان طالبان کے ہاتھوں کابل کے سقوط کے بعد امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور جمعیت علماءاسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات اور انصار عباسی اور اوریا مقبول جان جیسے کالم نگاروں کی خوشی سے عیاں ہو رہے ہیں۔

اس بات میں اگرچہ کافی حد تک صداقت ہے اور پورے افغانستان کو بہ زور بازو فتح کرنے کے بعد دارالحکومت کابل میں نظر آنے والے طالبان جنگجوؤں کو دیکھ کر اور زبیح اللہ مجاہد سمیت ان کے دیگر ترجمانو ں کے خیالات سن کر یقین آ جاتا ہے کہ طالبان کافی بدل گئے ہیں اور قظر میں طویل عرصہ تک قیام اور چین روس سمیت ترقی یافتہ ملکوں کے دارالحکومتوں میں شہری زندگی سے مستفید ہونے کی وجہ سے طالبان رہنماؤں کے فکری سافت وئیر بہت حد تک اپ ڈیٹ بھی ہوچکے ہیں لیکن پاکستان کے بارے میں ان کے خیالات اورخصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان جیسی دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ ان کے تعلق کی پرتیں آہستہ آہستہ ہی کھلیں گی۔

افغانستان میں شکست کے بعد جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا تو ان دنوں ہم سکول میں پڑھ رہے تھے اور ولادی میر لینن و کارل مارکس کے نظریات سے نابلد اور اشتراکیت کے معنی سے ناآشنا تھے۔ تاہم ان دنوں ہم سکول کے اپنے ایک استاد اور ہمارے ایک دوست کے درمیان ہونے والے ایک دلچسپ مکالمے کو آج تک نہیں بھولے پائے جب استاد محترم نے ہمارے دوست عثمان اولسیار سے طنزیہ انداز میں استفسار کیا کہ عثمان آپ کو روس ٹوٹنے کا بڑا دکھ ہوا ہو گا؟

تو ہمارے اس دوست نے بے ساختہ جواب دیا کہ بالکل بھی نہیں، کیونکہ اب تو مجھے روس کے ٹوٹنے کے بعد اسلامی ملکوں کی امریکہ کے ہاتھوں مستقبل میں بننے والی درگت دیکھنے کا موقع میسر آئے گا اور تب مجھے آپ لوگوں کی حالت زار سے لطف اندوز ہونے میں بڑا مزہ آئے گا۔ ان کی یہ بات اس وقت سچ ثابت ہوئی جب امریکی سرپرستی سے آزاد ہونے کے بعدافغان مجاہدین مال غنیمت کی طرح افغانستان اور افغانوں پروحشی درندوں کی طرح ٹوٹ پڑے کہ ان میں سے ایک صاحب گلبدین حکمت یار نے اپنے اقتدار کے لئے کابل کی اینٹ سے اینٹ بجادی، امریکہ نے بھی سرد جنگ کے خاتمے او رافغانستان کے گرم جنگ کے اختتام پر ہمارے غریب خانے سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر خطے میں اپنے لئے نئے میدان جنگ سجا کر مسلمان ملکوں کو سکھ کا سانس لینے کا بھی موقع فراہم نہیں کیا۔

آج ٹھیک اسی طر ح کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد ہمارے نام نہاد مذہبی عناصر کی خوشیاں دیکھتے ہوئے کچھ عرصہ بعد ہماری طالبان کے ہاتھوں آنے والی شامت کا سوچ سوچ کر خوف محسوس ہونے لگتا ہے۔ ہماری بحیثیت پاکستانی قوم شروع سے ہی یہ بڑی بدقسمتی رہی ہے کہ ہر نئے آنے وا لے کو نجات دہندہ سمجھ کر پوجنے لگتے ہیں اور اپنی حالت بدلنے کی تمام تر ذمہ داری ان کے کاندھوں پر ڈال کر خود بھنگڑے ڈالنے لگ جاتے ہیں۔ اگرچہ کابل پر حال ہی میں قابض ہونے والے طالبان کی امارات اسلامیہ افغانستان کے جنگجوؤں کی طرح ان ہی کے نظریہ شریک بھائی پاکستان کے کونے کونے اور بالخصوص خیبرپختونخوا اور اس کے ساتھ ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں بکثرت پائے جاتے ہیں اور انہوں نے بھی دیگر ہم وطنوں کی طرح کابل میں طالبان کے برسر اقتدار آنے پر خوشی کے شادیانے بجائے ہیں۔

اگرچہ ان عناصر کے افغانستان جا کر طالبان کی خوشیوں میں شریک ہونے کے مواقع پاک افغان سرحد پر پاکستانی فوج کی جانب سے لگائی گئی آہنی باڑ نے فی الوقت روک رکھے ہیں لیکن طالبان کی پیروی کرتے ہوئے ان کے پاکستانی دودھ شریک بھائی وطن عزیز کی سرزمین پربھی وہی نظام نافذ کرنے کے لئے کمر کس لیں تو پاک افغان بارڈر پر لگی ہوئی آہنی باڑ ان کا راستہ نہیں روک سکتی کیونکہ اس سرحد کا کچھ حصہ، خصوصاً افغان سرحد سے متصل چترال ضلع دیر، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، شمالی اور جنوبی وزیرستان سے متصل افغانستان کے کے علاقے انتہائی بلندی پر واقع گلیشئرز اور بلند وبالا پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہیں اور ستم بالا ستم یہ کہ ان افغان سرحدی صوبوں میں داعش کے ساتھ ساتھ تحریک طالبان پاکستان المعروف کالعدم ٹی ٹی پی اور اس کے ہم نوا گروپوں کے بگڑے ہوئے ہماری بھائی رہائش پذیر ہیں جو افغان طالبان کی تقلید میں پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا کے بحرظلمات میں گھوڑے دوڑانے کو بے قرار بیٹھے ہیں۔

اسی طرح بلوچستان کے ژوب، قلعہ سیف اللہ اور چمن کی سرحدی چوکیوں سے مزین پاک افغان آہنی بارڈر کے سامنے افغانستان کا قندھار واقع ہے جو افغان طالبان کی جائے ولادت اور روحانی اور فکری مرکز ہے جس کے فیوض و برکات سے مستفید ہونے کے لئے پاکستان کے سرحدی علاقے چشم ما روشن، دل ما شاد کیے ہوئے ہیں، ایسی صورتحال میں پاک افغان سرحد پر یہ آہنی باڑ کالعدم تنظیموں کی پاکستان آمد اور ان نظریات کے درآمد میں ریت کی دیوار ثابت ہو سکتی ہے۔

جس طرح افغانستان کے جہاد اول نے پاکستان کے عوام کو ہیروین اور کلاشنکوف کلچر کا تحفہ دیا تھا ٹھیک اسی طرح افغانستان میں طالبان کی نشاۃ ثانیہ ہمارے پاکستان کی نئی نسل کو افغانستان میں امریکیو ں کے چھوڑے ہوئے ترکے یعنی سنائپر ہتھیاروں اور آئس یعنی کرسٹل متھ سے روشناس کرے گی، جس میں اول الذکر کی مار اور دوسری کا خمار ہمیں اے کے۔47 اور ہیروئن کی حشر سامانیاں بھلا دیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
عطااللہ خان یوسف زئی کی دیگر تحریریں