کرنل (ر) انعام الرحیم کے خلاف کارروائی پر حکومتِ پاکستان ’پشیمان‘

شہزاد ملک - بی بی سی اردو، اسلام آباد

منگل کے روز قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کرنل انعام کے حوالے سے دائر کردہ مقدمے کی سماعت کی تو دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت کرنل انعام کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔

انھوں نے کہا کہ کرنل انعام خود بھی ایک وکیل ہیں اور اُن کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا وہ اس پر پشیمان ہیں۔

یاد رہے کہ وردی میں ملبوس چند اہلکار 17 دسمبر 2019 کو کرنل انعام کو زبردستی ان کے گھر سے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ کرنل انعام کے 'لاپتہ' ہونے کے چند روز کے بعد فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا کہ کرنل انعام الرحیم اُن کی تحویل میں ہیں اور انھیں آرمی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم جب حراست میں تھے تو اس وقت کے اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم کے پاس نہ صرف ملک کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں معلومات ہیں بلکہ ان کے پاس فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے علاوہ دیگر اہم شخصیات کے بارے میں بھی معلومات ہیں۔

اس وقت کے اٹارنی جنرل نے عدالت کے روبرو دعویٰ کیا تھا کہ ملزم کا ملک کے خلاف کام کرنے والے ایک جاسوسی نیٹ ورک کے ساتھ تعلق ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران جاسوسی کے الزام میں فوجی عدالت سے موت کی سزا پانے والے انڈین جاسوس کلبوشن جادیو کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

بعدازاں کرنل انعام کے بیٹے نے اپنے والد کی گمشدگی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں ایک درخواست دائر کی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ نے انعام الرحیم کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا، مگر لاہور ہائی کورٹ کے اس آرڈر کے خلاف وفاق نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی۔

سپریم کورٹ میں کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی جبری گمشدگی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران اس وقت کے اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم کے لیپ ٹاپ میں بہت سے ملکی راز چھپے ہوئے ہیں اور اگر وہ ہمیں اس لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ بتا دیں تو وفاق ان کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا تھا کہ تفتیشی اداروں سے ایک لیپ ٹاپ کو ڈی کوڈ بھی نہیں کر سکتے۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کیا ہوا؟

منگل کے روز وفاق کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاق کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے خلاف قانونی کارروائی کو جاری نہیں رکھنا چاہتا۔

قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے خود ہی تو ان کو رہا کیا تھا اور اب آپ ان کے خلاف قانونی کارروائی کیونکر کریں گے؟ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا تو پھر وہ عدالت میں کیوں آئے ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو رہا کرنے کے بارے میں اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ آرمی ایکٹ کے تحت کسی سویلین کو حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ اس لیے وفاق یہ چاہتا ہے کہ عدالت اس بارے میں بھی اپنی آبزرویشن دے یا اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے یہ معاملہ زیر بحث نہیں ہے اس لیے اس بارے میں کوئی آبزرویشن نہیں دی جا سکتی۔

انھوں نے کہا کہ اگر کبھی مستقبل میں کوئی ایسا واقعہ ہوا تو پھر اگر عدالت میں رجوع کیا گیا تو اس وقت اس معاملے کو دیکھیں گے۔

بینچ میں موجود جسٹس قاضی امین نے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ ایک آزاد شہری ہیں اور انھیں امید ہے کہ اب انھیں آدھی رات کے وقت کئی مشکوک کالیں نہیں آتی ہوں گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے بتایا کہ وہ 37 روز تک فوج کی تحویل میں رہے اور اس عرصے کے دوران انھیں کوئی چارج شیٹ نہیں دی گئی۔

انھوں نے کہا کہ انھیں اُس وقت گرفتار کیا گیا جب موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے کے بارے میں اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو بتایا تھا کہ آرمی ایکٹ میں کسی جنرل کے ریٹائر ہونے کا ذکر نہیں ہے جبکہ اس وقت کے اٹارنی جنرل کے دعوے کے برعکس انھوں نے عدالت میں آرمی ایکٹ کی کاپی پیش کی تھی جس میں کسی بھی جنرل کی ریٹائرمنٹ کی عمر کا ذکر ہے۔

انعام الرحیم کون ہیں؟

انعام الرحیم ایڈووکیٹ کا تعلق پاک فوج کے 62ویں لانگ کورس سے ہے۔ یہ وہی کورس ہے جس سے موجودہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا بھی تعلق ہے۔

وہ ماضی میں لاپتہ اور فوج کے حراستی مراکز میں قید افراد کے مقدمات لڑنے کے علاوہ فوجی عدالتوں اور فوجی سربراہان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف عدالتوں سے رجوع کر چکے ہیں۔

انعام الرحیم پاک فوج کی لیگل برانچ جسے جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ یا جیگ برانچ کہتے ہیں، سے بھی منسلک رہے۔ پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ فوج میں رہتے ہوئے پرویز مشرف کے ناقدین میں شامل تھے۔ انھوں نے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف سے تمغہ امتیاز ملٹری وصول کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

وہ لیفٹینینٹ کرنل کے عہدے سے آگے نہ جا سکے اور اکتوبر سنہ 2007 میں ریٹائر ہو گئے۔

2008 میں انعام الرحیم نے راولپنڈی میں قانون کی پریکٹس شروع کی تھی۔ ان دنوں راولپنڈی میں پرویز مشرف پر حملہ کیس کے ملزمان رانا فقیر و دیگر اپنے لیے وکیل تلاش کررہے تھے مگر کوئی ان کا کیس لینے کے لیے تیار نہ تھا۔ انعام الرحیم آگے بڑھے اور انہوں نے ملزمان کے وکیل کے طور پر خدمات پیش کیں۔ اس طرح وہ پہلی بار میڈیا کی نظروں میں بھی آئے۔

پرویز مشرف اوردیگر عسکری شخصیات کے اثاثوں سے متعلق انعام الرحیم نیب سے بھی رجوع کرتے رہے۔ پرویز مشرف کے اثاثوں کے بارے میں انھوں نے مختلف فورمز پر درخواستیں بھی دیں۔

انعام الرحیم نے جنرل راحیل شریف کے دور میں پاک افغان سرحد پر انگور اڈہ چیک پوسٹ مبینہ طور پر افغانستان کے حوالے کرنے کے خلاف بھی ایک رٹ پٹیشن کررکھی تھی جس میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ کو بھی ملزم نامزد کر رکھا تھا۔

عاصم سلیم باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی سی پیک اتھارٹی کے سربراہ کے طور پر تعیناتی کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سامنے آیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words