کیا یہ طالبانائزیشن کی ایک قسم نہیں؟


”ایک ملزم جرم ثابت ہونے تک معصوم تصور کیا جائے گا“ ۔ یہ اصول عالمی سطح ہر اس ملزم پر لاگو ہوتا ہے جس پر قتل سمیت بڑے سے بڑا الزام ہو مگر انسانی حقوق کا چیمپیئن ہونے کی دعویدار پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بہن بختاور زرداری نے مینار پاکستان واقعے کو بنیاد بنا کر تمام مردوں کے عوامی اور تفریحی مقامات پر جانے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔

میں منتظر رہا کہ کوئی انسانی حقوق پر دل سے یقین رکھنے والی شخصیات کچھ بولیں گی مگر افسوس کہ کسی نے زبان نہیں کھولی، ہو سکتا ہے کسی نے بات کی بھی ہو تو اتنی ہلکی آواز میں کہ اس شدت سے سنی نہیں گئی۔

بختاور نے دو دن تک کوئی خاص ردعمل سامنے نہ آنے کے بعد دانستاً ایک بار پھر اپنی بات کو دہراتے ہوئے اصل موقف میں یہ ترمیم کی کہ مرد کو اس وقت تک پبلک پلیس پر آنے نہ دیا جائے جب تک اس کے گھر کی کوئی خاتون ساتھ نہ ہو۔

میرا ایک سوال ہے کہ کیا یہ ایک قسم کی طالبانائزیشن نہیں؟

کیا بختاور کو بنا کسی جرم کے ہر مرد یعنی آدھی آبادی کے لئے اس قسم کی پابندی کا مطالبہ کرنے کا حق ہے؟

اگر حق ہے تو کیا اس پابندی کا اطلاق ان کے والد، بھائی، شوہر سمیت پارٹی لیڈرز پر بھی ہوتا ہے؟

تو کیا اب بلاول، وزیراعلٰی، وزرا، مشیران اور ارکان اسمبلی ہر وقت اپنے ساتھ لازمی طور پر گھر کی خواتین کو ساتھ رکھیں گے؟

ہمیں تو یہ باور کروایا گیا ہے کہ اس قسم کی سوچ فیمینزم نہیں مرد دشمنی ہے جو عورت دشمنی کی طرح ایک ذہنی بیماری ہے، تو کیا ایسا نہیں؟

ہمیں تو سکھایا گیا کہ جنس کی بنیاد پر تفریق کی کوئی بھی شکل قابل قبول نہیں، جس طرح عورت کو سماجی طور پر محدود کرنے کی ہر کوشش اور ہر اس عمل کو قابل مذمت سمجھنا چاہیے جس سے ان کو جائز انسانی حقوق سے محروم کرے، بالکل وہی رائے مرد کے لئے بھی ہے، تو کیا یہ بات بھی غلط تھی؟

میں تو سمجھتا ہوں کہ ایک حقیقی جمہوریت پسند اور انسانی حقوق پر یقین رکھنے والے شخص کی رائے یہی ہونی چاہیے، مگر ایسا نظر کیوں نہیں آ رہا؟

کیا کسی بھی مہذب معاشرے میں مرد ذات کے ساتھ اس طرح کا امتیاز قابل قبول ہے؟

اگر ہم وزیراعظم عمران خان کے عورت مخالف بیان کے خلاف احتجاج کر سکتے ہیں تو بختاور کی بات کو رد کیوں نہیں کر رہے؟

کیا یہ طالبانائزیشن کی ایک شکل نہیں؟ کیا ہم ایک مختلف کابل کے شہری تو نہیں ہیں؟

Facebook Comments HS