افغانستان میں امریکہ کی ناکامی

افغانستان میں طالبان کی بڑی سیاسی برتری محض امریکہ کی ہی ناکامی نہیں بلکہ اس کے دیگر چالیس اتحادی ممالک بھی اس شکست یا ناکامی کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی بنیادی طور پر نہ تو بندوق، جنگ اور طاقت سے افغانستان میں طالبان کو فتح کرسکے اور نہ ہی کوئی ایسا بڑا اور جاندار سیاسی تصفیہ پیدا کرسکے جو معاملات کو سیاسی طور پر حل کرنے کا سبب بن سکتا۔ امریکی فوجیوں کا انخلا یقینی طور پر ضروری تھا، لیکن بغیر کسی سیاسی تصفیہ کے فوجی انخلا بھی مسئلہ کے حل کو سامنے نہیں لا سکا۔

سیاسی مفاہمت یا سیاسی تصفیہ کے بغیر امریکی فوجیوں کا انخلا ماضی میں بھی ایک برا تجربہ تھا اور اس کا اعتراف امریکہ کی سطح پر بیشتر تھنک ٹینک اور سابقہ حکمران طبقہ کرتا ہے۔ لیکن بظاہر لگتا ہے کہ امریکہ نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ایک بار پھر سیاسی تصفیہ کے بغیر انخلا محض افغانستان کے لیے ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر پورے خطہ کی سیاست کے لیے کوئی اچھا پیغام نہیں۔

اگرچہ امریکی صدر بائیڈن نے اپنی عوام سے خطاب میں اس پوری ناکامی کا ملبہ افغان فوج، حکومت پر ڈال دیا ہے۔ انہوں نے جو منطق یا دلیل دی ہے کہ ”جو جنگ افغانستان کی افواج خود اپنے لیے لڑنے کے لیے تیار نہ ہوں اور ہتھیار ڈال دیں تو پھر امریکی افواج کو بھی ایسی جنگ میں اپنی زندگیاں گنوانے کی کوئی ضرورت نہیں۔“ یہ جملے ایک بڑی سپر پاور کے سربراہ کی ہے جو اپنی ناکامی کو تسلیم کرنے کی بجائے عملی طور پر اپنی ہوئی بنائی ہوئی افغان کٹھ پتلی حکومت اور فوج پر ملبہ ڈال کر خود کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جس افغان صدر، کابینہ یا حکومت سمیت فوج پر الزام لگایا جا رہا ہے وہ کس کی تشکیل کردہ تھی، کس کے اشارے پر کام کرتی تھی اور کون ان کی فوج کی صلاحیت کو بڑھانے کا کام کرتی تھی۔ امریکی صدر نے جو قوم سے افغانستان کے تناظر میں خطاب کیا ہے وہ بھی مجموعی طور پر متضاد دعوے اور حقائق کے برعکس ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت امریکہ اور اس کے موجودہ صدر کو عالمی میڈیا میں امریکہ کی ناکامی اور طالبان کی عملی سیاسی برتری پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ امریکی صدر نے جو قوم سے افغانستان کے تناظر میں خطاب کیا ہے وہ بھی مجموعی طور پر متضاد دعوے اور حقائق کے برعکس ہے۔

امریکی صدر کا یہ موقف بھی حیران کن ہے کہ انہوں نے سابق افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو طالبان سے مذاکرات کا مشورہ دیا تھا مگر وہ اس پر نہیں مانے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر اشرف غنی کی حیثیت اس قدر طاقت ور تھی کہ وہ امریکی حکم یا مشورہ کو نظرانداز کر کے تن تنہا اپنی پالیسی کو جاری کر سکتا تھا۔ اس سے بڑھ کر امریکہ سے یہ سوال بھی ضرور کیا جانا چاہیے کہ جب امریکہ نے ڈاکٹر اشرف غنی کا بطور صدر انتخاب کیا تو وہ کیا تھے اور ان کی کیا سیاسی حیثیت تھی۔

ایک ایسا صدر جو امریکہ کا لاڈلا بھی ہو اور جس کے پاس افغان حکومت کے چلانے کے لیے امریکہ کی بڑی مالی، سیاسی، انتظامی اور عسکری امداد بھی ہو وہ کیونکر افغانستان میں اپنی اور اپنی حکومت کی سیاسی پوزیشن کو مستحکم یا اپنی سیاسی ساکھ کو کیوں قائم نہیں کر سکا۔ کیا وجہ تھی کہ ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت افغانستان کی بجائے محض کابل تک محدود تھی اور وہ وہاں بطور صدر وہاں کی اہم سیاسی شخصیات، میڈیا، سول سوسائٹی، برادریوں کے بڑے سربراہ سمیت افغان طالبان کو تقسیم کر کے اپنا ہمنوا نہیں بنا سکے۔ یہ بات پہلے بھی کہی جاتی رہی ہے کہ افغانستان کے بحران کے حل میں ڈاکٹر اشرف غنی اور ان کی حکومت ایک بڑے سیاسی بوجھ سے کم نہیں ہے۔ امریکہ کی ڈاکٹر اشرف غنی پر سرمایہ کاری محض ڈوبنے کے ان کو کچھ نہیں دے سکے گی، عملاً ایسا ہی دیکھنے کو ملا ہے۔

امریکہ نے پہلے 2001 میں حامد کرزئی کو افغان حکومت کا سربراہ بنایا اور پھر 2014 میں ڈاکٹر اشرف غنی کو سربراہ بنایا گیا۔ ان بیس برسوں میں امریکہ کی سیاسی، دفاعی، عسکری حکمت عملی کو طالبان کے ہاتھوں پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ حالانکہ دونوں حکومتوں کو براہ راست امریکہ کی پوری سرپرستی حاصل تھی اور اسی امریکی چھتری کے سائے تلے ان کا حکومتی نظام چلتا رہا۔ افغان نیشنل آرمی، پولیس سمیت انٹیلی جنس ایجنسی کا نظام بھی امریکہ نے ہی تشکیل دیا تھا تاکہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد اس نظام کو چلایا جاسکے، مگر یہ سب کچھ محض خواہشات کا ہی حصہ بن کر رہ گیا اور عملی طور پر اب افغانستان میں طالبان کی سیاسی برتری کو عالمی دنیا دیکھ رہی ہے اور اس ماحول کو وہ امریکہ کی بڑی ناکامی کے طور پر پیش کر رہی ہے جو خود امریکہ یا یورپ کی سیاسی برتری کو بھی چیلنج کرتا ہے۔

ایک بنیادی نوعیت کا یہ سوال تو بنتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اس جنگ کا سیاسی اور بالخصوص مالی آڈٹ ہونا چاہیے۔ کیونکہ امریکیوں کی طرف سے افغان آرمی، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا نظام عملی طور پر امریکی ٹھیکیداروں نے چلایا اور اس میں جو مالی خورد برد ہوئی اس کا بھی ہر سطح پر احتساب ہونا چاہیے۔ کیونکہ ان لوگوں نے افغان آرمی کی پروفیشنل انداز میں تربیت اور حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو پیدا کرنے کی بجائے پیسہ کمانے کو ترجیح دی اور آج اس کا نتیجہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ فوج مصنوعی ثابت ہوئی اور جب اسے ایک بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو ان کی مزاحمت کی صلاحیت بے بس نظر آئی۔ ڈاکٹر اشرف غنی کے وزیر دفاع نے ان کی پراسرار انداز میں ملک چھوڑنے پر درست کہا کہ وہ ہمارے ہاتھ پیر باندھ کر خود خاموشی سے افغان عوام کا سودا کر کے ملک چھوڑ گئے۔

امریکہ کی ایک ناکامی کی وجہ خود بھارت کا افغانستان کے معاملات میں حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی مداخلت تھی۔ بھارت اپنی خفیہ ایجنسی کی مدد سے افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے ساتھ مل کر افغانستان میں داخلی مسائل میں کمی کرنے کی بجائے اس میں شدت پیدا کرتا رہا۔ اس کا خصوصی ٹارگٹ جہاں افغانستان تھا وہیں اس کا بڑا نشانہ پاکستان تھا۔ وہ افغان حکومت کی سرپرستی میں بنیادی بیانیہ یہ ہی بناتا رہا کہ افغانستان میں جو حالات کا بگاڑ ہے اس کی بڑی وجہ پاکستان ہے جو براہ راست افغان حکومت کے مقابلے میں طالبان کی سرپرستی کرتا ہے اور طالبان کی حمایت کے ساتھ وہ افغان حکومت کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔

یہ جو کچھ ہمیں افغان حکومت کی طرف سے پاکستان دشمنی کی جھلک یا الزام تراشی پر مبنی سیاست نظر آتی تھی اس کے پیچھے بھی بھارت ہی تھا۔ پاکستان نے سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر بھارت کی مداخلت اور طرز عمل پر ہمیشہ آواز اٹھائی مگر امریکہ سمیت دیگر طاقت ور ممالک کی خاموشی نے بھی امریکی اور بھارتی ناکامی کی راہ ہموار کی۔ اب بھی یہ خدشہ موجود ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو بنیاد بنا کر امریکہ چین کے مقابلے میں اپنے مفادات کی جنگ لڑنا چاہتا ہے اور اس میں بھارت اس کا اتحادی ہوگا جو خطہ کی سیاست میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے مجموعی طور پر صورتحال کافی چیلنج رکھتی ہے۔ ایسی صورتحال میں جب امریکہ انخلا کے باوجود اس خطہ یا افغانستان سے عملی طور پر باہر نہیں رہے گا اور اس کا کھیل کسی نہ کسی شکل میں برقرار بھی ہے اور جاری بھی رہے گا، ہمیں زیادہ تدبر کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو فوری طور پر اس علاقائی سیاست میں چین، ترکی، ایران، روس کے ساتھ مل کر افغانستان کی صورتحال پر یکجا ہونا ہوگا اور امریکہ کو بھی یہ پیغام دینا ہوگا کہ وہ معاملات کو طاقت یا جنگ کی بجائے سیاسی فہم فراست کے ساتھ حل کرے۔

بھارت حالیہ افغان صورتحال پر سیاسی طور پر تنہا ہوا ہے اور اس کا ردعمل بھی منفی ہوگا اور ایسے میں ہمیں اس پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔ اصل میں امریکہ سمیت تمام عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ اگر افغان طالبان ایک متفقہ تمام فریقین پر مشتمل حکومت بنا لیتے ہیں تو اس کی قبولیت سمیت افغانستان کی تعمیر نو میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو طالبان کا جھکاو چین پر ہوگا۔ اسی طرح افغان عبوری حکومت کو اس نقطہ پر بھی لانا ہوگا کہ انتخابات کا راستہ بھی مناسب وقت پر اختیار کرے تاکہ افغان عوام خود سے اپنی حکومت کو منتخب کرسکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words