مردوں کو خود دعوت دیتی ہو، پھر چلاتی ہو

مشاہدہ، غور و فکر اور مطالعے سے آپ بھوک، افلاس، بے بسی اور بے اختیاری کے احساس کی اس شدت سے ہمکنار نہیں ہوتے جو آپ کو ذاتی تجربے سے حاصل ہوتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس احساس کو رقم کرنے کے لیے ہمیں وجاہت مسعود نے "ہم سب” کی تختی دے رکھی ہے۔

ہم نے دس، بارہ سال کراچی کی بس میں سفر کیا ہے۔ بس میں ہر طبقے اور پیشے سے تعلق رکھنے والے سفر کرتے ہیں۔

سنا ہے بھٹو کے زمانے میں بسوں میں پارٹیشن نہیں ہوتے تھے۔ جس کو جہاں جگہ ملی بیٹھ جاتا تھا۔ پھر ایک مرد مجاہد اٹھا، قوم کو اسلام کا پیغام دیا ، لوگ جوق در جوق ازسرنو دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ ٹی وی پر عورت کا سر ڈھکنے کی پابندی لازمی ٹھہری۔ مردوں پر اوقاتِ کار کے دوران نماز کا وقفہ ہونے لگا۔ سر پر ٹوپی کچھ دیر کو جمی رہتی۔عورت کو سر ڈھانپنے کی ترغیب سر کاری ٹی وی سے یوں دی جانے لگی کہ خبروں ، گانوں اور ڈراموں میں سر ڈھکنے کی اداکاری لازمی ہو گئی۔

اس وتیرے کے ساتھ عبایا اور برقعے عام ہو گئے۔

پبلک بسوں میں پارٹیشن کر دیے گئے۔ اور یوں میلی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع ہاتھ آیا۔

مردوں کا حصہ بھر جانے کے بعد مردوں کی خاصی تعداد عورتوں کے حصے کی طرف آکر نازک اندام حسیناؤں کی طرح عورتوں کی طرف گرنے لگی۔

بس میں بیٹھی خواتین عام طور پر اپنے پورے جسم اور سر کو ڈھانپے رکھتی ہیں۔

مردوں کے حصے میں کچھ محترم مردوں کے علاؤہ کھجلی کرتے ہاتھ اور آنکھیں بھی ہوتی ہیں، جن کی منزل تو جانے کون سی ہوتی ہے۔ لیکن بس کے اندر ان کا پڑاؤ ، ٹھہراؤ اور مسکن عورتوں کا ڈھکا ہوا جسم ہوا کرتا ہے۔

ہماری طرح کچھ خواتین ہوتی ہیں جنہیں رسم و رواج سے زیادہ اپنی سہولت عزیز ہوتی ہے۔ ہمیں کپڑوں کے اوپر مزید کپڑوں سے گھبراہٹ ہوتی ہے۔ اور سر پر دوپٹہ رکھنے کی رسم بھی تمام مردوں کے سر ڈھانپنے سے مشروط ہے۔

ایک روز ہم بس میں بیٹھے، سہ پہر کی گرمی اور عورتوں کے پسینے کی بو سے دھیان بٹانے کو پنجابی گانوں اور بس ڈرائیور کی اگلی بس کی ریس سے محظوظ ہونے کی کوشش میں مصروف تھے۔ ہمارے برابر میں برقعہ پوش عورت بیٹھی تھی۔ ایک بچہ کھڑکی سے لگا باہر دیکھ رہا تھا، ایک اس کی گود میں سو رہا تھا۔

اس عورت نے مجھے ٹہوکا دیا، میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ، بولی۔

پیچھے بیٹھا ہوا آدمی بہت دیر سے مجھے ہاتھ لگا رہا ہے۔ میں نے کہا تم کیوں برداشت کر رہی ہو شور مچا دو۔

کہنے لگی ، میرا شوہر پیچھے بیٹھا ہے، وہ بہت غصے والا ہے۔ وہ اسے قتل کر دے گا۔

میں نے اسے سمجھایا ، ایسا ہونا آسان نہیں ہے ، خاموش رہو گی تو اس کی ہمت بڑھے گی۔

کہنے لگی۔مجھے اپنے شوہر کا پتہ ہے وہ میرا بھی اعتبار نہیں کرے گا ، کہے گا تم نے ضرور اسے کوئی اشارہ دیا ہوگا۔

اس دوران وہ مسلسل کسمساتی رہی۔

اس کی احمقانہ باتوں پر مجھے غصہ تو بہت آیا۔ لیکن پھر مجھے پیچھے بیٹھے شخص کو سبق دینے کا خیال آیا، میں اس کی اور وہ میری جگہ پر آ گئی۔ توقع کے مطابق کچھ ہی دیر بعد مجھے اپنی پچھلی جانب کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوا۔ میں نے اس کی انگلیاں پکڑ لیں اور ڈرائیور سے کہا کہ وہ اسے بس سے اتار دے۔ اس اثنا میں وہ اپنی انگلیاں کھنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ میں کھڑی ہو کر جنگلے میں سے اسے گھورنے لگی۔ بس میں بیٹھے ہوئے مردوں اور شریف لڑکوں نے اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیا مگر وہ میسنا بنا مسلسل کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا۔

کنڈکٹر نے دروازے پر ایک ہاتھ مارا۔ ڈرائیور نے بس روک دی۔ میں سمجھی اسے بس سے اتار نے کے لیے بس رکی ہے۔ پچھلی سیٹ سے ایک آدمی آیا اس نے عورت کی گود سے بچہ لیا، اور عورت کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ غالباَ وہی اس عورت کا شوہر تھا۔ عورت کھڑی ہو گئی۔

میں نے پھر چیخ کر ڈرائیور سے کہا، اسے اتارو بس سے۔

اس عورت کا شوہر پیڈسٹل سے ایک پیر نیچے رکھے کھڑا تھا اچانک پلٹا اور بولا۔

او بی بی کچھ خدا کا خوف کرو۔ اپنا حلیہ دیکھو، مردوں کو خود دعوت دیتی ہو، پھر چلاتی ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words