طالبان کی اسلامی امارت اور ہائبرڈ مسلمانی کا دلفریب جھانسہ

افغان طالبان کا پالیسی بیانیہ جاری ہوا ہے، جس میں اسلامی امارت کے قیام اور اس کے بعض دیگر خد و خال کی جھلک پیش کی گئی ہے۔ اسلامی امارت کا نمایاں ترین پہلو جو سامنے لایا گیا ہے، اس کے مطابق افغانستان میں جمہوریت نہیں شریعت ہوگی۔ جمہوریت انتخابات سے مشروط ہوتی ہے۔ جب جمہوریت نہیں ہوگی تو اس پالیسی بیانیہ میں نہ جانے یہ بات کیسے شامل کر لی گئی کہ ’انتخابات جامع حکومت کے بعد ہوں گے‘ ۔ (روزنامہ جنگ، 21 اگست 2021) اس کا صاف مطلب یہ نکلتا ہے کہ طالبان کے فیصلہ کرنے کی جہت کنفیوژن کا شکار ہے۔

کنفیوژن کی دوسری وجہ ان کی یہ کم فہمی ہے کہ جمہوریت اور شریعت کے مابین انہیں تضاد اور دوری کا گمان لاحق ہے۔ اگر ان کی اسلامی امارت میں جمہوریت نہیں ہوگی، تو پھر انتخابات کا عندیہ کیوں سامنے لایا گیا؟

انہیں شاید اپنی ناقص فہمی کا اتنا ادراک بھی نہیں کہ دنیائے انسانیت کو جمہوریت کا علمی اور عملی چارٹر سب سے پہلے اسلام نے دیا ہے۔ اس سے پہلے جب دنیا میں قیصر و کسریٰ کی شکل میں روم و فارس دو سوپر طاقتیں رائج تھیں اور خود خطہ عرب قبائلیت اور سرداریت کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا، تو اس دوران محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کا لایا ہوا اسلام تھا جس نے مدینہ ریاست کے قیام کا اولین اور جمہوری چارٹر میثاق مدینہ کی دستوری دستاویز سے متعارف کرایا، جو دراصل قرآن کے دوسرے سورہ کی آیت نمبر 30 میں آدم علیہ السلام کے منصب خلافت کا فیصلہ جاتی حل جنوں اور فرشتوں کی رائے لینے اور سننے کے بعد اللہ تعالی نے مشاہدہ کروایا تھا۔

اس وقت منصب خلافت کا فیصلہ اگر فرشتوں اور جنوں کے روبرو بحث نہ ہونے دینے کے بغیر بھی اللہ طے کر دیتے تو کسی کی کیا مجال تھی کہ اس پر کوئی چوں چرا کرتا۔ حتیٰ کہ عزازیل (ابلیس کا نام) آدم کے حق میں سجدہ بیعت (ووٹ دینا) سے سرگردانی پر اتر آیا، پھر بھی اس کے مہلت مانگنے پر اسے مخالفت (حزب اختلاف) کی کھلی چھوٹ دے ڈالی گئی۔ طالبان خود اس آیت کو غور سے پڑھ لیں، اور میثاق مدینہ کی دستاویزی تاریخ کا مطالعہ بھی کر لیں تاکہ انہیں اسلام کے بارے میں اپنی کوتاہ اندیشی اور ناقص فہمی دور کرنے کا بخوبی فیض حاصل ہو جائے۔ اور اس کی توجہ مبذول کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ بھی نہیں چاہتے ہوں گے کہ ان کے کسی طرز عمل سے اسلام بھی کہیں ہائبرڈ مسلمانی یا مبینہ اسلاموفوبیا جیسے کسی فساد کی زد پر آ جائے۔

ہائبرڈ مسلمانی مروجہ سفارتکارانہ لب و لہجے کی جدید اصطلاح ہے جسے مسلم دنیا خوارجیت سے منسوب کرتی ہے اور جس کی ابتدا مسلمانوں کے اندر سے سبائی بلوائیوں نے تیسرے خلیفہ راشد (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) کو ان کے گھر میں گھس کر ان کے قتل کے اقدام سے کی تھی۔ اس کے بعد چوتھے خلیفہ راشد (حضرت علی کرم اللہ وجہہ) اور دیگر صحابہ بشمول گورنر دمشق حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے مابین قاتلان عثمان کے خلاف سنگین احتجاجی تنازع اٹھ کھڑا ہوا، جس کے نتیجے میں بالآخر جنگ جمل اور جنگ صفین تک کی نوبت جا پہنچی، تو خارجیوں یعنی قاتلان عثمان کے طاقتور اثر و نفوذ سے نبٹنے کے لیے دونوں اکابرین (حضرت علی اور معاویہ) کے مابین ثالثی جرگہ نامزد ہوا تا کہ وہ فیصلہ کرے کہ دونوں میں سے کون خلیفہ بنے اور کون دستبردار ہو جائے، یا دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا خلیفہ نامزد کیا جاوے اور یہ دونوں اکابرین اس کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔

اس پر خوارجیوں نے ’تحکیم‘ کا مسئلہ کھڑا کر کے اپنی امارت، اپنی تبلیغ اور اپنی عسکریت منوانا شروع کر دی۔ جو ان سے اختلاف اور علی و معاویہ کے فیصلے کو درست قرار دیتا، اسی وقت عبداللہ بن وہاب جیسے تبلیغی امیر اس کے قتل کا فتوی جاری کر کے قتل کروا دیتے۔ خوارجیوں کا برپا کردہ فساد اس حد تک جا پہنچا کہ انہوں نے حضرت علی، حضرت معاویہ اور حضرت عمرو بن العاص (رضی اللہ عنہ) تک کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا۔ خوارجیوں کے اس ہائیبریڈ مسلمانی کے فساد کی سرکوبی کے لئے حضرت علی نے ان کے ساتھ نہروان میں آخری فیصلہ کن جنگ لڑی (زین العابدین۔ سیرت حضرت علی)

یہ ہیبریڈ مسلمانی اس لئے تھی کہ بظاہر ’تحکیم‘ کلمہ حق کے طور پر بولا گیا لیکن اس کے اطلاق کے لیے باطل عزائم بروئے کار لائے گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا مقام تو باب العلم کا ہے۔ اگر ثالثی جرگے میں حضرت امیر معاویہ کی خلافت کا اقرار مشروط تھا تو اسلام کے باب العلم کی تصدیق سے مشروط تھا۔ دونوں اکابرین کے مقابلے میں خوارج کا اسلام فہمی کا درجہ مسلم دنیا آج خود سوچ کر طے کر لے کہ علی و معاویہ (رضی اللہ عنہ) کا اسلام برحق تھا یا خوارجیوں کا؟

خوارجیت کی ہایبرڈ مسلمانی کی یہ مثال اگر اسلام کے اولین دور کی ہے تو اس جیسی دوسری مثال جدید دنیا میں تحریک نظام مصطفی (ﷺ) کے کلمہ حق پر مبنی جنرل محمد ضیاء الحق صاحب مرحوم کے ”مارشل اسلام“ کی بھی ہے جو خیر سے خود کو ’مرد مومن، مرد حق‘ کہلوانے کے لیے مخصوص مسلمانی کی بساط اور اس کی ’ضیاء‘ کے نمونے من مانی شریعت اور اس کے ضوابط کار سے بچھانے پر تو کاربند رہے، لیکن ان کی من مانی شریعت کیا تھی؟ اس کی تصدیق فراہم کرنے کے لیے شرعی حدود کے نفاذ کے ساتھ ہی انہوں نے فرمان جاری کیا کہ ”ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کا یہ فیصلہ موجود ہے کہ شریعت کی کوئی شق اگر ضابطہ مارشل لاء یا دستور سے متصادم ہوگی تو شریعت منسوخ اور ضابطہ مارشل لاء یا دستور باقی رہے گا“ (نوائے وقت چودھری غلام جیلانی کا مضمون کھائی کے اس پار مؤرخہ 8 جولائی 1988) ۔

مارشل اسلام کی یہی وہ کلید تھی، جسے گھما کر آگے افغان جہاد کے کلمہ حق سے طرح طرح کے لشکر مجاہدین، غیرریاستی اسامہ بن لادنوں کی بھرمار، افغان طالبان، تحریک طالبان پاکستان، تحریک اسلامیہ ترکستان، بوکو حرام جیسے کئی ہائبرڈ مسلمانی کے نئے نئے ابواب کھول کر دنیا میں پھیلائے گئے جو امریکہ اور اس کی اتحادی قوتوں کے لئے اسلام کے خلاف ہیبرڈ وار فئیر مچانے کا سازگار سامان ہوتے گئے۔ یوں اسلامی سیاست اور سیاسی اسلام باہم خلط ملط ہو کر آج ’اسلاموفوبیا‘ کی طرح اسلام کی توہین اور تضحیک کا باعث بن گئے، جس کی رہی سہی کسر کہیں ’اسلامی امارت‘ سے پوری کروا لینے کے لیے لیے امریکہ افغانستان سے انخلاء پر آمادہ نہ ہو آیا ہو؟

مسلمانوں کے لیے یہ بہت نازک، حساس اور اجتماعی سوال ہے۔ افغان طالبان نے جب اپنے نظام اقتدار کو ’اسلامی امارت‘ سے منسوب اور موسوم کر لیا ہے، تو اسلام نہ صرف طالبان کا مذہب ہے، بلکہ یہ احقر سمیت دنیا کے ہر مسلمان کا مذہب ہے۔ اس سلسلے میں مسلمان اس خوش فہمی پر نازاں و فرحاں نہ ہوتے رہیں کہ امریکہ جیسی سپر طاقت کو افغان طالبان کے اسلام نے شکست دے دی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے، تو طالبان نے شکست خوردہ فوج کا کوئی ایسا جنگی قیدی بنا رکھا ہے جس کی رہائی کے بدلے انہوں نے عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کر رکھا ہو؟

شکست اشرف غنی کے اقتدار کو ہوئی ہے جو غیر ملکی نہیں، اپنا افغانی مسلمان ہی ہے۔ دوسری بات خوش فہمی میں اترانے والے مسلمانوں کو یہ بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ بندوق سے حاصل کردہ امارت اندر یا باہر کسی دوسری بندوق سے الٹ بھی سکتی ہے۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو لیکن اگر ہو پڑا تو یہ سلسلہ آگے کہاں جا کر رکے گا؟ یہ سلسلہ چل نکلا تو یہی امریکی وار تھیٹر کا اگلا سوچا سمجھا مشن ہے، تاکہ اس خطے میں امن و امان اور استحکام امریکی ورلڈ آرڈر کی بالا دستی منانے اور منوانے کا جواز اور طلبگار بن کے ثابت ہوتا رہے۔

اسلامی امارت ایک ہوتی ہے۔ لیکن اسلام کے ایک مخصوص مسلمانی کی چھاپ افغانستان میں، دوسری مخصوص مسلمانی کی چھاپ ایران میں، تیسری عربستان میں اور چوتھی مدینہ ریاست کے نام پر پاکستان میں ہو، تو یہ مختلف اور متفرق مسلمانی خود بخود غیر مسلم دنیا کے سامنے ہائبرڈ مسلمانی کا جھانسا ثابت ہوتا رہے گا، جس پر قرآن کی سورہ العمران میں اللہ نے عذاب عظیم کا ڈر سنا رکھا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words